بہار کے کس اسمبلی حلقے میں کتنے مسلمان (1)
تحریر :عماد عاقب مظفرپوری
10/10/2025
2023 کی بہار کی خصوصی مردم شماری کے مطابق بہار کی 81.99٪ آبادی ہندو مذہب کی ماننے والی ہے ،
بہار کی 17.70٪ آبادی مسلمان ہے ۔ بہار میں عیسائیت کے ماننے والے 0.05 % ، بدھ مت کے ماننے والے 0.08% اور سکھ مت کے ماننے والے 0.01% ہیں ۔
بہار اسمبلی کی کل نشستیں 243 ہیں ، اور آبادی کے حساب سے کل تینتالیس ممبران اسمبلی مسلمان ہونے چاہییں ، اور ہر پارٹی کو چاہیے کہ وہ اپنے کل امیدواروں میں 17.70 فیصد امیدوار مسلم امیدوار بنائیں ،
مگر تمام پارٹیاں صرف ایسے امیدواروں کو کھڑا کرتی ہیں جو جیتنے کی پوزیشن میں ہوں ، پارٹیوں کو ایسے مسلم امیدوار بڑی مشکل سے ملتے ہیں ، کوئی مسلم لیڈر اپنی بد دینی کی وجہ سے خود مسلمانوں میں مقبول نہیں ہوتا اور کوئی بہت ساری وجوہ سے ہندؤوں میں مقبول نہیں ہوتا ، اور سب سے بڑی وجہ ہندوؤں میں پایا جانے والا تعصب ہے ، جو ہندو مسلمانوں کے لیے نرم سمجھے جاتے ہیں وہ بھی مسلمانوں کو صرف اپنی ترقی کا زینہ سمجھتے ہیں ۔ اھون البلیتین کو اختیار کرناہی ہمیشہ مسلمانوں کا مقدر ہوتا ہے ،
*مجلس اتحاد المسلمین مسلم قیادت کے پیدا کرنے کا دعویٰ کرتی ہے مگر اس نے بھی بتیس فیصد مسلم آبادی والے اسمبلی حلقے ڈھاکہ سے ایک راجپوت کو امیدوار بنایا ہے ۔جب کہ وہاں راجپوت چار فیصد بھی نہیں ہے ، امید یہی ہے کہ وہ وہاں سے جیت نہیں پائے گا مگر بی جے پی کے لیے راستہ آسان کرے گا ،*
*ڈھاکہ ایسی سیٹ ہے جہاں سے سیمانچل کے مسلم اکثریتی اسمبلی حلقوں کے بعد سب سے زیادہ بار مسلم امیدوار کامیاب ہوئے ہیں ۔*
*صرف مسلم ووٹوں کی بنیاد پر صرف گیارہ نشستوں پر مسلم امیدوار کامیاب ہوسکتے ہیں ۔*
بہار میں صرف نو نشستیں ایسی ہیں جہاں 56.30 فیصد تا 72.40 فیصد مسلم ہیں اسی طرح صرف تین نشستیں ایسی ہیں جہاں 40.20فیصدتا 46.80 فیصد مسلم ہیں۔
میں نے بڑی محنت سے بہار کے ان اناسی( 79) اسمبلی حلقوں کے اعداد و شمار جمع کیے ہیں جہاں مسلمان پندرہ فیصد سے زیادہ ہیں ۔ اور جہاں سے مسلم امیدوار کامیاب ہوسکتے ہیں ۔ پندرہ فیصد مسلم آبادی والے حلقے شیوہر سے جنتا دل متحدہ کے محمد شرف الدین صاحب دو ہزار دس اور دو ہزار پندرہ میں کامیاب ہوئے تھے ۔ انہیں دو ہزار دس میں 33.72 اور دو ہزار پندرہ میں 29.71 فیصد ووٹ ملے تھے ، دو ہزار بیس میں انہیں 21.28 اور راشٹریہ جنتا دل کے کامیاب امیدوار چیتین آنند کو 42.69 ووٹ ملے تھے ۔
اگر ہم مان لیں کہ شیوہر کے تمام پندرہ فیصد مسلم ووٹ شرف الدین صاحب کو ملے تھے تو بھی دو ہزار دس میں 18.72 فیصد دو ہزار پندرہ میں 14.71 فیصد اور دو ہزار بیس میں 6.21 فیصد ہندو ووٹ شرف الدین صاحب کو ملے ،
ایسا نہیں ہے کہ مسلم امیدواروں کو ہندوؤں کے ووٹ نہیں ملتے ہیں ، مگر جتنے ووٹ ملنے چاہییں اتنے نہیں ملتے ، اگر کسی اسمبلی حلقے سے ایک دو بار مسلم امیدوار کامیاب ہو جائے تو پھر سارے ہندو متحد ہونا شروع ہو جاتے ہیں ، اور ایسے حلقوں میں ہندو مسلم فسادات بھی ہونے لگتے ہیں ۔ ہندوستان جیسے ملک میں ایک مسلمان کے لیے سیاست کرنا آسان نہیں ہوتا ،
