راہ شوق کے مسافر
برکت اللہ ندوی (قطر )
مفتی عطاء اللہ داؤد قاسمی کو جامعہ ام القریٰ سے ماجستیر مکمل کرنے پر مبارک باد :مکہ مکرمہ
بروز بدھ ١٧/ستمبر ٢٠٢٥م کا دن اپنے جلو میں بےشمار احساسات و جذبات، خوشی و مسرت اور فرحت و شادمانی کی نوید لیکر آیا، واٹساپ کھولتے ہی ایک روح افزا اور ایمان افروز خبر موصول ہوئی کہ آج برادر معظم مفتی عطاء اللہ داؤد قاسمی مکی کا عالمی شہرت یافتہ عظیم علمی و دینی مرکز جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ میں ماجستير کا مناقشہ طے پایا ہے، یہ ماجستير کی تکمیل کا آخری مرحلہ ہوتا ہے، اللہ کا شکر اداکیا اور دل سے بھائ جان کی ترقی کیلئے دعا نکلی، اس خوبصورت، تاریخی اور یادگار دن پر ہم آپکی خدمت میں تہنیت کے گلاب اور مبارکبادی کے پھول پیش کرتے ہیں
کریں سلام کشادہ جبینیاں تم کو
تمہارے فن کے ملیں ایسے قدرداں تم کو
رسالہ کے متعلق چند جھلکیاں: مولانا نے اپنے تحقیقی رسالہ علمیہ (المكاتبات الدعوية عند علماء الهند خلال القرن الرابع عشر الهجري) میں چودھویں صدی ہجری کے ناگفتہ بہ حالات ،ظلم وستم کیداستان ، اور ظالم انگریز کے دلخراش واقعات کی ایک جھلک پیش کی ہے، متحدہ ہندوستان جس میں پاک و بنگلہ دیش بھی شامل تھے ،اس دور کے علماء آپس میں دعوتی کام مراسلات و مکاتبات کے ذریعے کیسے کرتے تھے۔بظاہر ہمیں عجیب سا لگ رہا ہے،کہ جہاں ہم سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی بات سیکنڈوں میں دنیا کے کونے کونے تک پہنچا دیتے ہیں؛ وہیں اس عہد کے علماء کے حالات انکی بےچینی،اور پورپین سامراج کے جبر و استبداد کی ہولناک داستان ، مفتی صاحب بڑی دقت طلبی عرق ریزی سے تمام مواد اکٹھا کئے اس کاز کیلئے انہوں خدابخش لائبریری پٹنہ ،علامہ شبلی لائبریر ی ندوة العلماء اور دیوبند کی مرکزی لائپریری سے تمامخطوط اکٹھا کئے جہاں مولانا شبلی مولانا انیس الرحمن صاحب قاسمی وغیرہم کی رہنمائی شامل رہی پٹنہ کی سفر کی تنسیق میں مولانا انس عباد صدیقی قاسمی کا اہم رول رہا، پھر ان تمام مواد کو عربی میں ترجمہ کرکے ان تمام مکاتیب کی تحلیل کی مرسل مرسل الیہ کے تراجم جمع کئے، اس میں انہوں نے اس عہد کے عبقری شخصیات ،مفکریں علماء، محدثین ،قوم وملت کے بڑے بڑے مجاہدین جنہوں نے برطانوی حکومت کے خلاف محاذ آرائی ان سب کے خطوط اکٹھا کئے ہیں ۔اسی طرح جنہوںنے اس ظلموستم کے دور میں عدل وانصاف کی شمعیں روشن کی،اور علم و ادب کا دیپ جلایا۔مثال کے طور پر چند علماء جنکےخطوط رسالے میں مذکور ہیں۔جیسے :حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ،حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ،مولانا رشید احمد گنگوھی رحمہم اللہ جمیعا ،اسی طرح حریت آزادی کے علمبردار شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ،مولاناعبید اللہ سندھی ،مولانا محمد علی جوہر علیہم الرحمہ ،علم حدیث وتاریخ وتفسیر کے کوہ گراں محدث کبیر مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمی ،علامہ سید سلیمان ندوی ،مفکر اسلام مولانا علی میاں ندوی ،علامہ شبلی نعمانی ،مولانامناظر احسن گیلانی ،مولاناعبد الحی فرنگی محلی،اور مولانا منظور نعمانی قاضی مجاہد الاسلام صاحب قاسمی رحمہم اللہ سب کے مراسلات ہیں ۔
