مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

 

اے ایم یو کے ڈاکٹر محمد شعیب کو آئی ای ای ای کا سینئر ممبر منتخب کیا گیا

 

علی گڑھ، 14 اکتوبر: ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ کمپیوٹر انجینئرنگ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد شعیب کو انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹریکل اینڈ الیکٹرانکس انجینئرز (آئی ای ای ای) میں سینئر ممبر کے عہدے پر فائز کیا گیا ہے۔

 

آئی ای ای ای کا سینئر ممبر بننا ایک اہم پیشہ ورانہ سنگ میل ہے، جو ایسے افراد کو دیا جاتا ہے جن کی تکنیکی اور پیشہ ورانہ خدمات آئی ای ای ای کے دائرہ کار میں نمایاں ہوں۔ آئی ای ای ای کے چار لاکھ سے زائد اراکین میں سے 10 فیصد سے بھی کم افراد کو یہ ممتاز درجہ حاصل ہوتا ہے۔

 

ڈاکٹر شعیب نے پروفیسر ایم سروش عمر کی نگرانی میں ”فشنگ حملوں کی شناخت اور ان کے تدارک کے لیے ایک نیا فریم ورک“ موضوع پر پی ایچ ڈی مکمل کی ہے۔

 

ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے سید حامد سینئر سیکنڈری اسکول (بوائز) میں یومِ سر سید تقریبات کے تحت بین اسکول مقابلوں کا اہتمام

 

علی گڑھ، 14 اکتوبر:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سید حامد سینئر سیکنڈری اسکول (بوائز) میں یومِ سر سید تقریبات کے تحت بین اسکول ادبی و ثقافتی سرگرمیاں منعقد ہوئیں۔ اسکول آڈیٹوریم میں منعقدہ افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی انجینئر نسیم احمد خان نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے انہیں جدید تعلیم، عقلیت پسندی اور خدمت خلق جیسے سر سید کے عظیم نظریات کو اپنانے کی تلقین کی۔

 

مہمانان اعزازی پروفیسر قدسیہ تحسین اور پروفیسر جہانگیر وارثی نے سر سید کے مشن، علمی بیداری اور سماجی اصلاح کو ہمیشہ پیش نظر رکھنے پر زور دیا اور طلبہ کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی ترغیب دی۔

 

اس سے قبل، تقریب کا آغاز قائم مقام پرنسپل مسٹر صباح الدین کے استقبالیہ خطاب سے ہوا، جس میں انہوں نے سر سید کے نظریات و افکار کی اہمیت اور عصر حاضر میں ان کی افادیت پر روشنی ڈالی۔ نائب پرنسپل مسٹر محمد جاوید خان نے طلبہ کو ہفتہ بھر جاری رہنے والی تقریبات میں سرگرم حصہ لینے کی ترغیب دی۔

 

پروگرام کے منتظم مسٹر اشہد جمال نے یادگاری نشان پیش کیے۔ دن بھر مختلف ادبی مقابلے منعقد ہوئے جن میں ’اکیسویں صدی میں سر سید کے نظریات کی معنویت‘ کے موضوع پر تقریری مقابلہ، سر سید اور علی گڑھ تحریک سے متعلق کوئز، اور انگریزی، ہندی، اور اردو میں مضمون نویسی کے مقابلے شامل تھے۔ اے ایم یو کے مختلف اسکولوں سے طلبہ نے ان مقابلوں میں شرکت کی۔ اختتامی سیشن میں پروگرام کوآرڈینیٹر مسٹر غفران احمد نے اظہار تشکر کیا۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن میں سالانہ کھیل مقابلوں کا آغاز

 

علی گڑھ، 14 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن میں نئے تعلیمی سال کے سالانہ کھیل مقابلے شروع ہوئے۔

 

اسٹوڈنٹ اسپورٹس کمیٹی نے تقریب کا آغاز پروفیسر سلمیٰ احمد(چیئرپرسن) کی رہنمائی اور ڈاکٹر آصف علی سید اور ڈاکٹر لمے بن صابر کی معاونت سے کیا۔ اس موقع پر دیگر فیکلٹی اراکین اور طلبہ موجود تھے۔

 

رسہ کشی کے مقابلے میں فیکلٹی ممبران کے ساتھ ایم بی اے، سالِ اوّل اور سال آخرکے طلبہ نے حصہ لیا اور ٹیم اسپرٹ، ہم آہنگی اور صحت مند مقابلے کا جذبہ دکھایا۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے جے این میڈیکل کالج میں عالمی یوم دماغی صحت منایا گیا

 

علی گڑھ، 14 اکتوبر:جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ سائیکیاٹری نے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کے اشتراک سے عالمی یومِ دماغی صحت کے موقع پر ایک خصوصی پروگرام منعقد کیا۔

 