*پچاس فیصد سے زیادہ مسلم آبادی والے اسمبلی حلقے*
1- کوچا دھامن ، ضلع کشن گنج 72.40 فیصد
2- بہادر گنج ضلع کشن گنج 66.70 فیصد
3- کشن گنج ضلع کشن گنج 60.90فیصد
4- ٹھاکر گنج ضلع کشن گنج 58.00فیصد
5- امور ضلع پورنیہ 69.80فیصد
6-بائسی ضلع پورنیہ 64.30فیصد
یہ تمام اسمبلی حلقے کشن گنج لوک سبھا کے تحت ہیں ، دو ہزار بیس کے اسمبلی انتخابات میں کوچا دھامن ،بہادر گنج ، امور اور بائسی سے مجلس اتحاد المسلمین کے امیدوار کامیاب ہوئے تھے ، مگر ڈیڑھ سال کے بعد ہی کوچا دھامن ،بہادر گنج ، اور بائسی کے مجلسی ممبران اسمبلی راشٹریہ جنتا دل میں چلے گئے تھے ،
7- بلرام پور ، ضلع کٹیہار 60.80 فیصد
8-جوکی ہاٹ ، ضلع ارریہ 65.70فیصد
جوکی ہاٹ سے دو ہزار بیس کے اسمبلی انتخابات میں شہنواز عالم مجلس اتحاد المسلمین کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے ، مگر ڈیڑھ سال کے بعد ہی وہ راشٹریہ جنتا دل میں چلے گئے تھے ،
9-ارریہ ضلع ارریہ 56.30 فیصد
بہار کے 243 اسمبلی حلقوں میں مسلم اکثریتی حلقے صرف یہی نو ہیں ۔
*چالیس فیصد سے زیادہ مسلم آبادی والے اسمبلی حلقے*
10- پران پور ، ضلع کٹیہار 46.80 فیصد
11- کڈوا، ضلع کٹیہار 42.60 فیصد
12ـ قصبہ ، ضلع پورنیہ 40.20فیصد
بہار کے 243 اسمبلی حلقوں میں چالیس فیصد سے زیادہ مسلم آبادی والے اسمبلی حلقے یہی تین ہیں ،
پچاس فیصد سے زیادہ مسلم آبادی والے اور چالیس فیصد سے زیادہ مسلم آبادی والے تمام اسمبلی حلقے سیمانچل کا حصہ ہیں ، سیمانچل میں کل چوبیس اسمبلی حلقے ہیں اور مجموعی طور سے سیمانچل کی مسلم آبادی سیمانچل کی کل آبادی کا پینتالیس فیصد ہے ۔
*تیس فیصد یا اس سے زیادہ مسلم آبادی والے اسمبلی حلقے*
13-منیہاری ضلع کٹیہار میں 38.90 فیصد مسلمان ہیں ،مگر یہ حلقہ دو ہزار آٹھ سے درج فہرست قبائل کے لیے مخصوص ہے ، یہاں مسلمان امیدوار نہیں بن سکتا ، پورے بہار میں صرف یہی حلقہ درج فہرست قبائل کے لیے مخصوص ہے، اس حلقے میں درج فہرست قبائل ( ایس ٹی )صرف 12.97 فیصد ہیں ، اور درج فہرست کاسٹس ( ایس سی ) صرف 7.30 ہیں ۔
14- فوربیس گنج ، ،ضلع ارریہ 33.80 فیصد
15- سکٹی ، ضلع ارریہ 32.10فیصد
یہ تمام پندرہ حلقے سیمانچل کا حصہ ہیں ،
16- ڈھاکہ ضلع مشرقی چمپارن ، 32.00 فیصد
17- کورہ ضلع پورنیہ 31.50 فیصد مگر یہ حلقہ درج فہرست کاسٹس ( ایس سی )کے لیے مخصوص ہے ، یہاں مسلمان امیدوار نہیں بن سکتا ،اس حلقے میں درج فہرست کاسٹس ( ایس سی )صرف 12.90فیصد ہیں ، اور درج فہرست قبائل ( ایس ٹی ) صرف 7.88 فیصد ہیں ۔
18-رانی گنج ،ضلع ارریہ 31.40 فیصد مگر یہ حلقہ درج فہرست کاسٹس ( ایس سی )کے لیے مخصوص ہے ، یہاں مسلمان امیدوار نہیں بن سکتا ،اس حلقے میں درج فہرست کاسٹس ( ایس سی )صرف 20.03فیصد ہیں ، اور درج فہرست قبائل ( ایس ٹی ) صرف 3.90ہیں ۔
19- بسفی ضلع مدھوبنی ، 31.00 فیصد
20.باجپٹی ، ضلع سیتامڑھی ، 30.60 فیصد