اسی طرح اہل حدیث مکتب فکر نامور علماء کرام جیسے :شیخ الکل فی الکل مولانا نذیر حسین دہلوی ،نواب صدیق حسن خان قنوجی ،مولاناعبد السلام رحمانی ،مولانا عبید اللہ مبارکپوری -رحمھماللہ جمیعا- کے خطوط ہیں۔
اسی طرح جماعت اسلامیکےسرخیل مغربی تہذیب کےبڑے نقاد اور ایک فکری وانقلابی شخصیت سید ابوالاعلی مودودی۔ کے خطوط مکاتبات و مراسلات و خطوط ہیں۔
علمی اسفار: آپ نے اس طویل سفر میں بہت سی مشکلات کا سامنا کیا مختلف حالات آئے اور چلے گئے لیکن آپکے پائے ثبات میں ذرا بھی لغزش نہ آئی آخر کار اللہ نے یہ دن نصیب فرمایاآج آپ رشد وہدایت کے مرکز سرزمین حجاز سے ایک اعلی سند لیکر کامیابی کےزینہ پر قدم رکھے۔ اور علمی افق پر ایک روشن ستارہ بن کر چمکے اللہ آپ کو اس پر قائم ودائمرکھے .
ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
مناقشہ مکمل ہونے اورامتیازی درجات سے کامیابی حاصل کرنے پر ہند و نیپال اور دیگر ممالک کے انکے متعلقین علماء و اساتذہ کرام ،دوست واحباب،خویش واقارب میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی اور مباربادیوںکا ایک طویل سلسلہ چلا۔
ان کے مشہور استاذ فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے نیک خواہشات ظاہر کی اور واٹس آپ کے ذریعے مبارک بادی دی۔اسیطرح ڈاکٹر سعید فیضی ندوی( کناڈا) ڈاکٹر اسلم صاحب ندوی (جاپان)مفتی عمران صاحب قاسمی (آسٹریلیا) شیخ جاسم مندوب (ناروے)شیخ یاسر ابو روضہ (مصر) مولانا خالد صدیقی صاحب (صدر جمعیت علمائے نیپال)شیخ ذوھیب خان جدون مکی، مولانا عثمان صاحبندوی ،مولانا رضوان صاحب ندوی،مولاناطاسین ندوی،مولانا نجم الدین ندوی جلپاپو ، نیپال ،مولانا عیسی صاحب ندوی،صدرمرکز النور اسے طرح سعودی کے مختلف صورتوں اور مکہ جامعہ ام القری سے انکے مشائخ ودکاترہ شیخ حسن عبد الحمید البخاري ، شیخ حسن الشھابي، شیخ احمد الخیري،شیخ احمد مشعل الغامدي،شیخ شباب العتیبي ،شیخ احمد الدین مکی،دکتور براء یوسف الحلوانی ، وغیرہم نے خوب خوب دعائیں اور مبار بادی پیش کی۔اسی طرح انکے رفقاء واحباب میں مفتی شمیم صاحب قاسمی ،مفتی کلیم صاحب مکی،مفتی شاہد قاسمی مکی،دکتور ابو البقاء ندوی مکی ،دکتور نعمت اللہ قاسمی ، مولانا مشتاق صاحب ندوی ،مولانا مسبح اللہ صاحب مکی ،مولانایونس صاحب مکی ،اسی طرح مولانا جنید عالم ہدوی ، (قطر ) قطر منادیب گروپ، عظیم الدین ندوی دمام،شرف عالم صاحب قاسمی عمان، ڈاکٹر شہاب الدین ندوی دربھنگہ ،مفتی وسیم قاسمی ،اور انکے برادران و خویش و اقارب میں مولانا اسامہ مفتاحی بنگلور مولانا عبد الشکور صاحب بنگلور ،نصرامام قطر اور مولانا رضاء اللہ داؤدقاسمی ہدایت اللہ ندوی نیپال وغیرہم شامل ہیں۔
