پہلے سوشیل سرویس یا پہلے سوشیل ریفارم؟
تمام سماجی اداروں کے لئے ایک چیلنج
ڈاکٹر علیم خان فلکی
1۔ وہ حقیقت جسے ہم ماننا نہیں چاہتے
سماجی فلاح (Social Welfare) سے کہیں زیادہ اہم سماجی اصلاح (Social Reform) ہے، مگر بدقسمتی سے ہماری زیادہ تر تنظیمیں فلاحی سرگرمیوں کی عادی ہوچکی ہیں۔ اپنے ضمیروں کی تسلّی کے لئے یہ ایک آسان ذریعہ ہے۔ امیروں سے چندہ وصول کرنا اور ضرورتمندوں پر خرچ کرنا اورتنظیم کا نام روشن کرنا۔ اور اصلاحِ معاشرہ کے نام پر محض جلسے کرکے ایسے علما و مشائخین کو بلانا جو خود ایسی شادیوں کو جائز کرنے کے لئے چور دروازے کھول کر دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسا فارمولہ ہے جو ہرشہر اور ہردیہات میں عام ہے۔
اسلام کی روح اس سرزمین پر عدل قائم کرنا ہے۔ عدل قائم کرنے کیلئے پاؤر کی ضرورت ہے۔ اور پاؤور کے حصول کیلئے عوامی طاقت یعنی Mass strength کی ضرورت ہے۔ آج کسی بھی تنظیم کے پاس عوامی طاقت نہیں ہے۔ عوامی طاقت پیدا کرنے کیلئے پہلے کوئی بہت ہی طاقتور سماجی یا سیاسیCall دینی پڑتی ہے۔ جیسے غریبی ہٹاؤ، بھرشٹااچار، بھارت جوڑو یاترا، وغیرہ۔ تحریک کی Call ایسی ہو جس سے ہر مسلمان ہر ہندو کا فائدہ ہو۔ آج تک ہندوستان کے مسلمان صرف اپنی قوم میں سماجی فلاح کے کام کرتے رہے، ہم نے آج تک کوئی ایسی سلیقے کی کال نہیں دی جسے ہر مسلمانوں کا ہر فرقہ اور ہندوؤں کی ہر ذات یہ کہے کہ یہ کال واقعی انسانیت کی کال ہے۔ ایک بار پاؤور ہاتھ آئے تو سوشیل ویلفیر کے بے شمار کام ہم خود بخود کرسکتے ہیں۔ لیکن ہماری تمام سوشیل سرویسس کی تنظیموں نے اصل کام کو چھوڑ کر غریبوں کی خدمت کے ثواب حاصل کرنے کو اصل مقصد بنالیا، جس کی وجہ سے سیاسی، سماجی اور معاشی طور پر پہت پیچھے رہ گئے۔ اللہ کی نبیﷺ کی سب سے بڑی سنّت یہ تھی کہ آپ ﷺ نے دنیا سے پردہ فرمانے سے پہلے ایک پاوؤرہمارے ہاتھ میں دیا۔ نہ کہ ابو جہل ابولہب کی حکومت میں اپنی نمازیں پڑھنے اور غریبوں کی خدمت کرلینے کی تعلیم دی۔ پیٹ پر پتھربندھوا کر پہلے خندقیں کھودیں، نہ کہ پہلے لوگوں کی بھوک اور نوکریوں کا انتظام کیا۔ کبھی جنگِ بدر یا احد کے شہیدوں کی لڑکیوں کی شادیوں اور بچوں کی تعلیم کیلئے چندے نہیں کئے۔ پہلے قوم کی طاقت قائم کی، پھر بیت المال۔ آج پاوؤر تک رسائی حاصل کرنے کیلئے شادیوں کو آسان کرنے کے کی کال سے زیادہ طاقتور کال اور کوئی نہیں۔ یہ کال صرف پہلا قدم ہے۔باقی کال ہم انشاللہ بعد میں بتائیں گے۔
