مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں روایتی شان و شوکت کے ساتھ سر سید احمد خاں کی 208ویں یومِ پیدائش تقریبات منائی جائیں گی
الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عبدالشاہد ہوں گے مہمان خصوصی
علی گڑھ، 13 اکتوبر: الٰہ آباد ہائی کورٹ کے عزت مآب جج جسٹس عبدالشاہد، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے بانی سر سید احمد خاں کے 208ویں یومِ پیدائش کے موقع پر منعقد ہونے والی مرکزی تقریب میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کریں گے۔ یہ تقریب 17 اکتوبر کو گلستان سید میں منعقد ہوگی۔
جسٹس عبدالشاہد صبح 10:45 بجے جلسہ گاہ میں ایک قدیم وکٹورین طرز کی گھوڑا گاڑی میں روایتی شان و شوکت کے ساتھ تشریف لائیں گے۔ ان کے ہمراہ یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون ہوں گی۔ جلسہ گاہ آمد پر رائیڈنگ کلب کے اراکین ان کا خیرمقدم کریں گے اور اسٹیج تک لے جائیں گے۔
اس موقع پرنامور سائنسداں ڈاکٹر ایس سومناتھ، سابق چیئرمین، اسرو اور چانسلر، چانکیہ یونیورسٹی، بنگلورو، مہمان اعزازی ہوں گے، جبکہ محترمہ ملی ایشوریہ، سینئر نائب صدر، پینگوئن رینڈم ہاؤس، بطور مہمان خاص شریک ہوں گی۔ ڈاکٹر سومناتھ کی قیادت میں چندریان تھری، 23 اگست 2023 کو کامیابی کے ساتھ چاند پر اترا تھا۔
وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون صدارتی خطاب کریں گی، جبکہ مہمانِ خصوصی اور دیگر معززین بھی حاضرین سے خطاب کریں گے۔
تقریب کا آغازاے ایم یو رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر کے استقبالیہ کلمات سے ہوگا۔
پروفیسر فضا تبسم اعظمی (شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن) انگریزی میں اور پروفیسر محمد قمرالہدی فریدی (چیئرمین، شعبہ اردو) اردو میں سر سید احمد خاں کے وژن، فلسفے اور تعلیمی مشن پر تقاریر کریں گے۔ اس موقع پر دو طلبہ بھی تقریریں کریں گے۔
تقریب میں مہمان خصوصی کے بدست بین الاقوامی و قومی سر سید ایکسیلنس ایوارڈ بھی پیش کئے جائیں گے۔ پروفیسر فیصل دیوجی (یونیورسٹی آف آکسفورڈ) کو بین الاقوامی زمرہ میں اور ڈاکٹر عبد القدیر (چیئرمین، شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنز) کو قومی زمرہ میں یہ ایوارڈ دیا جائے گا۔
اس موقع پر یونیورسٹی کے دفتر رابطہ عامہ کے زیرِ اہتمام منعقدہ آل انڈیا مضمون نویسی مقابلے کے فاتحین کو بھی انعامات سے نوازا جائے گا۔ اس مقابلے کا موضوع تھا: سر سید احمد خاں اور علی گڑھ تحریک: ہندوستان میں سیکولر تعلیم کے لئے ایک معقول نقطہئ نظر۔
آخر میں ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر پروفیسر رفیع الدین شکریہ کے کلمات ادا کریں گے۔ یونیورسٹی کے ترانہ اور قومی ترانہ کے ساتھ تقریب کا اختتام ہوگا۔
اس سے قبل یونیورسٹی مسجد میں نمازِ فجر کے بعد صبح 6 بجے قرآن خوانی ہوگی، جس کے بعد سر سید احمد خاں کی قبر پر چادر پوشی کی رسم ادا کی جائے گی۔
صبح 9:30بجے سر سید اکیڈمی میں سر سید احمد خاں کی تحریروں اور کتب پر مبنی نمائش کا افتتاح وائس چانسلر کریں گی، اور ان سے متعلق نئی کتب کی رونمائی بھی عمل میں آئے گی۔ اس مناسبت سے یونیورسٹی کے تمام اقامتی ہالوں میں روایتی یوم سر سید ڈنر کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کی جانب سے آل انڈیا مضمون نویسی مقابلہ کے نتائج کا اعلان
