مسلمان اور سیاست

 

(ایک سچی تصویر اور ایک ناگزیر راستہ)

تحریر: خورشید صابر

نروچھ، دربھنگہ

رابطہ : 9472247294

آزادی کو تقریباً اسی برس ہونے کو آئے ہیں مگر افسوس کہ ہندوستان میں مسلمان سیاسی اعتبار سے مضبوط ہونے کے بجائے دن بدن کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔ یہ کمزوری صرف نشستوں یا اقتدار سے دوری کا نام نہیں بلکہ اس کے پیچھے ہماری بے سمجھی، بے عملی اور منظم منصوبہ بندی کی کمی ہے۔

سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ مسلمانوں کی سیاسی آنکھ عموماً الیکشن سے ایک ماہ پہلے ہی کھلتی ہے۔ اس وقت شور مچایا جاتا ہے، نعرے لگائے جاتے ہیں، جلسوں میں شرکت کی جاتی ہے اور سیاسی جماعتوں کے چند نمائندوں کی باتوں پر یقین کر لیا جاتا ہے۔ الیکشن کے دن ووٹ ڈالنے کے بعد پھر چار سال گیارہ مہینے کی نیند۔ یوں قوم کا سیاسی شعور بس چند دنوں کی سرگرمی تک محدود رہ جاتا ہے۔

دوسرا المیہ یہ ہے کہ جو لوگ قوم کے درمیان رہ کر اس کے مسائل کے لیے لڑتے ہیں، قربانیاں دیتے ہیں، جیلیں کاٹتے ہیں اور حق کی آواز بلند کرتے ہیں، انہیں ہم “سماجی کارکن” تو مان لیتے ہیں مگر کبھی اپنا “سیاسی رہنما” تسلیم نہیں کرتے۔ الٹا ان کی نیتوں پر شک کرتے ہیں اور ان کے اخلاص پر سوال اٹھاتے ہیں۔

اب ذرا دیکھئے کہ ہمارے درمیان “سیاسی لیڈر” بنتے کیسے ہیں۔ جیسے ہی الیکشن کا وقت قریب آتا ہے کچھ دبنگ اور مال دار لوگ میدان میں اترتے ہیں۔ ان کے پاس دولت، اثر و رسوخ اور اپنے مفاد کے چند لوگ ہوتے ہیں۔ یہ لوگ بڑی پارٹیوں کا دھیان اپنی طرف مبذول کرانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ کسی طرح سے پارٹی کا ٹکٹ ہاتھ آ جائے۔ قوم کے مسائل سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ کئی جماعتیں، چاہے وہ مسلم قیادت کا دعویٰ ہی کیوں نہ کریں، الیکشن کے موسم میں پیسے کے بل پر ٹکٹ بانٹتی ہیں۔ جس نے زیادہ رقم دی، ٹکٹ اس کے نام۔ نتیجہ یہ کہ جو جیت کر آتا ہے، اس کے پاس نہ کوئی نظریہ ہوتا ہے نہ کوئی ویژن۔ وہ کل ایک پارٹی میں تھا، آج دوسری میں شامل ہو جاتا ہے۔ اس کا مقصد صرف ذاتی فائدہ ہوتا ہے، قوم سے اسے کوئی لینا دینا نہیں۔ پھر جب حالات بگڑتے ہیں تو قوم شکوہ کرتی ہے، روتی ہے کہ ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔ مگر ہم بھول جاتے ہیں کہ ہم نے اپنے رہنما خود چُنے تھے، اور وہ بھی کسی معیار کے بغیر۔ ہم نے سیاست کو صرف ووٹ دینے اور لینے کا عمل سمجھ لیا ہے۔

ذرا اپنے مخالفوں سے ہی کچھ سیکھ لیجیے۔ وہ برسوں نہیں بلکہ صدیوں کی منصوبہ بندی کے ساتھ سیاست کرتے ہیں۔ انہوں نے ہر میدان میں اپنے تربیت یافتہ کارکن پہنچا دیے ہیں۔ ان کے پاس حکمتِ عملی ہے، نظم ہے اور سب سے بڑھ کر مستقل مزاجی ہے۔

اگر مسلمان واقعی اپنے مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ان کے لیے نجات کا راستہ صرف ایک ہے: ایک نظریاتی بنیاد پر قائم جماعت جو سیاسی اور سماجی دونوں میدانوں میں سرگرم ہو، اور ایسی منظم جدوجہد کرنے والی تربیت یافتہ ٹیم (کیڈر) ہو جو صبر، ایثار اور نظم کے ساتھ قوم کے لیے کام کرے۔

جب تک ہم ایسے مخلص رہنما پیدا نہیں کرتے جو ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر قوم کے حق کے لیے ڈٹے رہیں اور جب تک عوام کے اندر یہ شعور پیدا نہیں ہوتا کہ وہ اپنے اصلی رہنما کو پہچانیں اور دنیاوی لالچ یا خوف سے آزاد ہو کر اسے منتخب کریں، تب تک ہماری سیاسی حالت بدلنے والی نہیں۔

یہ سفر آسان نہیں ہوگا۔ وقت لگے گا، قربانیاں دینی ہوں گی، مگر یہی ایک سیدھا اور کارگر راستہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ قوم میں صبر، اتحاد اور تسلسل کی روح بیدار کی جائے۔ جب یہ قوم اپنے اندر نظم، شعور اور ایمان کے ساتھ جدوجہد شروع کرے گی تو یقین رکھیے اللہ خود اس کی حالت بدل دے گا۔ ورنہ جو آج ہو رہا ہے وہ کل بھی ہوگا۔ کبھی اس پارٹی کا جھنڈا، کبھی اُس پارٹی کا اور قوم کے مسائل وہیں کے وہیں رہیں گے۔ دوسروں کے ہاتھوں میں ووٹ دے کر تالی بجانا ہمارا مقدر نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں اپنی تقدیر خود لکھنی ہے، اپنی قیادت خود تراشنی ہے، اور اپنی سیاسی راہ خود بنانی ہے۔

 

Comments are closed.