مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

 

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کی جانب سے پروفیسر عرفان حبیب کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا

 

علی گڑھ، 16 اکتوبر:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ تاریخ، سینٹر آف ایڈوانسڈ اسٹڈی نے ممتاز مؤرخ اور ایمیریٹس پروفیسر عرفان حبیب کو ان کی شاندار علمی خدمات، رہنمائی، اور تاریخ کے شعبے و یونیورسٹی کے ساتھ عمر بھر کی وابستگی کے اعتراف میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا۔

 

یہ ایوارڈ شعبہ کی جانب سے سبکدوش ہونے والے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کی ایک خصوصی الوداعی تقریب میں پیش کیا گیا۔ تقریب کا انعقاد صدر شعبہ پروفیسر حسن امام کی قیادت اور رہنمائی میں کیا گیا۔

 

اس موقع پر سبکدوش اساتذہ پروفیسر طارق احمد، پروفیسر روحی عابدہ احمد، پروفیسر گلفشاں خان، پروفیسر محمد افضل خان اور پروفیسر علی اطہر کے ساتھ ساتھ 25 غیر تدریسی عملے کے اراکین کا بھی شکریہ ادا کیا۔

 

ایک خصوصی تقریب ممتاز مؤرخین پروفیسر ایس پی ورما، پروفیسر پشپا پرساد، پروفیسر شیریں موسوی، پروفیسر ایس جابر رضا، پروفیسر ایس ایل ایچ معینی، پروفیسر اشتیاق احمد ظلی، پروفیسر کے اے ایس ایم عشرت عالم اور دیگر کے اعزاز میں منعقد کی گئی، جنہوں نے علمی اور ادارہ جاتی خدمات انجام دی ہیں۔ تقریب کی نظامت ڈاکٹر لبنیٰ عرفان نے کی، جبکہ ڈاکٹر ثناء عزیز نے اظہار تشکر کیا۔

 

ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

 

علی گڑھ سوسائٹی آف ہسٹری اینڈ آرکیالوجی کی جانب سے شہنشاہ اکبر کی پائیدار میراث پر سمپوزیم کا اہتمام

 

علی گڑھ، 16 اکتوبر: علی گڑھ سوسائٹی آف ہسٹری اینڈ آرکیالوجی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے شہنشاہ اکبر کے یوم پیدائش کے موقع پر ”اکبر کی بازیافت: وہ بادشاہ جس نے مذہب سے بالاتر ایک ہندوستان کا خواب دیکھا“ موضوع پر ایک روزہ سمپوزیم منعقد کیا۔

 

کلیدی خطاب میں پروفیسر ندیم رضاوی نے اکبر کے بین المذاہب مکالمے کے ذریعے سچائی کی تلاش اور مختلف روایات کے مابین ہم آہنگی کو فروغ دینے کی کوششوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اکبر کے جامع ثقافتی نظریات کا اظہار فتح پور سیکری کی فن تعمیر اور آرٹ میں بھی ہوتا ہے، جہاں محل کی دیواروں پر بھگوان رام اور ہنومان کی تصویریں دیکھی جا سکتی ہیں۔

 

ایک یسوعی پادری کا حوالہ دیتے ہوئے پروفیسر رضاوی نے کہا کہ اکبر کی تمام مذاہب کو قبول کرنے والی سوچ ایک ایسے جذبے کی عکاسی کرتی ہے جو مذہبی تنگ نظری سے بالاتر ہے۔

 

پروفیسر شیریں موسوی نے کہا کہ اشوک، اکبر، اور نہرو جیسے دوراندیش حکمرانوں نے ہندوستان کی جامع اور ہمہ گیر شناخت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اکبر نے بڑی تعداد میں ہندوؤں کو سلطنتی نظام میں شامل کر کے ایک ہمہ جہت ریاست کا تصور پیش کیا۔

 

پروفیسر عرفان حبیب نے اپنے منفرد تجزیاتی انداز میں اکبر کی فکری میراث پر روشنی ڈالی، جیسا کہ ان کے دوست اور مؤرخ ابوالفضل کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکبر کا ”معقولات“ (عقلی اور عملی علم) کو ”منقولات“ (روایتی یا موروثی علم) پر فوقیت دینا ایک ترقی پسند سوچ کی نمائندگی کرتا ہے، جو عقل اور رواداری پر مبنی تھی۔ سمپوزیم میں طلبہ، اساتذہ، اور سبکدوش پروفیسروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

 

آخر میں پروفیسر ندیم رضاوی نے اعلان کیا کہ سوسائٹی کی جانب سے 25 اکتوبر 2025 کو بانیئ درسگاہ سر سید احمد خاں کی یاد میں ایک سمپوزیم منعقد کیا جائے گا۔ اس میں پروفیسر شافع قدوائی، پروفیسر عاصم صدیقی، پروفیسر ندیم رضاوی، اوردہلی یونیورسٹی کے پروفیسر فرحت حسن شرکت کریں گے، جبکہ صدارت پروفیسر عرفان حبیب کریں گے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے شعبہ اسلامیات کی جانب سے مصنوعی ذہانت اور اسلامی علوم موضوع پر لیکچر کا اہتمام

