قیادت کو تسلیم کرنے کا مزاج بنائیے !

 

از محمد شاہد ناصری الحنفی

(صدر ادارہ دعوة السنه كانديولي، ممبئی)

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ، مسلمانان ہند کے اجتماعی شعور وفکر کا ادارہ ہے، جس نے ہر دور کے نازک ترین حالات میں ملت اسلامیہ کی بروقت رہنمائی کی ہے، یہ خداکا فضل ہی ہے کہ ہر زمانے میں اس ادارے کو مخلصین کی بڑی تعداد ملی ہے، بہ طورخاص اس کے صدور اور جنڑل سکریٹری تو ہر زمانے میں آفتاب ماہتاب ہی رہے ہیں. ہندوستان کے موجودہ حالات اور اس تناظر میں نئے نئے متنازعہ قوانین، جس کے زد پر زیادہ تر مسلمان ہی آرہے ہیں، اس کے ازالہ کے لیے مختلف مسلم تنظیموں کی جدوجہد کو فراموش نہیں کیاجاسکتا؛ لیکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے جو کوششیں کیں ہیں, وہ ملت اسلامیہ کی متحدہ آواز ہونے کی وجہ سے بہت ہی طاقت ور اور مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ بورڈ کا ہدف چوں کہ مسلمانوں کے مذہبی مسائل کا تحفظ ہے، جس میں اوقاف بھی شامل ہے؛ چناں چہ جیسے ہی یہ بات سامنے آئی کہ اوقاف کی املاک پر حکومت شب خون مارنے والی ہے، بورڈ متحرک اور سَرگرم عمل ہوگیا اور اس نے یہ فیصلہ کیا کہ حکومت جب تک اس غیر منصفانہ اور متعصبانہ قانون کو واپس نہیں لیتی، اس وقت تک احتجاج جاری رہے گا اور یہ احتجاج اپنے مطالبات منوانے کے لیے کسی بھی جمہوری ملک کے باشندوں کا حق ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بورڈ نے اس سیاہ قانون کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج بھی کیا، جس کا حتمی فیصلہ آنا ابھی باقی ہے، اس احتجاج کے سلسلے کو دراز کرتے ہوئے بورڈ نے گزشتہ 3/ اکتوبر جمعہ کو آدھے دن کاروبار بند کر کے اس کالے اور غیر منصفانہ قانون پر نازاضگی کے اظہار کا پروگرام بنایاتھا، سوء اتفاق کہ اسی جمعہ کو برادران وطن کا تہوار سامنے آگیا؛ اس لیے حفظ ماتقدم کے پیش نظر جمعہ کے اس بند کی اپیل کو واپس لے لیا گیا اور واپسی کا اعلان کیا ہوا کہ شوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر بورڈ کے قائدین اور بہ طور خاص صدر محترم کے خلاف طوفان بد تمیزی کی بوچھاڑ شروع ہوگئ اورکمال تو یہ ہے کہ وہ لوگ بھی جو ابھی آٹھ دن پہلے بہت جدوجہد کے بعد بورڈ کے ممبر بنے ہیں انہوں نے بھی دوسروں کے کاندھے پر بندوق رکھ کر چلانا شروع کردیا کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے اور اس کے باوجود یہ کہاجاتا ہے کہ یہ قحط الرجال کا دور ہے؛ حالاں کہ یہ بہت جھوٹی بات ہے؛ اس لیے کہ باکمال اشخاص، امت میں اب بھی موجود ہیں اور ان شاء اللہ ہمیشہ موجود رہیں گے، مگر نفسانیت، عصبیت، اور کبر، اہل کمال کو تسلیم کرنے سے مانع بنا رہتا ہے اور بسا اوقات استکبار علم کی وجہ سے بھی کسی صاحب کمال کو لوگ تسلیم نہیں کرتے؛ اس لیے میں اس دور کو قحط الرجال نہیں بل کہ قتل الرجال کا دور کہتا ہوں۔ عموماً لوگوں نے تنقید کے اندر کی صالحیت کو ختم کردیا ہے، اس کو لوگوں کی تضحیک و تذلیل کا ذریعہ بنالیا ہے؛ حالاں کہ قوموں پر کوئی زمانہ ایسا نہیں گزرا کہ قائدین پر اعتراض نہ کیا گیا ہو، یا ان سے اختلاف نہ کیا گیا ہو، عہد سلف میں بھی یہ سلسلہ تھا، مگر وہ لوگ پاک نفس تھے، ان کا اختلاف نفرت اور عصبیت پر مبنی نہیں ہوتا تھا۔

