جامعہ عائشہ صدیقہ نور چک بسفی ضلع مدھوبنی میں حاضری کی سعادت

 

از قلم: مولانا مفتی محمد نظر الباری ندوی صدر جمعیت علماء ہند ضلع دربھنگہ, امام وخطیب مرکزی جامع مسجد پالی.

مدارس اسلامیہ عربیہ ، جامعات ، دینی ادارے ، تعلیمی درسگاہیں اور مکاتب قرآنیہ کا نظام جو اس وقت ہمارے ملک بھارت میں سرگرمی کے ساتھ بحسن وخوبی تعلیمی ، علمی ، دینی ، اور رفاہی خدمات انجام دے رہے ہیں ، یہ اللہ سبحانہ کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے ،
ان ہی تعلیمی درسگاہوں میں سے ایک *جامعہ عائشہ صدیقہ نور چک* بھی ہے ، جو مدھوبنی ضلع بہار کے معروف آبادی نور چک بسفی بلاک میں واقع ہے اور یہ ایک ایسی آبادی ہے جس کا شمار گھنی آبادیوں میں ہوتاہے ، اس جامعہ کا تذکرہ اب تک میں سنتا تھا لیکن حاضری کی سعادت نہیں مل سکی تھی۔
اس جامعہ کے بانی وناظم باوقار عالم دین کہنہ مشق استاذ الأساتذہ ، وسیع النظر، عمیق الفکر ، رقیق القلب ، ماہر الفن ، جہاں دیدہ ، مہمان نواز ، رمز شناس ، بہترین منتظم ، اعلی دل ودماغ کے حامل ، عمدہ اخلاق وکردار کے پیکر ، صلاحیت وصالحیت سے متصف ، حالات حاضرہ سے باخبر ، مخالف ہوائوں اور باطل طاقتوں کے خلاف سد سکندری ، طالبان علوم اسلامیہ عربیہ کے غمخوار ، غریبوں ، مسکینوں ، محتاجوں ، بے سہاروں کے درد کے درماں ، بڑوں کی قدر و عظمت ، علماء کا ادب واحترام ، طلباء سے پیار ومحبت ، چھوٹوں کے ساتھ شفقت ونرمی ، مدارس اسلامیہ اور ملی و قومی سماجی اداروں کی خیر خواہ ، تواضع ، عاجزی وانکساری ، ایثار و ہمدردی ، مستقل مزاجی ، صبر و تحمل ، خوداری واستغناء جیسی عمدہ و اعلی صفات سے مزین اور اپنی گوناگوں خوبیوں کی وجہ سے ہر دل عزیز اور مقبول خاص وعام حضرت مولانا مفتی محمد حسنین قاسمی دامت برکاتہم العالیہ ہیں ، جو حوصلہ اور جرآت وہمت کی مضبوطی وبلندی میں پہاڑ ہیں ،
اس جامعہ میں اپنے رفقائے کار کے ساتھ ظہر کے وقت حاضری ہوئی ، ہماری گاڑی جامعہ کے مین گیٹ پر پہونچی اور جیسے ہی دربان نے دروازہ کھولا تو جامعہ کے بانی وناظم اعلی حضرت مولانا مفتی محمد حسنین قاسمی حفظہ اللہ اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محب اللہ قاسمی دامت برکاتہم العالیہ استقبال کےلئے آگے بڑھے ، جامعہ کے اندرونی حصے پر سرسری نظر پڑی تو دیکھا کہ درسگاہوں میں معلمین اور معلمات اپنے اپنے دروس میں منہمک ہیں ، ہم لوگوں کو مہمان خانے میں بٹھایا گیا، نماز ظہر اور ظہرانے سے فراغت کے بعد جامعہ کی طرف سے ایک شاندار علمی و ادبی اور مثالی استقبالیہ کا اہتمام کیا گیا۔
اس نورانی وعلمی مجلس میں ہماری حاضری ہوئی تو باحجاب بچیوں کی کثیر تعداد دیکھ کر روحانی فرحت محسوس ہوئی ، اور یہ محسوس ہوا کہ ضرور اس جامعہ اور جامعہ کے بانی کے ساتھ خدائی نصرت اور تائید ایزدی شامل ہے۔
جامعہ کے طالبات میں سے ایک طالبہ نے نظامت کی ذمہ داری سنبھال رکھی تھی ، ادارہ کے بانی وناظم اعلی حضرت مولانا مفتی محمد حسنین قاسمی حفظہ اللہ نے خود عالمانہ شان وقار سے ہم مہمانوں کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے تعارف کرایا ، جامعہ کے بزرگ شیخ الحدیث حضرت مولانا محب اللہ قاسمی حفظہ اللہ نے مہمانوں کے تعلق سے اپنے تاثرات پیش فرمائے ، بچیوں نے ایسے شاندار علمی وتعلیمی پروگرامز پیش کیا کہ تمام مہمانوں کا گویا دل جیت لیا ، اور یہ محسوس ہوا جامعہ کا تعلیمی اور علمی معیار نہایت ہی بلند ہونے کے ساتھ ساتھ یہاں کے اساتذہ ، معلمین اور معلمات بھی باصلاحیت اور محنتی ہیں۔