2۔ سماجی تنظیمیں ناکام کیوں؟
آج ہر تنظیم فخر سے کہتی ہیکہ ”ہم غریبوں کو تعلیم دیتے ہیں، نوکریاں دلاتے ہیں، علاج کرواتے ہیں وغیرہ“۔ میں خود بھی سالوں تک یہی کرتا رہا ہوں۔ سچ یہ ہے کہ ہزاروں میں ایک بھی ایسا شخص نہیں دیکھا جو ہم سے فائدہ اٹھا کر کبھی پلٹ کرآئے اور فلاحی کام کیلئے اپنی جیب سے کچھ مال یا اپنا وقت قوم کیلئے آفر کرے۔ ہماری تنظیمیں اور مالدار افراد برسوں سے ضرورتمندوں کی مدد کر رہے ہیں، مگر غربت کی جڑیعنی اِن شادیوں کو ختم نہیں کر پائے۔ حقیقت تویہ ہیکہ ہم ریفارمس کرنا نہیں چاہتیبلکہ زیادہ سے زیادہ محتاج پیدا کرناچاہتے ہیں۔ جن کی ضرورتوں کا کنواں کبھی بھر ہی نہیں سکتا۔ شادیوں کا یہ شیطانی چکر — شادیوں کے اخراجات? قرض? جہیز? قرضے? طلاق? مایوسی —ہماری قوم کو اس تیزی سے ختم کر رہا ہے جتنی تیزی سے کوئی فاشسٹ بلڈوزر بھی نہیں کر سکتا۔ اس سے بڑا ثبوت اورکیا چاہئے کہ مسلمان لڑکیاں دوسری قوموں میں جا کر پناہ لے رہی ہیں، اور دلہنوں کے بھائی بہن کی شادی پرکنگال ہوکرحقیر پیشیاپنارہے ہیں؟ کیا آپ واقف نہیں؟
3۔ اصل دشمن — ہماری شادیاں۔ نہ کہ سیاستدان
آج مسلم سماج کے لیے سب سے بڑا خطرہ آر ایس ایس، بی جے پی، میڈیا یا عدالتیں نہیں، بلکہ ہمارا اپنا غیر اسلامی شادیوں کا سسٹم ہے۔ یہی ایک ادارہ ہے جس نے ہزاروں برائیاں جنم دی ہیں جیسے:غربت اور بیروزگاری، اخلاقی زوال اور فحاشی، لوگ بیٹی کی شادی کیلئے حرام یا حلال کی پروا کئے بغیرکمائی کرنے پرمجبور ہیں، تاخیرِ نکاح سے گناہ اور ارتداد،طلاق، خلع، اور ڈومیسٹک وائلنس بڑھتا جارہا ہے،مہر کو دفن کر دیا گیا ہے، جہیز اوربارات کا کھانا مسلط کر دیاگیاہے،نبی ﷺ نے بالغ ہونے کے بعد پہلے نکاح کا حکم دیا تھا، مگر ہم نے ترتیب بدل دی — اب کہتے ہیں“پہلے تعلیم، کیریئر، اور پھر نکاح“۔ نئی نسل کی بربادی کی اصل جڑیہی ہے۔ شادی سے پہلے کونسلنگ نہیں ہونیکی وجہ سے جھگڑوں میں رات دن اضافہ ہورہا ہے۔یہ کینسر صرف تقریروں یا خیرات سے ختم نہیں ہوسکتا —اس کے لیے ایک بنیادی انقلابی تحریک درکار ہے جو نکاح کو نبی ﷺ کے طریقے کے مطابق نافذ کرنیکیلئے ایک جنگی مہم پر کام کرے۔
4۔ منصوبہ — اب وعظ و تقریر کی نہیں ایک انقلابی مہم کی ضرورت ہے
