انکاؤنٹرس۔۔۔فرضی یا حقیقی؟
ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز
9395381226
تلنگانہ کے نظام آباد میں ایک عادی مجرم ’ریاض‘ کے ہاتھوں ایک پولیس کانسٹیبل پرمود کا قتل اور پولیس انکانٹر میں ریاض کی ہلاکت ان دنوں نہ صرف تلنگانہ بلکہ پورے ملک میں موضوع بحث ہے۔ ایک طرف ریاض کی ہلاکت پر اخباری اطلاعات کے مطابق نظام آباد میں جشن منایا گیا۔ لوگوں نے سکون کی سانس لی اور دوسری طرف بعض گوشوں سے پولیس انکاؤنٹر پر سوال اٹھائے گئے۔ تلنگانہ کمیشن برائے انسانی حقوق نے ڈائرکٹر جنرل پولیس مسٹر شیوا دھر ریڈی کو احکام جاری کئے کہ وہ ریاض کی ہلاکت کی تحقیقات کروائیں۔ جب کبھی انکاؤنٹرکے بارے میں یہ خبر آتی ہے تو اکثر فلموں کے مناظر تصور میں آجاتے ہیں جیسے فلم ’رئیس‘ میں نوازالدین صدیقی کے ہاتھوں شاہ رخ خان کا انکاؤنٹر، چاندنی بار میں تبو کے فلمی شوہر پوٹیا ساونتھ(اتل کل کرنی) کی ہلاکت قابل ذکر ہے۔ عوام بعض خطرناک مجرمین کی انکاؤنٹر میں ہلاکت پر راحت کی سانس لیتے ہیں اور مسرت کا اظہار کرتے ہیں البتہ انسانی حقوق کی تحفظ کی تنظیمیں ان انکاؤنٹرس پر سوال اٹھاتی ہیں اور انہیں فرضی قرار دے کر تحقیقات کا مطالبہ کرتی ہیں، یہ اور بات ہے کہ ایسا بہت کم ہوا ہے کہ انکاؤنٹر فرضی ثابت ہونے کے باوجود بھی خاطی عہدیداروں کو کسی قسم کی سزا ملی ہو کیونکہ اکثر ججس بدل دیئے جاتے ہیں یا پھر تحقیقاتی عمل اس قدر سست ہوتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ذہنوں سے محو ہو جاتا ہے۔ ریاض کے ہاتھوں کانسٹیبل پرمود کمار کی موت قابل مذمت اور افسوسناک ہے۔اس کی گرفتاری بروقت اقدام تھا ورنہ یہ واقعہ فرقہ وارانہ فسادات میں بھی بدل سکتا تھا۔ البتہ انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے تنقید اور تحقیق کا مطالبہ اور خود این ایچ آر سی کی ڈی جی پی کو ہدایت نے بہت سے اندیشوں کو جنم دیا ہے۔متحدہ آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں انکاؤنٹرس کی تاریخ بڑی طویل ہے۔ حالیہ عرصے کا جائزہ لیا جائے تو 2008 میں تین ایسے افراد کو انکاؤنٹر میں ہلاک کردیا گیا تھا جنہوں نے انجینئرنگ کے 2طلبہ پر ایسڈ پھینکا تھا۔ اس موقع پر فوری انصاف کی ستائش کرتے ہوئے پولیس کو خراج تحسین پیش کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی انسانی حقوق کے تحفظ کے علمبردار تنظیموں نے تنقید کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ اپریل 2015 میں وقار الدین اور اس کے چار ساتھیوں کو ضلع نلگنڈہ میں آلیر کے مقام پر پولیس نے سیلف ڈیفنس کے نام پر گولی مار دی تھی۔ پولیس نے بتایا تھا کہ ہتکڑی پہنے ہوئے ملزمین جن کے پیروں میں بیڑیاں بھی تھیں ہتھیار چھیننے کے کوشش بھی کی تھی۔ جس کی وجہ سے انہیں گولی چلانی پڑی۔