پروگرام میں شریک مشائخ و دکاترہ نیزدوست احباب کا مفتی صاحب نے شکریہ ادا خصوصا اپنے مشرف دکتور سہیل قاسم مینق،دکتور عبد الرحمن ربعین،دکتور بلقاسم فوزی ،مشارکین میں ڈاکٹر نعمان مکی،مولانا طلحہ عوالی مکہ ، حضرت علی ندوی،م۔سعدقاسمی،م۔اظہر قاسمی،مولانا نظام الدین محی الدین صاحب قاسمی مکی وغیرہ ہیں ۔
آپ نیپال کے ایک مردم خیز بستی تماسوئیا میں سن 1989 میں پیدا ہوئے. آپکا گھرانا ایک دینی اور علمی گھرانا ہے،یہ بات علاقہ میں مشہور ہے چار نسل پہلے سے علماء پیدا ہوتے رہے ہیں علاقے میں انکیخدمات موجود ہیں۔ذلك فضل الله يوتيه من يشاء ” والد بزرگوار مولانا داؤد صاحب اتحادی رحمۃ اللہ علیہ ایک باوقار عالم دین ۔ اور ایک کامیاب مدرس تھے 45 سال تک انہوں نے درس وتدریس کے لائن میں زندگی گزاری ، آپکے جد امجد مولانا علی اکبر صاحب مرحوم مختلف الجہات شخصیت کے مالک تھے، وہ ایک بیدار مغز عالم دین، دینی و سماجی رہنما اور بلند اخلاق و اوصاف کے حامل تھے، آپ کے پردادا مولوی عالَمصاحب 30 سال انہوں نے علاقہ میں تدریسی خدمات انجام دیے ۔
اس طرح مفتی صاحب کا بچپن اپنے والد اور دادا کی علمی شفقت و رہنمائی میں گزرا اور آپ نے اپنی تعلیمی زندگی کا آغاز اپنے گاؤں کے مکتب "مدرسہ اصلاح المسلمین ‘سے کیا جہاں آپکے بنیادی اساتذہ میں آپکے دادا مولانا علی اکبر صاحب مرحوم اور مولانا تجمل عبد الحمید صاحب تماسوئیا اور مولانا مصطفی صاحب رگوناتھ پور لہان وغیرہ شامل ہیں ۔
اسکے بعد آپ نے سن 1997 سے 1999 تک ضلع سپتری کے ایک گاؤں ارناہا کسہا ” مدرسہ اصلاحیہ” میں ابتدائیہ کی تعلیم مکمل کی ،اسی طرح دو ماہ مدرسہ اسلامیہ جانجر سپتری میں بھی رہے، جہاں مولانا اسلام صاحب اور مولانا امین صاحب وغیرہ سے چند اسباق پڑھے ۔پھر سن 2000 میں ایک سال جامعہ سراج العلوم سیوان بہار میں زیر تعلیم رہے وہاں مفتی الہام صاحب قاسمی،مولانا مظہر الحق صاحب قاسمی ،مولاناظفر صاحب قاسمی، مولانا مختار صاحب قاسمی ،مولانامرتضی صاحب قاسمی ،ماسٹر قمر الدین صاحب مرحوم وماسٹر سلیم صاحب وغیرہ سے ابتدائی درجہ پڑھے، اسکے بعد ثانوی درجات کیلئے آپ نے نیپال کی مشہور و معروف علمی و تربیتی درسگاہ دارالعلوم نورالاسلام جلپاپور میں داخلہ لیا اور سن 2001 سے 2004 تک یہاں کی نورانی علمی اور ثقافتی سرگرمیوں سے خوب خوب استفادہ کیا اور یہیں سے آپ نے ” شہادۃ الثانویہ” حاصل کیا اور آپ کو نوری کے لقب سے نوازا گیا. وہاں آپ کے قابل ذکر اساتذہ میں سے مولانا عبد الستار حنیف صاحب( مہتمم) مولانا عثمان صاحب ندوی ،(نائب مہتمم )مولانا جمال صاحب ندوی ،مولانا سہیل صاحب ندوی ،مولانا محمد علی صاحب ندوی مرحوم،مولانا صدر العالم صاحب مرحوم