21- سکٹا ضلع مغربی چمپارن ، 30.20 فیصد
22- نرکثیا گنج ، ضلع مغربی چمپارن ، 30.00 فیصد
23- کیوٹی ، ضلع مدھوبنی ، 30.00 فیصد
*بیس فیصد سے زیادہ مسلم آبادی والے اسمبلی حلقے*
24- براری ، ضلع کٹیہار ، 29.80 فیصد
25-جالے ، ضلع دربھنگہ ، 29.00 ، ضلع دربھنگہ ، 29.00
26-نرکثیا ، ضلع مشرقی چمپارن ، 26.80
27- بھاگل پور ، ضلع بھاگل پور ، 26.30
28ـکٹیہار ضلع کٹیہار ، 25.90 فیصد
29- سیوان ،ضلع سیوان ، 25.80
30- پورنیہ ، ضلع پورنیہ ، 25.70 فیصد
31- دربھنگہ دیہی ضلع دربھنگہ 25.20
32- پریہار ، ضلع سیتامڑھی ، 25.10
33- گورا بورام، ضلع دربھنگہ 24.80
34- برہریا، ضلع سیوان ، 24.70
35-بتیا ، ضلع مغربی چمپارن ، 24.60
36- چھاتا پور ، ضلع سپول ، 24.10 فیصد
37- شیر گھاٹی ، ضلع گیا 23.90 فیصد
38- سگولی ۔ ضلع مشرقی چمپارن ، 23.40
39- دربھنگہ سٹی ،ضلع دربھنگہ 23.30
40- رگھوناتھ پور, ضلع سیوان 23.20
41-مدھوبنی ضلع مدھوبنی 22.60
42- سورسنڈ ، ضلع سیتامڑھی ، 22.40
43-رکسول ۔ ضلع مشرقی چمپارن ، 22.40
44- ناتھ نگر ، ضلع بھاگل پور ، 22.30
45- بہار شریف ، ضلع نالندہ ، 22.20
46- نرپت گنج ، ضلع ارریہ 21.40
47- علی نگر ضلع دربھنگہ 21.20
48- چنپٹیا، ضلع مشرقی چمپارن 21.10
49- گیا ٹاؤن ،ضلع گیا 20.80فیصد
50- سپول، ضلع سپول ، 20.40 فیصد
52- مہشی ضلع سہرسہ ، 20.30 فیصد
*پندرہ فیصد سے زیادہ مسلم آبادی والے اسمبلی حلقے*
52- دھمداہا، ضلع پورنیہ 19.80فیصد
53- کانٹی، ضلع مظفر پور، 19.40 فیصد
54- اورنگ آباد ، ضلع اورنگ آباد ، 19.00 فیصد
55-سیتا مڑھی ، ضلع سیتامڑھی ، 18.50 فیصد
56- ہرسیدھی ، ( ایس سی )، ضلع مشرقی چمپارن ، 18.50 فیصد
57- مظفرپور ، ضلع مظفر پور،18.50فیصد
58- کہل گاؤں ، ضلع بھاگل پور18.10 فیصد
59-دھوریا ( ایس سی )، ضلع بانکا، 18.00فیصد
60-اورائی ، ضلع مظفر پور،17.90فیصد
61-نرملی، ضلع سپول ، 17.30فیصد
62- نوتن ، ضلع مغربی چمپارن ، 17.30فیصد
63-پٹنہ صاحب ، ضلع پٹنہ، 17.20فیصد
64- سکرا ، ضلع مظفر پور،17.10فیصد
65-ہتھوا ، ضلع گوپال گنج ، 17.10فیصد
66- گوریا کھوٹی، ضلع سیوان ، 16.90فیصد
67- لوریا ، ضلع مغربی چمپارن ، 16.80فیصد
68-پپرا ،ضلع سپول ، 16.70فیصد
69- صاحب پور کما، ضلع بیگو سرائے، 16.50فیصد
70- سمستی پور،ضلغ سمستی پور ، 16.20فیصد
71- بینی پٹی، ضلع مدھوبنی ، 16.10فیصد
72- بگہا ،ضلع مغربی چمپارن ، 16.10فیصد
73- جمال پور ( ایس سی )، ضلع مونگیر ، 16.10فیصد
74- پاتےپور، ضلع ویشالی ، 15.80فیصد
75- کرہنی ( ایس سی )ضلع مظفر پور،15.80فیصد
76- بیلسنڈ ، ضلع ،سیتامڑھی ، 15.70فیصد
77- سونبرسا ( ایس سی )، ضلع سہرسہ 15.40فیصد
78-ریگا،ضلع ،سیتامڑھی ، 15.30 فیصد
79- شیوہر، ضلع شیوہر، 15.00 فیصد
بقیہ ایک سو چوالیس اسمبلی حلقوں میں سے کچھ کے اعداد و شمار دستیاب ہیں مگر وہاں پندرہ فیصد سے کم مسلمان ہیں ۔
*اعداد و شمار کے مراجع*
ریزلٹ یونیورسٹی ویب سائٹ
چانکیہ کوم ویب سائٹ
اور دیگر متعلقہ ویب سائٹس
Comments are closed.