2025 کے بہار انتخاب میں غور طلب پہلو

ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین

بہار میں 2025 کے اسمبلی انتخابات کا بگل بج چکا ہے۔ یہ انتخابات دو مرحلوں میں ہوںگے۔ پہلے مرحلے کی ووٹنگ 6 نومبر کو ہوگی اور دوسرے مرحلے کی ووٹنگ 11 نومبر کو ہو گی۔ 14 نومبر کو نتائج کا اعلان ہوگا۔ اس طرح نومبر کے تیسرے ہفتے میں نئی حکومت کی حلف برداری ہوگی۔
ویسے تو ہر انتخاب اہم ہوتا ہے مگر اس وقت بہار کے انتخاب کی خصوصی اہمیت ہے۔ اس وقت بھارت ایک سیاسی بدلاؤ کے دور سے گزر رہا ہے۔ بھارت جس وقت آزاد ہوا تھا اس کے باوجود کہ دیس کا بٹوارہ ہو گیا تھا، سرحد کے دونوں جانب زبردست مار کاٹ ہو رہی تھی اور فرقہ پرستی اپنے نقطۂ عروج پر تھی بھارت کو پاکستان کی طرح ایک ہندو مذہبی ریاست بنانے کے بجائے تمام تر اندرونی دباؤ کے باوجود بھارت کے اس وقت کے رہنماؤں نے جن میں گاندھی اور نہرو کا نام سر فہرست ہے کمال درجہ کی سیاسی بصیرت، پختہ تاریخی شعور اور بالغ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کو ایک ماڈرن سیکولر ریاست بنانے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ مسلمانوں کی منہ بھرائی کے لئے یا ان کو خوش کرنے کے لئے نہیں کیا گیا تھا جیسا کہ کچھ پروپیگنڈہ کرنے والے لوگ کہتے ہیں بلکہ یہ فیصلہ ملک کی سالمیت اور اس کے وفاقی ڈھانچہ کی مضبوطی کے لیے کیا گیا تھا ورنہ بھارت کے بکھر جانے اور ٹوٹ جانے کا اندیشہ تھا۔ آج کی نئی نسل کو 1947 کے بھارت کا اندازہ بھی نہیں ہوگا کہ بھارت آج کی طرح ایک ملک نہیں تھا بلکہ اس ایک ملک کے اندر 555 دیسی ریاستیں تھیں جن کو انگریزوں نے آزاد رہنے کا آپشن دے رکھا تھا۔
یہصحیح ہے کہ بھارت میں ہندو اکثریت میں ہیں اور انہیں اختیار ہے کہ اپنے لئے جو طرزِ حکومت چاہیں اپنا ئیں مگر یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ بھارت میں ہندوؤ ں کے علاوہ مسلمان، سکھ، کرشچن، جین، بودھ اور پارسی اچھی خاصی تعداد میں موجود ہیں جن کا اس ملک سے گہرا مذہبی، ثقافتی اور تاریخی رشتہ ہے اور وہ اس ملک کے پیدائشی شہری ہیں۔ لہٰذا ان تمام گروہوں کو برابر کا شہری حقوق دئے بغیر ملک کو متحد نہیں رکھا جا سکتا ہے۔
اسی طرح اس ملک کی ایک بڑی آبادی ہے جو دلت اور آدی باسیوں پر مشتمل ہے، یہ حاشیہ پر رہنے والے لوگ ہیں۔ اصلاً یہ ہندو نہیں ہیں بلکہ آؤٹ کاسٹ ہیں۔ ان کو ہندو بنانے اور ان کو ہندوفولڈ میں لانے کی قواعد جاری ہے اور اس میں ہندو فکر و تہذیب کے حاملین کو ان کے غالی مذہبی طبقہ کی مخالفت کے باوجود کافی کامیابی ملی ہے۔ دلت طبقات کا قریب قریب 80 فی صد بپتسمہ ہو چکا ہے اور وہ پوری طرح ہندو رنگ میں رنگ چکے ہیں اور سنگھ پریوار کے دست و بازو بن کر کام کرنے کو تیار ہیں۔ آدی باسی سماج کو بھی ہندو بنانے کا عمل جاری ہے اور ان کی قریب 50 فی صد آبادی اپنے آپ کو بطور ہندو ماننے لگی ہے۔
