کیا حضرت محمد ﷺ مخلوقات میں سب سے پہلے پیدا کیے گئے؟
رفیع الدین فاروقی
حیدرآباد ۔ الھند
کیا حضرت محمد ﷺ پہلی مخلوق (firstborn of creation) ہیں؟
یہ روایت قرآنِ کریم کی تعلیمات کے خلاف ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰٓ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ ۖ فَمَن كَانَ يَرْجُوا۟ لِقَآءَ رَبِّهِۦ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَـٰلِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِۦٓ أَحَدًۢا
(سورۃ الکہف: 110)
ترجمہ:
“(اے نبی ﷺ) کہہ دیجیے: میں تو تمہاری ہی طرح کا ایک انسان ہوں، البتہ مجھ پر وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ پس جو کوئی اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہو، اسے نیک عمل کرنا چاہیے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔”
یعنی قرآن واضح طور پر بتاتا ہے کہ نبی ﷺ ایک ہماری طرح بشر ہیں — اللہ کے منتخب بندے اور رسول — لیکن مخلوقات میں سب سے پہلے پیدا کی گئی ہستی نہیں۔
اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ سب کچھ اللہ کی قدرت سے پیدا ہوا اور نبی ﷺ کو نبوت و رسالت کے لیے منتخب کیا گیا، نہ کہ وہ ازل سے مخلوق کے طور پر موجود تھے۔ اور یہ دنیا آپ ﷺ کے پردہ کرنے کے بعد ختم ہوجانا چاہیے۔ جس کیلے یہ دنیا بنائی تھی جب وہ دنیا میں نہیں ہیں تو دنیا کا رہنا بے مقصد ہے۔ کیونکے پھر دنیا آپ ﷺ کیلے بنانے کا جواز ہی ختم ہوجاتا ہے۔
سوالات اٹھانا تعلیمی آزادی، تنقیدی سوچ، فکری ترقی، ایمانداری اور سوچ کو چیلنج کرنے اور آگے بڑھنے کے عمل کی پہلی سیڑھی ہے۔ یہ ہمیں کرنا چاہیے۔ لوگ کرتے بھی ہیں۔ یہ وہ بات ہے جو میں ہمیشہ طلبہ سے کہتا آیا ہوں اور اکثر ساتھیوں اور دوستوں کے ساتھ زیرِ بحث لاتا ہوں۔ اسی جذبے کے ساتھ میں نے خلوص کے ساتھ کچھ سوالات اٹھائے اور عیدِ میلاد کے بارے میں بہت سی کتابیں اور مواد پڑھے۔ بجائے اس کے کہ مجھے سوچ سمجھ کر جواب دیا جائے، بعض لوگوں نے توہین آمیز انداز اپنایا۔ انہوں نے سوالات کا مخلصانہ جواب دینے کے بجائے اپنے موقف کی توجیہہ کے لیے کہانیاں گھڑیں اور حقائق کو مسخ کیا۔ جب میں یہ سوالات علما سے کرتا ہوں تو وہ ڈرا دیتے ہیں۔ کے لوگ تم کو مرتد۔ کافر۔ مشرک۔ زندیق ۔ بے دین۔ قادیانی کہنا شروع کردیں گے۔
بچپن میں میں نے نور نامہ پڑھا تھا جس نے مجھے الجھن میں ڈال دیا، اور جوانی میں میں نے اسے ایک طرف رکھ دیا۔ بعد میں مجھے ایک حدیث ملی جس میں کہا جاتا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "مجھے اس دنیا کی تخلیق سے پہلے پیدا کیا گیا تھا۔میرے پڑھنے میں کچھ ویب سائیٹس آئیں۔ میں نے عیسائی اور یہودی ذرائع اور چند مقالات کا بھی مطالعہ کیا اور پایا کہ ان سب میں تخلیق سے پہلے بعض مقدس ہستیوں یا امور کے وجود کا ذکر ملتا ہے۔ بعض مسلم علماء نے اس حدیث کو رد کیا اور اس کی سند یا معنی پر سوال اٹھائے، جبکہ کچھ نے کہا کہ اس کی تاویل یا تشریح غلط ہے اور یہ اسلام کے بنیادی عقائد کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی۔
