ڈونلڈ ٹرمپ: نہ ان کی دوستی اچھی نہ ان کی دشمنی اچھی
ڈاکٹر سلیم خان
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی نظر میں وزیر اعظم نریندر مودی کاعظیم رہنما ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے مگر اس کی وجہ نہایت دلچسپ ہے۔ ٹرمپ کے مطابق چونکہ مودی ان سے محبت کرتے ہیں اس لیے عظیم ہیں ، یہ دراص خود پسندانہ جملے کا یہ مطلب ہے کہ کسی انسان کے عظیم ہونے کی خاطر اس کاٹرمپ سے محبت کرناکافی ہے ۔ یہ نرگسیت کی انتہاہے۔ امریکی صدر نے یہ تو کہا کہ ہندوستانی وزیر اعظم ان سے محبت کرتے ہیں لیکن یہ کہنے سے کترا گئے کہ وہ خود بھی مودی سے محبت کرتے ہیں اس کا مطلب ہوا کہ یہ یکطرفہ ’پریم کہانی‘ ہے۔ مودی کے پیار کا اظہارکرنے کے بعد صدر ٹرمپ نے یہ وضاحت ضروری سمجھی کہ لفظ ’’محبت‘‘ کو کسی اور معنیٰ میں نہ لیا جائے۔ وہ بولے”میرا مطلب رومانوی محبت نہیں، سیاسی محبت ہے کیونکہ وہ ہندوستانی وزیر اعظم کے سیاسی کیریئر کو تباہ نہیں کرنا چاہتے‘‘۔ اس سوال کا جواب تو شاید خود ٹرمپ بھی نہیں جانتے ہوں گےکہ کسی کا ٹرمپ سے محبت کرنا اس کا سیاسی کیرئیر کیسے تباہ کرسکتا ہے؟ کیا ٹرمپ کوئی زہریلی ناگن ہے کہ جو اس سے محبت کرتا وہ اسی کو ڈس لیتی ہے؟ دراصل سانپ کی مانند ٹرمپ کی زبان میں بھی زہر ہے اور وہ کب، کسے اور کیسے ڈس لیں گے یہ کہنا مشکل ہے ۔ اس لیے مودی فی الحال ٹرمپ سے محفوظ فاصلہ رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے استاد شاعر حفیظ جونپوری کے اس مشورے پر عمل کررہے ہیں کہ ؎
حسینوں (ٹرمپوں) سے فقط صاحب سلامت دور کی اچھی نہ ان کی دوستی اچھی نہ ان کی دشمنی اچھی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے وزیر اعظم نریندر مودی پہلے ہی اس بات کے قائل ہوچکے ہیں۔ اسی لیے جب کینیڈا میں جی 20 سے واپسی پر ٹرمپ نے مودی کو واشنگٹن آنے کی دعوت دی تو اسے مسترد کردیا گیاکیونکہ وہاں اژدھا جنرل عاصم منیر موجود تھا ۔آپریشن سیندور کے بعد مودی کا کیرئیر تباہ کرنے کی خاطر ان کی جنرل عاصم منیر کے ساتھ مصافحہ کرتے ہوئے ایک تصویر کافی تھی ۔ مودی یہ بات کیسے بھول سکتے ہیں لال کرشن اڈوانی کے’جناح پریم ‘ نے ان کا سیاسی کیرئیر تباہ کردیا تھا۔ اسی کو بھانپ کر مودی نے نہ صرف واشنگٹن جانے سےکنی کاٹ لی بلکہ اس بار اقوامِ متحدہ کے اجلاس عام میں بھی شرکت نہیں کی اورجب شرم الشیخ میں بلایا گیا تو وہاں بھی نہیں گئے۔ اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے ٹرمپ کے اس اعلان میں موجود ہے کہ وزیر اعظم مودی تجربہ کار رہنما ہیں ۔ عقلمند انسان اپنے تلخ تجربات سے سیکھتا ہے۔ راہل گاندھی کے الزام کہ مودی ٹرمپ سے ڈرتے ہیں کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ، پی ایم مودی نے ٹرمپ کو اجازت دے دی کہ(وہ فیصلہ کریں ) بھارت روس سے تیل خریدے گا یا نہیں، مسلسل رسوائیوں کے باوجود وہ مبارکباد کے پیغامات بھیجتے رہتے ہیں، وزیر خارجہ کا امریکی دورہ منسوخ ہوگیا، مودی شرم الشیخ نہیں گئے، یہاں تک کہ آپریشن سیندور پر ٹرمپ کو جواب تک نہ دیا.