علی گڑھ، 13 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے ”سر سید احمد خاں اور علی گڑھ تحریک: ہندوستان میں سیکولر تعلیم کے لیے ایک معقول نقطہ نظر“ موضوع پر کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کے لیے انگریزی، اردو اور ہندی زبانوں میں منعقدہ آل انڈیا مضمون نویسی مقابلہ کے نتائج کا اعلان کردیا ہے۔ یہ مقابلہ سر سید احمد خاں کے عقلی، سیکولر اور جامع نظام تعلیم کے تصور کی موجودہ دور میں اہمیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ طلبہ کو علی گڑھ تحریک اور قومی تعمیر میں ان کے کردار پر غور و فکر کی ترغیب دینے کے مقصد سے منعقد کیا گیا۔
انگریزی میں اوّل انعام طوبیٰ شمسی (بی اے، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی)، دوم انعام استوتی نارائن (بی اے ایل ایل بی، نلسار یونیورسٹی آف لا، حیدرآباد) اور سوم انعام یانس اقبال (بی اے، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے حاصل کیا ہے۔
اردو اور ہندی زبانوں کے تمام فاتحین کا تعلق علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ہے۔اردو میں اوّل انعام طاہر حسین (ریسرچ اسکالر)، دوم انعام آفرین رضا (ریسرچ اسکالر) اور سوم انعام ابو داؤد (بی اے) نے حاصل کیا۔ اسی طرح ہندی میں پہلا انعام محمد صہیب (بی اے ایل ایل بی)، دوم انعام ازرم فاطمہ صدیقی (بی کام) اور سوم انعام سلمیٰ اشفاء (ریسرچ اسکالر) نے حاصل کیا۔
مقابلے میں ہر زبان میں اول انعام کے طور پر 25000 روپے، دوم انعام کے طور پر 15000 روپے، اور سوم انعام کے طور پر 10000 روپے نقد دئے جائیں گے۔ یہ انعامات 17 اکتوبر کو اے ایم یو میں ہونے والی یومِ سر سید تقریب کے دوران فاتحین کو پیش کئے جائیں گے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں دماغی صحت میلہ کا انعقاد
علی گڑھ، 13 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے اسٹوڈنٹس کاؤنسلنگ سینٹر نے عالمی یوم دماغی صحت کی مناسبت سے دماغی صحت میلہ کا انعقاد فیکلٹی آف آرٹس کے لان میں کیا، جس کا مقصد طلبہ اور یونیورسٹی کی وسیع تر برادری میں ذہنی صحت کے بارے میں شعور بیدار کرنا اور کھلے مکالمے کو فروغ دینا تھا۔
اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون مہمانِ خصوصی کے طور پر موجود تھیں، جنہوں نے ربن کاٹ کر میلے کا افتتاح کیا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ذہنی صحت، مجموعی فلاح و بہبود کا ایک لازمی جز ہے۔ بیداری، قبولیت اور ہمدردی ایک صحت مند اور جامع تعلیمی ماحول کی بنیاد ہیں۔
انہوں نے اسٹوڈنٹس کاؤنسلنگ سینٹر کی اس کاوش کو سراہا جو طلبہ کے لئے ذہنی صحت کو ترجیح دینے اور بلا جھجھک انھیں مدد حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
تقریب میں پروفیسر رفیع الدین، ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر، پروفیسر ٹی این ستھیسن، ڈین، فیکلٹی آف آرٹس، پروفیسر شافع قدوائی، ڈائریکٹر، سر سید اکیڈمی، پروفیسر محمود ایس خان، مختلف ہاسٹلوں کے پرووسٹ، پراکٹوریل ٹیم کے اراکین، شعبہ جات کے سربراہان، اور یونیورسٹی کے دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔
