دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں دو روزہ فقہی سمینار کا اختتام، تینوں موضوعات سے متعلق اہم تجاویز منظور
نئی نسل کو ارتداد سے بچانا علماء کی ذمہ داری: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
لکھنؤ (پریس ریلیز)
اسلام ایک آسان دین ہے، اس کی تعلیمات نہایت سادہ اور آسان ہیں، علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کی صحیح پیغام کو آسان اسلوب میں پیش کریں، موجودہ دور میں اگر دین کو آسان بنا کر نہ پیش کیا جائے تو اس بات کا خطرہ ہے کہ نئی نسل ارتداد کا شکار ہو جائے، ان خیالات کا اظہار مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے مجلس تحقیقات شرعیہ کے تحت دو روزہ فقہی سیمینار کی اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ آج الحاد اور ارتداد کا فتنہ تیزی سے پھیل رہا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ علماء کرام شریعت کی تعلیمات سے لوگوں کو مطمئن کریں، انہوں نے کہا کہ دعوت و تبلیغ میں صبر و تحمل ضروری ہوتا ہے، فقہی سیمیناروں کے ذریعہ علماء کے اندر دوسروں کی رائے قبول کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، یہ نہایت خوش آئند ہے، اس سے آپس میں اتحاد پیدا ہوتا ہے اور ذہنی ہم آہنگی ہوتی ہے، انہوں نے اس سیمینار کے کامیاب انعقاد کے لیے ندوہ کے ذمہ داروں کا شکریہ ادا کیا اور مبارکباد دی۔

ندوۃ العلماء کے ناظم مولانا بلال حسنی ندوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ندوہ کے قیام کا مقصد نئے زمانے کے چیلینجیز کو قبول کرنااور ان کا حل نکالنا ہے، مجلس تحقیقات شرعیہ کے یہ سیمینار اس سمت میں ایک اہم قدم ہیں اور وقت کی اہم ضرورت ہے، علماء اور اصحاب افتاء کی ذمہ داری ہے کہ عصر حاضر کے مسائل کو حل کریں، مجلس کا قیام مولانا علی میاں ندوی کا اہم کارنامہ ہے، اس سے امت کو فائدہ پہنچ رہا ہے، انہوں نے تمام مندوبین اور سیمینار میں شرکت کرنے والے علماء کا شکریہ ادا کیا۔
مولانا عتیق احمد بستوی نے کہا کہ نئے مسائل کو حل کرنے کے لیے آنے والی نسل کو تیار کرنا علماء کی ذمہ داری ہے، اگر ایسا نہیں کیا گیا تو مستقبل میں ملت کا بڑا خسارہ ہوگا، انہوں نے کہا کہ بحث و تحقیق کا کام نہایت دقیق اور محنت طلب ہے، اس کے لیے ذہن سوزی کی ضرورت ہے، انہوں نے علماء سے اپیل کی کہ وہ اپنے قلم کو حرکت دیں، اور بحث و تحقیق کے میدان میں نئی دریافت کریں، انہوں نے مجلس تحقیقات شرعیہ سے شائع ہونے والے سہ ماہی مجلہ تحقیقات شرعیہ کا تعارف کراتے ہوئے اس میں تحقیقی مضامین لکھنے اور اس مجلہ سے استفادہ کرنے کی طرف نوجوان علماء کو متوجہ کیا۔

مولا کلیم اللہ عمری اور مفتی انور علی اعظمی نے مندوبین کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے تاثرات میں کہا کہ یہ سیمینار موضوع کی اہمیت اور انتظام و انصرام کے لحاظ سے بہت کامیاب رہا، اس کے ذریعہ سے علماء کو آپس میں سر جوڑ کر بیٹھنے کا موقع ملتا ہے اور فکر و نظر کے نئے گوشے کھلتے ہیں۔
