گلوبل صمود فلوٹیلا: سمندر پر بہتاہوا انسانیت کا قافلہ
از: شاداب انظار ندوی
دنیا ایک بار پھر انسانیت کے امتحان میں ہے۔
ایک طرف غزہ کے وہ معصوم بچے ہیں جو بھوک، پیاس اور خوف کے سائے میں پل رہے ہیں،
اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو داؤ پر لگا کر انسانیت کا قرض چکانے کی کوشش کی۔
یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے “گلوبل سمود فلوٹیلا” کے نام سے ایک قافلہ تشکیل دیا
ایسا قافلہ جو سرحدوں سے نہیں، بلکہ دلوں سے جڑا تھا۔
یہ مشن دنیا کے 44 ممالک کے انسان دوست افراد پر مشتمل تھا۔
تقریباً 40 سے زائد کشتیوں پر سوار یہ قافلہ سمندر کے راستے فلسطین کے مظلوم عوام تک امداد پہنچانے نکلا۔
ان کے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا، کوئی فوج نہیں تھی
صرف خوراک، دوا اور امید کے چند بکسے تھے،
جو وہ غزہ کے یتیموں، زخمیوں اور بے سہارا انسانوں کے لیے لے جا رہے تھے۔
مگر یہ سفر آسان نہ تھا۔
کبھی سمندری طوفانوں نے ان کا راستہ روکا،
کبھی لہروں نے ان کے حوصلے آزما لیے۔
ہفتوں تک کھلے سمندر میں وہ بھوک اور تھکن کے باوجود اپنے مقصد سے پیچھے نہ ہٹے۔
ان کے چہروں پر ایک ہی جذبہ جھلک رہا تھا
کہ اگر وہ خود نہ بھی پہنچ سکے، تو ان کا پیغام دنیا کے ضمیر تک ضرور پہنچ جائے۔
لیکن جب یہ قافلہ اپنی منزل سے محض 80 کلومیٹر دور تھا،
تب اسرائیلی افواج نے ظلم و بربریت کی ایک نئی داستان رقم کی۔
کئی کشتیوں پر قبضہ کر لیا گیا،
انسانی ہمدردی کے علمبرداروں کو گرفتار کر لیا گیا،
اور ان کے امدادی سامان کو ضبط کر کے سمندر کی لہروں کے سپرد کر دیا گیا۔
یہ حملہ دراصل کسی قافلے پر نہیں تھا،
یہ حملہ انسانیت پر تھا۔
غزہ کے وہ بچے، جو ساحل پر کھڑے کسی مددگار کی آس لگائے ہوئے تھے،
ان کی امید ایک بار پھر ٹوٹ گئی۔
دنیا کے مختلف ملکوں نے اس واقعے کی مذمت کی،
کچھ نے اسرائیل سے اپنے سفارتی تعلقات محدود کرنے یا ختم کرنے کا عندیہ دیا،
لیکن عالمی طاقتوں کی خاموشی نے ایک بار پھر انصاف کے ایوانوں کو بے نقاب کر دیا۔
ایسا لگتا ہے کہ فلسطینیوں کا درد اب صرف احتجاجی نعروں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
“گلوبل سمود فلوٹیلا” کا یہ سفر اگرچہ روک دیا گیا،
مگر اس کا پیغام نہیں رکا۔
یہ قافلہ دراصل ایک علامت ہے
اس یقین کی کہ دنیا ابھی مکمل مردہ نہیں ہوئی،
ابھی بھی کچھ دل ایسے ہیں جو مظلوموں کے لیے دھڑکتے ہیں،
جو اپنی جان کی قیمت پر بھی انسانیت کا دامن نہیں چھوڑتے۔
یہ فلوٹیلا سمندر میں ضرور گم ہو گئی،
لیکن اس کے جذبے نے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے۔
یہ یاد دلاتی ہے کہ
جب تک زمین پر ایک بھی ظالم باقی ہے،
تب تک انسانیت کے یہ قافلے اٹھتے رہیں گے،
اور ظالموں کے مقابل،
امید کے یہ سفینے سمندر میں بہتے رہیں گے۔
Comments are closed.