یہ پروگرام سنٹر کی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر نشید امتیاز اور اسسٹنٹ کوآرڈینیٹرز ڈاکٹر سلمیٰ کنیز، ڈاکٹر آصف حسن، ڈاکٹر سارہ جاوید، ڈاکٹر حنا پروین اور ڈاکٹر ایشا رحمان کی زیر نگرانی منعقد کیا گیا۔ تقریب میں مختلف شعبوں کے اساتذہ، طلبہ اور عملے نے شرکت کی۔
اس موقع پر ذہنی صحت سے متعلق نکڑ ناٹک پیش کیا گیا، اور موسیقی ریز پیشکش کے ساتھ طلبہ نے تقریباً 20 تخلیقی اور انٹرایکٹیو اسٹالزلگائے تھے، جن میں نفسیاتی جانچ کے بوتھ، آرٹ اور ایموشن تھیریپی کارنرز، آگہی گیمز، تھاٹ بورڈز، اور مہربانی و شکرگزاری کی دیواریں شامل تھیں۔
اس کے علاوہ، پوسٹر سازی کا ایک مقابلہ بھی منعقد کیا جسے شعبہ سائیکیاٹری کی پروفیسر دیوشری آکھوری نے جج کیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں این ایس ایس کے تحت انٹریپرینیئرشپ آگہی پروگرام منعقد
علی گڑھ، 13 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی نیشنل سروس اسکیم یونٹ نے علی گڑھ بزنس انوویشن ایسوسی ایشن کے اشتراک سے ایک خصوصی انٹریپرینیئرشپ آگہی پروگرام منعقد کیا، جس کا مقصد طلبہ میں اختراع اور خود روزگاری کے رجحان کو فروغ دینا تھا۔
مہمانِ خصوصی پروفیسر ملک شعیب احمد (شعبہ سول انجینئرنگ اور ممبر انچارج، بلڈنگ ڈپارٹمنٹ، اے ایم یو) نے اپنے خطاب میں قومی ترقی میں انٹریپرینیئرشپ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے طلبہ کو نوکری تلاش کرنے والا بننے کے بجائے نوکری دینے والا بننے کی تلقین کی۔
ایسوسی ایشن کے ڈائرکٹر مسٹر پون کمار شرما نے اختراع، اسٹارٹ اپ کلچر، اور پائیدار کاروبار قائم کرنے کے چیلنجوں پر روشنی ڈالی۔
پروگرام کو ڈاکٹر محمد محسن خان (کوآرڈینیٹر،این ایس ایس) نے مربوط کیا، جبکہ پروگرام افسران ڈاکٹر عبدالجبار اور ڈاکٹر تاروشیکھا سرویش نے بھرپور معاونت فراہم کی۔
ڈاکٹر نوال الرحمن، محمد عمران خان، اور نعیم احمد کے ساتھ 100 سے زائد این ایس ایس رضاکاروں نے پروگرام کو کامیاب بنایا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے مرکز برائے فاصلاتی و آن لائن تعلیم نے ورلڈ انویسٹر ویک کے موقع پربیداری سیشن منعقد کیا
علی گڑھ، 13 اکتوبر: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) کے اقدام ’ورلڈ انویسٹر ویک‘ کے موقع پر، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے مرکز برائے فاصلاتی و آن لائن تعلیم نے شعبہ کامرس اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج کے اشتراک سے ایک انویسٹر بیداری سیشن، مرکز کے ڈائرکٹر پروفیسر محمد نفیس احمد انصاری کی سرپرستی میں اور ڈاکٹر محمد عاطف افضال کی رہنمائی میں منعقد کیا۔
سیشن کی قیادت شعبہ کامرس کے ماسٹر ٹرینر پروفیسر محمد شمیم نے کی، جنہوں نے سرمایہ کاری کے بنیادی اصولوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے محفوظ سرمایہ کاری، کیا کریں اور کیا نہ کریں جیسے نکات پر بات کی اور مالی منصوبہ بندی کی اہمیت کو تین نکاتی حکمت عملی یعنی ہنگامی حالات کی تیاری، کنبہ کے اہداف کا حصول اور ایک محفوظ ریٹائرمنٹ کی منصوبہ بندی کے ذریعے واضح کیا۔
انہوں نے سیبی سارتھی ایپ کا تعارف بھی کرایا، جو کہ ایک صارف دوست ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، جس کا مقصد سرمایہ کاروں کو مستند مالی معلومات اور عملی ہنر فراہم کرنا ہے۔ سوال و جواب کے سیشن پر پروگرام ختم ہوا۔ ڈاکٹر صالحہ الہام نے اظہار تشکر کیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں تاریخ کے طلبہ کے لیے کریئر کاؤنسلنگ ورکشاپ منعقد
