دو ہزار بیس میں مہاگٹھ بندھن نے مسلمانوں کو ان کا 74.40 فیصد حق دیا تھا
عماد عاقب مظفر پوری
21/10/2825
دو ہزار بیس میں مہاگٹھ بندھن نے مسلمانوں کو ان کا 74.40 فیصد حق دیا تھا ، اس وقت مہاگٹھ بندھن نے کل بتیس مسلمانوں کو ٹکٹ دیا تھا ، اور اس بار صرف تیس مسلمان کو ٹکٹ دیا ہے ،
بہار اسمبلی کی کل نشستیں 243ہیں ، دو ہزار بیس میں مہا گٹھ بندھن میں پانچ پارٹیاں تھیں ،
ان میں سے دو پارٹیوں نے ایک بھی مسلم امیدوار نہیں اتارا تھا ،
اس وقت مہاگٹھ بندھن نے کل 243امیدوار ہی اتارے تھے
بہار میں مسلمانوں کی آبادی 17.70فیصد ہے ، اور دو سو تینتالیس رکنی اسمبلی میں تینتالیس نشستوں پر مسلمانوں کا واجبی حق ہے ۔
مگر دو ہزار بیس میں مہاگٹھ بندھن کے کل مسلم امیدوار صرف بتیس تھے ،
دو ہزار بیس میں مہاگٹھ بندھن نے مسلمانوں کو ان کا 74.40 فیصد حق دیا تھا
راشٹریہ جنتا دل کے کل 144 امیدوار تھے ، ان میں 25.49مسلمانوں کا حق تھا مگر راشٹریہ جنتا دل نے صرف اٹھارہ مسلمانوں کو ٹکٹ دیا تھا ، اس نے مسلمانوں کو 70.62 فیصد حق دیا تھا ۔
انڈین نیشنل کانگرس کے کل 70 امیدوار تھے ، ان میں 12.39مسلمانوں کا حق تھا مگر کانگریس نے گیارہ مسلمانوں کو ٹکٹ دیا تھا ، اس نے مسلمانوں کو 88.78فیصد حق دیا تھا ۔
سی پی ایم آئی ایل کے کل 19 امیدوار تھے ، ان میں 3.36مسلمانوں کا حق تھا مگر سی پی ایم آئی ایل نے تین مسلمانوں کو ٹکٹ دیا تھا ، اس نے مسلمانوں کو صرف 89.29فیصد حق دیا تھا ۔
سی پی آئی کے کل۔ چھ (6 )امیدوار تھے ، ان میں 1.06مسلمانوں کا حق تھا مگر سی پی آئی نے ایک بھی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا تھا ، اس نے مسلمانوں کا سو فیصد حق ہڑپ کرلیا تھا ۔
سی پی آئی ایم کے کل چار ( 4) امیدوار تھے ، ان میں 0.71 مسلمانوں کا حق تھا مگر سی پی آئی ایم نے ایک بھی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا تھا ، اس نے مسلمانوں کا سو فیصد حق ہڑپ لیا تھا ۔
Comments are closed.