مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
اے ایم یو کی پروفیسر نشاط افروز نے راجستھان اسٹیٹ پیتھالوجی کانفرنس میں لیکچر دیا
علی گڑھ، 22 اکتوبر: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ پیتھالوجی کی پروفیسر نشاط افروز نے جے پور میں منعقدہ ریاستی سطح کی پیتھالوجی کانفرنس میں ہڈیوں کے ٹیومر پر عالمی صحت تنظیم (ڈبلیو ایچ او) کی حالیہ اپ ڈیٹ موضوع پر ایک لیکچر دیا۔
یہ کانفرنس شعبہ پیتھالوجی، ایس ایم ایس میڈیکل کالج، جے پور نے انڈین ایسوسی ایشن آف پیتھالوجسٹس اینڈ مائیکرو بایولوجسٹس (آئی اے پی آئی) کے راجستھان اسٹیٹ چیپٹر کے زیرِ اہتمام منعقد کی۔
اپنے خطاب میں پروفیسر افروز نے بچوں اور بالغوں دونوں میں کارٹیلیجینس ہڈیوں کے ٹیومر کی درجہ بندی اور سمجھ کے حوالے سے عالمی صحت تنظیم کی تازہ ترین پیش رفت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے تشخیص کے عمل میں ریڈیولوجیکل، جینو ٹائپیکل اور فینو ٹائپیکل خصوصیات کے انضمام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ کس طرح ایک ملٹی ڈسپلینری طریقہ کار ہڈیوں کے پیچیدہ ٹیومرز کی زیادہ درست اور حتمی تشخیص میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
پروفیسر نشاط افروز نے ہڈیوں کے ٹیومر کی پیتھالوجی اور تشخیصی تکنیکوں میں ہونے والی حالیہ پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے طبی ماہرین کے درمیان تعاون اور مسلسل سیکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کی پروفیسر سائرہ مہناز نے بین الاقوامی کانفرنس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی طبی تعلیم پر اپنی تحقیق پیش کی
علی گڑھ، 22 اکتوبر: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کی پروفیسر سائرہ مہناز نے نوئیڈا انٹرنیشنل یونیورسٹی میں منعقدہ ”انٹرنیشنل کانفرنس آن ایڈوانسمنٹس اِن ڈیٹا، انفارمیشن اینڈ سسٹمز 2025“ میں ایک تحقیقی مقالہ پیش کیا۔
ڈاکٹر مہناز کے مقالے کا عنوان تھا ”میڈیکل فاؤنڈیشن کورس کا اے آئی اسسمنٹ: مکسڈ میتھڈ اسٹڈی“، جس میں انھوں نے جے این ایم سی کے ایم بی بی ایس،سال اوّل کے 150 طلبہ کے لئے ایک ہفتہ طویل فاؤنڈیشن کورس کا تجزیہ کیا۔ اس کا مقصد نئے میڈیکل طلبہ میں ابلاغ، ٹیم ورک، اخلاقیات اور تعلیمی تیاری کو مستحکم کرنا تھا۔ اس تحقیق میں اے آئی ٹولز کا استعمال کیا گیا جس سے طلبہ کو فیڈبیک، سیکھنے کے نتائج کا درست تجزیہ، اور نصاب کی تیاری میں ڈیٹا پر مبنی بہتری ممکن بنانے میں مدد ملی۔اس پیشکش نے بین الاقوامی مندوبین کے درمیان اس بات پر دلچسپ بحث کو جنم دیا کہ طبی تعلیم میں ہنر پر مبنی اور تعاملی طریقہ تدریس میں مصنوعی ذہانت کا کردار کس طرح تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے پیرا میڈیکل کالج میں ورلڈ اینستھیسیا ڈے منایا گیا
علی گڑھ، 22 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے پیرا میڈیکل کالج میں ”ورلڈ اینستھیسیا ڈے“ منایا گیا، جس میں صحت کی دیکھ بھال میں اینستھیسیا کے کردار کو اجاگر کرنے والی متعدد علمی و تخلیقی سرگرمیاں منعقد کی گئیں۔
کالج کے پرنسپل پروفیسر قاضی احسان علی نے مریضوں کی حفاظت اور سرجری کی کامیابی میں اینستھیسیا کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے طلبہ کے تیار کردہ تھری ڈی اناٹومیکل اور پروسیجرل ماڈلز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ حالیہ برسوں کی سب سے تخلیقی علمی نمائشوں میں سے ایک ہے۔
بیچلر اِن آپریشن تھیٹر ٹکنالوجی اور ایمرجنسی و ٹراما کیئر پروگرامز کی مینٹر ڈاکٹر ندا نواز نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ سفر میں مہارت، ہمدردی اور مسلسل سیکھنے کی عادات کو اپنائیں۔
