تنہائی مفید یا مضر دینی اخلاقی اور نفسیاتی جائزہ! 

 

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔

مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725

 

"تنہائی” یا "خلوت” کے مفہوم اور اس کے مختلف پہلوؤں کو دینی، اخلاقی، نفسیاتی اور سماجی اعتبار سے سمجھنا، وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کیونکہ بہت سے لوگ اجتماعی زندگی اور لوگوں سے میل جول چھوڑ دیتے ہیں اور اپنے دوست و احباب اور اعزہ و اقارب سے کٹ کر تنہائی کے عادی بن کر غلط اقدام کرلیتے ہیں ،یا ڈپریشن کے شکار ہو جاتے ہیں ، آئے دن اس طرح کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں ۔

ذیل میں ایک مفید مضمون اس عنوان پر پیش کیا جا رہا ہے، جو اس موضوع کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔

 

تنہائی: فائدہ یا نقصان؟ ایک دینی، اخلاقی و نفسیاتی جائزہ

 

مقدمہ:

 

انسان ایک سماجی مخلوق ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے فطری طور پر تعلق، رفاقت اور اجتماعیت کا خوگر بنایا ہے۔ تاہم زندگی میں بعض اوقات تنہائی کا سامنا بھی ہوتا ہے یا بعض لوگ خود اختیاری طور پر خلوت و گوشی نشینی اختیار کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ تنہائی مفید ہے یا مضر؟ اس کا جواب نیت، استعمال اور وقت پر منحصر ہے۔

 

1. دینی و شرعی پہلو:

 

اسلام میں تنہائی و گوشہ نشینی (خلوت) اگر اللہ تعالیٰ کی عبادت، خود احتسابی، توبہ و استغفار، ذکر و اذکار یا قرآن فہمی کے لیے ہو، تو یہ نہایت پاکیزہ ،بابرکت اور محبوب عمل ہے۔

قرآن و سنت سے مثالیں ملتی ہیں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو طور پر اللہ سے ہمکلامی کے لیے چالیس دن کی خلوت ملی۔

نبی کریم ﷺ کو نبوت سے قبل غارِ حرا میں خلوت محبوب تھی جہاں خلوت میں آپ غور و فکر کرتے تھے۔

اعتکاف، رمضان المبارک میں ایک مبارک خلوت ہے جسے سنت مؤکدہ قرار دیا گیا ہے۔

حدیث:

،،افضل الناس رجل معتزل فی شعب من الشعاب یعبد ربہ،،

(سب سے بہتر شخص وہ ہے، جو کسی گھاٹی میں جا کر اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہو)

(مسند احمد)

لیکن ایسی تنہائی جس میں فرائض، صلہ رحمی، معاشرتی حقوق یا جماعتی ذمہ داریوں کو ترک کر دیا جائے، وہ دینی لحاظ سے پسندیدہ نہیں۔

 

2. اخلاقی و سماجی پہلو:

انسان کا معاشرتی کردار اس کے اخلاقی اوصاف سے وابستہ ہوتا ہے۔ مکمل خلوت اور مستقل تنہائی بعض اوقات:

غرور، خودپسندی، احساس برتری یا کم ہمتی کو جنم دیتی ہے۔

لوگوں کے دکھ درد سے لا تعلقی پیدا کرتی ہے، جو کہ اسلامی اخوت کے خلاف ہے۔

 

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

،،مومن جو لوگوں کے ساتھ رہتا ہے اور ان کی تکلیف پر صبر کرتا ہے،وہ اس سے بہتر ہے جو نہ ملتا ہے نہ صبر کرتا ہے ،،

(ابن ماجہ)

 

3. نفسیاتی پہلو:

 

نفسیات کے مطابق تنہائی کے اثرات مثبت یا منفی دونوں ہو سکتے ہیں، یہ درج ذیل پر منحصر ہے:

 

مثبت اثرات (اگر مختصر اور با مقصد ہو):

 

خود شناسی اور خود احتسابی میں مدد

 

ذہنی سکون اور جذباتی توازن

 