ذیل میں کسی چندے یا خیرات کی اپیل نہیں بلکہ ایک منظم، اصولی جدوجہد کی تجویز پیش خدمت ہے۔ یہ Ten Commandments ہی سمجھ لیجئے جن پر فوری عمل آوری ہونی لازمی ہے۔
1۔ خلافِ سنّت شادیوں کا بائیکاٹ: گھرگھرجاکر یہ عہد لیاجائیگا کہ ہم مشرکانہ رسومات والی شادیوں کا دعوت نامہ قبول نہیں کرینگے۔
2۔ ایک کور ٹیم کی تشکیل: چار مرد و خواتین کی ٹیم کو گھر گھر جاکر سمجھانے کی تربیت دی جائیگی
3۔ سوشیل میڈیا اور دوسرے طریقوں سے تمام مسلمانوں کو بیدار کیا جائیگا۔
4.۔ -Pre Marriage Counselling : طلاق و خلع اور جھگڑوں کو ختم کرنے کونسلرز تیار کئے جائیں گے
5.۔ علما و مشائخ کو شامل کرنا: علما رکاوٹ بھی ہیں اور مددگار بھی۔ ہم خیال علما کی سرپرستی حاصل کرنے کی کوشش کی جائیگی۔
6.۔ سنت پر شادی کرنے والوں کو اعزاز:”مرد ہو تو ایسا“ یا ”ساس ہو تو ایسی“ ایوارڈ کے ذریعے تہنیت پیش کی جائیگی۔
7۔ سالانہ ایک عالیشان جلسہ: ہندوستان کی نامور شخصیات کو بلاکر بائیکاٹ مشن کو عام کرنے کا اہتمام کیا جائیگا۔
8۔ بہوجن کمیونٹی تک اسلام پہنچانا: جہیز مہم کے بہانے یہ پہلا قدم ہوگا۔ کیونکہ وہ قوم جہیز کے ہاتھوں صدیوں سے ہم سے زیادہ پریشان ہے۔
9۔ Mass strength پیدا کرنا: کسی بھی ملّی یا انقلابی تحریک کے لئے دور دور تک ہمارے پاس عوامی طاقت نہیں۔ یہ پیدا کی جائیگی۔
10۔فل ٹائم کوآرڈینیٹر کا تقرر: ایک پرعزم، مخلص، اور باصلاحیت شخص کو اس تحریک کی مکمل ذمہ داری دی جائے۔
5۔ اب وقت سوشیل سرویسس کا نہیں سوشیل ریفارم یعنی سوشیل انقلاب کا ہے۔
یہ مشن سب سے زیادہ کیوں ضروری ہے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ لوگ یہ سمجھے بغیر ایہ اعتراض کرتے ہیں بلکہ مذاق بھی اڑاتے ہیں کہ آپ کیا جہیز جہیز کی رٹ لگائے ہوئے ہیں، اصل کام تو فلاں فلاں ہے۔ یاد رکھئے، آپ اپنی جیب سے یا اپنی تنظیم کی مدد سے ایک دو خاندان کا وقتی طور پر فائدہ کرسکتے ہیں، لیکن جس مشن کی ہم آپ کو دعوت دے رہے ہیں، اس سے 25 کروڑ مسلمانوں اور 85 کروڑ غیرمسلموں میں ایک اسلامی انقلاب پیدا ہوسکتا ہے۔ ایک لڑکی کی شادی سے آج جو پورا خاندان متاثّر ہوتا ہے، آپ اس شادی کو آسان کرکے پورے خاندان کی معاشی اور اخلاقی حالت کو سنوار سکتے ہیں۔ میں تمام تنظیمی سربراہوں سے التماس کرتا ہوں کہ حقیقت کو سمجھیں: آپ سمجھتے ہیں کہ مالداروں سے چندہ لے کر غریبوں پر خرچ کرنا اسلام کی اصل خدمت ہے۔ یہ غلط فہمی ہے۔