اسلامی روایت سے آگے دیکھیں تو قدیم مذاہب میں بھی مشابہ بیانیے ملتے ہیں۔ مصری مذہب یہ بتاتا ہے کہ ایٹم تخلیق سے پہلے ازلی پانیوں میں موجود تھا اور اس نے اپنی کلام سے دنیا کو وجود بخشا۔ اسی طرح مصر کے مَاٹ (Maat) کا تصور اور میسوپوٹامیا کی داستان انوما ایلیش میں بھی آسمان و زمین کے بننے سے پہلے دیوتاؤں کے وجود کا ذکر ہے جو پھر دنیا کو تشکیل دیتے ہیں۔ زرتشتی مذہب میں اہورا مزدا کو ازل سے موجود مانا جاتا ہے، جس نے تخلیق کا مکمل منصوبہ پہلے سے طے کیا، جس میں ساوشیانت کے آنے کا تصور بھی شامل تھا۔ دنیا کو اچھائی اور برائی کے درمیان ایک محاذِ کار سمجھا گیا۔
ابراہیمی مذاہب کی طرف آئیں تو یہودیت میں کہا گیا ہے کہ سات چیزیں دنیا سے پہلے "پیدا” کی گئیں: تورات، عرشِ کبریا، توبہ، جنت، جہنم، ہیکل اور مسیحا کا نام (Pesachim 54a). یہ چیزیں جسمانی طور پر پیدا نہیں کی گئیں بلکہ خدا کے منصوبے میں تخلیق سے پہلے رکھی گئیں۔
مسیحیت میں انجیلِ یوحنا 1:1–3 میں آیا ہے:
"ابتداء میں کلام تھا، اور کلام خدا کے ساتھ تھا، اور کلام خدا تھا۔ وہ ابتدا میں خدا کے ساتھ تھا۔ سب چیزیں اسی کے ذریعے پیدا ہوئیں…”عیسائی اس "کلام” (یونانی: Logos) کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے تعبیر کرتے ہیں۔ یوحنا 17:5 میں حضرت عیسیٰ فرماتے ہیں:”اب، اے باپ! مجھے اس جلال میں عزت دے جو میرے پاس تیرے ساتھ دنیا کے بننے سے پہلے تھی۔”یہ آیت عیسائی عقیدے میں عیسیٰ کے قبل ازِ زمین وجود کی بنیاد ہے۔ جب ہم نور نامہ اور بعض احادیث پڑھتے ہیں تو ہمیں ملتی جلتی بات نظر آتی ہے: کہ نبی ﷺ کی تخلیق بھی اللہ کے ازلی منصوبے کا حصہ تھی جو دنیا کے آغاذ سے قبل تھا۔
ان تمام متون اور روایات سے جو میں نے سمجھا وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کے لیے ایک واضح منصوبہ رکھا تھا۔ اس نے دنیا کو انسان اور شیطانی قوتوں کے درمیان ایک محاذِ کار بنایا، اچھائی اور برائی کے بیچ ایک کشمکش۔ اس منصوبے کا مقصد تھا کہ اللہ لوگوں کی ہدایت کے لیے انبیاء اور رسول بھیجے تاکہ وہ سچائی، راستبازی اور نیک اعمال کی طرف بلائیں۔ تمام انبیاء نے اپنے اپنے ادوار میں دیانتداری سے زندگی گزاری، اپنی ذمے داریاں پوری کیں اور پیغام سچائی کے ساتھ پہنچایا۔
کچھ علماء نے اس موضوع پر بعض احادیث کو رد کیا اور ان کی سند یا تشریح پر شک کیا، جب کہ کچھ نے تعبیرات کو غلط قرار دیا۔ میں خود عالم نہیں ہوں کہ ان اختلافات پر فیصلہ کروں۔ میں ایک طالب علم کی حیثیت سے واضح رہنمائی اور اہلِ علم کی ہدایات چاہتا ہوں۔
قرآن ہمیں حتمی رہنمائی فراہم کرتا ہے:
"رسول اس پر ایمان لایا جو اس کے رب کی طرف سے اس پر نازل ہوا اور ایمان والوں نے بھی؛ سب نے اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا۔ ہم اپنے رب کے کسی رسول میں فرق نہیں کرتے۔” (سورہ البقرہ 2:285)۔۔۔یہاں پیارے نبی ﷺ کے ساتھ ساتھ اہل ایمان کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ کیا ہم فرق نہیں کرتے۔ کیا ہمارا عمل قران کے برعکس نہیں ہے۔