تخلیقی صلاحیت میں اضافہ

 

فیصلے کرنے کی صلاحیت بہتر

 

منفی اثرات (اگر طویل اور بے مقصد ہو):

 

ڈپریشن، اضطراب، مایوسی اور احساسِ کمتری

 

خود کشی کے خیالات

 

سماجی فوبیا (social anxiety)

 

حقیقت سے فرار

 

4. تنہائی اور انفرادیت میں فرق:

خلوت عبادت اور اصلاح کے لیے ہو تو محبوب ہے۔

وحشت ناک تنہائی جو انسان کو معاشرتی، روحانی اور نفسیاتی طور پر برباد کرے، وہ مذموم ہے۔

تنہائی بذاتِ خود نہ اچھی ہے نہ بری۔ یہ اس نیت، کیفیت اور استعمال پر منحصر ہے جس کے تحت اسے اختیار کیا جائے۔

عبادت، خود احتسابی، علم، غور و فکر، یا وقتی آرام کے لیے ہو۔

 

مایوسی، معاشرتی بیزاری، احساسِ کمتری یا گناہ کی طرف لے جائے۔

 

،، خیر الامور اوسطھا ،،

بہترین امور اور معاملہ وہ ہے جو متوسط، معتدل اور درمیانہ ہو۔

زندگی میں خلوت اور جلوت دونوں کی ضرورت ہے۔ نیکی کے لیے تنہائی اختیار کرنا عبادت ہے، جبکہ بے مقصد تنہائی ایک نفسیاتی بیماری بن سکتی ہے۔ اس لیے توازن، نیت کی درستی اور شرعی رہنمائی کے ساتھ تنہائی کو استعمال کیا جائے، تب ہی یہ نفع بخش ہوگی۔

 

تنہائی، رحمت یا زحمت ؟●●

اس موضوع پر جناب مولانا سعود مقصود احمد المدنی حفظہ اللہ تعالیٰ نے بہت اچھا تجزیہ پیش کیا ہے، استفادہ کی غرض سے ان کے شکریہ کے ساتھ اس مضمون کو بھی قارئین کی خدمت میں حاضر کرتے ہیں ۔ ………………………………………

●● تنہائی (خلوت) انسانی زندگی کا وہ لازمی حصہ ہے جس سے کسی کے لئے مفر نہیں، زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جہاں بندہ تنہا اور لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوتا ھے، اعمال و حرکات مخفی و پوشیدہ رہتے ہیں، وہاں اُسے عزت نفس کی مجروحی اور ذلت و رسوائی کا خوف بهى نہیں ہوتا ۔ ایسی تنہائی بندہ کے لئے ایک عظیم آزمائش ہوتی ھے، صبر اور خشیت الہی کا بڑا کٹھن امتحان ہوتا ھے، وہیں پر یہ پردہ فاش ہوتا ھے کہ کون اللہ سے ڈرتا ہے؟ اور کون نہیں؟ ۔”لِيَعْلَمَ اللَّهُ مَنْ يَخَافُهُ بِالْغَيْبِ” [المائدة: 94] ترجمہ :” تاکہ اللہ جان لے کہ کون اس سے تنہائی میں ڈرتا ھے”۔

●● تنہائی کے متعدد نقصانات کی بنا پر دین اسلام نے اجتماعیت کی ترغیب دی ھے اور تنہائیوں سے حتی الامکان بچنے کا حکم دیا ھے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ” ان النبی ﷺ نهى عن الوَحدة : أن يَبِيتَ الرجلُ وحده ، أو يُسافرَ وحده” (احمد وصححہ الالبانی) ترجمہ: "نبی ﷺ نے تنہائی سے منع کیا کہ آدمی تنہا رات گزارے یا تنہا سفر کرے” ۔ فرمایا: "لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي الْوَحْدَةِ مَا أَعْلَمُ، مَا سَارَ رَاكِبٌ بِلَيْلٍ وَحْدَهُ” (البخاری) ترجمہ: "اگر لوگ تنہائی سے متعلق وہ باتیں جان لیں جو میں جانتا ہوں تو کوئی بھی شخص رات میں تنہا نہ چلے "۔