اس پر کافی ہنگامہ ہوا، باقاعدہ تحقیقاتی کمیشن مقرر کیا گیا جس نے انکاؤنٹر کو فرضی قرار دیا اور خاطی عہدیداروں کی کاروائی کی ہدایت دی تھی۔ ابھی تک اس میں کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہوئی اور شاید ہوگی بھی نہیں۔ 2019 ء میں ضلع رنگا ریڈی میں ایک ویٹر نری لیڈی ڈاکٹر کی چار نوجوانوں کی جانب سے اجتماعی عصمت ریزی کے بدترین سانحہ کے بعد پولیس ان ملزمین کو مقام واردات پر لے گئی جہاں ان کا انکاؤنٹر ہوگیا۔ بتایا گیا کہ ان ملزمین نے پولیس پر حملہ کرنے اور ہتھیار چھیننے کی کوشش کی جس پر یہ کاروائی کی گئی۔ اس موقع پر مقامی عوام نے جشن منایا۔ پولیس عہدیداروں پر پھول نچھاور کئے البتہ مختلف گوشوں سے بڑی تنقید ہوئی اور اس کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔2016 میں بدنام زمانہ مجرم نعیم کو کو بھی انکاؤنٹر میں مار دیا گیا۔ نعیم نے 1993میں آئی پی ایس آفیسر ویاس کو لال بہادر اسٹیڈیم میں گولی ماردی تھی۔ خطرناک مجرم بن گیا تھا اور ایک اطلاع کے مطابق بعد یہ پولیس کا مخبر بن گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ سہراب الدین شیخ انکاؤنٹر معاملے میں ان کے پاس بہت ساری معلومات تھیں، یہ سی بی آئی کو مطلوب تھا۔ کہا جاتا ہے کہ کئی سیاسی قائدین کے راز اس کے پاس تھے۔ ویسے انکاؤنٹرس کی تاریخ بڑی طویل ہے۔ برٹش راج نے اسے اپنے باغیوں کو کچلنے کے لئے استعمال کیا تھا۔مگر آزادی کے بعد بھی یہ سلسلہ رکا نہیں‘ نیکسلائٹس خاص طور پر ماؤ نوازوں کے خلاف کافی انکاؤنٹرس ہوئے۔ 1960ء کی دہائی میں ان گنت افراد جن میں زیادہ تر نکسلائٹس شامل ہے۔ انکاؤنٹرس میں ہلاک ہوئے سیول لبریٹیز کمیٹی کی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایمرجنسی کے دوران1975 اور 1977 کے دوران کم از کم 300 نکسلائٹس کو ہلاک کیا گیا اور کئی سیاسی مخالفین کو شکار بنایا گیا۔ 1980 اور 1990 کی دہائی میں سی پی آئی۔ایم ایل کے کمیٹی ممبر پرسیا رویندر ریڈی کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کے لئے پولیس جیب میں لے جایا گیا مگر ان کے پیش ہونے سے پہلے ہی انہیں گولی مار دی گئی۔1985 میں نرساپور میں بی بھوپتی ریڈی اور کے مارپا انکاؤنٹر میں ہلاک ہوگئے۔ اگست 1980میں اڑیشہ میں آندھرا پردیش پولیس کے انکاؤنٹر میں 13 نکسلائٹس مارے گئے۔ 1999 میں پیپلس گروپ کے تین ارکان انکاؤنٹر کا شکار ہوئے۔ اگست 2013ء میں 8 افراد کو نکسلاٹس ہونے کا الزام عائد کرکے انکاؤنٹر کیا گیا۔ جون 2015 میں تلنگانہ چھتیس گڑھ سرحد پر 19 سالہ ویویک اور دو خواتین کو گولی مار دی گئی۔ایک طرف تحقیقاتی کمیشن قائم ہوتے ہیں اور دوسری طرف فرضی انکاؤنٹر ثابت ہونے کے بعد بھی خاطی عہدیداروں کو ترقی اور سرکاری اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔
