مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
اے ایم یو کے سات طلبہ نے دبئی میں انٹرن شپ مکمل کی
علی گڑھ، 23 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن کے سات طلبہ نے متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں اپنی انٹرن شپ کامیابی کے ساتھ مکمل کی، جہاں انہوں نے مختلف کاروباری اداروں میں بین الاقوامی تجربہ حاصل کیا۔ یونیورسٹی کے ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ آفس (جنرل) نے اس انٹرن شپ پروگرام کو مربوط کیا تھا۔
دانش مشتاق اور مریم احمد نے متحدہ عرب امارات کے معروف مالیاتی ادارے شرف ایکسچینج میں اپنی انٹرن شپ مکمل کیں، جبکہ حسن اور ارمان نے بین الاقوامی مارکیٹنگ کے میدان میں عملی تجربہ حاصل کیا۔ یسریٰ نجم نے دبئی میں لگژری ایرینا واچز اینڈ گلاسز ایل ایل سی کے ہیومن ریسورس شعبہ میں انٹرن شپ پوری کی۔ محمد فائز نے ایگمائر کانٹریکٹنگ اینڈ مینٹیننس ایل ایل سی کے فنانس شعبہ میں اپنی انٹرن شپ مکمل کی، جبکہ عامر اعظم نے کراس ڈوک جنرل ٹریڈنگ ایل ایل سی کے مارکیٹنگ آپریشنز شعبہ میں عملی تجربہ حاصل کیا۔ بین الاقوامی انٹرن شپ کے ذریعے اے ایم یو کے طلبہ نے بین ثقافتی مینجمنٹ، کارپوریٹ گوورننس اور بین الاقوامی کاروباری طریق ہائے عمل کی گہری سمجھ حاصل کی، جس سے ان کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔
شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن کی چیئرپرسن پروفیسر سلمیٰ احمد نے طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر یونیورسٹی کی شاندار نمائندگی کی۔ ٹریننگ و پلیسمنٹ آفیسر (جنرل) مسٹر سعد حمید نے کہا کہ اس اقدام نے طلبہ کو متحدہ عرب امارات کے متحرک اور کثیرثقافتی کاروباری ماحول میں عملی تجربہ حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ عمرانیات میں ضعیفی کے موضوع پر پروگرام کا اہتمام
علی گڑھ، 23 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ عمرانیات میں حیدرآباد، تلنگانہ کی غیر سرکاری تنظیم ’دوبارہ‘ نے عمردرازی کے نئے تصورکے عنوان سے ایک بیداری پروگرام منعقد کیا جس کا مقصد ضعیفی، دیکھ بھال اور عمر رسیدہ افراد کے سماجی روابط کی اہمیت پر غور و فکر کرنا تھا۔
شعبہ کے چیئرمین پروفیسر محمد اکرم اور ڈاکٹر شاذیہ فاروق فاضلی کی رہنمائی میں منعقدہ اس پروگرام میں شرکاء کو ترغیب دی گئی کہ وہ بڑھاپے کو زوال کا مرحلہ نہ سمجھیں بلکہ اسے مقصد، دانائی اور انسانی تعلقات سے بھرپور زندگی کے ایک نئے دور کے طور پر دیکھیں۔
استقبالیہ خطاب میں پروفیسر محمد اکرم نے جیرونٹولوجی اور صحت کے سماجی پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور ان کی عمرانیاتی اہمیت کو واضح کیا۔
اس موقع پر ’دوبارہ‘ تنظیم پر محترمہ افشاں جے کی بنائی ہوئی دستاویزی فلم دکھائی گئی، جس میں عمر رسیدہ افراد کی حوصلہ مندی، رفاقت اور بامقصد زندگی کی کہانیاں پیش کی گئیں۔
’دوبارہ‘ کی سینئر رکن اور ویمنس کالج، اے ایم یو کی سابق پرنسپل پروفیسر آمنہ کشور نے بزرگوں کی دانائی اور زندگی کے تجربات کے احترام پر اپنے خیالات پیش کیے۔ تنظیم کی بانی رکن محترمہ متین انصاری نے ’دوبارہ‘ کے مشن پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ان کی ٹیم بزرگ شہریوں کی فلاح و بہبود اور وقار کے فروغ کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ ڈاکٹر انجنا سورت نے بڑھاپے میں دیکھ بھال کی اہمیت پر بات کی، جبکہ ایڈوکیٹ رشیدہ تبسم نے بڑھاپے کے قانونی اور اخلاقی پہلوؤں پر روشنی ڈالی، جن میں وصیت، پیشگی ہدایات اور انسان کی آخری خواہشات کے احترام جیسے پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا۔
پروگرام کی منتظمہ ڈاکٹر شاذیہ فاروق فاضلی نے عمر درازی کو عمرانیاتی نقطہ نظر سے سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ آخر میں سوال و جواب کا سیشن ہوا۔ مس نازیہ اور مسٹر سراج الدین نے شکریہ کے کلمات ادا کئے۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
پروفیسر نشاط افروز، اے ایم یو کے شعبہ پیتھالوجی کی چیئرپرسن مقرر
علی گڑھ، 23 اکتوبر: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ پیتھالوجی کی پروفیسر نشاط افروز کو شعبہ کا نیا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی مدت کار تین سال ہوگی۔
پروفیسر افروز 2013 سے اے ایم یو میں پروفیسر کے عہدے پر فائز ہیں اور ان کا علمی کریئر دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ انہوں نے ایم بی بی ایس، جی ایس وی ایم میڈیکل کالج، کانپور یونیورسٹی سے اور ایم ڈی (پیتھالوجی) موتی لال نہرو میڈیکل کالج، الہ آباد یونیورسٹی سے مکمل کیا۔ وہ 2003 میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ ہوئیں۔انھیں انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ سطح پر طویل تدریسی تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے 87 تحقیقی مقالات قومی و بین الاقوامی جرائد میں شائع کئے ہیں۔ گوگل اسکالر کے مطابق، ان کے حوالہ جات کی تعداد 869 ہے۔
پروفیسر افروز کئی معروف قومی و بین الاقوامی تحقیقی جرائد کی ریویور بھی ہیں اور تین بین الاقوامی اشاعتوں کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں۔
وہ انڈین ایسوسی ایشن آف بون اینڈ سوفٹ ٹشو پیتھالوجی کی بانی رکن ہیں، 15 لیکچرز دے چکی ہیں جبکہ 28 تحقیقی مقالے قومی و بین الاقوامی کانفرنسوں میں پیش کر چکی ہیں۔ انہوں نے نیشنل کینسر رجسٹری پروجیکٹ میں شریک محقق کے طور پر کام کیا، اور اس وقت وہ آئی سی ایم آر سے اعانت یافتہ ایک تحقیقی منصوبے کی پرنسپل انویسٹی گیٹر ہیں۔
پروفیسر افروز کئی ممتاز پیشہ ورانہ تنظیموں کی تاحیات رکن ہیں، جن میں انڈین ایسوسی ایشن آف پیتھالوجسٹس اینڈ مائیکروبایولوجسٹس (آئی اے پی ایم)، انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (آئی ایم اے)، آئی اے پی- انڈین ڈویژن،اے بی ایس ٹی پی اور مولیکیولر پیتھالوجسٹس آف انڈیا شامل ہیں۔
Comments are closed.