 

علی گڑھ، 16 اکتوبر:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ اسلامیات کے زیر اہتمام ”مصنوعی ذہانت اور اسلامیات: تحقیق کے نئے طریقے“ عنوان پر پروفیسر این اکمل ایوبی کانفرنس ہال میں امریکہ کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، ڈیوس کے ڈائریکٹر مڈل ایسٹ، ساؤتھ ایشیا اسٹڈیز اور ایسوسی ایٹ پروفیسر آف ریلیجیس اسٹڈیزڈاکٹر معراج یوسیّد نے لیکچر دیا۔

 

ڈاکٹر معراج سید نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور اسلامیات علوم کے ابھرتے ہوئے تعلق پر روشنی ڈالی اور واضح کیاکہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، بالخصوص لارچ لینگویج ماڈلز، کس طرح اسلامی تحقیق کے طریقہ کار کو نئی جہات دے رہے ہیں۔ انہوں نے اس میدان میں اے آئی کے ممکنہ فوائد اور چیلنجز پر بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹکنالوجی اسلامی علمی و متنی ورثے سے کس طرح جدید انداز میں تعامل پیدا کر سکتی ہے۔

 

لیکچر کے بعد سوال و جواب کا سیشن ہوا، جس میں طلبہ اور اساتذہ نے اے آئی کے اسلامی علوم اور معاصر زندگی پر اثرات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔

 

مہمانِ اعزازی پروفیسر عبدالمجید خان (ڈائریکٹر، اکیڈمک اینڈ ریسرچ اسٹڈیز) نے اپنے تاثرات میں کہا کہ اگر ٹکنالوجی کی ترقی روحانی شعور سے خالی ہو جائے تو یہ انسان کو اس کے الٰہی مقصد سے دور کر سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عقلی تحقیق کے ساتھ اخلاقی و روحانی شعور کا امتزاج ضروری ہے، تاکہ ہم جدیدیت کے ساتھ ایک متوازن اور انسان دوست رویہ اپنا سکیں۔

 

صدرِ مجلس پروفیسر عبد الحمید فاضلی (صدر شعبہ اسلامیات) نے خطاب کیا اور ایک ویڈیو پیش کی، جس میں اسلامی اخروی تصورات کی روشنی میں ٹکنالوجی کے دور میں اخلاقی بیداری اور روحانی غوروفکر کی تلقین کی گئی۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر امتیازالہدیٰ نے انجام دی۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یوکے ویمنس پولی ٹیکنک میں ’وکست بھارت کوئز‘ کا انعقاد

 

علی گڑھ، 16 اکتوبر:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے ویمنس پولی ٹیکنک نے وکست بھارت ینگ لیڈرز ڈائیلاگ کے تحت ہندوستان کے ترقیاتی وژن اور پیش رفت کے روڈ میپ سے متعلق آگہی کے لیے وکست بھارت کوئز کا اہتمام کیا، جس میں ویمنس پولی ٹیکنک کی تقریباً ساٹھ طالبات نے حصہ لیا۔

 

اساتذہ نے طالبات کی پرجوش شرکت کو سراہا اور ہندوستان کی ترقیاتی ترجیحات سے متعلق ان کی معلومات کو سراہا۔

 

پروگرام کے اختتام پر ایک مذاکرہ ہوا، جس میں ترقی یافتہ ہندوستان کے وژن کو حقیقت میں بدلنے میں نوجوانوں کے کردارپر روشنی ڈالی گئی۔

 

پرنسپل ڈاکٹر سلمیٰ شاہین نے کہا کہ ایسی سرگرمیاں نصابی تعلیم کے دائرے سے آگے طلبہ کے اندر فکری وسعت پیدا کرتی ہیں۔ یہ پروگرام ڈاکٹر محمد شہباز حسین اور مس نازیہ حنیف کی رہنمائی میں ترتیب دیا گیا۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یوکے کالج آف نرسنگ کے زیر اہتمام سی پی آر بیداری پروگرام منعقد

 

علیگڑھ، 16 اکتوبر:انڈین نرسنگ کونسل (آئی این سی)، نئی دہلی کی جانب سے ملک گیر کارڈیو پلمونری ریسسٹیٹیشن (سی پی آر) آگہی ہفتہ کے تحت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کالج آف نرسنگ نے ایک خصوصی رول پلے پروگرام کا اہتمام جے این میڈیکل کالج کی اوپی ڈی میں کیا، جس میں بی ایس سی نرسنگ (تیسرے سمسٹر) کی طالبات نے شرکت کی اور مختلف رول پلے پیش کیے، جن کا مقصد عام لوگوں میں سی پی آر کی اہمیت اور ہنگامی صورتِ حال میں اس کے بروقت استعمال سے متعلق بیداری پیدا کرنا تھا۔

 

پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے پرنسپل پروفیسر فرح اعظمی نے کہا کہ سی پی آر ایک بنیادی ہنر ہے، جو دل کی ایمرجنسی میں انسانی جان بچانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس قسم کی آگہی مہمات نہ صرف لوگوں کو جان بچانے کی مہارتیں سکھاتی ہیں بلکہ انہیں اعتماد، تیاری اور کمیونٹی کی سطح پر فوری ردعمل کی صلاحیت بھی فراہم کرتی ہیں۔ ڈاکٹر اسحاق محمد (پروگرام کوآرڈینیٹر) اور کالج کے تدریسی عملہ کے اراکین اس موقع پر موجود تھے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں یوم سرسیدکے تحت مختلف تعلیمی، فکری و ماحولیاتی سرگرمیوں کا اہتمام

 

علی گڑھ، 16 اکتوبر:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے بانی سرسید احمد خان کے 208ویں یومِ پیدائش کے موقع پر یونیورسٹی اور اس کے ذیلی اداروں میں مختلف تعلیمی، فکری و ماحولیاتی سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا۔ مختلف شعبہ جات اور اسکولوں نے سرسید کے تعلیمی وژن، سماجی اصلاحات، اور قومی تعمیر کے نظریے کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے خصوصی پروگرام منعقد کیے۔

 

یونیورسٹی کی اردو اکیڈمی میں ’تحریک علی گڑھ کی حقیقت‘ موضوع پر ڈاکٹر راحت ابرار نے خطاب کیا۔ انہوں نے تحریک علی گڑھ کی تاریخی اہمیت اور سرسید کی جدید ہندوستان کی تشکیل میں کردار پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر مسٹر جانی فوسٹر نے ’علی گڑھ‘ پر ایک خوبصورت نظم بھی پیش کی۔

 

ڈاکٹر زبیر شاداب خان (ڈائریکٹر، اردو اکیڈمی) نے سرسید کو ایک ایسا مفکر قرار دیا جنہوں نے تعلیم، معیشت، اور سیاسی شعور کو مسلم قوم کی ترقی کا زینہ بنایا۔

 

شعبہ فزیکل ایجوکیشن نے سرسید کے وژن کو موجودہ ماحول دوست اقدار سے جوڑتے ہوئے ’نیچر ڈے و شجرکاری مہم‘ کا اہتمام کیا۔ پروفیسر انور شہزاد (ممبر انچارج لینڈ اینڈ گارڈن) اور پروفیسر اکرام حسین (صدر شعبہ) نے اساتذہ کے ہمراہ مختلف اقسام کے پودے لگائے۔ پروفیسر شہزاد نے اس عمل کو سرسید کے وژن سے ہم آہنگ قرار دیا اور جسمانی و ذہنی صحت کے لیے سبز کیمپس کی اہمیت پر زور دیا۔

 

شعبہ تاریخ نے آڈیوویژول روم میں ایک شاندار کتب نمائش اور نادر تاریخی دستاویزات کی نمائش منعقد کی جس میں سرسید احمد خاں کی زندگی، علمی خدمات، اور فکری ورثہ کو اجاگر کیا گیا۔نمائش میں کتابیں، خطوط، تصویریں، اور تاریخی مخطوطات شامل تھے۔ نمائش کا افتتاح صدر شعبہ پروفیسر حسن امام نے کیا۔پروفیسر پرویز نذیر نے ان دستاویزات کی علمی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

 

شعبہ فائن آرٹس نے صدر شعبہ ڈاکٹر عابد ہادی کی قیادت میں ایک رنگا رنگ آرٹ فیسٹیول کا انعقاد کیا، جس میں 100 سے زائد پینٹنگز اور آرٹ نمونوں کی نمائش کی گئی۔

 

وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون کی سرپرستی میں منعقدہ اس فیسٹیول میں پروفیسر ٹی این ستھیسن (ڈین، فیکلٹی آف آرٹس) اور سابق صدر شعبہ پروفیسر سیما شریک ہوئیں۔ طلبہ نے سرسید کی خدمات اور تحریکِ علی گڑھ کو تخلیقی انداز میں پیش کر کے بھرپور داد حاصل کی۔

 

اے ایم یو کے ایس ٹی ایس اسکول میں ”سرسید احمد خاں اور تحریکِ علی گڑھ“ پر انٹر اسکول کوئز مقابلہ منعقد کیاگیا، جس میں اے ایم یو اے بی کے ہائی اسکول نے پہلا، ایس ٹی ایس اسکول نے دوسرا، اور اے ایم یو آر ایم پی ایس سٹی اسکول نے تیسرا مقام حاصل کیا۔

 

پروفیسر محمد اعظم خان (ڈپٹی ڈائریکٹر، ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن) اور اسکول کے پرنسپل مسٹر فیصل نفیس نے طلبہ کو سرسید کے تعلیمی وژن کو اپنانے کی تلقین کی۔

 

سید حامد سینئر سیکنڈری اسکول (بوائز) نے ہفت روزہ تقریبات منعقد کیں جن میں تقریری، ادبی، ثقافتی اور فنی مقابلے شامل تھے۔

Comments are closed.