منریگا گھوٹالہ: جالے کے پانچ اہلکاروں سے وصولی ہوگی 15 لاکھ سے زائد رقم
جالے (محمد رفیع ساگر)منریگا کے تحت مالی بدعنوانی میں ملوث افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی تیز ہو گئی ہے۔ دیہی ترقیات محکمہ کے انفارمیشن اتھارٹی، منریگا نے دربھنگہ کے منریگا لوک پال کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے جالے منریگا کے اُس وقت کے پروگرام افسر ببلو کمار، اسسٹنٹ انجینئر راج موہن چودھری، جونیئر انجینئر ہری نرائن ساہو، اکاؤنٹنٹ دنیش کمار اور ڈھڑھیا۔بیلواڑا پنچایت کے روزگار سیوک متھلیش کمار کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ان سبھی اہلکاروں سے اب 15 لاکھ 20 ہزار 460 روپے کی رقم وصول کی جائے گی۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ہمیشو شیکھر سنگھ نے شکایت کی کہ ڈھڑھیا۔بیلواڑا پنچایت میں روزگار سیوک اور دیگر منریگا اہلکاروں نے کچھ منصوبوں کے نام بدل کر فرضی ماسٹر رول تیار کیے اور نالہ صفائی کے منصوبے کے نام پر سرکاری رقم کا غبن کیا۔ لوک پال نے شکایت کے بعد کل 12 منصوبوں کی جانچ کی، جس میں دو منصوبوں میں بڑے پیمانے پر خردبرد ثابت ہوئی۔ رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ پانچ سال کی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی چار سال میں منصوبے چلا کر بالترتیب 5 لاکھ 95 ہزار 764 روپے اور 9 لاکھ 24 ہزار 696 روپے کا غبن کیا گیا۔
ثبوتوں کی بنیاد پر لوک پال نے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے غبن شدہ رقم کی وصولی کا حکم دیا تھا۔ متعلقہ اہلکاروں نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے اپیل دائر کی تھی، لیکن اپیلی اتھارٹی نے بھی لوک پال کے فیصلے پر مہر ثبت کر دی۔ اس طرح اب غبن کی گئی پوری رقم سرکاری خزانے میں واپس کی جائے گی۔
Comments are closed.