آپ کروڑوں خرچ کرلیں — تعلیم، روزگار یا علاج پر — ثواب ضرور ملے گا، مگر انقلاب نہیں آئے گا۔ انقلاب کیلئے اُس سنِّت نبویﷺ کوزندہ کرنا ہوگا جس کو تھامنا رسول اللہﷺ ہی کے بقول ہاتھوں میں انگارہ تھامنے کے برابرہے۔ غور کیجئے منگنی، سانچق، سہرے کس کی سنت ہے؟ یہ مہارانی جودھابھائی کی سنّت ہے۔ جہیز اور جوڑیکی رقم رام سیتا کی سنّت ہے۔ شادی کے دن کا کھانا بھگوان شیوا پاروتی کی سنّت ہے۔ ہمیں ان غیروں کی لعنتوں کو چھوڑ کر نبیﷺ،اہلِ بیت اورتمام صحابہؓ کے نکاح کی سّنت کونافذ کرنا ہے۔ یہی وہ رسمیں ہیں جن کی تکمیل کیلئے معاشرہ غربت و افلاس کی پستیوں میں گرتا چلاجارہا ہے۔ اور آپ جانتے ہیں کہ غریبی تمام برائیوں کی ماں ہے
جس طرح صلاح الدین ایوبیؒ نے بیت المقدس کو آزاد کیا، ہمیں آج ذہنوں اور گھروں کو آزاد کرنا ہے — رسومات کی غلامی سے، سماجی دباؤ کی بت پرستی سے اور دولت برباد کرنے کی لت سے۔بہنوں کی شادیوں کی وجہ سے کنگال ہوجانے والے بھائیوں کو حقیرپیشوں سے آزاد کروانا ہے۔
6.۔ دعوتِ عمل (Call to Action)
خون آنکھوں کے چراغوں میں سجالو ورنہ تیرگی شہر سے رخصت نہیں ہونے والی
اب کے جو فیصلہ ہوگا وہ یہیں پر ہوگا ہم سے اب دوسری ہجرت نہیں ہونے والی
– راحت اندوری
یہ چندے کی اپیل نہیں، یہ جہاد کی دعوت ہے۔ آپ پرچندہ دینا فرض نہیں لیکن انقلاب کا ساتھ دینا فرض ہے۔ کیونکہ: ”جو سماجی ظلم کے خلاف کھڑا ہوتا ہے، وہ اللہ کے نزدیک اُس شخص سے زیادہ محبوب ہے جو ہزار مسجدیں بنائے۔“
صرف پانچ سال ساتھ دیجئے۔ پھر دیکھئے، وقت اور مال کے ساتھ ہماری منصوبہ بندی کو لے کر بڑھئے، انشااللہ آپ کا شہرپورے ملک میں جہیز فری، سنّت پر مبنی نکاح کا ماڈل بن جائے گا۔ تاریخ یاد رکھے گی کہ آپ نے صرف غریبوں کی مدد نہیں کی بلکہ ایک پوری نسل کو ذلت سے آزاد کیا۔ پھر آپ دیکھیں گے کہ دوسری قوموں کی لڑکیاں آپ کی قوم کی طرف آئیں گی، نہ کہ آپ کی قوم کی لڑکیاں اُن کے پاس بھاگیں گی۔
Total Expenditure: 10 Lakh per annum
آخری نوٹ: اگر آپ اس انقلابی تحریک کے لئے دس لاکھ سالانہ خرچ کرنے کا عزم کرسکتے ہیں تو آپ کا شہر ایک مثالی شہر بن سکتا ہے۔ ورنہ محتاجوں کی مدد کرنے والے سوشیل ویلفیر کے کام جاری رکھیں گے تو آج کے پانچ سو یا ہزار محتاج دس سال بعد لاکھوں میں ہوں گے۔
ڈاکٹر علیم خان فلکی
صدر، سوشیو ریفارمز سوسائٹی آف انڈیا
9642571721
Comments are closed.