اسرائیل کے وجود کو بچانے کی آخری کوشش

 

مشرف شمسی

 

اسرائیل کے وجود کو بچانے کی آخری کوشش امریکہ کر رہا ہے۔20 پوائنٹ ٹرمپ پروگرام کے تحت اب دوسرے دور کی گفتگو شروع ہونی ہے لیکِن خبر یہ بھی ہے کہ دوسرے دور کا معاہدہ نافذ ہونے بھی شروع ہو گئے ہیں۔اسرائیل قطر اور ترکی کو کسی بھی قیمت پر غزہ میں داخل ہونے نہیں دینا چاہتا ہے لیکِن دونوں ممالک اپنے جھنڈے کے ساتھ رسد اور ملبہ کی صاف صفائی کے لئے درکار بھاری مشینیں لئے غزہ میں داخل ہو چکے ہیں۔لیکِن اب غزہ کا نظم سنبھالنے اور وہاں کی سیکیورٹی سنبھالنے کے لئے اسرائیل چاہتا ہے کہ سعودی عرب ،متحدہ عرب امارت اور بحرین کی افواج آئے ۔اسرائیل کسی بھی طرح یہ نہیں چاہتا ہے کہ ترکی ،قطر اور مصر کی افواج غزہ میں امن فوج کی شکل میں مورچہ سنبھالے۔۔قطر اور ترکی حماس کی پشت پناہی پہلے سے کرتا رہا ہے اور مصر میں اخوان المسلمین کا دباؤ السیسی پر بنا ہوا رہتا ہے۔ اسرائیل اس بات پر مصر ہے کہ حماس کو اپنے اسلحے چھوڑنے ہونگے اور حماس اسلحہ چھوڑنے سے صاف انکار کر رہا ہے۔اسرائیل اور حماس کے دو مخالف رخ ہونے کے باوجود ٹرمپ کا سمجھوتہ آگے کیسے بڑھ رہا ہے۔حالانکہ غزہ معاملے میں ایک جانب حماس ،قطر ،ترکی اور مصر اور دوسری جانب امریکہ ،فرانس،انگلینڈ ،اٹلی ،سعودی عرب ،متحدہ عرب امارت اور بحرین کے درمیان آمنے سامنے سے شہ اور مات کھیل چل رہا ہے تو دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان نفسیاتی برتری کا کھیل چل رہا ہے۔علی خامنہ ای کا ٹرمپ کا مذاق اڑانا اسی نفسیاتی کھیل کا حصہ ہے ۔امریکہ اور اسرائیل مل کر بھی اب سیدھے ایران سے جنگ نہیں کر سکتے ہیں اور ایران اس بات کو بخوبی جانتا ہے ۔امریکہ اور اسرائیل یہ بھی جانتے ہیں کہ طاقتور ایران کا مطلب طاقتور محور مزاحمت ہے اور اس مزاحمت کا محور کا دائرہ بڑھتا ہی جائے گا ۔اسلئے امریکہ کی خواہش ہے کہ حماس سے غزہ میں نپٹ لیا جائے اُسکے بعد امریکی حمایتی عرب ممالک کے ساتھ مل کر ایران کا راستہ بھی نکال لیا جائیگا۔

غزہ میں اقوام متحدہ کے تحت امن فوج کو داخل ہونا ہے ۔ایک بار امن فوج داخل ہو جائے گی اور اس امن فوج کا حصہ ترکی ،مصر ،قطر ،پاکستان اور آذربائیجان کی افواج ہونگی تو حماس اور غزہ کی دوسری مزاحمتی گروپ اپنے آپ پردے کے پیچھے چلی جائیگی۔کیونکہ تب غزہ کے لوگوں کی سیکیورٹی اقوام متحدہ کی امن فوج کے ہاتھ میں ہوگی۔مزاحمتی گروپ یہی چاہتا ہے۔غزہ کا نظام چلانے کے لئے فلسطینی ٹیکنو کریٹ کی ٹیم سامنے آئے گی۔ایک بار غزہ کا نظام ٹیکنو کریٹ کے ہاتھوں میں چلا جائے گا اور امن فوج غزہ کے لوگوں کی حفاظت میں مامور ہو جائیں گے تو زیادہ تر حماس اور دوسری مزاحمتی تنظیموں کے جنگجو عام غزہ کے رہائشیوں میں شامل ہو جائیں گے اور نہیں بھی شامل ہونگے تو غزہ میں مزاحمتی گروپ سے اسلحہ چھیننے کے لئے کون جنگ کریگا۔ امریکہ میں ایک سروے آیا ہے اُسکے مطابق 82 فیصدی ڈیموکریٹ دو ریاستوں کے تحت آزاد اور خودمختار فلسطین کے حق میں ہیں جبکہ 42 فیصدی ریپبلیکن کا بھی یہی خیال ہے ۔پوری دنیا میں اسرائیل کے خلاف بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر اترے ہیں ہی امریکہ میں بھی عوام اسرائیل کے خلاف ہوتے جا رہے ہیں ۔ایسے میں ٹرمپ کے سامنے اسرائیل کے ساتھ اپنا وجود بچائے رکھنا ضروری ہو گیا ہے۔ترکی ،مصر اور قطر جیسے ممالک سمجھ چکے ہیں کہ اسرائیل 45 کیلو میٹر کا دائرہ جو چاروں جانب سے گھرا ہوا ہے اس میں حماس کو دو سال کی جنگ لڑنے کے بعد ختم نہیں کر پایا تو اُن سے خاک لڑ پائے گا ۔ساتھ امریکہ کی طاقت کا بھرم بھی ایران نے توڑ دیا ہے۔اسلئے اسرائیل کے

لئے بھی اب بہت کچھ بچا نہیں ہے۔کیونکہ ایک بار غزہ میں امن فوج داخل ہو جاتی ہے اور غزہ میں ٹیکنو کریٹ حکومت قائم ہو جاتی ہے تو غزہ کی امداد کو اسرائیل روک نہیں سکتا ہے ۔

اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم بین گورین کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل لمبی جنگ نہیں کر سکتا ہے اور اسرائیل بنا کسی سپر پاور کی مدد کے جنگ جیت نہیں سکتا ہے ۔لیکِن اسرائیل لمبی جنگ میں اُلجھ چکا ہے ۔غزہ میں امن کے بعد مغربی کنارے میں ایک بڑی مزاحمت کا دور شروع ہو چکا ہے اس سے بھی اسرائیل کو نپٹنا ہے اور مغربی کنارے میں مزاحمت سے نپٹنا اسرائیل کے لئے غزہ سے بھی مشکل ہوگا ۔اُدھر لبنان میں حزب اللہ اپنے اوپر ہو رہے حملے کے باوجود لبنان کی حکومت کی خاطر خاموش بیٹھا ہوا ہے لیکِن حزب اللہ کے صبر کا باندھ کبھی بھی ٹوٹ سکتا ہے اور وہ اسرائیل کے لئے بہت بھاری ثابت ہوگا۔

ٹرمپ پلان کے باوجود غزہ میں حماس اسلحہ کبھی نہیں چھوڑیگا ۔مغربی کنارے میں مزاحمت تیز ہونے کی خبر ہے ایسے میں اسرائیل کے لئے ایک ہی راستہ بچ جاتا ہے اور وہ راستہ ہے آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام۔اگر آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام نہیں ہو پایا تو اسرائیل کا وجود برقرار نہیں رھ پائیگا ۔

موبائیل 9322674787

ممبئی،میرا روڈ

 

Comments are closed.