اجلاس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سیکرٹری مولانا فضل الرحیم مجددی نے وقف کے قانون کے حوالہ سے قرارداد پیش کی، جو اتفاق رائے سے منظور کی گئی، انہوں نے کہا کہ وقف کا حالیہ قانون اسلامی شریعت کے خلاف ہے، اس کی وجہ سے مسلمانوں میں سخت بے چینی ہے، اس قانون سے وقف کے لیے زبردست خطرہ پیدا ہو گیا ہے، حکومت ہند سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ اس قانون کو بلا تاخیر واپس لے، اس لیے کہ یہ دستور ہند کے منافی ہے، تمام شرکاء نے اس قرارداد کو اتفاق رائے سے منظور کیا۔
آخری نشست کا آغاز ڈاکٹر محمد علی ندوی کی تلاوت سے ہوا، ڈاکٹر محمد فہیم اختر ندوی نے تجاویز پیش کی، جن کو شرکاء سیمینار نے اتفاق رائے سے قبول کیا۔
سیمینار میں تین موضوعات پر بحث ہوئی اور غور و خوض ہوا، (1) مساجد کے اوقاف سے متعلق چند نئے مسائل (2) قبرستان سے متعلق چند نئے مسائل (3) تلفیق بین المذاہب اور تتبع رخص۔
پہلی موضوعاتی نشست میں مساجد کے اوقاف سے متعلق غور و خوض ہوا، جس کی صدارت مولانا محمد سفیان قاسمی (مہتمم دار العلوم وقف دیوبند) نے کی، اور نظامت مولانا رحمت اللہ ندوی نے کی اور عرض مسئلہ مفتی ظفر عالم ندوی نے پیش کیا۔
مولانا سفیان قاسمی نے صدارتی خطاب میں کہا کہ اوقاف سے متعلق مسائل سے لوگوں کو واقف کرانا علماء کی ذمہ داری ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی بھی حالت میں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ حالات بدلتے ہیں اور سیاسی سطح پر تبدیلیاں آتی ہیں، لیکن ہمیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے اندر حوصلہ ہو اور ہمیں اپنے اکابر کی تاریخ معلوم ہو، تو ہم ہر چیلنج کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔
اس نشست کے مہمان خصوصی مولانا اختر امام عادل قاسمی نے کہا کہ ضرورت کو دیکھتے ہوئے ہمیں شریعت میں گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، انہوں نے کہا کہ جو چیز ایک بار وقف ہو جاتی ہے وہ ہمیشہ کے لیے ہوتی ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔دوسری موضوعاتی نشست میں تلفیق بین المذاہب پر مذاکرہ ہوا، جس کی صدارت مولانا فضل الرحیم مجددی نے کی اور نظامت کے فرائض مولانا منور سلطان ندوی نے انجام دئے، اور عرض مسئلہ ڈاکٹر فہیم اختر ندوی نے پیش کیا، مہمان خصوصی کی حیثیت سے مفتی انور علی اعظمی نے شرکت کی۔
تیسری موضوعاتی نشست کی صدارت مفتی عبدالرزاق قاسمی (استاد دارالعلوم دیوبند) نے کی اور نظامت کے فرائض مفتی ظفر عالم ندوی نے انجام دئے اور مہمان خصوصی کی حیثیت سے مولانا بدر احمد مجیبی نے شرکت کی اور عرض مسئلہ مفتی شاہ جہاں ندوی نے پیش کیا۔
اس نشست میں قبرستان سے متعلق جدید مسائل پر غور و خوض کیا گیا، مفتی عبدالرزاق قاسمی نے صدارتی خطاب میں کہا کہ اللہ تعالی ہر دور میں ایسے علماء کو پیدا کرتا ہے جو امت کے مسائل کو حل کرتے ہیں، یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔اختتامی نشست میں خاص طور پر مولاناعمارحسنی ندوی ،مولاناعبدالعزیزبھٹکلی ندوی کے علاوہ مندوبین اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کے سینئراساتذہ شریک رہے.