ٹرمپ اور مودی کے بنتے بگڑتے رشتوں کی کہانی کو اگر بی آر چوپڑا کی فلم ’پتی ، پتنی اور وہ‘ کی عینک سے دیکھا جائے تو پوتن کی حیثیت رقیب روسیاہ کی ہے۔ سچائی یہی ہے کہ روسی تیل نے ٹرمپ اور مودی کی اچھی بھلی رفاقت کو رقابت میں بدل دیا ۔ ٹرمپ اس قدرنالاں ہیں کہ انہوں نے روس سے تیل خریدنے کی پاداش میں اگست کے اندر محصولات (ٹیرف) میں غیر معمولی اضافہ کردیا اور اب دعویٰ کررہے ہیں ’محبوب ‘ مان گیا ہے یعنی مودی نے نجی طور پر ’مختصر مدت میں‘ ان خریداریوں کو ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ویسے روس چونکہ ہنوز پر امید ہے اس لیے کہہ رہا ہندوستان نے ٹرمپ کے بیان سے خود کو دور کر لیا ہے کیونکہ یہ تیل ہندوستانی معیشت اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ ہندوستانی عوام یہ سن کر حیران ہیں کیونکہ خام تیل سستا ہو تب بھی ان کے لیے تو مہنگا ہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ فائدہ آخر جاتا کہاں ہے؟ اس کے دوحصے ہیں ، اس تیل کا بڑا حصہ چونکہ امبانی کی ریفائنری سے ہوکر واپس یوروپ برآمد کردیا جاتا ہے اس لیے سیٹھ جی کا فائدہ تو ہو ہی جاتا ہے ۔ ٹیکس کی صورت میں سرکاری خزانے کے اندر بھی بڑی رقم آجاتی ہے مگر عوام تو خالی ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔
تیل کا یہ کھیل معمولی نہیں ہے۔ہندوستان دنیا بھر میں سب سے زیادہ تیل درآمد کرنے والا تیسرا ملک ہے۔ اس نے پچھلے سال 52.7؍ ارب ڈالر کا روسی خام تیل خریداجو کل مقدار کا 37 فیصد تھا۔ 2021-22 کے درمیان ہندوستان نے معاشی پابندیوں کے سبب ایران اور وینزویلا سے بتدریج تیل کی درآمدات کو ختم کر کے عراق، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر اپنا انحصار بڑھا دیا۔ اس کے بعد 2022-23 میں روسی تیل کی قیمت میں 14.1 فیصد اور 2023-24 میں 10.4 فیصد کی رعایت کی تو ہندوستان اس کی جانب متوجہ ہوا جس سے اسے سالانہ تقریباً پانچ ارب ڈالر کی بچت ہونے لگی۔ یہ خام تیل کے درآمدی بل کا تین سے چار فیصد ہے۔ویسے توروسی تیل کی برآمد سے حاصل ہونے والی بچت ہندوستان کے جملہ 900 ارب ڈالر کے درآمدی بل کا ایک فیصد بھی نہیں ہے پھر بھی 9 ارب ڈالر کی بچت کم نہیں ہوتی ۔
روس سے رعایتی نرخ پر خام تیل کے خریدنے سے نہ صرف دہلی کو اپنی معیشت بحال کرنے میں مدد ملی بلکہ بلا واسطہ عالمی قیمتیں بھی مستحکم ہوئیں۔تیل کی قیمتوں میں نہ صرف اضافہ رکا بلکہ الٹا اس سال تیل کی قیمت 27 فیصد گر کر 78 ڈالر فی بیرل سے 59 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ۔امریکہ اس سے ناراض ہے کیونکہ وہ اسے یوکرین کی جنگ میں ہندوستان کی مدد گردانتا ہے ۔ ہندوستان کا دھرم سنکٹ یہ ہے کہ ’ایک طرف اس کا گھر ایک طرف میکدہ‘ ۔ وہ اگر رعایتی روسی تیل کی خریداری جاری رکھے گا تو اسے امریکی انتقامی کارروائی کا خطرہ مول لینا پڑے گا ۔ بصورتِ دیگر اگر مشرق وسطیٰ اور امریکی مہنگے تیل کی جانب متوجہ ہوگا تو نہ صرف امبانی اور خزانے کا نقصان ہوگا بلکہ عالمی بازار میں تیل کی ضرورت کے بڑھنے سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائےگا اور اس کا اثر گھریلو قیمتوں پر بھی پڑے گا ۔ واشنگٹن سختیوں کے اضافے نے حکوتِ ہند کو ایک مخمصے میں ڈال دیا ہے۔ ٹرمپ اور مودی کی پریم کہانی میں اس کے سبب دراڑ پڑ گئی ہے ۔