اور قرآن میں یہ بھی ہے:
"ان رسولوں میں سے کچھ کو ہم نے کچھ فضیلت دی۔ کچھ سے اللہ نے کلام فرمایا اور کچھ کو درجات میں بلند کیا…” (سورہ البقرہ 2:253)۔۔۔۔
یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایمان اور صداقت کے اعتبار سے تمام انبیاء برابر ہیں، مگر اللہ نے بعض کو مخصوص نعمات یا امتیازات دیے ہیں۔ مثلاً حضرت آدم علیہ السلام بغیر والدین کے پیدا کیے گئے بنی نوع انسان کا باپ بنایا۔ حضرت نوح علیہ السلام کو طوفان سے نجات ملی۔ حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نجات ملی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ سے نجات ملی۔ آپ نے کعبہ اللہ کو بنایا۔ حج کے بیشتر احکامات ابراھیم علیہ السلام کی پیروی ہے۔پیارے نبی ﷺ کو قران میں کہا گیا کے وہ ابراھیم علیہ السلام کو فالو کریں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اللہ نے براہِ راست کلام فرمایا اور ان کی لاٹھی نے سمندر کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنا باپ کے پیدا فرمایا۔ آپ کو یہ وصف دیا کے اللہ کے اذن سے مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت عطا ہوئی۔ اور حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی اور رسول ہونے کا شرف ملا، یعنی خاتم النبیین۔
اگر یہ دنیا صرف حضرت محمد ﷺ کے لئے پیدا کی گئی ہوتی اور ان کا مشن مکمل تھا، تو منطقی طور پر ان کے دنیا سے رخصت کے بعد دنیا کا باقی رہنا بے معنی ہوتا۔ لیکن دنیا جاری ہے، اس کا مطلب ہے کہ اللہ کا منصوبہ مختلف اور مسلسل ہے۔ دنیا مزید ارتقا پذیر رہے گی، مگر کوئی نیا نبی یا رسول نہیں آئے گا۔ قرآن نے اس بات کو واضح اور قطعی طور پر بیان کیا:
"محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔” (سورہ الأحزاب 33:40)
اب الہامی پیغام پہنچانے کی ذمے داری علماء، مؤمنین اور بنی آدم کے نتیجتہ ہم سب پر ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "بلغوا عني ولو آية” اس کا مفہوم ہےکے اگر ایک آیت بھی تم تک پہونچی ہے تو آگے پہنچادو۔ یہ اسی روح کا اظہار ہے کہ ہر مومن کو حق پہنچانا، نیکی کا امر کرنا اور برائی سے روکنا چاہیے۔ یہی اس دنیا کا حقیقی مقصد ہے: اعمالِ صالحہ کرنا اور پیغمبروں کی نیک خصوصیات کو اپنی زندگی میں اپنانا۔
بہترین طریقہ یہی ہے کہ ہم انبیاء کی صفات اور اوصاف اپنی زندگیوں میں اپنا لیں۔ جیسا کہ حاتم الاسم نے خوب سمجھا کہ جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے ساتھ کچھ نہیں جاتا، سوائے اس کے اعمال کے۔ اس حق اور سچ کا ہم زندگی میں خوب دیکھتے ہیں اور مشاہدہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالی کا واعدہ بھی ہے جو عملو صالح کرے گا اسکو اس دنیا میں خلیفہ بھی بناوں گا اور جنت بھی دے گا۔ صدق اللہ العظیم ۔ اس پر سنجیدگی سے غور کریں۔ میں مخلصانہ درخواست کرتا ہوں کہ علماء اس تحریر کو پڑھیں اور مجھے اپنی علم و بصیرت سے رہنمائی فراہم کریں۔
رفیع الدین فاروقی
حیدرآباد ۔ الھند
Comments are closed.