بہار انتخابات2025: دوسرے مرحلے کے لیے نامزدگی ختم ،جے ایم ایم نہیں لڑے گی انتخاب، کئی امیدواروں نے میدان چھوڑ ا

 

الیکشن کمیشن کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، بہار میں کل 7.43 کروڑ ووٹر ہیں، جن میں تقریباً 3.92 کروڑ مرد، 3.50 کروڑ خواتین، اور 1725 ٹرانس جینڈر ووٹر شامل ہیں۔
پٹنہ(ایجنسی)
بہار اسمبلی انتخابات کی تیاریاں اب آخری مرحلے میں پہنچ چکی ہیں۔ 122 اسمبلی سیٹوں کے دوسرے مرحلے کے لیے نامزدگی کا عمل پیر کو مکمل ہو گیا۔جے ایم ایم بہار الیکشن نہیں لڑے گی۔
اس بار ایک بڑی سیاسی پیش رفت جھارکھنڈ سے متعلق ہے۔ جھارکھنڈ کی مرکزی جماعت جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) نے بہار قانون ساز اسمبلی کے انتخابات لڑنے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا ہے۔جے ایم ایم نے آر جے ڈی اور کانگریس پر حملہ کیا۔
18 اکتوبر کو ایک پریس کانفرنس میں جے ایم ایم کے مرکزی جنرل سکریٹری اور ترجمان سپریو بھٹاچاریہ نے کہا کہ پارٹی بہار میں الیکشن نہیں لڑے گی۔

ووٹنگ دو مرحلوں میں ہوگی:
اس بار بہار اسمبلی انتخابات دو مرحلوں میں ہو رہے ہیں۔ ریاست کی کل 243 اسمبلی سیٹوں میں سے 121 سیٹوں پر پہلے مرحلے میں پولنگ ہوگی۔
ان میں سے 203 نشستیں عام زمرہ کے امیدواروں کے لیے، 38 درج فہرست ذاتوں (SCs) کے لیے اور 2 درج فہرست قبائل (STs) کے لیے مخصوص ہیں۔
بہار اسمبلی انتخابات کے لیے نامزدگیوں کے دوسرے مرحلے کی تکمیل کے ساتھ ہی بہت سے لوگوں نے پیر کو اپنے کاغذات نامزدگی واپس لینے کا فیصلہ کیا۔
جن سوراج پارٹی کےکئی امیدوار میدان چھوڑچکے ہیں:
پرشانت کشور کی جن سوراج پارٹی کوبڑا جھٹکا لگا ہے۔ گوپال گنج سیٹ سے پارٹی کے امیدوار ششی شیکھر سنہا نے اپنا پرچہ نامزدگی واپس لے لیا ہے۔ اس سے پہلے برہما پور سیٹ سے الیکشن لڑ رہے ڈاکٹر ستیہ پرکاش تیواری بھی انتخابی میدان سے دستبردار ہو گئے تھے۔ داناپور سیٹ سے جن سوراج کے امیدوار نے بھی اپنا پرچہ نامزدگی داخل نہیں کیا، حالانکہ پارٹی کا نشان جاری کیا گیا تھا۔ اس طرح پرشانت کشور کے تین امیدوار اب تک انتخابی دوڑ سے باہر ہو چکے ہیں۔
ڈاکٹر ستیہ پرکاش تیواری کو پہلے بی جے پی کی طرف سے ٹکٹ نہیں ملا تھا جس کے بعد انہوں نے جن سوراج سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن اب بی جے پی قیادت سے بات کرنے کے بعد انہوں نے اپنا نام واپس لے لیا۔
بی جے پی باغیوں کی واپسی:
پیر کا دن بی جے پی کے لیے بھی راحت کا دن ثابت ہوا۔ باغی امریندر پانڈے نے بکسر اسمبلی سیٹ سے اپنا پرچہ نامزدگی واپس لے لیا۔ پانڈے نے ٹکٹ نہ ملنے کے بعد آزادامیدوارکی حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا، لیکن مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان سے بات کرنے کے بعد انہوں نے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا۔
اسی طرح پٹنہ کی میئر سیتا ساہو کے بیٹے ششیر کمار نے بھی اپنا نام واپس لے لیا جو پٹنہ صاحب سیٹ سے آزاد امیدوار تھے۔ ٹکٹ نہ ملنے پر ششیر کمار نے بی جے پی سے بغاوت کر دی تھی، لیکن پارٹی نے آخرکار انہیں منوا لیا۔
تارا پور اور گوپال گنج میں تبدیلیاں:
تاراپور اسمبلی سیٹ کے لیے وی آئی پی پارٹی کے امیدوار سکلدیو بند نے بھی اپنا پرچہ نامزدگی واپس لے لیا۔ بعد میں وہ بی جے پی میں شامل ہو گئے اور سمراٹ چودھری کی حمایت کی۔ بند آر جے ڈی امیدوار ارون کمار یادو کی امیدواری سے ناراض تھے۔
بی جے پی ایم ایل اے کی والدہ کسم دیوی کے ٹکٹ سے محروم ہونے کے بعد گوپال گنج سیٹ سے آزاد حیثیت سے انتخاب لڑنے والے انیکیت کمار سنگھ نے بھی اپنا پرچہ نامزدگی واپس لے لیا۔ بی جے پی نے اس سیٹ کے لیے سبھاش سنگھ کو نامزد کیا تھا، اور پارٹی قیادت نے انیکیت کودستبردارہونےپر آمادہ کرلیا۔
کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ تک بہار کی کئی سیٹوں پر سیاسی حالات پوری طرح سے بدل چکے ہیں۔ جہاں سوراج کو نقصان ہوا، وہیں بی جے پی اپنے بہت سے باغیوں کو پارٹی میں واپس لانے میں کامیاب رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان دستبرداریوں نے واضح کر دیا ہے کہ انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مقابلہ زیادہ سخت ہوگا۔

Comments are closed.