علی گڑھ، 13 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے انڈرگریجویٹ ہسٹری کلب”تاریخ یافتہ“ نے ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ آفس (جنرل) کے اشتراک سے ایک کریئر کاؤنسلنگ ورکشاپ منعقد کی، جس کا مقصد تاریخ کے طلبہ کو مختلف پیشہ ورانہ مواقع سے آگاہ کرنا اور ان کی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے عملی مشورے فراہم کرنا تھا۔
مسٹر سعد حمید، ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ آفیسر، اے ایم یو نے اپنے کلیدی خطاب میں طلبہ کو کریئر کی منصوبہ بندی میں مقصد کی وضاحت اور توجہ مرکوز کرنے کی اہمیت سے واقف کرایا۔ انہوں نے مینٹورنگ، ذہنی صحت، مثبت رویہ، توجہ اور ہمہ جہت ترقی کے تئیں سنجیدہ رویہ اپنانے پر زور دیا۔
ڈاکٹر انیسا اقبال صابر، کوآرڈینیٹر، تاریخ یافتہ، نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور مہمانِ خصوصی کو یادگاری تحفہ پیش کیا۔ ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء کو اسناد تقسیم کی گئیں، اور منتظمین کے اعزاز میں ایک خصوصی تقریب بھی منعقد کی گئی۔ بی اے کے طالب علم شیخ عارض الاسلام نے پروگرام کی نظامت کی، جبکہ کلب کے جنرل سکریٹری دانش اسلم نے شکریہ ادا کیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں نیشنل وائلڈ لائف ہفتہ کی مناسبت سے تین روزہ آگہی پروگرام منعقد
علی گڑھ، 13 اکتوبر:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ وائلڈ لائف سائنسز کے اے ایم کے- بایو لیب نے نیشنل وائلڈ لائف ہفتہ 2025 کے سلسلے میں ایک تین روزہ تعلیمی و آگہی پروگرام منعقد کیا، جس کا مقصد طلبہ، محققین اور فطرت سے دلچسپی رکھنے والوں میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، پرندوں کی ماحولیات اور قدرتی مساکن کے انتظام کے بارے میں بیداری پیدا کرنا تھا۔
آرگنائزنگ سکریٹری و کوآرڈینیٹر ڈاکٹر احمد مسعود خان نے ”ہمارے ارد گرد کے پرندے: ان کی اہمیت، چیلنجز، اور تحفظ کے طریقے“ موضوع پر لیکچر دیا۔یہ نشست ریسرچ اسکالر سندیپ کمار کوشل کی نظامت میں ہوئی۔
بعد ازاں، ایک آن لائن وائلڈ لائف کوئز کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع تھا: علمِ طیور کی بنیادی باتیں اور ہندوستانی پرندے۔ کوشلندر سنگھ کی قیادت میں منعقدہ اس کوئز میں ملک کے مختلف اداروں کے 200 سے زائد طلبہ نے حصہ لیا۔
پروگرام کے آخری دن ڈاکٹر پریم چندر پانڈے (شیو نادار یونیورسٹی) نے لیکچر دیا جس کا عنوان تھا:ویٹ لینڈ کے قدرتی ماحول کی حرکیات اور حیاتیاتی تنوع کے لیے ملٹی-سینسر ریموٹ سینسنگ کا انضمام۔ اس نشست کی نظامت ڈاکٹر احمد مسعود خان نے کی، جبکہ پروفیسر ستیش کمار (چیئرپرسن، شعبہ وائلڈ لائف سائنسز) نے خطاب کرتے ہوئے سیٹلائٹ اور جدید سینسر ٹکنالوجی کے ذریعے ویٹ لینڈ کی نگرانی اور تحفظ کی منصوبہ بندی پر روشنی ڈالی۔
٭٭٭٭٭٭
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر ضیاء الرحمٰن صدیقی، اردو مرکز نیویارک کے ”نشانِ اُردو 2023–24“ ایوارڈ کے لیے نامزد
علی گڑھ، 13 اکتوبر: اردو مرکز نیویارک (امریکہ) نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے استاذ، نامور محقق، ماہرِلسانیات پروفیسر ضیاء الرحمٰن صدیقی کو اپنے معزز ترین بین الاقوامی اعزاز ”نشانِ اُردو 2023–24“ کے لیے نامزد کیا ہے۔ یہ ایوارڈ یوم سر سید کے موقع پر نیویارک میں ایک پروقار تقریب میں پیش کیا جائے گا۔