میرے مخلص اور قابل احترام علم دوست مولانا محمد قمرالزماں ندوی حفظہ اللہ اپنے ایک مضمون ” اختلاف اور آداب اختلاف ” میں لکھتے ہیں :

” علامہ ابن قیم الجوزیہ نے اعلام الموقعین میں لکھا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے درمیان سو مسائل میں باہم اختلاف تھا، اسی طرح انہوں نے دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے باہم اختلاف رائے کو بھی لکھا ہے؛ لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس کو برا نہیں مانا اور یہ اختلاف باہم رنجش و رقابت اور افتراق و انتشار کا کبھی ذریعہ نہیں بنا اور اس کی بناء پر ایک دوسرے کی عزت و احترام میں کبھی فرق نہیں آیا۔”

سچائی یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ کسی تنگ نظری اور تعصب کے بغیر تبادلئہ خیال کرتے تھے اور پھر کسی نتیجے پر پہنچتے تھے اور ظاہر ہے کہ جہاں یہ مزاج اور طرز عمل موجود ہوگا، وہاں علمی و فکری اختلاف وسعت و خیر کا ذریعہ بنے گا۔

ہمارا طرز عمل اختلاف کے موقع پر وہی ہونا چاہیے جو صحابہ کرام کا اور ہمارے اسلاف کا تھا۔

امام شافعی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ ” میری رائے درست ہے، مگر احتمال خطا کے ساتھ۔ دوسرے کی رائے غلط ہے، مگر احتمال صحت کے ساتھ۔”

لیکن افسوس کہ آج ہمارا رویہ اسلاف کے برعکس ہے، ہر شخص کو صرف اپنی رائے کے صحیح ہونے پر اصرار ہے اور وہ تحریر و تقریر اور سوشل میڈیا کے ذریعہ کوشش یہ کرتے ہیں کہ پوری امت ان کی رائے و اجتہاد کو ضرور مانے اور تسلیم کرے، وہ اپنے علاؤہ کسی کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور نہ کسی کی رائے کو کوئی وزن دیتے ہیں، ان کا یہی منفی رویہ ان کو عوام و خواص میں خود بے وزن کر دیتی ہے، مثالیں ہر روز ہماری نظروں سے گزرتی رتی ہیں، کاش وہ لوگ سلف کے منہج اختلاف کو مثبت انداز سے لئے ہوتے۔

خلاصہ یہ کہ اختلاف کا پیدا ہونا بالکل فطری امر ہے، مگر اختلاف کا انداز مثبت اور تعمیری ہونا چاہیے، اسے تشدد و انتشار اور تذلیل کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے، نیز اس سے آپسی دوریاں پیدا نہیں ہونی چاہیے۔ اس موقع پر بھی عدل و انصاف کا دامن تھامے رکھنا چاہیے اور ہمیشہ اپنے قائدین پر اعتماد رکھنا چاہیے، ان کی حوصلہ افزائی اور ان کی قیادت کے استحکام کی دعائیں بھی کرنی چاہیے۔ خدا کاشکر ہے کہ بورڈ کو اس وقت عالمی سطح کے فقیہ، فکر ونظر کے حامل، بصارت و بصیرت کے پیکر، رجل رشید مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم کی قیادت حاصل ہے، جو ملت اسلامیہ کے لیے موجب اطمینان وتشکر کی بات ہے۔

Comments are closed.