اوقاف کی جائیدادوں کو امید پورٹل پر درج کرائیں،آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی ہدایات پر عمل کریں: محمدشبلی القاسمی

 

پٹنہ، 20؍ اکتوبر (پریس ریلیز)

امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی نے مسلمانوں کے نام ایک اہم اپیل جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وقف ایکٹ 2025ء کی اکثردفعات اوقاف کے لیے تشویش ناک ہیں۔وقف ایکٹ2025 کی ان دفعات سےملت کو ان کے ممکنہ اثرات سے باخبر رہنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ امارت شرعیہ،مسلم پرسنل لابورڈ اورجمعیۃ علما ء ہند وغیرہ تنظیمیں اس قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ میں لڑرہی ہیں۔ ان میں سب سے خطرناک دفعہ 3Bہے، جس کے مطابق ہر وقف ادارے، مسجد، مدرسہ، قبرستان، خانقاہ یا دیگر مذہبی اوقاف کی تفصیلات کو لازمی طور پرامید پورٹل(Unified Minority Mapping and Empowerment for Education, Employment and Development) پر اپ لوڈ کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے اوراس میں ایسے کالم رکھے گئے ہیں، جو بڑی پیچیدہ اورفتنوں کو جنم دینے والی ہیں۔جس کی آخری تاریخ 5 دسمبر 2025ءمقرر کی گئی ہے۔ان سب کے باوجود بڑے غوروخوض کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ نے قانونی لڑائی کو جاری رکھتے ہوئے اوقاف کی جائیدادوں کو پورٹل پر درج کرانے کی ہدایت دی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے حکومتِ ہند اور وزارتِ اقلیتی امور سے مطالبہ کیا ہے کہ اندراج کی آخری تاریخ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے؛ تاکہ اوقاف کے ذمہ داران کواس کام کے لیے مناسب موقع مل سکے۔ امارتِ شرعیہ بھی اس سلسلے میں سرگرم ہے؛ تاکہ اوقاف کے تحفظ کے لیے قانونی و انتظامی سطح پر مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ حضرت امیرِ شریعت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب کی ہدایت پرریاست گیر وقف اندراجی مہم کا آغاز کردیا گیا ہے۔حضرت اس وقت اس سلسلہ میں دورے پر ہیں۔اس مہم کے تحت ہر ضلع میں خانقاہوں، مساجد، مدارس، قبرستانوں اور دیگر اوقاف کے ذمہ داران سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔

مولانا شبلی القاسمی نے تمام متولیان، سجادہ گان اور اوقاف کے منتظمین اورعلماء وائمہ مساجد سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو قانونی ذمہ داری اوردینی امانت سمجھیں اورلوگوں میں بیداری پیدا کریں۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ اگر کسی وقف کا اندراج امید پورٹل پر نہ ہوا تو وہ وقف قانون2025ء کے تحت وقف تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ مدارس و خانقاہوں کے منتظمین اپنے یہاں اس مقصد کے لیے عارضی کمپیوٹر آپریٹر مقرر کریں اورریاستی وقف بورڈ، امارتِ شرعیہ یاآل انڈیا ملی کونسل بہار جیسی تنظیموں سے رہنمائی حاصل کریں؛ تاکہ کام میں سہولت اور تیزی پیدا ہو۔

مولانا شبلی القاسمی نے کہا کہ وقف جائیدادیں ملت کی اجتماعی امانت ہیں، ان کا تحفظ ہم سب پر فرض ہے۔ ہمیں متحد ہوکر اس چیلنج کا سامنا کرنا ہوگا۔ امارتِ شرعیہ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر ملی تنظیمیں اس مقصد کے لیے ایک ساتھ کوشش کر رہی ہیں۔انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس قانون کو واپس لے یا اس کی خطرناک دفعات کو ختم کرتے ہوئے وقف اندراج کی آخری تاریخ میں توسیع کا اعلان کرے؛ تاکہ اوقاف کے حقوق محفوظ رہیں۔

Comments are closed.