توبہ واستغفار-کفارۂ سیاٰت
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ،پٹنہ
انسان خطا اور نسیان سے مرکب ہے، گناہوں کا ارتکاب اس کے خون میں شامل ہے، استثنا صرف انبیاء کا ہے جن کو اللہ نے معصوم عن الخطا رکھا، دوسرے صحابہ کرام ہیں جو معصوم عن الخطاء اور محفوظ عن الخطاء تو نہیں، لیکن اللہ نے رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ کہہ کر صحابہ کرام کے بارے میں یہ صاف کردیا کہ ان کا مقام ومرتبہ عام مسلمانوں سے الگ ہے، لیکن ان کو بھی توبہ واستغفار سے مستثنیٰ نہیں کیا، عام مسلمانوں اور صحابہ کرام کے لیے اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا: ”وَتُوْبُوْا اِلَی اللّٰہِ جَمِیْعاً اَیُّھَا الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ“ (النور:۱۳) اللہ کے آگے سب مل کر توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاسکو۔ ابن ماجہ، رقم ۱۸۰۱ میں ہے: ”یٰاَیُّھَا النَّاسُ تُوْبُوْا اِلَی اللّٰہِ قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا“ اے لوگو! مرنے سے پہلے اللہ کے سامنے توبہ کرلو۔
ان آیات کی روشنی میں امت کا اجماع ہے کہ توبہ فرض ہے، کیوں کہ یہ قرآن واحادیث اور اجماع امت سے ثابت ہے، یہ سوال بھی ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ توبہ کب تک کیا جاسکتا ہے، اس سلسلہ کی جو روایتیں ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے، جب تک ایسا نہ ہو اس وقت تک توبہ کیا جاسکتا ہے، لیکن ہم میں سے ہر کوئی قرب قیامت اور ظہور علامت کے وقت تک زندہ نہیں رہ سکتا، ایسے لوگوں کے لیے سنن ترمذی حدیث نمبر3537 سے معلوم ہوتا ہے کہ نزع کی تکلیف شروع ہونے کے قبل تک توبہ کرنے کی مہلت رہتی ہے اور اس وقت تک کی توبہ اللہ قبول کرتا ہے، نزع اور جان کنی کے وقت چوں کہ وہ ملک الموت وغیرہ کو دیکھتا ہے اور ایمان بالغیب باقی نہیں رہتا، بلکہ مشاہدہ ہوتا ہے، اس لیے اس کے بعد توبہ قبول نہیں ہوتا، اب ہم میں سے کسی کو اس وقت کا علم نہیں، اس لیے توبہ کرنے میں جلدی کرنی چاہیے، اللہ بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے، سورۃ شوریٰ کی آیت نمبر 25 میں ہے کہ وہی اللہ ہے جو اپنے بندے کی توبہ قبول کرتا ہے اور گناہوں کو معاف کرتا ہے اور وہ جو کچھ تم کرتے ہو اس کا پورا علم رکھتا ہے، اس لیے توبہ میں جلدی کرنی چاہیے، کیوں کہ صحیح بخاری حدیث نمبر6308 میں ہے کہ ایمان والا اپنے گناہوں کو اس طرح دیکھتا ہے جیسے وہ کسی پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہو اور اسے ڈر ہو کہ وہ پہاڑ اس پر گر پڑے گا، جو بدکار ہے وہ اپنے گناہوں کو مکھی کی طرح دیکھتا ہے جو اس کے ناک کے اوپر سے گذر گئی ہو، مطلب یہ ہے کہ مؤمن کے نزدیک گناہ ایک بوجھ ہے اور اسے ڈر ہے کہ اس بوجھ تلے دب کر وہ تباہ وبرباد نہ ہو جائے، جبکہ فاسق وفاجر لوگ اسے انتہائی ہلکے میں لیتے ہیں، جیسے وہ مکھی ہو جو ناک پر گذرتی رہتی ہے، ابن ماجہ حدیث نمبر 1081 میں ہے کہ اے لوگو! تم سب مرنے سے پہلے اللہ کے سامنے توبہ کرو، جب بندہ اللہ رب العزت کے سامنے اس طرح توبہ واستغفار کرتا ہے کہ دل میں شرمندگی ہوتی ہے، زبان