تقریب کے مہمان خصوصی پروفیسر محمد حبیب رضا (ڈین، فیکلٹی آف میڈیسن اور پرنسپل، جے این میڈیکل کالج)نے اپنے خطاب میں طبی تعلیم میں دماغی صحت سے متعلق آگہی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کیا اور سائیکیاٹری کلب کے قیام کو ایک بروقت اقدام قرار دیا جو مستقبل کے طبی ماہرین کو بااختیار بنانے میں مددگار ہوگا۔

 

مہمان اعزازی پروفیسر امجد علی رضوی،میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے دونوں شعبوں کی مشترکہ کاوشوں کو سراہتے ہوئے طلبہ کی زندگی اور میڈیکل ایجوکیشن میں دماغی صحت کے فروغ کے لیے ایسے اقدامات کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا۔

 

پروگرام کا آغاز ڈاکٹر فیصل شان کے تعارفی کلمات سے ہوا، جس کے بعد دماغی صحت اور نفسیاتی مضبوطی سمیت مختلف پہلوؤں پر ماہرین نے خطاب کیا۔

 

ڈاکٹر محمد سلمان شاہ (شعبہ کمیونٹی میڈیسن) نے کمیونٹی کی مضبوطی: آفات میں دماغی صحت کی مضبوطی، موضوع پر لیکچر دیتے ہوئے بحران کے دوران دماغی صحت پر پڑنے والے اثرات، مؤثر تیاری اور عوامی صحت کے ہم آہنگ ردعمل کو کلیدی اہمیت کا حامل قرار دیا۔

 

ڈاکٹر جیتندر کمار (شعبہ سائیکیاٹری) نے ہنگامی حالات میں فوری نفسیاتی مدد اور ابتدائی مداخلت کی ضرورت کو واضح کیا۔

 

اس سے قبل، شعبہ سائیکیاٹری کے چیئرمین ڈاکٹر محمد ریاض الدین نے مہمانوں اور شرکاء کا خیرمقدم کیا اور عالمی یومِ دماغی صحت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے بیداری، ہمدردی اور عملی اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

 

اس موقع پر شعبہ سائیکیاٹری میں سائیکیاٹری کلب کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ اس کلب کا ہدف انڈرگریجویٹ طلبہ میں دماغی صحت سے متعلق بیداری، ہمدردی، اور قیادت کی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے تاکہ طبی تربیت کے ابتدائی مرحلے سے ہی دماغی صحت کو سنجیدگی سے لیا جائے۔

 

آخر میں پروفیسر عظمیٰ ارم (چیئرپرسن، شعبہ کمیونٹی میڈیسن) نے کلمات تشکر ادا کئے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے ویمنس پولی ٹیکنک میں اے آئی پر لیکچر کا اہتمام

 

علی گڑھ، 14 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے ویمنس پولی ٹیکنک نے ”سنگل بورڈ کمپیوٹرز کے ساتھ ایج اے آئی“ موضوع پر ایک لیکچر کا اہتمام کیا، جس میں خاص طور پر ریزپبیری پی آئی بورڈز کے ذریعہ حقیقی دنیا کے مسائل کو حل کرنے میں ایج آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور مشین لرننگ کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

 

دو ماہرین، مسٹر ایثار احمد، ریسرچ فیلو، اسکول آف کمپیوٹر سائنس، یونیورسٹی آف برسٹل (برطانیہ)، اور مس منیبہ رحمان، ایم ٹیک (سال آخر)، شعبہ کمپیوٹر انجینئرنگ، ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی، اے ایم یو نے اے آئی کے ذریعے امیج اور ویڈیو پروسیسنگ سے متعلق عملی معلومات فراہم کیں اور ریزپبیری پی آئی ہارڈویئر کے استعمال کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔

 

پرنسپل ڈاکٹر سلمیٰ شاہین نے اپنے استقبالیہ کلمات میں طلبہ پر زور دیا کہ وہ تھیوری کے ساتھ پریکٹیکل ہنر سیکھنے پر خاص توجہ دیں۔ ڈپلوما انجینئرنگ، الیکٹرانکس، کمیونیکیشن، اور کمپیوٹر انجینئرنگ کی سال دوم و سوم کی طالبات نے اس سیشن سے بھرپور فائدہ اُٹھایا۔

 

پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر شاہنواز الدین اور شریک کنوینر ڈاکٹر شہباز حسین تھے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

پروفیسر ایم جے وارثی کو کل ہند کانفرنس میں گورنر پنجاب کے بدست اعزاز سے نوازا گیا

 

علی گڑھ، 14 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے سابق صدر شعبہ لسانیات اور لنگوئسٹک سوسائٹی آف انڈیا کے صدر پروفیسر ایم جے وارثی کو پنجاب ایگریکلچرل یونیورسٹی، لدھیانہ میں منعقدہ گیارہویں کل ہند کانفرنس برائے لسانیات و عوامی روایات (اے آئی سی ایل ایف) کے دوران پنجاب کے گورنر جناب گلاب چند کٹاریا کے بدست اعزاز سے نوازا گیا۔