ادارہ اردو مرکز، نیویارک کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پروفیسر ضیاء الرحمٰن صدیقی اردو زبان، تحقیق، تنقید، اور تدریس کے میدان میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کی علمی و ادبی خدمات نے اردو زبان کو بین الاقوامی سطح پر نئی شناخت عطا کی ہے۔ ان کی تصانیف دو درجن سے زائد اور تحقیقی و تنقیدی مقالات کی تعداد سو سے زائد ہیں۔
ادارے کے بانی و صدر جناب رئیس وارثی نے اپنے پیغام میں کہا کہ پروفیسر ضیاء الرحمٰن صدیقی اردو کے ان ماہرین میں سے ہیں جنہوں نے اپنی علمی بصیرت، فکری جستجو اور لسانی خدمات کے ذریعے اردو کو نئی عالمی وسعت عطا کی ہے۔ ان کی نامزدگی دراصل اردو زبان کی بین الاقوامی شناخت کا جشن ہے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے علمی و ادبی حلقوں نے اس نامزدگی کو نہایت مسرت و فخر کا باعث قرار دیا ہے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے فیکلٹی ممبر کی نیشنل ریڈیوگرافی کانفرنس میں شرکت
علی گڑھ، 13 اکتوبر:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے پیرامیڈیکل کالج کے شعبہ ریڈیو-امیجنگ ٹکنالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد عرفات نے چندی گڑھ میں منعقدہ انڈین سوسائٹی آف ریڈیولوجرز اینڈ ٹکنالوجسٹس (این سی آئی ایس آرٹی2025) کی 17ویں قومی کانفرنس میں یونیورسٹی کی نمائندگی کی۔ یہ کانفرنس پی جی آئی ایم ای آر، چندی گڑھ میں منعقد ہوئی، جہاں ڈاکٹر عرفات نے ایک سائنسی سیشن کی صدارت کی۔ اس دوران مختلف ماہرین اور نوجوان محققین نے تشخیصی طریقوں اور کلینیکل امیجنگ میں ہونے والی جدید پیش رفت پر اپنے مقالے پیش کیے۔
پروفیسر قاضی احسان علی، پرنسپل، پیرامیڈیکل کالج نے ڈاکٹر عرفات کو اس دستیابی پر انھیں مبارکباد پیش کی اور ان کی علمی و پیشہ ورانہ خدمات کو سراہا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے ویمنس کالج میں ”تصوف اور خواتین کی تعلیم کا فروغ“ موضوع پر لیکچر کا اہتمام
علی گڑھ، 13 اکتوبر:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ویمنس کالج میں ویمنس کالج ہسٹری اسٹڈی سرکل کے زیر اہتمام ممتاز مؤرخ پروفیسر ایس ایم عزیز الدین حسین نے ”تصوف اور خواتین کی تعلیم کا فروغ“ موضوع پر لیکچر دیا۔
انھوں نے اپنے خطاب میں اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح صوفی تعلیمات نے تاریخی طور پر خواتین کی تعلیم اور تفویض اختیارات کی حمایت کی۔ انہوں نے قرآنی اصولِ مساوات اور تعلیم کو ایک روحانی حق اور ارتقاء کے وسیلے کے طور پر پیش کرتے ہوئے تاریخی متون اور مثالوں سے ثابت کیا کہ تصوف نے خاص طور پر خواتین کے لیے ہمیشہ علم حاصل کرنے کو اہمیت دی ہے۔
نشست کی صدارت پروفیسر شگفتہ امتیاز (شعبہ انگریزی، اے ایم یو) نے کی۔ انہوں نے پروفیسر عزیز الدین حسین کا خیرمقدم کیا اور اسٹڈی سرکل کی جانب سے تاریخی اور عصری تحقیقی رجحانات پر مکالمہ اور شعور اجاگر کرنے کی کوششوں کو سراہا۔
لیکچر کے بعد ایک سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا، جس کی نظامت نائب صدر زینب فائزہ اسلام نے کی۔ اختتامی کلمات پروفیسر شاداب بانو نے ادا کیے۔