تقریب میں طلبہ نے ڈراما، ڈبیٹ، کوئز اور پوسٹر سازی مقابلوں میں حصہ لیا۔ ”اینستھیسیا میں روبوٹکس کے کردار“ موضوع پر ڈبیٹ اور سرجیکل ٹیم ورک کو نمایاں کرنے والے ڈرامے نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کی۔
ڈاکٹر محسن اعجاز، ڈاکٹر محمد عامر، ڈاکٹر محمد عرفات، ڈاکٹر واصل حسن، مسٹر غفران جلیل اور ڈاکٹر انورادھا سنگھ، مختلف مقابلوں کے جج تھے۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ جراحت میں نظامِ حیدرآباد کے وارث کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب منعقد
علی گڑھ، 22 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے فیکلٹی آف یونانی میڈیسن کے شعبہ جراحت میں حیدرآباد کے ساتویں نظام جناب میر عثمان علی خاں کے پوتے اور پرنس حشم جاہ بہادر کے صاحبزادے جناب میر نجف علی خان کے اعزاز میں ایک پروقار استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔
مہمان خصوصی میر نجف علی خان نے اے ایم یو کی شاندار علمی و تہذیبی وراثت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ یونیورسٹی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔ وہ اور اُن کا کنبہ آئندہ بھی اس ادارے کی ترقیاتی سرگرمیوں میں اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔ ڈاکٹر سیمیں عثمانی نے شعبہ کی علمی و تحقیقی سرگرمیوں کا خاکہ پیش کیا۔
مہمانِ اعزازی، اے ایم یو سے فارغ التحصیل اور اس وقت راجستھان یونانی میڈیکل کالج کے شعبہ معالجات کے سربراہ پروفیسر نذر عباس نے نظامِ حیدرآباد کی اے ایم یو کے قیام و استحکام میں تاریخی خدمات پر روشنی ڈالی۔
ڈین، فیکلٹی آف یونانی میڈیسن پروفیسر سید محمد صفدر اشرف نے صدارتی خطاب کیا، جب کہ کالج کے پرنسپل پروفیسر بدرالدجیٰ خان نے بھی اپنے تاثرات پیش کیے۔
شعبہ جراحت کے چیئرمین پروفیسر تفسیر علی نے مہمانِ خصوصی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ انہیں ایسے معزز مہمان کی میزبانی کا موقع ملا جن کے آباء و اجداد نے اے ایم یو اور طبیہ کالج و اسپتال کے قیام و ارتقاء میں گراں قدر مالی و اخلاقی تعاون دیا۔ انہوں نے نظام خاندان کی علمی و فلاحی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بنارس ہندو یونیورسٹی سمیت کئی ممتاز تعلیمی و طبی اداروں کی سرپرستی کی۔
شعبہ کے سابق چیئرمین پروفیسر اقبال عزیز نے کلمات تشکر ادا کیے، جب کہ آرگنائزنگ سکریٹری ڈاکٹر محمد طارق نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ ڈاکٹر رابعہ ریاض نے سپاس نامہ پڑھ کر سنایا۔
تقریب میں فیکلٹی ممبران، محققین، طلبہ و عملہ سمیت ممتاز شخصیات بشمول ڈاکٹر سید احمد عباس،چانسلر، حلیمہ عزیز یونیورسٹی، منی پور، جناب خالد مسعود، سابق صدر، اے ایم یو طلبہ یونین، پروفیسر سید شاہ عالم،ڈائریکٹر، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسن، بنگلورو، ڈاکٹر سید عباس حیدر زیدی،ڈائریکٹر، ریجنل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسن، اور جناب توقیر رضا،سکریٹری، امامیہ سوسائٹی موجود تھے۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے فیکلٹی ممبر ڈاکٹر مہدی حیات شاہی، نیشنل اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز کے لائف ممبر منتخب
علی گڑھ، 22 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی فیکلٹی آف میڈیسن کے انٹرڈسپلینری برین ریسرچ سینٹر کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مہدی حیات شاہی کو ہندوستان کے ممتاز سائنسی ادارے نیشنل اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز (این اے ایم ایس) کا لائف ممبر منتخب کیا گیا ہے۔