●● تنہائی رحمت بھی ہے اور زحمت بھی ، کبھی انسان تنہائی کی خوبصورت وادیوں میں سیر کرتے ہوئے اپنے بدن اور ذہن و دماغ کو راحت دیتا ہے ، اہم مسائل میں غور وخوض کرتا ہے ، زندگی کی خوبصورت پلاننگ کرتا ہے، صحیح فیصلے لیتا ہے اور کامیابی کی بلندیوں تک پہونچ جاتا ہے، اور کبھی منتشر خیالات کے ساتھ تنہائی کے سناٹوں میں بھٹکتے ہوئے بہت دور نکل جاتا ہے ، مایوسی، خوف و گھبراہٹ کا شکار ہوکر اطمئنان و سکون سے محروم ہوجاتا ہے۔

●● اگر اخروی اعتبار سے دیکھا جائے تو بلاشبہ ایک مخلص مؤمن اور متقی بندہ کی تنہائی باعثِ رحمت ہوتی ہے ، جہاں بندہ چھپ کر نیکیاں کرتا ہے، ریا و شہرت طلبی سے محفوظ ہوکر عملِ صالح کرتا ہے، ایمان و اخلاص کے ساتھ رب کی طرف متوجہ ہوتا ہے، تنہائی کے فتنوں اور حرام خواہشات سے اپنا دامن بچاتے ہوئے تقوی کی راہ پر چل پڑتا ہے اور اللہ کا محبوب بن جاتا ہے ۔ حدیث رسول ﷺ ہے: "إنَّ اللَّهَ يُحِبُّ العَبْدَ التَّقِيَّ، الغَنِيَّ، الخَفِيَّ” (مسلم) ترجمہ : اللہ متقی ، بے نیاز و گم نام بندہ سے محبت کرتا ہے”۔ محبوب و متقی بندہ کی پاکیزہ تنہائی رحمت الہی کی چادر میں ڈھپی ہوتی ہے ، اس کا راز و باطن خشیت الہی اور لباسِ تقوی سے مزین ہوتا ہے، اور وہ رب کے یہاں اجر عظیم کا مستحق ہوتا ہے ۔ اللہ فرماتا ہے: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ﴾(الملك: 12] ترجمہ: "بے شک جو لوگ اپنے رب سے بنا دیکھے ڈرتے ہیں، ان کے لئے مغفرت اور بڑا اجر ہے”۔ جس تنہائی میں بندہ اللہ کے احسانات ، عظمت و قدرت اور رحمت و عذاب کو یاد کرتا ہے اور پھر اس کی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں، فی سبیل اللہ اپنا قیمتی مال خرچ کرتا ہے، حتی کہ دائیں ہاتھ کو بھی خبر نہیں ہوتی ھے کہ بائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے ، اور اللہ کے خوف سے گناہ و بے حیائی کو ٹھکرا دیتا ہے، وہ مبارک تنہائی بروز قیامت عرش عظیم کا سایہ دلائے گی ، جس دن اس سایہ کے علاوہ کوئی اور سایہ نہ ہوگا۔ یہاں یہ بات واضح کردوں کہ اگر چھپ کر کی گئی نیکیاں دنیا میں ظاہر ہوجائیں، اور لوگوں کی محبت اور عزت وشہرت مل جائے تو یہ ایک مؤمن کے لئے پیشگی بشارت ہے۔ حدیث ہے: "تِلْكَ عَاجِلُ بُشْرَى المُؤْمِنِ ” ( مسلم )