نارتھ انڈیا اور ساؤتھ انڈیا کی بناوٹ اور اس کا سماجی ڈھانچہ بالکل الگ ہے۔ ان کی زبان اور کلچر الگ ہیں۔ لہٰذا ان تمام تنوع واختلاف اور تضاد کو مینج کرنا آسان نہیں تھا۔ اس لئے جب بھارت آزاد ہوا تو اس وقت ملک کو متحد اور مضبوط بنانے کے لیے سیکولر جمہوری نظام ملک میں نافذ کیا گیا تاکہ ملک کی تعمیر، ترقی استحکام اور سالمیت میں تمام طبقات اور گروہوں کی حصہ داری متحقق کی جا سکے۔ بھارت کا دستور ان تمام باتوں کا آئینہ دار ہے۔جس کو بدلنے اور مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بھارت کاجو تصور ہندوستان ہے جس کو Idea of India کہا جاتا ہے اس میں شمولیت (Inclusiveness) تکثیریت(Plurality)، مساوات (Equality)، اخوت(Brotherhood)،مقدرت (Dignity)اور انصاف (Justice) کی بنیاد پر ایک ایسے سماج، سیاست، حکومت اور ریاست کی بنیاد رکھنی تھی جس میں ریاست کے تمام شہری بلا لحاظ مذہب، عقیدہ، ذات، برادری، زبان ، جائے پیدائش، جنس اور مقام کے برابر کے شہری حقوق رکھنے والے لوگ ہوں گے جو ملک کے دستوراور قانون کی نظر میں مساوی حیثیت کے حامل ہوںگے اور ان کے ساتھ ان کی حیثیت عرفی کے خلاف کوئی معاملہ نہیں کیا جائے گا۔ آج اس تصور ہندوستان کو چیلنج کیا جا رہا ہے اور اس کو بدلنے اور مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔جس نے ملک کے کمزور طبقات بشمول مذہبی لسانی اور تہذیبی اقلیتوں کے سامنے وجودی مسائل کھڑے کر دئے ہیں۔ اس وقت ملک کا دستور اور دستور ی اقدار جس کو Constitutional Morality کہتے ہیں اس پر خطرہ منڈ لا رہا ہے۔ اس کے لئے ملک میں ایک زبردست جذباتی ماحول پیدا کیا جا رہاہے۔ بھارت میں مسلمان اس وقت اپنی ملی تاریخ کے نہایت سنگین دور سے گزر رہے ہیں اور معاشی، تعلیمی ، سماجی اور سیاسی اعتبار سے انتہائی پس ماندہ ہیں بلکہ زندگی کے ہر میدان سے یا تو باہر ہیں یا باہر کر دیے گئے ہیں۔ آج ملک کی سیاست اس کے گرد ایسے گھوم رہی ہے کہ گویا ملک میں یہ فیصلہ ہونا ہے کہ حکومت مسلمان کی ہوگی کہ ہندو کی ہوگی۔ حکومت چاہے بھارتیہ جنتا پارٹی والی قیادت میں چلنے والی این ڈی اے کی بنے یا گانگریس کی قیادت میں بننے والی انڈیا الائنس کی، حکومت تو ہندو قوم اور ہندو برادریوں کی ہوگی مسلمان تو اس میں یا تو مشالچی ہوںگے یا تماش بین۔ ہندوتو حامی گروہوں کو اتنا بھی گوارا نہیں ہے کہ مسلمانوں سے زبانی ہمدردی رکھنے والی کوئی پولیٹیکل پارٹی یا گٹھ بندھن بر سر اقتدار آئے۔ ابھی وقف بل پر چندر بابو نائڈو، نیتش کمار کی پارٹی جے ڈی یو چراغ پاسبان کی پارٹی ایل جے پی اور جیتن رام مانجھی کی پارٹی ہم نے مسلمانوں کے پیٹھ پر جس طرح چھڑ ا گھونپا ہے اس کے بعد بھی ان پارٹیوں کی حمایت سیا سی دیوالیہ پن ہی قرار دیا جائے گا۔ ملک کے دستور کو جمہوری اقدار کو جتنا خطرہ بی جے پی سے نہیں ہے اس سے کہیں زیادہ خطرہ ان پارٹیوں اور ان کے لیڈروں سے ہے۔ ان کی وفاداری صرف اپنی ذات سے ہے یہ اپنے ذاتی فائدہ اور اقتدار میں آنے کے لئے اگر ملک کو بیچنا پڑے تو اس سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ اس لئے ان پارٹیوں اور ان کے کنڈی ڈیٹ کو ووٹ دینے سے بہتر ہے براہ راست بی جے پی کو ووٹ دینا۔ اگر اپ این ڈی اے گٹھ بندھن کو ووٹ دیتے ہیں تو یہ ووٹ بی جے پی کو جائے گا گویا اپنے ہی ہاتھوں اپنی موت کا پروانہ لکھنا مانا جائے گا۔
