مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ

 

ابوبکر صدیق، نانپوری

رابطہ : 7808342920

بہار کی سیاست کے افق پر 2025 کے اسمبلی انتخابات کے بادل منڈلا رہے ہیں اور ہر طرف سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ ایسے میں بہار کے مسلمان ایک بار پھر اس اہم موڑ پر کھڑے ہیں جہاں انہیں اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ بہار کے مسلمان کدھر جائیں؟ کس کے جھنڈے تلے کھڑے ہوں؟ کس کی سیاست ان کے مستقبل کی ضامن بن سکتی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات تلاش کرنا ہر باشعور مسلمان کی ذمہ داری ہے۔

بہار ہمیشہ سے ہندوستانی جمہوریت کا اہم مرکز رہا ہے، جہاں کی سیاست نے کبھی مسلمانوں کو مرکز میں رکھا، تو کبھی حاشیے پر دھکیل دیا۔ 2025 کے انتخابات سے پہلے مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ ماضی کے تجربات سے سبق سیکھیں اور مستقبل کے لیے دانشمندانہ فیصلہ کریں۔ موجودہ سیاسی منظر نامے میں ہر جماعت مسلم ووٹ بینک کو حاصل کرنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کون سی جماعت مسلمانوں کے حقیقی مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟

بہار کے مسلمانوں کے حقیقی مسائل پر نظر ڈالیں تو تصویر کافی پیچیدہ نظر آتی ہے۔ تعلیمی میدان میں مسلمان کافی پیچھے ہیں، جہاں شرح خواندگی قومی اوسط سے کم ہے اور اعلیٰ تعلیم تک رسائی محدود ہے۔ معاشی بدحالی نے تو گویا مسلمانوں کا پیچھا ہی نہیں چھوڑا، جہاں آبادی کا بڑا حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے، روزگار کے مواقع ناکافی ہیں اور کاروباری صلاحیتیں محدود ہیں۔ سیاسی نمائندگی کا بحران بھی ایک اہم مسئلہ ہے، جہاں اسمبلی میں مسلمانوں کی نمائندگی ان کی آبادی کے تناسب سے کم ہے۔ سیاسی پارٹیاں ووٹ تو لیتی ہیں، مگر نمائندگی پوری نہیں دیتیں۔ سماجی انصاف کے فقدان نے بھی مسائل کو اور مشکل بنا دیا ہے، جہاں پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ مسائل، اقلیتی اسکیموں کا صحیح نفاذ نہ ہونا اور فرقہ وارانہ تناؤ کے واقعات نے مسلمانوں کی زندگی کے تمام پہلوئوں کو متاثر کیا ہے۔

تاریخی طور پر دیکھا جائے تو دور اندیشی کی کمی کے باعث مسلمانوں کو کئی بار سیاسی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ماضی میں مسلم ووٹوں کے تقسیم ہونے سے سیاسی طاقت کمزور پڑی ہے۔ مختلف جماعتوں میں بٹ جانے کے باعث مسلمانوں کی اجتماعی طاقت ضائع ہوتی رہی ہے۔ کبھی ایک جماعت کے جھانسے میں آنا تو کبھی دوسری کے وعدوں پر بھروسہ کرنا۔ان سب کے نتیجے میں حقیقی ترقی ممکن نہیں ہو سکی۔ قلیل المدتی مفادات پر توجہ نے بھی مسائل کو حل کرنے کے بجائے بڑھایا ہے، جہاں طویل المدتی ترقی پر توجہ دینے سے پائیدار ترقی ممکن نہیں ہو پاتی۔