●● بے لگام اور بلا قید و بند والی تنہائی باعثِ زحمت ہوتی ہے، خصوصاً جب ہر چہار سوٗ فتنوں کی تاریکیاں چھائی ہوں، ایمانی حرارت سرد پڑگئی ہو، دل میں اللہ کی نگہبانی و نگرانی کا احساس نہ ہو ، ایسی تنہائی میں شیطان کے لئے وار کرنا آسان ، اور فساد وبگاڑ کا امکان بڑھ جاتا ہے، جب کبھی تنہائی اور فتنہ ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں تو وہاں تیسرا شیطان ہوتا ہے، مثلا: کسی اجنبی مرد وعورت کی غیر شرعی خلوت میں تیسرا شیطان ہوتا ہے، یہی حکم انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا بھی ہے، والعیاذ باللہ!۔ ایسی گندہ تنہائی بروز قیامت پہاڑوں کے برابر نیکیاں ضائع کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: "لأَعْلَمَنَّ أَقْوَامًا مِنْ أُمَّتِي يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالِ جِبَالِ تِهَامَةَ بِيضًا فَيَجْعَلُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَبَاءً مَنْثُورًا ، قَالَ ثَوْبَانُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صِفْهُمْ لَنَا، جَلِّهِمْ لَنَا أَنْ لاَ نَكُونَ مِنْهُمْ وَ نَحْنُ لاَ نَعْلَمُ، قَالَ: أَمَا إِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ وَمِنْ جِلْدَتِكُمْ وَ يَأْخُذُونَ مِنَ اللَّيْلِ كَمَا تَأْخُذُونَ وَلَكِنَّهُمْ أَقْوَامٌ إِذَا خَلَوْا بِمَحَارِمِ اللَّهِ انْتَهَكُوهَا” ( ابن ماجه و صححه الألباني ) ترجمہ : "میں اپنی امت کے ان افراد کو ضرور پہچان لوں گا جو قیامت کے دن تہامہ کے پہاڑوں جیسی سفید (روشن ) نیکیاں لے کر حاضر ہوں گے تو اللہ عزوجل ان (نیکیوں کو ) بکھرے ہوئے غبار میں تبدیل کردے گا۔ ثوبان نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! ان کی صفات بیان کر دیجئے ، ایسا نہ ہو کہ ہم ان میں شامل ہو جائیں اور ہمیں پتہ بھی نہ چلے ، آپ نے فرمایا: وہ تمہا رے بھائی ہیں اور تمہاری جنس سے ہیں اور رات میں تمہاری طرح وہ بھی عبادت کرتے ہیں ، مگر جب انہیں تنہائی میں اللہ کے حرام کردہ کاموں کا موقع ملتا ہے، تو ان کا ارتکاب کرلیتے ہیں ”

●● ضروری ہے کہ بندہ خوف الہی کے ذریعہ ہر فتنہ کا مقابلہ کرے، کسی بھی حالت میں وہ اپنے آپ کو تنہا تصور نہ کرے، رات کی تاریکی ہو یا دن کا اجالا ، سفر ہو یا قیام ، گھر ہو یا بازار ، اللہ سمیع بصیر ہمہ وقت تمام ظاہر و باطن کا علم رکھتا ہے ، اپنی تنہائی نفع بخش کاموں سے آباد رکھے۔ اور یہ احساس ہو کہ کراما کاتبین فرشتے اعمال لکھ رہے ہیں ، ہمارے ساتھ ایک خفیہ کیمرا ہے جو ہر نیکی و بدی، اور چھوٹا و بڑا عمل ریکارڈ کررہا ہے، عذاب الہی سے ڈرے اور تنہائی کے شر سے بچنے کی دعا کرے، انسان کہیں بھی غائب ہو جائے، اللہ سے بچ نہیں سکتا۔ اللہ فرماتا ہے: {یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاس وَلَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰہ وَہُوَ مَعَھُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰی مِنَ اْلقَوْلِ} (النساء: ۱۰۸) ترجمہ:’’ یہ لوگوں سے چھپ جاتے ہیں، مگر اللہ سے نہیں بچتے ، حالاں کہ وہ اس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ رات میں اس کی مرضی کے خلاف مشورے کرتے ہیں‘‘ ۔ اللہ ہمیں تزکیۂ نفس کی توفیق دے اور ہماری تنہائیوں کو محفوظ و پاکیزہ بنائے۔ آمین

Comments are closed.