سن 2005 میں آپ نے درجات
عالیہ کی تکمیل کیلئے جامعہ سید احمد شہید کٹولی لکھنؤ کا سفر کیا اور چار سال وہاں کی علمی و ادبی فضا سے اپنی شخصیت کو سنوارا وہاں آپ نے ہر دل شخصیت مولانا کمال اختر صاحب ندوی ،مولانا صہیب صاحب ندوی، مولانا مجیب الرحمٰن عتیق صاحب ندوی ،مولانانفیس صاحب ندویحفظھم اللہ جمیعا اور دیگر اساتذہ وغیرہم سے آپ نے کسب فیض کیا۔
پھر سن 2009 میں آپ ازہر الہند دارالعلوم دیوبند چلے گئے وہاں آپ نے ہندوستان کی معروف علمی شخصیات سے کسب فیض کیا، حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالنپوری علیہ الرحمہ سے بخاری وترمذی اول اور مولا نا ارشد مدنی حفظہ اللہ سے ترمذی ثانی ،مولانا حبیب الرحمن اعظمی وغیرہم سے علم حدیث میں دسترس حاصل کی اور یہیں سے فضیلت کی سند حاصل کی ۔
بعدہ سن 2010 – 2011 المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد سے فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی سرپرستی میں فقہ و افتا میں اختصاص پیدا کیا
2012 میں مولانا آزاد اردو نیشنل یونیورسٹی میں ادب عربی میں داخلہ لیا لیکن ایک ہی سال کے بعد سرزمین حرم سے بلاوا آگیا اور آپ سن 2012 کے اخیر میں جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ چلے گئے….
یہاں آپ نے مختلف علوم فنون اور اس پاک فضا کی رحمتوں برکتوں سے اپنے آپ کو مالامال کیا اور مندرجہ ذیل شعبوں سے مستفید ہوئے.
2013-2014 عربی زبان و ادب میں تخصص
2015 – 2018 بیکالوریوس (بی اے) فی الکتاب والسنۃ
2019 – 2025 ماجستير قسم الدعوۃ والثقافۃ الاسلامیۃ
علمی و تصنیفی خدمات:
آپ نے اس طویل علمی سفر میں کئی علمی مقالے اور رسالے لکھے جن میں بعض منظر عام پر آچکے ہیں اور بعض زیر طباعت ہیں علمی و تحقیقی مقالہ(ماجستیر) المکاتبات الدعویة عند علماء الھند خلال القرن الرابع عشر الھجری ١٣٠٠ الی ١٤١٥ ھ
١. المسائل التی یجب فیہا قضاء القاضی جمعا و دراسة (عربی زبان )زير طباعت
٢. شیعہ اثنا عشریہ کے بنیادی عقائد، (دکتور عبداللہ علی القفاری کی تصنیف کا ترجمہ و تلخیص)
٣. الأربعون المکیۃ (چالیس احادیث کا مجموعہ ترجمہ و تخریج)
٤. الأربعون المدنیۃ (چالیس احادیث کا مجموعہ ترجمہ و تخریج)
٥. مسافر کی دنیا ( سعودی عرب کا سفرنامہ)
٦. غزوات و سرایا و مقامات مقدسہ کی تاریخ (زیر طباعت
اوصاف و خصائل
آپ انتہائی خلیق، ملنسار ، متواضع، علم دوست، مہمان نواز اور گوں نا گوں صفات کے مالک ہیں دینی و ملی کاموں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں.،
ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مزید علمی ترقی عطاء فرمائے اور قوم و ملت کیلئے مفید اور نافع بنائے. آمین یارب
Comments are closed.