2025 کے انتخابات میں مسلمانوں کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو ووٹر اتحاد کی تشکیل ضروری ہے، جہاں تمام مسلم ووٹروں کو متحد ہو کر فیصلہ کرنا چاہیے، کیونکہ تقسیم ہو کر ووٹ ڈالنے سے سیاسی اثر اندازی کم ہوتی ہے۔ دوسرا اہم پہلو امیدواروں کا جائزہ لینا ہے، جہاں ہر حلقے میں ایسے امیدوار کو ترجیح دینی چاہیے جو تعلیمی لحاظ سے قابل ہو، سماجی خدمت کا ریکارڈ رکھتا ہو، مسلم مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہو اور اخلاقی طور پر مضبوط ہو۔ تیسرا اہم قدم جماعتوں کے منشور کا تجزیہ کرنا ہے، جہاں تعلیمی ترقی کے منصوبے، روزگار کے مواقع، اقلیتی حقوق کے تحفظ کی ضمانت اور سماجی انصاف کے نظام کو پرکھنا ضروری ہے۔ چوتھا اہم نکتہ طویل المدتی مفادات کو ترجیح دینا ہے، جہاں صرف چند مراعات یا فوری فوائد کے بجائے طویل المدتی ترقی کے منصوبوں کو دیکھنا چاہیے۔

اس سلسلے میں کچھ عملی تجاویز پر غور کرنا ضروری ہے۔ سیاسی بیداری مہم چلانی چاہیے، جس میں ووٹر اتحاد کی تشکیل، سیاسی تعلیم کی مہم، اور نوجوانوں کی سیاسی شمولیت پر زور ہو۔ اجتماعی فیصلہ سازی کے عمل کو مضبوط بنانا ہوگا جس میں مقامی سطح پر مشاورتی میٹنگ، تمام امیدواروں کے انٹرویوز اور اجتماعی مفاد کو ترجیح دینے جیسے اقدامات شامل ہوں۔ احتساب کا نظام قائم کرنا بھی ضروری ہے، جہاں منتخب نمائندوں کی کارکردگی کا جائزہ، وعدوں کی تکمیل کا احتساب، اور مستقبل کے لیے رہنمائی جیسے پہلوؤں پر توجہ دی جائے۔ تعلیمی اور معاشی ترقی پر فوکس کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جس میں تعلیمی اداروں کا قیام، روزگار کے مواقع پیدا کرنا، اور کاروباری صلاحیتوں کی ترقی جیسے اقدامات شامل ہیں۔

مستقبل کی راہ متوازن نقطہ نظر اختیار کرنے سے ہی ہموار ہو سکتی ہے۔ مسلمانوں کو اپنے دینی اور دنیاوی مفادات میں توازن قائم کرنا ہوگا۔ ایک طرف اپنی مذہبی شناخت کو برقرار رکھنا ہے، تو دوسری طرف ترقی کی دوڑ میں شامل ہونا ہے۔ علاحدہ شناخت کے ساتھ ساتھ قومی دھارے میں شامل ہو کر ترقی کرنا بھی ضروری ہے۔ اقلیت ہونے کے باوجود ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ دنیا بدل رہی ہے اس لئے مسلمانوں کو جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنی ہوگی، کیونکہ صرف سیاسی بازیگری سے کام نہیں چلے گا۔

بہار کے مسلمانوں کے پاس 2025 کے انتخابات میں ایک سنہرا موقع ہے کہ وہ اپنی اجتماعی عقل کا استعمال کرتے ہوئے اپنا مستقبل سنواریں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ جذباتیت سے بالاتر ہو کر دور اندیشی سے کام لیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "اور ان کے معاملات میں باہمی مشورہ سے کام لیا کرو” (آل عمران: 159)۔ ہمیں اجتماعی مشورے سے فیصلہ کرنا چاہیے، اپنے ووٹ کی قدر و قیمت کو سمجھنا چاہیے اور ایسے نمائندوں کو منتخب کرنا چاہیے جو نہ صرف ہماری آواز بن سکیں بلکہ ہماری ترقی کے لیے مؤثر طریقے سے کام کر سکیں۔ یاد رکھیں، آج کا فیصلہ آنے والی نسلوں کا مستقبل طے کرے گا، اس لیے ہر ووٹ کو سوچ سمجھ کر ڈالنا چاہیے۔

Comments are closed.