پر استغفار کے کلمات ہوتے ہیں، بالکلیہ گناہ ترک کرنے کا ارادہ ہو اور دوبارہ اسے نہ کرنے کا پختہ عزم تو ایسی توبہ قبول ہوتی ہے (القاموس الفقہی لغۃ واصطلاحاً، ص:50) قرآن کریم میں توبۃ نصوح کا ذکر آیا ہے اور توبہ کے بعد اللہ رب العزت بندوں پر جو احسان کرتا ہے اس کابھی ذکر ہے، ارشاد فرمایا: اے ایمان والو! تم اللہ کے سامنے سچی توبہ کرو، توقع ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناہ معاف کردے گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا، جس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، اللہ تعالیٰ نبی اور مسلمانوں کو جو ان کے ساتھ ہیں، اس دن رسوا نہ کرے گا، ان کا نور ان کے داہنے اور آگے دوڑتا ہوگا، وہ دعا کر رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب! اس نور کو ہمارے لیے اخیر تک رکھیے، ہماری مغفرت فرمادیجیے، آپ تو ہرچیز پر قادر ہیں (التحریم:8) خود اللہ رب العزت نے ہدایت دی ہے کہ اپنے پروردگار سے گناہوں کی معافی مانگو، اس کے بعد اس کی طرف رجوع کرو۔
اللہ رب العزت اپنے بندوں پر اس قدر مہربان ہیں کہ منتظر رہتے ہیں کہ کب بندہ ہمارے در پر اپنے گناہوں کی گٹھری لائے گا اور توبہ کرے گا، جب بندہ دن، رات، صبح وشام جس وقت بھی توبہ کرتا ہے تو اللہ رب العزت خوش ہوتا ہے اور اپنی غفاریت سے اس کے گناہ معاف کردیتے ہیں، صحیح مسلم حدیث نمبر2759 میں ہے کہ اللہ رب العزت رات میں اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے، تاکہ دن کے گناہ کرنے والے توبہ کرلیں اور پھر اپنا ہاتھ دن میں پھیلاتا ہے تاکہ رات کے گناہ گار توبہ کرلیں، یہ عمل قرب قیامت یعنی سورج کے مغرب سے نکلنے تک جاری رہے گا، یہی ایک دربار ہے جہاں باربار آنے، گناہوں سے معافی مانگنے، نیک کام کی توفیق کی دعا سے اللہ کو بے زاری نہیں ہوتی وہ خوش ہوتا ہے، اللہ کو بندوں کے توبہ سے ایسی خوشی ہوتی ہے، بلکہ اس سے زائد جیسے کسی کا اونٹ چٹیل میدان میں گم ہوگیا ہو اور وہ اس کو پالے (صحیح بخاری، حدیث نمبر 6309) یہ عمل اللہ کو اس قدر پسند ہے کہ اگر بندہ گناہ کا ارتکاب نہ کرے تو اللہ رب العزت ایسی مخلوق پیدا کریں گے، جو گناہ کرکے توبہ کرے گی اور اللہ انہیں معاف کریں گے(صحیح مسلم حدیث نمبر2748) خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جن کے اگلے اور پچھلے سب گناہ اللہ نے معاف کردیا تھا، وہ دن بھر میں سو بار سے زیادہ توبہ کرتے تھے اور امت کو بھی یہی تلقین کی کہ اے لوگو! توبہ کیا کرو (صحیح مسلم حدیث نمبر2702) ایک دوسری حدیث میں ہے کہ خدا کی قسم! میں ایک دن میں ستر بار سے زیادہ توبہ کرتا ہوں (صحیح بخاری:6307) ایک موقع سے حضرت عائشہؓ نے دریافت کیا کہ آپ کے تو اگلے پچھلے سارے گناہ اللہ نے معاف کردیے، پھر اس قدر مشقت کیوں کرتے ہیں، ارشاد فرمایا: کیا میں اللہ کا شکرگذار بندہ نہ بنوں۔