 

پروفیسر وارثی نے کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں ”قومی تعمیر میں لوک ورثہ، زبان اور تعلیم کا کردار، قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے حوالہ سے‘ موضوع پر کلیدی خطبہ پیش کیا، جس میں انہوں نے زبان، ثقافت اور تعلیم کے درمیان گہرے تعلق کو اجاگر کرتے ہوئے ایک ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل میں ان عناصر کی اہمیت پر زور دیا۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو میں عالمی یوم قلب کے موقع پر کارڈیوویسکولر صحت پر ورکشاپ کا اہتمام

 

علی گڑھ، 14 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن نے شعبہ امراض قلب اور شعبہ اینستھیسیولوجی کے اشتراک سے عالمی یومِ قلب کی مناسبت سے ایک بین شعبہ جاتی ورکشاپ کا اہتمام کیا۔

 

مہمان خصوصی، ڈاکٹر بی کے راؤ (پدم بھوشن ایوارڈ یافتہ، ایمرٹس کنسلٹنٹ و ایڈوائزر، انسٹی ٹیوٹ آف کریٹیکل کیئر اینڈ میڈیسن، سر گنگا رام اسپتال، نئی دہلی) نے اپنے کلیدی خطاب میں ہندوستان میں دل کے دورے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اچھی صحت محض قسمت سے نہیں بلکہ شعوری اور مستقل کوشش سے حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ ورکشاپ میں حاصل شدہ علم کو اپنے کنبہ اور سماج میں عام کرتے ہوئے صحت بیداری کے سفیر بنیں۔

 

پروفیسر آصف حسن (چیئرمین، شعبہ امراض قلب، فیکلٹی آف میڈیسن) نے امراض قلب کے سلسلہ میں بیداری اور فوری مداخلت کی اہمیت کو اجاگر کیا اور متعلقہ شعبوں کے درمیان تعاون کو ضروری قرار دیا۔

 

انٹروینشنل کارڈیالوجسٹ پروفیسر ایم اظہرالدین ملک نے بتایا کہ تقریباً 96 فیصد ہارٹ اٹیک کو بیداری، بروقت اقدامات اور باقاعدہ ورزش سے روکا جاسکتا ہے۔پیڈیاٹرک کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر شاد عبقری نے دل کی پیدائشی بیماریوں کے چیلنج اور احتیاطی تدابیر و خود سے نگہداشت کی اہمیت پر زور دیا۔

 

بیسک اور کمپریہینسو کارڈیک لائف سپورٹ کے سرٹیفائیڈ انسٹرکٹرز ڈاکٹر شہنا علی اور ڈاکٹر مناظر اطہر نے شرکاء کو سی پی آر یعنی دل کو دوبارہ زندہ کرنے کی عملی تربیت دی اور ہنگامی حالات میں اس کی اہمیت کو واضح کیا۔

 

شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن کی چیئرپرسن پروفیسر سلمیٰ احمد نے خیرمقدمی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ صحت صرف کسی ایک شعبے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ یہ ایک مشترکہ انسانی ذمہ داری ہے۔

 

تقریب کے دوران پروفیسر سلمیٰ احمد کی نئی کتاب ”کیئر فار ہیلتھ: اے فیوژن آف کانٹیکٹس“ کا اجراء ڈاکٹر بی کے راؤ نے کیا۔ یہ کتاب صحت اور بہبود سے متعلق مختلف نقطہ ہائے نظر کو یکجا کرتی ہے۔

 

پروفیسر ولید احمد انصاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ روزانہ کی جسمانی سرگرمی اور ذہنی سکون نہ صرف دل کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ ذہنی و جذباتی صحت میں بھی بہتری لاتے ہیں۔ کنوینر ڈاکٹر آصف علی سید نے طرزِ زندگی میں مستقل تبدیلیوں کی اہمیت پر زور دیا تاکہ طویل المدتی قلبی صحت کو یقینی بنایا جا سکے۔

 

تقریب کی نظامت ریسرچ اسکالر ثانیہ خان نے کی، جبکہ رشدہ کلیم نے اظہارِ تشکر کیا۔ ریسرچ اسکالرز عنبرین شاکر، طوبیٰ بلگرامی، ضیاء رضوی، اور سُمت تومر سمیت ایم بی اے کے طلبہ نے ورکشاپ کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا۔ یومِ قلب کی مناسبت سے، ڈاکٹروں اور اساتذہ کو کپڑے کے تھیلے تقسیم کیے گئے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے جے این میڈیکل کالج کے اساتذہ نے طبی تعلیم میں مصنوعی ذہانت پر خطبات پیش کئے