پروگرام کے اخیر میں ناظم صاحب کے حکم پر طالبات وأساتذہ کرام کی ذمہ داریوں کے تعلق سے میرا بھی مختصر خطاب ہوا ، اور دعا کے ساتھ مجلس اپنے اختتام کو پہونچی ۔
جامعہ عائشہ صدیقہ کا قیام 22/اپریل 2007 میں عمل میں آیا ، اب یہ اپنے حلقہ میں ایک مرکزی دینی درسگاہ کی حیثیت رکھتا ہے‌، ادارے کے مختلف شعبۂ جات اور جدید زیر تعمیر عمارت کا معائنہ و مشاہدہ کرنے کا موقع ملا ، جس میں ادارۂ دارالقرآن کے نام سے تحفیظ القرآن للبنین کی شاندار درسگاہ ہے ، انجمن بزم عائشہ جس کے جداری پرچوں سے طالبات کی تحریری صلاحیت کا بھی اندازہ ہوا ، اور کمپیوٹر و سلائی کڑھائی سینٹر وغیرہ کا بہترین اور عمدہ نظام دیکھا جس سے طلباء وطالبات خوب سے خوب تر مستفید ہورہے ہیں ،
اسی طرح عام مسلم خواتین کےلئے دعوت وتبلیغ کا ایک شعبہ بھی قائم ہے ،جس کی پہلی منزل تیار ہے ، دوسری وتیسری منزل میں کام تیزی کے ساتھ جاری ہے ، اس شعبہ میں جامعہ عائشہ کی معلمات عام مسلم خواتین میں دعوت وتبلیغ کے اہم فرائض انجام دیتی ہیں ، تاکہ امت کی بیٹیوں کو فتنۂ ارتداد سے بچایا جاسکے ،
جامعہ عائشہ کی ایک اور درس گاہ کی زیر تعمیر شاندار عمارت نظر آئی،جس کی بنیاد (DPC) مکمل ہوگئی ہے،اور آگےکام جاری ہے ۔
الحمد للہ جامعہ عائشہ کے پاس زمین بھی کافی ہے ، طلبہ وطالبات کی کثیر تعداد کی وجہ سے مختلف شعبوں میں جگہ کی قلّت کی وجہ سے مزید تعمیراتی کا کام بھی جاری ہے۔
مجموعی طور پر جامعہ کی اس حاضری نے جن چیزوں سے متاثر کیا وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
1…. طالبات کی تعداد جو تقریباً پانچ سو کی ہے۔
2… طالبات کی علمی و تحریری صلاحیتیں قابل تحسین ہیں۔
4…جامعہ عائشہ کی جدید درسگاہ کی پرشکوہ زیر تعمیر عمارت ۔
5… عام مسلم خواتین کے لئے دینی و تربیتی اور اصلاحی کوششیں قابل ستائش ہیں،اس شعبےکےلئے الگ عمارت بھی زیر تعمیر ہے ۔
6… حسن انتظام ، اور وسیع آراضی کی فراہمی۔
7…حضرت ناظم صاحب کی تواضع و انکساری ،
جامعہ عائشہ صدیقہ کے معائنہ رجسٹر سے پتہ چلا کہ اس جامعہ میں بڑے بڑے اکابر بھی تشریف لاچکے ہیں ، جنھوں نے اس کی کار کردگی کو خوب سراہا ہے ، اتنی قلیل مدت میں جامعہ کی یہ تعلیمی اور تعمیراتی ترقی یقیناً اللہ سبحانہ وتعالی کا خاص کرم اور اس کا عظیم احسان ہے۔
ہمارے اس قافلہ میں مشہور و بافیض عالمِ دین حضرت مولانا اسلم ندوی حفظہ اللہ استاذ ومعاون صدرالمدرسین مدرسہ نور الاسلام کھیری بسفی بانکا وامام خطیب اولیاء مسجد کھیری ،
قاری عبداللہ رحمانی حفظہ اللہ ، حافظ وسیم اکرم نعمانی حفظہ اللہ، حضرت قاری عباس قاسمی حفظہ اللہ شامل تھے حضرت قاری عباس قاسمی نے اپنے منفرد انداز میں ہم مہمانوں کی آمدورفت راحت وآرام کا خاص خیال رکھتے ہوۓ اخلاق کا بہترین نمونہ پیش کیا ،
آخر جامعہ عائشہ صدیقہ رضي الله عنہا جسکی روحانی فضائوں میں اپنائیںت کے پھول کھل رہے تھے مختلف شعبوں ، جدید تعمیرات ، تعلیمی نظام اور کار کردگی کا مشاھدہ کرتے اور دیکھتے ہوۓ تقریبا عشاء کے وقت جامعہ سے رخصت ہوۓ ،
فلله الحمد والشكر ،
اللہ سبحانہ وتعالی سے دعا ہے کہ اس ادارے کو مزید ترقی عطا فرمائے ،شرف قبولیت سے نوازے ، ہر طرح کی شرور وفتن سے حفاظت فرمائے ، اس کو امت کےلئے خیر کا ذریعہ بنائے اور اس ادارے کے بانی وناظم اعلی حضرت مولانا مفتی محمد حسنین قاسمی دامت برکاتہم کےلئے صدقۂ جاریہ بنائے
آمین یارب العالمین
17/10/2025

Comments are closed.