1990 کے بعد ممبئی کے انڈر ورلڈ کے خلاف بڑے پیمانے پر انکاؤنٹرس ہوئے اور لگ بھگ 1200 افراد انکاؤنٹرس میں ہلاک ہوئے۔ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق 2000 سے 2017 تک 1782 اور 2016 سے 2022 تک 1813 انکاؤنٹرس ہلاکتوں کا ریکارڈ ہے۔ اس وقت اتر پردیش، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ پولیس انکاؤنٹرس میں سر فہرست ہے۔ اترپردیش میں یوگی ادتیہ ناتھ کا دور تاریخ کا بدترین اور سیاہ باب ہے۔ 2017 سے 2025 تک 15726 پولیس انکاؤنٹرس کئے گئے جن میں 256 خطرناک مجرمین ہلاک ہوئے اور 10324 افراد پولیس کی گولیوں سے زخمی ہوئے، ان میں سے 9467 کے پیروں میں گولی ماری گئی۔ پولیس کی حراست میں عتیق احمد اور ان کی بھائی کو گولی مارکر ہلاک کردیا گیا تھا اسے بھی انکاؤنٹر کا ہی ایک حصہ سمجھا جاسکتا ہے۔یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی کاروائی کا زیادہ تر شکار مسلمان ہے۔ بلڈوزرس کے ذریعہ مسلم مکانوں کو مسمار کرنے کی کاروائی کو انکاؤنٹر سے کم نہیں کہا جاسکتا کیونکہ کسی کو پل پل مارنا ہوتو اس کی معیشت تباہ کردی جاتی ہے اور اس کے سر سے چھت چھین لی جاتی ہے۔ آدتیہ ناتھ کوئی دودھ دھلے نہیں ہیں۔ ویسے جب اقتدار سے محروم ہوں گے تب ان کے خلاف انسانی حقوق کی پامالی، فرضی انکاؤنٹرس میں ہلاکتوں کی ذمہ دار قرار دیتے ہوئے قانونی کاروائی کرکے ان کے دور اقتدار کے ہر ایک ظلم کا بدلہ لیا جاسکتا ہے۔اقتدار ہمیشہ نہیں رہتا۔کل جو تخت نشین تھے آج وہ زمانے کی ٹھوکروں میں ہیں۔ بہرحال نیشنل کمیشن فارہیومن رائٹس کے مطابق اتر پردیش کے دیوبندمیں ستمبر کے 2021کو ذیشان حیدر نامی پچاس سالہ کسان کو پولیس نے فون کرکے آدھی رات کو انکوائری کے بہانے طلب کیا اور آدھے گھنٹے کے بعد اس کا فون بند ہوگیا۔ دوسرے دن اس کے مردہ ہونے کی اطلاع ملی۔ پولیس نے کہانی بیان کی کہ رات کے وقت گائے کے اسمگلرس کے خلاف کاروائی ہوئی، ذیشان حیدر کی کڈنی میں گولی لگی، زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے اس کی موت ہوگئی۔ ایسے کئی واقعات انکاؤنٹر ان ہی ہلاکتوں کے پیش آئے ہیں۔ انکاؤنٹر میں ہلاک ہونے والوں کو کسی قسم کا معاوضہ بھی ادا نہیں کیا جاتا۔ ان کے خاندان کا بائیکاٹ ہوتا ہے، ایک خاندان بکھر جاتا اور اس کے اثرات نسل در نسل مرتب ہوتے ہیں۔ کئی ایسے بھی مواقع ہیں جو فرضی انکاؤنٹرس کے خاطی پولیس اہلکاروں کے خلاف کاروائی بھی ہوتی ہے اور سزا بھی سنائی جاتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کاروائی کے اعلان کے بعد آگے کیا ہوتا ہے اس کا پتہ نہیں چل پاتا۔ سہراب الدین شیخ اور عشرت جہاں کے فرضی انکاؤنٹر سے کون واقف نہیں؟ اس واقعے نے پولیس کی ساکھ کو بری طرح سے متاثر کیا۔ انکوائری کمیشن بیٹھایا گیا مگر خاطی پولیس عہدیدار ونزرہ کو عہدیدار حکومت نے ترقی کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کرنے والے جج جسٹس لویا کی پر اسرار طریقے سے موت واقع ہوگئی۔ اس طرح انصاف کا بھی خون ہوگیااور چیاپٹر کلوز ہوگئی۔