بہرحال جنگ کا بگل بج چکا ہے۔دونوں گٹھ بندھن آمنے سامنے ہیں۔ فیصلہ عوام کو کرنا ہے۔جمہوری راستے سے دیس میں نازی ازم اور فاشزم کو لانا ہے اور دیس کو بدترین ڈکٹیٹرشپ کے حوالے کر دینا ہے جہاں بولڈوزر جسٹس ہوگا، موب لنچنگ ہوگی، بغیر قصور اور بغیر کسی فرد جرم کے لوگوں کی گرفتاری ہوگی اور بغیر ٹرائل اور بیل کے برسہا برس جیل میں رکھا جائے گا۔ جہاں بنیادی مذہبی آزادی سے لوگوں کو محروم رکھا جائے گا۔ کیا آپ بہار کو یوپی، آسام، گجرات اور اتراکھنڈ بنانا چاہتے ہیں یا بہار کو بہار رہنے دینا چاہتے ہیں۔ یہ انتخاب ان تمام امور کا فیصلہ کرے گا۔ اس لیے اس انتخاب میں ہمیں بہت سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے اور سوچ سمجھ کر اپنا سیاسی موقف طے کرنا چاہئے۔
اس وقت ہمیں دو محاذ پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ پہلا محاذ یہ ہے کہ ووٹنگ پرسنٹیج کو بڑھانا ہے اور تمام ووٹر ووٹ ڈالنے پولنگ بوتھ پر جائیں اس کو یقینی بنانا چاہئے۔ دوسرا اہم کام یہ ہے کہ اپنے ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچانا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بڑی پارٹیاں اپنی جیت کے لئے پیسے دے کر ڈمی امید وار کھڑا کراتی ہیں تاکہ جن طبقات کا ووٹ ان کو نہیں مل سکتا ہے وہ ووٹ اتنا بٹ جائے جس سے ان کی جیت کی راہ آسان ہو جائے۔ جن کنسٹی چوئنسی میں مسلمانوں کی آبادی اچھی خاصی ہے وہاں یہ کھیل دھڑلے سے کھیلا جاتا ہے اور اکثر اس حلقے سے غالی فرقہ پرست جماعت کا امید وار جیت جاتا ہے۔
ہمیں موجود ہ الیکشن میں دو باتوں پر توجہ مرکوز رکھنی ہے۔ پہلا سیکولر طاقتوں کو جتا نا ہے اور دوسرا بہار اسمبلی میں مسلمان نمائندگی بڑھانی ہے لیکن اولیت مہا گٹھ بندھن کو دینا ہے۔
اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں کسی ٹھوس نظریہ کی پابند نہیں ہیں بلکہ وہ اپنا اقدار اور کردار کھو چکی ہیں۔ کسی طرح سے جیتنا اور پھر اقتدار میں آنا یہی ان کا مقصد ہے۔ کون کس وقت پالا بدل کر راتوں رات سیکولر سے کمیونل اور کمیونل سے سیکولر ہو جائے گا یہ کہنا مشکل ہے۔ اپنے ذاتی مفاد کی بجا آوری ہی سب سے بڑی سیاست ہے۔ سیاسی پارٹیوں اور ان کے اعلیٰ کمان کا رویہ وہی ہے جو برٹش راج میں دیسی رجواڑوں کا تھا۔ ان کو اس سے کوئی مطلب نہیں تھا کہ ملک کا اور عوام کا کیا ہوگا۔ ان کا سارا دھیان اس بات پر تھا کہ ان کی حکومت کیسے قائم اور بنی رہے گی اور وہ اس کے لئے کسی حد تک جانے کو تیار رہتے تھے۔ آج وہی سیاست جمہوری شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ اس لئے عوام پر زیادہ بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ملک اور ریاست کو فسطائی ہاتھوں میں جانے سے روکیں۔
بہار کا انتخاب بہار کے لوگوں کے حوصلے اور سیاسی سوجھ بوجھ کا امتحان ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ بہار پاس ہوتا ہے یا فیل۔ بہار کا یہ انتخاب ملک کی دِشا اور دَشا دونوں طے کرے گا۔اس لئے یہ ریاستی انتخاب نہیں بلکہ ایک ریفرنڈم ہے۔لہٰذا ہمیں بہت سوچ سمجھ کر اپنی سیاسی ترجیحات طے کرنی ہوگی۔

Website: abuzarkamaluddin.com, Mobile: 9934700848

Comments are closed.