ٹرمپ اس داستانِ محبت کو رومانوی نہیں بلکہ سیاسی نوک جھونک قرار دیتے ہیں ۔ اس کے باوجود وہ عوام کوتوجہات کا مرکز بن گئی ہے۔ مودی کے حوالے صدر ٹرمپ کے ”پیار بھرے“ تبصرے نے ہندوستانی سوشیل میڈیا میں جو کہرام مچا یا اسے دیکھ کر گرودت کی مشہور فلم ’ صاحب، بی بی اور غلام‘ یاد آگئی ۔ اس سیاسی محبت کی کہانی کواگراس فلم کے تناظر میں دیکھا جائے تو صاحب کی جگہ ٹرمپ اور پوتن بی بی نظر آئیں گے ۔ ٹرمپ صاحب نے اپنے محبوب سمجھانے منانے کے لیے الاسکا میں پوتن بی بی سے ملاقات کے دوران اپنے جنگی جہازوں سے ڈرانے کی بھی سعی کی مگر سنگدل صنم پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ پوتن نے وہاں سے واپس جاکر یوکرین پر حملے تیز کردئیے مگر اس محبت کے مثلث میں مودی نے رقیبوں نے انہیں ٹرمپ کا غلام قرار دے کر کہانی مکمل کردی ۔ ’ایکس‘ پر تیجس پرساد بروے نے لکھا: ”مودی اندر ہی اندر سوچ رہے ہوں گے، یہ کب سدھرے گا؟ کیسا دوست(عاشق) ہے یہ!“
برائن پسنہا نامی صارف نےتو اور بھی آگے جاکر لکھا کہ : ”یہ کیسی محبت ہے جس میں صرف ٹرمپ طے کرتا ہے کہ کون کس سے محبت کرتا ہے۔ مودی تو بیچاری خاموش بیوی بنے بیٹھے ہیں۔“ اس ہنسی مذاق سے قطع نظر روشن رائے نے بھری بزم میں راز کی بات لکھ دی کہ: ”مودی نے(اپنے ہم نفس) اڈانی کو بچانے کے لیے ٹرمپ کے آگےسپر ڈال دی ہے ۔“وزیر اعظم نریندر مودی پر اس محبت بھری نوک جھونک میں کچھ لوگوں نے تلخی کا زہر گھولنے کی کوشش کی مثلاً پروفیسر اشوک سوین نے لکھا، ”ٹرمپ تو یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان نے بھارت کے سات طیارے گرائے تھے، مودی کیوں نہیں کہتے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے؟“ اشوک سوین کو پتہ ہونا چاہیے کہ کسی’ پتی ورتاناری ‘(سعادتمند زوجہ) کے لیے اس طرح کی زبان درازی تو دور اپنے شوہر کا نام زبان پر لانا بھی ہندوستان کی قدیم سناتنی روایت کے خلاف ہے۔
حکومتِ ہند کےاس رویہ سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے ’’اموک“ نامی صارف نے یہاں تک لکھ دیا کہ ”بی جے پی آئی ٹی سیل کے پانچویں باپ ٹرمپ نے مودی کو بے نقاب کر دیا۔ اب بھارت کو جوتے چاٹنے والے کی نہیں بلکہ کسی تعلیم یافتہ وزیرِاعظم کی ضرورت ہے، ۔“ اسی بات کو ایک تصویر کی مدد سے کہنے کے لیے ایک صارف نے ٹرمپ کے مجسمے کے پیروں میں گرے ایک شخص کی تصویر لگاکر لکھ دیا، ”ٹرمپ کے لیے مودی کی محبت“۔اس ساری بحث کا خلاصہ یہ تبصرہ ہے کہ : ”ٹرمپ بولتے ہیں، مودی سنتے ہیں، اور بھارت شرمندہ ہوتا ہے یہ نیا ورلڈ آرڈر ہے۔“ یہ کوئی اچھی صورتحال نہیں ہے مگر اس کا کیا کیا جائے کہ ساری مشہورِ زمانہ محبت کی داستانوں کا انجام غمگین ہی ہوتا ہے۔
Comments are closed.