جالے اسمبلی ہاٹ سیٹ پر انتخابی دنگل ! بی جے پی کے جیویش کمار سائیکل سے پہنچ کر نامزدگی کا پرچہ داخل کیا، کانگریس نے آخری دن امیدوار بدلا ، محمد نوشاد کا سیمبل واپس لے کر رشی مشرا کو تھمایا، مشکور عثمانی نے آزاد امیدوار کے طور پر پرچہ داخل کیا، تینوں امیدواروں کے اترنے سے مقابلہ کانٹے دار

 

جالے 🙁 محمد رفیع ساگر/بی این ایس)

جالے اسمبلی حلقہ میں انتخابی سرگرمیوں نے جمعہ کو اچانک نیا موڑ لے لیا۔ بی جے پی امیدوار و سابق وزیر جیویش کمار سائیکل پر سوار ہو کر نامزدگی مرکز پہنچے اور پرچہ نامزدگی داخل کیا۔ ان کی سادہ آمد نے ماحول میں الگ ہی رنگ جما دیا اور کارکنان میں جوش پیدا کردیا۔

 

دوسری طرف کانگریس پارٹی نے ابتدا میں دیورا بندھولی گاؤں کے محمد نوشاد کو امیدوار بنایا تھا۔ تاہم سمری تھانہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی والدہ کو گالی دینے کے الزام میں درج ایف آئی آر اور 18 اکتوبر کو ہونے والی ضمانت کی سماعت کے پیش نظر پارٹی نے ان کا سیمبل واپس لے لیا۔

 

اس کے بعد پارٹی نے رشی مشرا کو نیا امیدوار بنایا، جنہوں نے نامزدگی کے آخری دن اپنا پرچہ داخل کیا۔

 

اسی دوران کانگریس کے سابق امیدوار مشکور عثمانی نے بطور آزاد امیدوار پرچہ داخل کیا ہے۔ یاد رہے کہ 2020 کے اسمبلی انتخابات میں وہ کانگریس کے ٹکٹ پر لڑے تھے اور تقریباً 65 ہزار ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر آئے تھے۔

 

سیاسی مبصرین کے مطابق جالے اسمبلی نشست پر تین مضبوط چہروں کے میدان میں آنے سے مقابلہ نہایت دلچسپ اور کانٹے دار بن گیا ہے۔ آج نامزدگی داخل کرنے کا آخری دن ہونے کے سبب تمام اہم امیدواروں نے اپنے پرچے آج ہی داخل کیے، جس سے انتخابی ماحول گرما گیا ہے۔غور طلب ہو کہ اس سے قبل رشی مشرا 2014 کے ضمنی انتخاب میں جے ڈی یو کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے۔انہوں نے اس وقت آرجے ڈی کے رکن اسمبلی رام نواس کو شکست دی تھی۔

Comments are closed.