یوم سر سید کی اصل خراج عقیدت نسل نو کی سماجی معاشی ترقی ہمہ جہت تعلیم میں مضمر:مولانا قاسمی
۔ہر مدرسہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کے لیے مستقل اسکول قائم کریں مفتی سلیم –
اسکولوں میں اسلامیات کا نصاب اور نظام بنا کر ملت کے نونہالوں کی اسلامی خطوط پر تربیت کریں
اسلامی نطام تعلیم ہی ہماری نسل نو کو ذہنی فکری تعلیمی ارتداد سے بچانے کا ضامن ہے
گوڑگاؤں،(پریس ریلیز)
گوڑگاؤں شہر کی تعلیمی و تعلیمی شخصیت و ملی و رفاہی امور میں پیش ہیش رہنے والی شخصیت مفتی سلیم بنارسی، و سرگرم شخصیت مولانا صابر قاسمی کے مابین شہر گوڑگاؤں میں یوم سر سید کی مناسبت سے ایک اہم تعلیمی مشاورتی مجلس کا انعقاد گیا جس میں مدارس اسلامیہ و عصری اسکولوں میں اسلامیات کے نصابِ تعلیم ،طریقۂ تعلیم اور نظامِ تعلیم کو لے کر باہمی مذاکراتی مجلس منعقد ہوئی،
یوم سر سید کے موقع پر تعلیمی نظام کو مزید بہتر بنانے پر زور دینے بابت ملک و قوم کے نام پیغام دیا گیا،
پیغام دیتے ہوئے مولانا محمد صابر قاسمی و مفتی سلیم قاسمی بنارسی نے اساتذہ ومعلمات کو مزید محنت، لگن، شوق اور تندہی کے ساتھ طلبہ وطالبات کی نفسیات کو مد نظر رکھتے ہوئے تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی بات کہی، مولانا صابر قاسمی نے کہا کہ طلبہ کی نفسیات کو سمجھنے اور ان کی پریشانیوں کا بروقت ازالہ کرنے پر زور دینا تعلیمی منھج کی درست سمت پر کام کرنا یے،
اس موقع پر مشترکہ طور پر یومِ سرسید کے موقع پر ملک و ملت کے معماران قوم اساتذہ و معلمات اور طلبہ وطالبات کو سرسید احمد علیہ الرحمہ کی حیات و خدمات اور ان کی تعلیم کے لیے جدوجہد کے حوالےسے روشنی ڈالی،
مولانا محمد صابر قاسمی نے کہا کہ مرحوم سر سید خاں ان عظیم ہستیوں میں سے ایک تھے جنہوں نے تعلیم کے تئیں انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ ان کے دنیا سے رحلت کر جانے کے باوجود آج ان کی شخصیت ہزاروں، لاکھوں علم دوست دلوں میں زندہ اور جاوید ہے۔ انہوں نے تعلیم و تہذیب، ادب و صحافت، مذہب و سیاست ہر میدان میں بڑے انقلابی کارنامے انجام دیے اور اپنی فکری و عملی قیادت سے قوم کا رُخ مایوسی سے امید کی طرف اور بے عملی سے محنت و جستجو کی طرف موڑا ۔
واقعہ یہ ہے کہ اس عظیم محسن کی ساری زندگی جہد مسلسل سے عبارت رہی ۔مفتی سلیم قاسمی بنارسی نے کہا کہ سر سید کی شخصیت ہندوستان میں علم کا استعارہ ہے اپنی چھوٹی سے حیات مستعار میں اتنے کارہائے نمایاں انجام دیے جو فرد واحد کیا اکیڈمیوں اور انجمنوں کے لیے بھی ممکن نہیں۔ سرکاری ملازمت اختیار کی اور اس کا حق پورا پورا ادا کیا۔ اس کے ساتھ کم از کم 15 انجمنیں بنائیں، ادارے قائم کیے اور تحریکیں برپا کیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ، معمارِ قوم سرسید احمد خان کو سچا اور حقیقی خراج عقیدت یہی ہوگا کہ ہم ان کے نقش قدم پر چلیں،جدید تعلیمی ادارے قائم کریں اور قوم کو تعلیم یافتہ بنائیں۔ہر مدرسہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کے لیے مستقل اسکول کا قیام عمل میں لائے- اور اسکولوں اسلامیات کا نطام ہائے تعلیم کے تحت نصاب اور نظام بنائیں اس وقت ملت کے نونہالوں کی تعلیم سے کہیں زیادہ اسلامی خطوط پر تربیت کر دینی مزاج بنانا ہمارا ہدف ہو، اور یہی نطام تعلیم ہماری نسل نو کو ذہنی فکری تعلیمی ارتداد سے بچا سکتا ہے
سر سید علیہ الرحمہ کو یہی ایک عظیم خراج عقیدت ہوگی کہ ان کے تعلیمی مشن کو آگے بڑھایا جائے –
Comments are closed.