انکاؤنٹرس کی یہ وجہ ہمارا کمزور اور عدالتی نظام ہے جس میں بے قصور عمر قید کی سزا بھگتے ہیں اور خطرناک مجرم آزادانہ گشت کرتے ہیں۔ عمر خالد، شرجیل امام ناکردہ خطاؤں کی سزا کاٹ رہے ہیں اور رام رحیم، پراگیہ جیسی خطرناک مجرمین آزاد ہیں۔ذیلی عدالتوں میں پانچ کروڑ سے زائد مقدمات تصفیہ طلب ہے جن کا فیصلہ ہونے کے لئے ایک صدی بھی کافی نہیں۔ ہائی کورٹ میں 63 لاکھ، سپریم کورٹ میں 89 ہزار مقدمات تصفیہ طلب ہیں۔ ججس کی کمی اور کمزور و مجہول، عدالتی نظام اس کا سبب ہے۔
ایسے کئی مقدمات ہیں جن میں تاریخ پر تاریخ دی جاتی ہیں اور نا تو الزامات عائد کئے جاتے ہیں اور نہ ہی سنوائی ہوتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بعض پولیس عہدیداروں نے عدالتی نظام سے مایوس ہوکر قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیوں کہ وہ بھی قانون جانتے ہیں کہ اس سے کیسے نمٹا جاسکتا ہے۔ مجرمین کو بھی اپنی صفائی دینے کا حق ہے۔ تاہم دولت مند مجرمین کسی نہ کسی طرح سے اپنے حق کو محفوظ رکھتے ہیں اگر وہ جیل میں رہتے بھی ہیں تو وہاں سے وہ اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہیں۔ انہیں رشوت خور جیل عہدیدار ہر قسم کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ جب وہ ان کے لئے خطرہ بن جاتے ہیں تو انہیں فرار ہونے کا موقع دیا جاتا ہے اور پھر انہیں گولی مار دی جاتی ہے۔
ریاض اور اس جیسے نوجوان مجرم کیوں بنتے ہیں؟ گھر کی تربیت، والدین کی لاپرواہی، غلط صحبت، کم محنت سے زیادہ دولت حاصل کرنے، عیش و عشرت میں زندگی گزارنے کے لئے اکثر نوجوان غلط راہوں پر نکل پڑتے ہیں جس کی سزانہ صرف انہیں بلکہ پورے خاندان کو ملتی ہے۔ ایک مجرم کی گرفتاری کے لئے پولیس ضعیف والدین، معصوم بچوں کا لحاظ بھی نہیں کرتے۔ ایسے واقعات آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ایسے واقعات سے سبق نہیں لیا جاتا…جہاں تک فرضی انکاؤنٹرس کا تعلق ہے ان پولیس عہدیداروں کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ جب تک وردی ہے مقام و عزت ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی میں ان افراد کے افراد خاندان کی آہیں اور آنسو ان کا پیچھا نہیں چھوڑتیں جن کے خون سے ان کے ہاتھ رنگے ہوتے ہیں۔جب سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا۔ جو واقعی مجرم ہیں جن سے انسانیت کو خطرہ ہے جو عوام کے لئے درد سر بنے ہوئے ہیں۔ ان کے موت پر عام آدمی کو اتنا افسوس نہیں ہوتا، افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ ایک کی غلطی نے خاندان کو اور اس کی قوم کو بدنام کیا۔
Comments are closed.