تجاویز ساتواں فقہی سمینار
مورخہ :۴-۵ /ربیع الثانی ۱۴۴۷ھ -مطابق :۲۷-۲۸/ ستمبر ۲۰۲۵ء کو مجلس تحقیقات شرعیہ ندوۃ العلماء کا ساتواں دوروزہ فقہی سیمینار دارلعلوم ندوۃ العلماء کے علامہ حیدر حسن خاں ٹونکی ہال میں منعقد ہوا ،جس میں پورے ملک سے بڑی تعداد میں علماء اور اصحاب افتاء نے شرکت کی اور غور وخوض اور تبادلہ خیا لات کے بعد درج ذیل تین موضوعات پر اتفاق رائےسے تجاویز منظور ہوئیں۔
تجاویز بابت مساجد اور ان کے اوقاف سے متعلق چند مسائل
۱۔ جو مسجدیں نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے تنگ ہو رہی ہوں، توسیع کی غرض سے ان کو شہید کر کے کئی منزلیں بنائی جا سکتی ہیں، اور بر بنائے ضرورت کسی منزل کو دینی تعلیم کے لیے استعمال کرنا درست ہے، البتہ اس کی کسی منزل کو طلبہ کی رہائش کے لیے مستقل طور پر استعمال کرنا یا اس کے کسی حصہ کو کرایہ پر دینا درست نہیں ہے، کیونکہ یہ مسجد کے بنیادی مقاصد اور اس کے تقدس کے خلاف ہے۔
۲۔ اگر کسی اپارٹمنٹ میں کوئی منزل خرید کر یا کثیر منزلہ عمارت تعمیر کرتے وقت کسی منزل کوبطور مسجد وقف کر دیا جائے، تو یہ منزل مسجد شرعی کے حکم میں ہوگی، بشرطیکہ اس میں عام لوگوں کو نماز پڑھنے کی اجازت ہو۔
۳-قدیم مسجد کے آس پاس کی وہ زمینیں جو موقوفہ مسجد شرعی میں شامل نہیں ہیں بلکہ مصالح مسجد کے لئے ہیں وہاں نمازیوں کے لئے پارکنگ کی تعمیر کرنا ، مسجد کے ائمہ ، موذنین اور خدام کے لئے رہائش گاہ (فیملی کواٹر) کا بندوبست کرنا یا دوسرے ایسے کام کرنا جو مصالح مسجدمیں شامل ہو، درست ہے۔
۴-نئی مساجد کی تعمیر کے وقت اگر مسجد کے لئے زمین وقف کرنے والا شخص یا اشخاص اس طرح تعمیری منصوبہ بناتے ہیں کہ بیسمنٹ میں پارکنگ ہو ، اوپر کی منزلیں مسجد کے لئے ہوں یا کوئی منزل دینی تعلیم کے لئے ہو تو شرعاً اس کی گنجائش ہے۔
تجاویز بابت قبرستان کے چند جدید مسائل
۱۔ جن قبرستانوں میں پہلے سے بنی ہوئی مسجد میں وضو خانہ نہ ہو، وہاں ایسی جگہ وضو خانہ اور استنجاءخانہ بنایا جا سکتا ہے،جہاں قبریں موجود نہ ہوں ۔
۲۔اگر قبرستان وسیع ہو تو ضرورت کے وقت خالی جگہ میں مسجد ،وضوخانہ اور استنجاء خانہ بنانے کی گنجائش ہے،لیکن قبرستان تنگ ہو تو تعمیر مسجد کی گنجائش نہیں ہے، کیونکہ یہ مقصد وقف کے خلاف ہے۔
تجاویز بابت ’’تلفیق بین المذاہب اور تتبع رخص‘‘
اہل سنت کے تمام فقہی مسالک جو دنیا کے مختلف ممالک اور علاقوں میں مروج ہیں اور جن کی تقلید کی جاتی ہے، یہ سب اسلامی شریعت کا حصہ ہیں، اجتہادی مسائل میں ان کے اختلافات کی نوعیت حق و باطل کی نہیں ہے، بلکہ یہ سب کتاب و سنت کے سمندر سے نکلنے والی بافیض نہریں ہیں، جن سے امت مسلمہ سیراب ہو رہی ہے، اس لیے تمام فقہی مسالک کی کتابیں اور ان کے اجتہادات فقہ اسلامی کا گراں قدر حصہ ہیں۔
Comments are closed.