ہائی کورٹ نے ہریانہ وقف بورڈ کے ایڈمنسٹریٹر ذاکر حسین کو نوٹس جاری کر حکم امتناعی کیا جاری

 

 

قبرستان کی زمین کی نوعیت کو بعینیہ حالت پر باقی رکھنے کا فوری حکم جاری

،

وقف املاک کا تحفظ شرعی و ملی نکتہ نظر سے عوام میں بیداری کرنا ہی واحد حل، محمد صابر قاسمی

 

چنڈی گڑھ، ہریانہ (نمائندہ) پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے آج ہریانہ وقف بورڈ کے منتظم اور دیگر جواب دہندگان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے، گاؤں پڈلا شاہ پوری، نوح (میوات) ضلع میں واقع قبرستان کی زمین کی نوعیت کے بارے میں جمود کو برقرار رکھنے کا حکم دیا۔

 

یہ حکم ساہون اور دیگر کی جانب سے ایڈووکیٹ محمد ارشد کے ذریعے دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران جاری کیا گیا۔ عرضی گزاروں نے 22 اگست 2025 کو وقف بورڈ ایڈمنسٹریٹر کے ذریعہ جاری کردہ لیز آرڈر کو چیلنج کیا جس میں قبرستان کی 350 مربع گز اراضی (17 کنال غیر کاشت قبرستان اراضی) نجی افراد کو لیز پر دی گئی تھی۔

 

عرضی گزاروں کا کہنا ہے کہ لیز غیر قانونی، صوابدیدی، الٹرا وائرس اور باطل ہے کیونکہ یہ وقف ایکٹ، 1995 اور وقف املاک (لیزنگ) رولز، 2014 کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ انہوں نے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا، اجیت پال سنگھ اور پنجاب کے ڈائریکٹر ڈیویلپمنٹ آرچا 2 (پنجاب) آر سی آر (سول) 861) جس میں کہا گیا تھا کہ قبرستان کی زمین کو فروخت یا لیز پر نہیں دیا جا سکتا کیونکہ یہ مذہبی مقاصد کے لیے وقف زمین ہے۔

عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہریانہ حکومت نے 26 اگست 2021 کو وقف بورڈ کو تحلیل کر دیا اور اس کی جگہ ایک ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا۔ لہٰذا، منتظم کے پاس سیکشن 32 اور 51 کے تحت نیا لیز دینے کا کوئی قانونی اختیار نہیں تھا، خاص طور پر جب یہ زمین مذہبی قبرستان ہو۔

 

درخواست گزاروں نے مطالبہ کیا کہ لیز آرڈر مورخہ 22.08.2025 کو منسوخ کیا جائے، اس سے قبل 22.02.2024 اور 28.05.2025 کو منظور شدہ بے دخلی کے احکامات پر عمل درآمد کیا جائے اور قبرستان کی زمین کو اس کے اصل مذہبی استعمال میں بحال کیا جائے۔

 

سماعت کے دوران ہریانہ وقف بورڈ کے وکیل نے اعتراض کیا کہ یہ معاملہ وقف ٹریبونل کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ اس معاملے میں آئین کے آرٹیکل 14، 21، 25 اور 26 کے تحت بنیادی حقوق کی خلاف ورزیاں شامل ہیں جس کے لیے ٹریبونل کوئی ریلیف نہیں دے سکتا۔

 

دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد معزز ہائیکورٹ نے نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ آئندہ سماعت تک زمین کی نوعیت کے حوالے سے جمود برقرار رکھا جائے

۔اس موقع پر میوات کے فعال نوجوان عالم دین و سماجی رہنماء مولانا محمد صابر قاسمی نے پائی کورٹ کے جاری فیصلہ کو خوش آئند قرار دیا مولانا موصوف نے کہا کہ سرکاروں اور سرکاروں کے ذریعہ منتخب کردہ ریاستی وقف بورڈ کے چیرمین اور ایڈمنسٹریٹرز کی بدنیتی کی وجہ سے آج پورے ملک کے لا قیمت بیش بہا وقف املاک کو بڑے چلینجز در پیش ہیں، بی جے پی حکومت کی منشاء وقف بورڈ کو ختم کرنے یا پھر حد سے زیادہ کمزور کرنے کی سازشیں بے نقاب ہو چکی ہیں،

ملک کے موجودہ تمام اوقاف کے ذمہ دار سرکار کے اشارے پر آخرت میں جواب دہی سے بے خوف ہوکر وقف اور واقف کی منشاء اور روح کے خلاف کام کر رہے ہیں، جو ہم مسلمانوں کی بڑی بد قسمتی کا دور ہے،

ایسے میں کورٹ اور قانونی چارہ جوئی کرنا ہی اوقاف کے تحفظ کے لیے واحد حل ہے،

 

Comments are closed.