ویمنس کالج ہسٹری اسٹڈی سرکل کی صدر ناز خان نے اسٹڈی سرکل اور اس کی نئی ٹیم کا تعارف پیش کیا۔ اسٹڈی سرکل کی مختلف کمیٹیوں میں شامل ذیلی شعبہ جات طالبات کی قیادت میں سرگرم عمل ہیں۔ ہیریٹیج واک اینڈ ٹورزم کمیٹی کی صدر ہادیہ کے، بک ڈسکشن و لیکچر آرگنائزیشن کی صدر دیپیکا ماتھر، سوشل میڈیا اینڈ پرسنل ریلیشنز کی صدر شاذیہ عصمت فاطمہ دیانہ، اسٹوڈنٹ موبلائزیشن کی صدر انجنا بینو، فلم اسکریننگ کی صدر سارہ صمدانی اور میگزین کی سربراہ رحمت سلیمہ ہیں۔ آخر میں سکریٹری طہورہ شکیل نے شکریہ ادا کیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کشن گنج سینٹر میں کریئر سیشن کا انعقاد
علی گڑھ، 13 اکتوبر:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سنٹر، کشن گنج میں ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ آفس کے زیر اہتمام ایک کریئر گائیڈنس سیشن منعقد ہوا، جس میں یونیورسٹی کے ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ آفیسر مسٹر سعد حمید نے ایم بی اے کے طلبہ کو ملازمت کے مواقع کے لیے خود کو بہتر طور پر تیار کرنے سے متعلق مفید مشورے دیے۔
مسٹر حمید نے مؤثر سی وی کی تیاری، ایک مضبوط اسٹیٹمنٹ آف پرپز لکھنے، نظریاتی فہم کو مضبوط کرنے، اور کریئر مقاصد سے ہم آہنگ ایم بی اے اسپیشلائزیشن کے انتخاب پر زور دیا۔ انہوں نے طلبہ کو خود میں مسلسل بہتری لانے اور پیشہ ورانہ ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کی ترغیب دی۔
پروفیسر محمد طارق، ڈائریکٹر، اے ایم یو کشن گنج سینٹر نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے مشورہ دیا کہ ایسے مزید آف لائن سیشن منعقد کئے جائیں تاکہ طلبہ کی شمولیت اور نیٹ ورکنگ کے مواقع میں اضافہ ہو۔
پروگرام کا آغاز خیر مقدمی کلمات سے ہوا۔ ایم بی اے کے طالب علم محمد زبیر نے پروگرام کی میزبانی کی۔ سیشن کی نگرانی ڈاکٹر یاسر امام (ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ آفیسر، اے ایم یو کشن گنج سینٹر) نے کی۔
آخر میں طلبہ نے مسٹر حمید سے کریئر کے امکانات و مواقع سے متعلق سوالات کیے اور رہنمائی حاصل کی۔
٭٭٭٭٭٭
پروفیسر سجاد اطہر اے ایم یو میں شعبہ طبیعیات کے نئے چیئرمین مقرر
علی گڑھ، 13 اکتوبر:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کے شعبہ طبیعیات سے وابستہ پروفیسر محمد سجاد اطہر کو شعبہ کا نیا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی مدت کار 8 جنوری 2027 تک رہے گی۔
پروفیسر سجاد اثر عالمی شہرت یافتہ سائنسی اداروں سے وابستہ ہیں، جن میں مشہور فرمی نیشنل ایکسیلیریٹر لیباریٹری (فرمی لیب)، امریکی محکمہ توانائی اور ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف فنڈامنٹل ریسرچ، ممبئی شامل ہیں۔
انہوں نے طبیعات کے مستند بین الاقوامی جرائد میں متعدد تحقیقی مقالے شائع کیے ہیں، جن میں نوبل انعام یافتہ پروفیسر تاکا کی کاجیتا (نوبیل انعام برائے طبیعیات 2015) کے ساتھ اشتراک بھی شامل ہے۔ پروفیسر اطہر معروف کتاب دی فزکس آف نیوٹرینو انٹرایکشنز کے شریک مصنف بھی ہیں۔ ان کی تعلیمی و تحقیقی خدمات کو علمی حلقوں میں نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کا 63واں یوم تاسیس منایا گیا