 

علی گڑھ، 14 اکتوبر: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فزیالوجی اور فارماکولوجی شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے تین اساتذہ نے جے این ایم سی کیمپس، بیلگاوی، کرناٹک میں منعقد ہ ایسوسی ایشن آف فزیالوجسٹس اینڈ فارماکولوجسٹس آف انڈیا کی 71ویں سالانہ قومی کانفرنس کے ایک سمپوزیم بعنوان ”طبی تعلیم میں مصنوعی ذہانت“ میں خطبات پیش کئے اور طبی تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے کردار اور اس کے ذریعہ انفرادی سیکھنے کے طریقوں کو بہتر کرنے کے سلسلہ میں تفصیل سے روشنی ڈالی۔

 

ڈاکٹر انور حسن صدیقی (شعبہ فزیالوجی) نے طب کے طلبہ کے لئے مواد کو ترتیب دینے میں مختلف اے آئی ٹولز کے مؤثر استعمال کی وضاحت کی، جب کہ ڈاکٹر احمد فراز (شعبہ فزیالوجی) نے اے آئی کی مدد سے اسسمنٹ اور فیڈ بیک پر گفتگو کرتے ہوئے اینالیٹکس کے نکات واضح کئے۔

 

اسی طرح ڈاکٹر سید شارق نعیم (شعبہ فارماکولوجی) نے اے آئی سے اعانت یافتہ تعلیم میں اخلاقی امور پر روشنی ڈالی اور تعلیمی میدان میں اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق اخلاقی و قانونی پہلوؤں کا احاطہ کیا۔

 

کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں ان مقررین کو ان کی علمی کاوشوں اور مؤثر پیشکش کے لئے اعزازات سے نوازا گیا۔

 

پروفیسر محمد اسلم (چیئرمین، شعبہ فزیالوجی) نے تمام مقررین کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کی علمی و تدریسی خدمات کو سراہا اور اسے اے ایم یو کے لیے باعث فخر قرار دیا۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو ای-لائبریری پر آن لائن تربیتی پروگرام منعقد

 

علی گڑھ، 14 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی مولانا آزاد لائبریری نے اپنے اے ایم یو ای-لائبریری پلیٹ فارم کے تعارف کے لیے ایک آن لائن تربیتی پروگرام منعقد کیا۔ یہ جدید ڈیجیٹل لائبریری پلیٹ فارم، یونیورسٹی لائبریری کے کمپیوٹر ایپلیکیشن ڈویژن کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ اے ایم یو ملک کا پہلا ادارہ ہے جس نے اس نوعیت کا پلیٹ فارم نافذ کیا ہے۔

 

تربیتی سیشن کی قیادت محترمہ ونشیکا گوتم (ہیڈ آف آپریشنز، ریفریڈ سولوشنز پرائیویٹ لمیٹڈ، نئی دہلی) نے کی۔ سیشن میں ای-لائبریری کے نئے فیچرز پر روشنی ڈالی گئی، جن میں شامل ہیں: بہتر یوزر انٹرفیس، سبسکرائب شدہ ای-وسائل تک آسان رسائی، جدید سرچ فنکشن، ایڈوانسڈ ایڈمن ڈیش بورڈ، اور اپگریڈ شدہ اینالیٹکس و رپورٹنگ سسٹم۔

 

یہ پلیٹ فارم https://amu.refread.com پر اور ایک مخصوص موبائل ایپ کے ذریعے دستیاب ہے، جو طلبہ و اساتذہ کو دنیا بھر کے ممتاز پبلشرز کے علمی و تحقیقی موادجیسے ای-بکس، ای-جرنلز، ویڈیو لیکچرز،مقالہ جات، اور ماہرین کے لیکچرزتک چوبیس گھنٹے رسائی فراہم کرتا ہے۔

 

پروگرام میں اے ایم یو کی مرکزی، شعبہ جاتی اور کالج لائبریریوں کے افراد نے شرکت کی، جنہیں اس نئے پلیٹ فارم کے مؤثر استعمال کی تربیت دی گئی تاکہ وہ صارفین کی بہتر رہنمائی کرسکیں۔

 

یونیورسٹی لائبریرین پروفیسر نشاط فاطمہ نے اپنے استقبالیہ کلمات میں کہا کہ اے ایم یو ای-لائبریری صرف ایک ڈیجیٹل کیٹلاگ نہیں بلکہ ایک جامع لرننگ ایکو سسٹم ہے جو طلبہ و اساتذہ کو لاکھوں علمی وسائل تک رسائی فراہم کرکے مسلسل علمی رابطے کو ممکن بناتا ہے۔

 

ڈپٹی لائبریرین ڈاکٹر منور اقبال نے اظہار تشکر کیا، جبکہ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر سید شاذ حسین نے کی۔

Comments are closed.