میوات کے سالاہیڑی گاؤں میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کی تالاب میں ڈوب کر موت، میوات بھر میں پھیلا ماتم

ضلع نوح کے گاؤں سالاہیڑی سمیت میوات میں سوگ۔ مولانا ایوب سالاہیڑی نے ادا کرائی نماز جنازہ۔
ہزاروں فرزندانِ توحید نے ایک ساتھ ادا کی نماز جنازہ۔ نم آنکھوں سے کیا سپرد خاک۔
نوح میوات (پریس ریلیز )
میوات کے سالاہیڑی گاؤں سے ایک ہی خاندان کی چار افراد تالاب میں ڈوب کر ہلاک ہو گیے جن کو آج دوپہر بعد  گاؤں کے قبرستان میں ہزاروں فرزندانِ توحید نے نم آنکھوں سے سپرد خاک کر دیا گیا۔ نماز جنازہ میں قریبی دیہات سمیت میوات بھر سے لوگوں نے شرکت کی۔
اس افسوسناک واقعے سے گاؤں سمیت میوات میں سوگ کی فضا پھیل گئی ہے۔ ہلاک ہونے والی چاروں افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے،
چاروں مرحومین کی نماز جنازہ آج سہ پہر ایک ساتھ مدرسہ امین الاسلام کے مہتمم مولانا ایوب سالاہیڑی نے ادا کرائی ۔
اس موقع پر مولانا ایوب سالاہیڑی نے کہا کہ یہ چاروں جنازے ایک ساتھ ہم سب کے لیے مقام عبرت ہیں۔  موت کب آ جائے اس کے لیے انسان کو تیاری کرکے رکھنے کی ضرورت ہے ۔ مولانا موصوف نے کہا کہ 34 سال قبل 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے موقع پر اسی گاؤں سے چار نوجوانوں کی شہادت عمل میں آئی تھی، اسی قبرستان میں آج پھر 34 سال بعد چار نعشوں کو ایک ساتھ نماز جنازہ ادا کر دفنایا جا رہا ہے، آج ان چاروں نعشوں کی تدفین نے 34 سال پہلے کے  ایک ساتھ چار جنازوں کی یادیں تازہ کر دی ہیں ۔
قابل ذکر ہے کہ یہ حادثہ کل دوپہر 2 بجے کے بعد اس وقت پیش آیا جب جمشیدہ اور مکینہ گاؤں کے ایک کھیت کے قریب ایک تالاب میں کپڑے دھونے گئی تھی۔ تالاب کی کھدائی سے پانی جمع ہوگیا تھا جس کی وجہ سے گہرائی غیر محفوظ تھی۔ ان کے ساتھ آنے والی 12 سالہ سمیہ اور دوسری بچی عمر 13 سال صوفیہ گہرے پانی میں ڈوبنے لگیں۔ تو اس دوران دونوں بچیوں کی مائیں اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر تالاب کی گہرائی کو بھول گئیں، جس کے بعد چاروں کی تالاب میں ڈوب کر موت ہو گئی،
 جس کے بعد گاؤں والوں اور پولیس نے لاشوں کو تالاب سے نکال کر پوسٹ مارٹم کے لیے نوح سول اسپتال بھیج دیا۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ تالاب کے کنارے غیر محفوظ تھے اور مٹی کی کھدائی نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا تھا۔ گاؤں والوں نے بتایا کہ اس تالاب میں پہلے بھی چھوٹے موٹے حادثات ہوچکے ہیں لیکن انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات نہیں کئے۔ انہوں نے تالاب کے گرد حفاظتی جال لگانے اور پانی کی گہرائی میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔  انیلو کے لیڈر طاہر حسین اور کانگریس پارٹی کے ایم ایل اے چودہری مہتاب احمد سابق ایم ایل اے و موجودہ کانگریس کے ضلع صدر سعیدہ خان تاؤڑو سماجی رہنما مولانا محمد صابر قاسمی، کانگریس کے ترجمان آصف چندینی نے جنازہ میں شرکت کر اس کربناک حادثہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
 سبھی رہنماؤں نے سوگوار خاندان سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ سوشل میڈیا پر بھی لوگ اس دردناک سانحے پر سوگوار ہیں اور لواحقین کے لیے  صبر و ہمت کی دعائیں کر رہے ہیں۔ گاؤں والوں نے حکومت سے متاثرہ خاندانوں کی مالی مدد کی اپیل کی ہے۔ اس موقع پر آصف علی چندینی، جمعیتہ علماء میوات کے سابق جنرل سیکرٹری و سماجی رہنماء مولانا صابر قاسمی، الحاج ماسٹر عبد الوہاب سابق ایم ایل اے اور کانگریس ضلع صدر سعیدہ خان مہتاب احمد، محمد عباس، سراج الدین، نے جنازہ میں شرکت کر غم کا اظہار کیا اور حکومت سے متاثرہ خاندانوں کی مدد کرنے کا مطالبہ کیا۔

Comments are closed.