علی گڑھ، 13 اکتوبر:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کا 63واں یومِ تاسیس انتہائی جوش و وقار کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر ایم بی بی ایس 2021 بیچ کی الوداعی تقریب بھی منعقد کی گئی۔ کالج کے آڈیٹوریم میں ایک شاندار ثقافتی پروگرام منعقد ہوا، جس میں طلبہ نے دل کو موہ لینے والی پیشکش سے حاضرین کو محظوظ کیا۔
مہمانِ خصوصی، اے ایم یو کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ جے این میڈیکل کالج ملک کے مایہ ناز میڈیکل اداروں میں شامل ہے، جس نے نہ صرف ماہر ڈاکٹروں بلکہ ذمہ دار اور ہمدرد شہریوں کی بھی تربیت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل طلبہ ادارے کے برانڈ سفیر ہیں، جو ملک و بیرونِ ملک دیگر معیاری اداروں میں اے ایم یو اور جے این میڈیکل کالج کا نام روشن کریں گے۔
پروفیسر نعیمہ نے اس بات پر زور دیا کہ طب ایک باعزت اور مقدس پیشہ ہے، اور کسی مریض کے لیے ایک ڈاکٹر کے چند شفقت بھرے الفاظ بھی شفا کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو اخلاص، خدمت اور انسانیت جیسے اوصاف کو اپنانے کی تلقین کی۔
مہمانِ اعزازی، اے ایم یو سے فارغ التحصیل پروفیسر شاہ عالم خان (سینئر آرتھوپیڈک سرجن، ایمس،نئی دہلی) نے کہا کہ جے این میڈیکل کالج کے فارغ التحصیل ڈاکٹروں نے قومی و بین الاقوامی سطح پر ادارے کا نام روشن کیا ہے۔ انہوں نے مستقبل کے ڈاکٹروں پر زور دیا کہ وہ اپنے مریضوں کا صرف طبی علاج ہی نہ کریں بلکہ ہمدردی اور انفرادی توجہ کے ساتھ علاج کریں۔ انہوں نے طلبہ کو بڑے خواب دیکھنے اور خوبصورت انداز میں خواب دیکھنے کی ترغیب دی۔
پروفیسر محمد حبیب رضا (ڈین، فیکلٹی آف میڈیسن، پرنسپل و سی ایم ایس، جے این میڈیکل کالج) نے سالانہ رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ کالج کا قیام 1962 میں صرف 40 نشستوں کے ساتھ ہوا تھا، جو اب بڑھ کر 150 ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جے این میڈیکل کالج بانیئ درسگاہ سر سید احمد خاں کے مشن کو آگے بڑھا رہا ہے اور ملک کے صف اول کے طبی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے کووِڈ 19 وبا کے دوران اساتذہ اور طلبہ کی خدمات کا بھی ذکر کیا اور انھیں سراہا۔
پروفیسر نجم خلیق(شعبہ کمیونٹی میڈیسن) نے استقبالیہ خطاب پیش کرتے ہوئے کہا کہ یومِ تاسیس اور 2021 بیچ کی الوداعی تقریب کا ایک ساتھ انعقاد ایک تاریخی لمحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے این میڈیکل کالج نے ملک بھر میں خدمات انجام دینے والے ہزاروں ماہر ڈاکٹروں کو تیار کیا ہے، جو نہ صرف تعلیم بلکہ ادب و ثقافت کے میدان میں بھی نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ پروفیسر نیر آصف (شعبہ آرتھوپیڈکس) نے شکریہ ادا کیا۔ پروگرام کی نظامت پروفیسر فاطمہ خان اور ڈاکٹر بشریٰ صدیقی نے کی۔ میڈیکل طلبہ شاذیہ اور عبداللہ فہد نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
٭٭٭٭٭٭
ایس این ہال میں نئی ہال کمیٹی کے ذمہ داروں کو عہدے تفویض کئے گئے
علی گڑھ، 13 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایس این ہال کی نئی منتخب ہال کمیٹی کے عہدیداروں کو عہدے اور ذمہ داریاں تقسیم کرنے کی تقریب منعقد ہوئی، جس کی صدارت پرووسٹ، پروفیسر عروس الیاس نے کی۔ وارڈنز، طالبات اور ہال کے عملے کے اراکین اس موقع پر کثیر تعداد میں موجود رہے۔
