مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار ہے. ایک ایمانی تحریک
محمد احمد ناصری. متعلم دارالعلوم دیوبند
ملک میں ہی نہیں بلکہ چاردانگ عالم میں ہرسو ہنگامہ برپا ہے کہ ارض ہند کے مشہور شہر کانپور میں بارہ ربیع الاول کے جلوس میں جب غلاموں نے اپنے آقا و مولا خلاصئہ کائنات جان رحمت سیدنا محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم سے آپنی محبت وعقیدت کا اظہار کیا اور جب آئی لو محمد صلى الله عليه وسلم کا نعرہ اور بینر بلند کیا تو معاندین اسلام اور دشمنان رسول کے دلوں میں شرار بولہبی کی دبی ہوئی چنگاری بھڑک اٹھی اور انہوں نے غلامان رسول صلى الله عليه وسلم کے خلاف تھانے میں رپورٹ لکھوائی اور ان کے لئے سزاؤں کا التزام کروایا.
یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے عالم میں پھیل گی اور ایک ہزار دوہزار نہیں سیدنا محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے عربوں کھربوں دیوانوں کی دل زبان کا وظیفہ اور ترانہ آئ لو محمد صل الله عليه وسلم بن گیا جو دشمنان دین پر اس قدر بھاری ثابت ہوا کہ کانپور کے خود اس متعصب معاند کو صفائ دینی پڑی اور معاملہ کو دوسرے رخ پرڈالنے کو مجبور ہو ناپڑا. مجھے اس موقع پر
مشہور صحافی اور معروف خاکہ نگار آغا شورش کاشمیری کی وہ تحریر یاد آگئ جو انہوں نے مشہور شرابی شاعر اختر شیرانی کے بارے میں لکھا ہے ۔ جسے پڑھ کر آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ایک گنہ گار امتی اپنی بداعمالیوں اور ہزار خامیوں کے باوجود بھی شفیع المذنبین آقاومولا سیدنا محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم سے کتنا سچا عشق رکھتا ہے اورآپ صل الله عليه وسلم کی ذات گرامی کو اپنا آخری سہارا مانتا ہے. آئیے وہ مضمون ملاحظہ فرمائیں.
لاہور کے کسی مشہور ہوٹل کی ایک محفل میں بعض کمیونسٹ نوجوانوں نے، جو بلا کے ذہین تھے، اختر شیرانی سے مختلف موضوعات پر بحث چھیڑ دی۔ اس وقت تک وہ دو بوتلیں شراب کی چڑھا چکے تھے، پورے بدن پر رعشہ طاری تھا، الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر زبان سے نکل رہے تھے، لیکن انا کا یہ عالم تھا کہ اپنے سوا کسی کو نہیں مانتے تھے۔ بات نکلی تو فرمایا: ’’مسلمانوں میں اب تک صرف تین ہی جینئس گزرے ہیں: ابوالفضل، غالب اور ابوالکلام آزاد۔‘‘
شاعر وہ شاذ ہی کسی کو مانتے تھے۔ ہمعصر شعرا میں جو واقعی شاعر تھا، اسے بھی اپنے سے کمتر خیال کرتے۔ نوجوانوں نے فیض کا نام لیا، تو بات ٹال دی۔ جوش کے بارے میں کہا: ’’وہ ناظم ہے۔‘‘ سردار جعفری کا ذکر آیا، مسکرا دیے۔ فراق کا تذکرہ چھیڑا گیا، ہونہہ ہاں کر کے خاموش ہو گئے۔ ساحر لدھیانوی سامنے بیٹھا تھا، فرمایا: ’’مشق کرنے ہمدو۔‘‘ ظہیر کاشمیری پر بس اتنا کہا: ’’نام سنا ہے۔‘‘ احمد ندیم قاسمی کے بارے میں کہا: ’’میرا شاگرد ہے۔‘‘
کمیونسٹوں نے جب دیکھا کہ وہ ترقی پسند تحریک کے بھی منکر ہیں، تو سوال کا رُخ موڑ دیا۔ کسی نے افلاطون، سقراط، ارسطو کے بارے میں رائے چاہی۔ شیرانی اس وقت اپنے موڈ میں تھے، فرمانے لگے: ’’پوچھو یہ کہ ہم کون ہیں۔ یہ افلاطون، ارسطو یا سقراط آج ہوتے، تو ہمارے حلقہ میں بیٹھتے۔ ہمیں ان سے کیا کہ ان کے بارے میں رائے دیتے پھریں۔‘‘
اسی دوران ایک نوجوان نے بڑی دلیری سے سوال کیا: ’’آپ کا محمد ﷺ کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘
اس سے آگے آغا شورش کاشمیری کے قلم سے ہی ملاحظہ کیجئے:
’’اللہ اللہ! ایک شرابی، جیسے کوئی برق تڑپی ہو، بلور کا گلاس اٹھایا اور اس کے سر پر دے مارا۔ کہنے لگے، بدبخت! ایک عاصی سے سوال کرتا ہے۔ ایک سیہ رو سے پوچھتا ہے۔ ایک فاسق سے کیا کہلوانا چاہتا ہے؟ تمام جسم کانپ رہا تھا، ایکا ایکی رونا شروع کیا گھگھی بندھ گئی۔ پھر فرمایا بدبخت! تم نے اس حال میں یہ نام کیوں لیا، تمہیں یہ جرأت کیسے ہوئی؟ گستاخ، بے ادب! باخدا دیوانہ باش و با محمد ہوشیار! اس شریر سوال پر توبہ کرو، میں تمہارا خبث باطن سمجھتا ہوں۔ خود قہر و غضب کی تصویر ہوگئے، اس نوجوان کا یہ حال تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ اس نے بات کو موڑنا چاہا مگر اختر کہاں سنتے تھے، اسے مجلس سے اٹھوا دیا، پھر خود اٹھ کر چلے گئے۔ تمام رات روتے رہے، کہتے تھے کہ یہ لوگ اتنے نڈر ہوگئے ہیں کہ ہمارا آخری سہارا بھی ہم سے چھین لینا چاہتے ہیں۔ میں گنہگار ضرور ہوں لیکن یہ مجھے کافر بنانا چاہتا ہے۔
اور پھر اسی تڑپ میں یہ اشعار پھوٹے:
مسند نشین عالم امکاں تمہی ﷺ تو ہو
اس انجمن کی شمع فروزاں تمہیﷺ تو ہو
صبح ازل سے شام ابد تک ہے جس کا نور
وہ جلوہ زار حسن درخشاں تمہی تو ہو
دنیائے ہست و بود کی زینت تمہی سے ہے
دونوں جہاں کے والی و سلطاں تمہی تو ہو
تم کیا ملے کہ دولت ایماں ملی ہمیں
ایمان کی تو یہ ہے کہ ایماں تمہی تو ہو
دنیا و آخرت کا سہارا تمہاری ذات
دونوں جہاں کے والی و سلطاںﷺ تمہی تو ہو
اخترؔ کو بے نوائی دنیا کی فکر کیا
ساماں طراز بے سر و ساماں تمہی تو ہو
Comments are closed.