یہ ایک قومی سطح کا ادارہ ہے جو میڈیکل سائنس کے میدان میں امتیاز کو فروغ دیتا ہے اور غیر معمولی علمی و تحقیقی خدمات انجام دینے والے ماہرین کو فیلوشپ اور اپنی رکنیت سے نوازتا ہے۔ ڈاکٹر شاہی کا لائف ممبر کے طور پر انتخاب، سال 2005 سے نیورو آنکولوجی (دماغی سرطان) کے میدان میں ان کی مسلسل تحقیق، جدت اور علمی خدمات کا اعتراف ہے۔ ان کی تحقیق دماغی کینسر کے مؤثر علاج اور اس سلسلہ میں نئی حکمت عملیوں کی دریافت پر مرکوز ہے۔
٭٭٭٭٭٭
شعبہ اردو، اے ایم یو میں سرسید تقریب کا انعقاد
علی گڑھ، 22 اکتوبر: ”سرسید احمد خاں کا اہم کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے قدیم و جدید خیالات اور لوگوں کے درمیان پل بنایا۔انھوں نے اس رمز کو پہچان لیا تھا کہ کسی قوم کی فلاح کا راستہ تعلیم سے ہو کر ہی گزرتا ہے۔غالبا ً یہی وجہ تھی کہ انھوں نے 1857 کی ناکام جنگ آزادی کے بعد،جب ملک کے عوام مایوسی اور نا امیدی کے دلدل میں پھنسے ہوئے تھے، تعلیم کی شمع روشن کی اور اس کے ذریعہ سے ملک وقوم کی ترقی کے راستے پیدا کیے“۔ان خیالات کا اظہار پروفیسر ٹی این ستھیسن،ڈین، فیکلٹی آف آرٹس،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے شعبہ اردو میں منعقدہ پروگرام میں اپنے صدارتی خطاب کے دوران کیا۔
یوم سرسید کی مناسبت سے منعقدہ اس پروگرام میں انھوں نے کہا کہ سرسید کے وژن اور مشن کو زندہ رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے اور اس کے لیے ہم اپنے اپنے دائرہ میں رہتے ہوئے اس روشنی کو نہ صرف استحکام بخشیں بلکہ اس کی لَو کو مزید تیز کرنے کی کوششیں کریں۔
صدر شعبہ اردو پروفیسر قمر الہدی فریدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سرسید تحریک کی معنویت وقت کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔انھوں نے سرسید کے مشہور زمانہ قول’ہندو ستان ایک دلہن ہے اور ہندو مسلم اس کی دو خوب صورت آنکھیں ہیں‘ کا حوالہ دیتے ہوئے عصر حاضر میں اس کی معنویت اور اہمیت کو اجاگر کیا۔انھوں نے کہا کہ انسانی زندگی میں دلہن سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز نہیں ہو سکتی، عورت جس وقت دلہن ہوتی ہے،وہ نہ صرف اپنی زندگی کے حسین ترین لمحات سے بلکہ تخلیق کے حوالہ سے بھی ایک منزل سے گزر رہی ہوتی ہے۔اسی طرح اگر ملک ہندوستان میں کسی قسم کا عیب راہ پا گیا تو یہ ایک اجتماعی خرابی ہوگی جس کا اثر سب کی زندگی پر پڑے گا۔
مہمان خصوصی پروفیسر طارق چھتاری نے سرسید کے خلوص،عزم،دور اندیشی اور حب الوطنی کے جذبہ کے حوالہ سے پرمغز گفتگو کی۔انھوں نے اپنے خطاب میں اس بات پر بھی اصرا ر کیا کہ سرسید کی بنیادی حیثیت ادیب کی تھی اور ان کی اس تحریک کو اول اول جن خصوصی لوگوں کا تعاون حاصل ہوا،وہ سب ادیب تھے۔
پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر خالد سیف اللہ نے پروگرام کی غرض و غایت،نیز اس کی تاریخ اور روایت پر روشنی ڈالی۔انھوں نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد یہ ہے کہ طلبہ سرسید کی تحریروں،ان کے خیالات وتصورات سے براہ راست استفادہ کر کے مستقبل کا لائحہ عمل ترتیب دے سکیں۔
پروگرام میں سرسید کے اقوال،سرسید کے مضامین،سرسید کے حوالہ سے اکابرین کی رائے کی قرات کے علاوہ متعدد مضامین و مقالات کے ذریعہ طلبہ و اساتذہ نے سرسید کو خراج عقیدت پیش کیا۔نظم’طلبہئ علی گڑھ کالج کے نام‘ اور افتخار راغب کی نظم’سرسید احمد خاں‘ بھی پیش کی گئی۔پروفیسر افتخار عالم کے مضمون’سرسید اور سیکولر ازم‘ اور پروفیسر عقیل احمد صدیقی کے مضمون”سرسید کا نظریہ علم‘ کی قرأت طلبا نے کی۔
شعبہ کے طالب علم محمد اعجاز کی نظامت میں ہونے والے اس پروگرام میں شکریہ کی رسم ڈاکٹر معید رشیدی نے ادا کی۔اس پروگرام میں شعبہ اردو کے طلبہ،ریسرچ اسکالرز اور اساتذہ کے علاوہ دیگر شعبوں کے اساتذہ وطلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
Comments are closed.