تقریب میں کمیٹی کے منتخب شدہ اراکین کو بَیج پہنائے گئے۔ پرووسٹ اور وارڈنز نے نئے ممبران کو ان کے عہدوں کی ذمہ داریاں سپرد کیں۔ پروفیسر عروس الیاس نے نئی ٹیم کو مبارکباد دی اور انہیں خلوص اور لگن کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی تلقین کی۔ انہوں نے نظم و ضبط، تعاون اور ذمے داری کی اہمیت پر زور دیا اور طالبات سے کہا کہ وہ ہال کے علمی و ثقافتی ماحول کو بہتر بنانے، ہم آہنگی اور ٹیم ورک کو فروغ دینے میں مثبت کردار ادا کریں۔
وارڈنز نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ہال کی سرگرمیوں، صفائی مہمات اور ثقافتی پروگراموں میں فعال شرکت کے ساتھ ساتھ تعلیمی کارکردگی اور کھانے پینے کی سہولیات میں صفائی کے معیار کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس کے بعد ایک مذاکرہ ہوا جس میں طالبات نے ہال کی زندگی سے متعلق مختلف امور و مسائل اٹھائے۔ پرووسٹ اور وارڈنز نے ان مسائل کو غور سے سنا اور مؤثر حل کے لیے اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ علاوہ ازیں، کھانے، دفتر اور مرمت و دیکھ بھال سے متعلق عملہ کے اراکین کے ساتھ ایک علاحدہ نشست بھی ہوئی، جس میں ان سے اپنی روزمرہ ذمہ داریوں میں مؤثر کارکردگی کو یقینی بنانے کی تاکید کی گئی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ سنی دینیات کے اساتذہ و ریسرچ اسکالرز کی حیدرآباد میں منعقدہ بین الاقوامی سیمینار میں شرکت
علی گڑھ، 13 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ سنی دینیات کے اساتذہ اور ریسرچ اسکالرز نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے زیر اہتمام منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی سیمینار میں شرکت کی اور مختلف علمی و تحقیقی موضوعات پر اپنے مقالات پیش کیے۔
اس علمی و فکری اجلاس میں ڈاکٹر ندیم اشرف (اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ سنی دینیات) نے ”تکثیری معاشرے میں بقائے باہم کا اسلامی تصور“کے عنوان سے مقالہ پیش کیا۔ ڈاکٹر ریحان اختر نے ”اسلام: امن و آشتی کا آفاقی منشور“، ڈاکٹر شائستہ پروین نے ”ہندو مذہب میں امن و آشتی کا تصور“، ڈاکٹر محمد سہیل نے ”بین المذاہب مکالمہ اور عالمی امن: ایک تحقیقی مطالعہ“، اور ڈاکٹر محمد ناصر نے ”ہندوستانی مذاہب کا پیغامِ امن: ہندو ازم کے حوالے سے ایک مطالعہ“ کے موضوعات پر اپنے تحقیقی افکار پیش کیے۔
ریسرچ اسکالرز میں ام ایمن نے ”مذہب اور عصرِ حاضر کے چیلنجز“، فاطمہ زہرا نے ”احادیث کی روشنی میں امن کا قیام“، اور مہوش سلطان نے ”امن کے فروغ میں نوجوانوں کا کردار“ کے عنوانات پر اپنے مقالات پیش کیے، جنہیں شرکائے سیمینار نے سراہا۔
سیمینار کی افتتاحی تقریب میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ کلیدی خطاب معروف سماجی مفکر پروفیسر رام پنیانی نے پیش کیا، جبکہ صدارت شیخ الجامعہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، پروفیسر سید عین الحسن نے کی۔
شرکائے سیمینار نے اس علمی اجتماع کو افکار و نظریات کے تبادلے کا بہترین موقع قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ اس طرح کے بین الاقوامی علمی پروگرام قوم و ملت میں علمی بیداری، فکری اعتدال اور امن و آشتی کے پیغام کو عام کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔
Comments are closed.