محبت کا اظہار کسی کو چڑھانے کیلئے نہیں ہونا چاہئے: مولانا سجاد نعمانی

 

مدرسہ جامع العلوم جامع مسجد پٹکاپور میں منعقدہ اصلاحی مجلس سے مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی کا خطاب

 

کانپور:۔ محبت کا اظہار کسی کو چڑھانے کیلئے نہیں ہونا چاہئے، محبت تو خو دبتاتی ہے کہ آپ کو کس سے کتنی شدید محبت ہے؟کیا ہم اپنے دیواروں پر ’آئی لو مائی وائف‘ کا پوسٹر لگاکر اپنی بیوی سے محبت کا اظہار کرتے ہیں؟ ہم دشمنوں کے جال میں بار بار پھنستے جارہے ہیں، اگر سمجھداروں کی صحبت اور اٹھنا بیٹھنا ہوتا ہے تو بڑی قیمتی باتیں مفت میں مل جاتی ہیں۔ مذکورہ خیالات کا اظہار عالمی شہر ت یافتہ عالم دین مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے مدرسہ جامع العلوم جامع مسجد پٹکاپور میں منعقدہ اصلاحی مجلس میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی اکثریت ظلم کو پسند نہیں کر رہی۔ حضور ؐ اور صحابہ کرامؐ کی زندگیوں کی مثالوں سے بتایا کہ ہمیں اگر کوئی غصہ دلائے اور ہم غصہ میں آ جائیں تو دشمن کامیاب ہو گیا اور ہم ناکام، لیکن اگر ہمیں کوئی غصہ دلائے اور ہم غصہ میں نہ آئیں تو یہ دشمن کی ناکامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم وارث نبوت ہیں، ہماری ذمہ داری ہے کہ اس ملک میں مہنگائی نہ بڑھے، مظلومین پر مظالم نہ ہوں، خواتین غیر محفوظ نہ رہیں، نوجوان غلط راستے پر نہ چلیں، اورمسلمان کا معاشرہ ایک نمونے کا معاشرہ بن کر اس ملک کے سامنے اخلاق، ایمانداری، وقت کی پابندی، وعدہ پورا کرنے، ڈسپلن کے لحاظ سے چمکے۔ پوری دنیا میں تبدیلی کی شدید خواہش ابھر رہی ہے، اس کے باوجود تبدیلی میں جو تاخیر ہو رہی ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ابھی تک غیر مطمئن دنیا کے سامنے کوئی نمونہ اور ماڈل موجود نہیں ہے۔ ہم غور کریں کہ رحمت دو عالم ﷺ جب تک چالیس سال کے نہیں ہو گئے تب تک نبوت نہیں دی گئی، اس سے پہلے تمام برائیاں معاشرہ میں موجود رہیں، اس کی خدادوندی کی حکمت یہ تھی کہ معاشرہ میں تبدیلی کی آرزو ذرا مزید پختہ ہو جائے، لوگ برائیوں سے تنگ آکر یہ سمجھ جائیں کہ ہم اگر اس قائد کے پیچھے چلیں گے تو ہماری دنیا اور آخرت دونوں سنورے گی۔ یہ جو وقت ہوتا ہے جبکہ لوگوں میں تبدیلی کی آرزو ہوتی ہے، وہ تجربے کرتے ہیں لیکن کامیاب نہیں ہو پاتے، یہ وقت ہے جبکہ خاتم النبین محمد رسول اللہ ﷺاور قرآن کو زندہ رہنمائی کے طور پر کو ٹھیک سے سمجھا جائے اور ملک کے سامنے رکھا جائے۔ ہمارے معاشرہ کے نوجوانوں میں بہت خیر ہے، انہیں سنبھالنے والوں اور محبت سے بات کرنے والوں کی کمی ہے۔ امت مسلمہ کا دل دکھانے کیلئے دشمن بہت ہیں، ہم بھی اگر اپنے نوجوانوں کا دل دکھائیں یہ کہاں کی سمجھداری ہے؟ مولانا نے کہا کہ علمائے کرام اس بات کو سمجھیں اور عوام کو سمجھائیں کہ روایتی اسلام میں بہت اصلاحات کی ضرورت ہے، ہمارے گھر میں ہمارا وقت کیسے گزرنا چاہئے، بچوں، بچیوں کی تربیت کیسی ہونی چاہئے؟بہت کم ماں -باپ اپنے بچوں، بچیوں کو تربیت کیلئے وقت دیتے ہیں۔ ڈاکٹر، انجینئر، طلباء،طالبات اگر حدود شریعت پر بھی عمل کر لیں تو کافی ہے، لیکن علماء کیلئے مزاج شریعت پر عمل کرنا ضروری ہے، حدود شریعت پر عمل کافی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ علم حال کے امر کو جاننا ہے کہ اس وقت اللہ کی منشا مجھ سے کیا ہے؟ اگر یہ بات مسلمانوں کی سمجھ میں آ جائے تو ہم اپنے ملک کا نقشہ بدل سکتے ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارے ہاتھ میں حکومت آ جائے، بلکہ ہم یہ دیکھیں کہ ہمارے اندر کی تبدیلی سے ہمارے معاشرہ پر کیاتبدیلی مرتب ہوتی ہے۔

اس سے قبل جمعیۃ علماء اتر پردیش کے نائب صدر مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے مولانا سجاد نعمانی کے کانپور آمد پر خیر مقدم کرتے ہوئے عوام کو مولانا کے کارہائے نمایاں اور دینی خدمات سے واقف کرایا۔ مدرسہ جامع العلوم کے استاذ مفتی عبد الرشید قاسمی نے علماء کی صحبت اور باطن کی اصلاح پر زور دیا۔اس سے قبل مدرسہ کے استاذ مفتی محمد سلطان قمر قاسمی نے مدرسہ جامع العلوم جامع مسجد پٹکاپور کی تاریخ اور یہاں کے اکابرین کی دینی ملی خدمات سے روشناس کرایا۔ مدرسہ کے مہتمم و متولی محی الدین خسرو تاج نے مجلس کے تمام شرکاء، علماء، عوام اور دانشوران کا شکریہ ادا کیا۔ نظامت کے فرائض مفتی محمد معاذ قاسمی نے انجام دئے۔ قاری مجیب اللہ عرفانی نے تلاوت قرآن پاک سے مجلس کا آغاز کیا۔ مولوی محمد مسعود سلمہ نے نعت و منقبت کا نذرانہ عقید ت پیش کیا۔ اس موقع پر کثیر تعداد میں علمائے کرام،، ائمہ مساجد، ذمہ داران اسکول، کالج و مدارس، ڈاکٹر، وکلاء، انجینئراور کاروباری مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے معززین شہر موجود رہے۔

 

Comments are closed.