مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

 

اے ایم یو کے شعبہ عربی میں پروفیسر عبدالباری کے انتقال پر تعزیتی نشست کا انعقاد

 

علی گڑھ، 24 /اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ عربی میں سابق موقر استاد پروفیسر عبدالباری کی یاد میں ایک تعزیتی اجلاس منعقد کیا گیا۔ ان کا انتقال 19 /اکتوبر 2025 کو علی گڑھ میں واقع ان کی رہائش گاہ پر ہو گیا تھا۔

 

صدر جلسہ، پروفیسر سید کفیل احمد قاسمی (سابق ڈین، فیکلٹی آف آرٹس) نے کہا کہ اگرچہ پروفیسر باری نے اپنی تعلیم علی گڑھ کے باہر حاصل کی، لیکن اپنے علم، کردار اور خدمت کے ذریعے وہ اے ایم یو برادری کا لازمی حصہ بن گئے۔ انہوں نے 17 ایم فل اور 21 پی ایچ ڈی طلبہ کی نگرانی کی، جن میں بیرونِ ملک کے طلبہ بھی شامل تھے۔ وہ اپنی علمی بصیرت، عاجزی اور ادب و خوشبو سے محبت کے لیے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

 

شعبہ عربی کے صدر پروفیسر محمد ثناء اللہ ندوی نے بتایا کہ ان کا پروفیسر باری سے گہراتعلق 1988 سے تھا اور وہ ان کے تعلیمی سفر کے سب سے زیادہ متاثرکن اساتذہ میں سے ایک تھے۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر باری کو دورِ اموی کے سیاسی، سماجی اور ثقافتی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ عربی ادب پر گہری بصیرت حاصل تھی۔

 

پروفیسر ندوی نے بتایا کہ وہ پروفیسر باری کے ساتھ لیبیا کے ایک تعلیمی دورے پر گئے تھے جہاں ان کی شفقت اور فیاضی کا قریب سے مشاہدہ کیا۔ انہوں نے انہیں ایک عالمِ باعمل، باصلاحیت استاد اور متنوع خوبیوں کے حامل شخص قرار دیا۔

 

شعبہ سنّی تھیالوجی کے پروفیسر توقیر عالم فلاحی نے کہا کہ پروفیسر باری نہایت منکسرالمزاج، مخلص اور فرض شناس استاد تھے جو اپنے ساتھیوں اور طلبہ کی ہمیشہ رہنمائی کرتے رہے۔ ان کی ایمانداری اور علمی نظم و ضبط نے سب پر گہرا اثر چھوڑا۔

 

پروفیسر غلام مرسلین (سابق صدر، شعبہ مغربی ایشیائی مطالعات) اور پروفیسر عبیداللہ فہد (سابق صدر، شعبہ اسلامیات) نے بھی اپنے تاثرات پیش کیے اور مرحوم کی شاگرد نوازی اور شفقت کو یاد کیا۔

 

پروفیسر ابو سفیان اصلاحی نے کہا کہ وہ ایک درد مند عالم تھے جو ملت کی زبوں حالی پر گہری فکر رکھتے تھے، جبکہ پروفیسر محمد سمیع اختر فلاحی نے ان کے تدریسی انتظام اور تحقیقی طلبہ کی مؤثر رہنمائی کا ذکر کیا۔

 

ویمنز کالج کے پرنسپل پروفیسر مسعود انور علوی نے 1976 کی یادوں کا حوالہ دیتے ہوئے پروفیسر باری کی انکساری اور روحانی رجحان کو سراہا۔

 

اجلاس کے اختتام پر ڈاکٹر اشہد جمال ندوی نے مرحوم کی مغفرت کے لیے دعا کی۔ پروفیسر باری کے پسماندگان میں ان کے صاحبزادگان محمد مبشر، محمد منذر اور محمد منور، اور داماد مسعود شامل ہیں۔

 

ئ٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو پیرا میڈیکل کالج نے خون کے عطیہ کی مہم میں نیا ریکارڈ قائم کیا

 

علی گڑھ، 24 /اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پیرا میڈیکل کالج میں سالانہ سر سید ڈے تقریبات کے سلسلے میں رضاکارانہ خون عطیہ کیمپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں طلبہ کی بھرپور شرکت کے ساتھ کالج نے ایک نیا سنگ میل حاصل کیا۔

 

”اے ڈراپ فار ہیومینٹی“ (انسانیت کے لیے ایک قطرہ) کے عنوان سے منعقدہ اس مہم میں طلبہ کے جوش و خروش سے زائد از 40 یونٹس خون جمع کیا گیا جو جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج اسپتال (جے این ایم سی ایچ) کے بلڈ اینڈ کمپوننٹ سینٹر میں محفوظ کیا گیا۔

 

پرنسپل پروفیسر قاضی احسان علی نے طلبہ کے جذبہ خدمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی بے غرض سرگرمیاں سر سید احمد خاں کے وژن کی عکاسی کرتی ہیں اور آنے والے طبی پیشہ وروں کے لیے خدمتِ خلق کے اعلیٰ ترین اصولوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔

 

شعبہ پیتھالوجی کے ڈاکٹر محسن اعجاز، جو اس پروگرام کے نگران اور کوآرڈی نیٹر تھے، نے کہا کہ جے این ایم سی ایچ جیسے بڑے اسپتالوں میں، خاص طور پر حادثاتی مریضوں اور تھیلیسیمیا کے شکار بچوں کے لیے باقاعدہ خون عطیہ کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔

 

بیچلر اِن میڈیکل لیبارٹری سائنس (بی ایم ایل ایس) کے طلبہ نے اس مہم میں نمایاں کردار ادا کیا اور کیمپ کو منظم و مؤثر انداز میں چلایا۔ طلبہ عبدالرحمن فیصل، ذکرہ پروین اور نورالفرقان نے عطیہ دہندگان کی سہولت اور پروگرام کے انتظام میں اہم کردار ادا کیا۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے طلبہ نے آئی آئی ایس سی بنگلورو کے نیشنل ہیکاتھان میں دوسرا انعام حاصل کیا

 

علی گڑھ، 24 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے بی ٹیک کے دوسرے سال کے طلبہ محمد ایان اور تابش شاہ محسن نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس (آئی آئی ایس سی) بنگلورو کے زیر اہتمام قومی سطح کے ”دی بنگلورو لاسٹ مائل چیلنج 2025“ ہیکاتھان میں دوسرا انعام حاصل کر کے یونیورسٹی کا نام روشن کیا۔

 

یہ مقابلہ بنگلورو میٹروپولیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (بی ایم ٹی سی)، نمہ یاتری اور ماروتی سوزوکی کے اشتراک سے منعقد ہوا، جس کا مقصد بنگلورو میں آخری مرحلے کی ٹرانسپورٹ سروس کو بہتر بنانے کے لیے جدید، ڈیٹا پر مبنی پائیدار نظام تیار کرنا تھا۔

 

ٍہندوستان کے ممتاز اداروں کی ٹیموں کے درمیان سخت مقابلے میں اے ایم یو کے دونوں طلبہ نے مشین لرننگ اور شہری ٹرانسپورٹ کے تجزیاتی نظام کے امتزاج سے اپنی تخلیقی سوچ اور تکنیکی مہارت سے ججوں کو متاثر کیا۔

 

ان کی یہ کامیابی مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس اور ذہین ٹرانسپورٹ سسٹمز کے شعبوں میں اے ایم یو کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں اور یونیورسٹی کی اس پالیسی کو ظاہر کرتی ہے جو طلبہ میں اختراعی سوچ اور عملی مسائل کے حل کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

Comments are closed.