تو بہ کرنے سے انسان گناہوں سے اس طرح پاک وصاف ہوجاتا ہے، جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو (ابن ماجہ:4250) اتنا ہی نہیں اللہ سیاٰت کو حسنات سے بدل دیتے ہیں، اللہ رب العزت کا ارشاد ہے؛ مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا، اچھے کام کیے تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ رب العزت نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے(الفرقان:70) اس کے ایک معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ اللہ اس کے احوال تبدیل کردیتا ہے۔اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں صاف صاف کہا کہ اللہ کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ کہہ دیجیے کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا، وہ میری رحمت سے ناامید نہ ہوں، اللہ رب العزت تمام گناہوں کو بخش دے گا، بے شک وہ غفور الرحیم ہے(الزمر:53) ایک آیت میں ہے کہ اللہ سے ناامید تو کافر ہی ہوا کرتے ہیں، کیا وہ لوگ نہیں جانتے کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے، صدقات بھی قبول کرتا ہے، بے شک اللہ تو بڑا غفور الرحیم ہے، بندوں کو اس ارشاد کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ نے فرمایا: جو بُرا عمل کرے اور اپنے اوپر ظلم کرے، پھر اللہ سے مغفرت چاہے تو وہ اللہ کو غفور الرحیم پائے گا(سورہئ نساء:110)
یہاں یہ سمجھ لینا بھی ضروری ہے کہ توبہ کہتے کسے ہیں؟ علامہ آلوسیؒ نے روح المعانی میں لکھا ہے کہ توبہ کا مطلب ہے کہ بندہ اپنے گناہوں سے باز آجائے، اپنے کیے پر شرمندہ ہو، گناہ سے توبہ اس لیے کر رہا ہو کہ اس نے گناہ کی ہے، کسی جانی ومالی نقصان کی وجہ سے ایسا نہ کر رہا ہو، یہ عزم وارادہ بھی کرے کہ ممکن حد تک وہ اس گناہ سے بچے گا(جلد 28، ص:158) توبہ کے لغوی معنی لوٹنے کے ہیں، لیکن جب اس کی نسبت بندے کی طرف ہوتی ہے تو مطلب ہوتا ہے گناہوں کو چھوڑنا، منطق کی اصطلاح میں اسے منقول اصطلاحی کہتے ہیں، بالفاظ دیگر یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ توبہ سے مراد یہ ہے کہ شریعت میں جو کچھ مذموم ہے، اس سے لوٹ کر قابل تعریف کاموں کی طرف آجانا، توبہ کے ساتھ استغفار کا لفظ بھی آتا ہے، استغفار کے معنی اللہ رب العزت سے مغفرت طلب کے ہیں، خواہ وہ طلب یادعا پر مشتمل ہو، کسی بھی زبان میں کسی بھی الفاظ سے، ابن بطالؒ نے شرح بخاری میں لکھا ہے کہ ”کل دعاء کان فی ھٰذا المعنیٰ فھو استغفار“ استغفار اللہ تعالیٰ کے معبود ہونے کا اقرار ہے، اللہ رب العزت نے اس کی تلقین کی ہے اور جو استغفار کرتا ہے اس کی تعریف کی ہے، اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: ”اپنے رب سے مغفرت چاہو، بے شک وہ بڑا بخشنے والا ہے“(سورہ نوح:۰۱) ایک آیت میں ہے اے قوم (کے لوگو!) اپنے رب سے استغفار کرو، پھر اسی کی طرف رجوع کرو، استغفار کے فوائد بھی اللہ رب العزت نے مختلف آیتوں میں بیان کیا ہے کہ اس سے مال ودولت اور اولاد میں ضافہ ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ ہر قسم کا فضل فرماتے ہیں، رحم کرتے ہیں اور جنت میں باغات اور نہریں عطا کریں گے، استغفار کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ ہر نماز کے بعد تین بار ”استغفر اللہ“ پڑھ لیا کرے، ترمذی کی ایک روایت میں زید بن حارثہ کے واسطے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے استغفار کے یہ الفاظ بھی منقول ہیں: ”اَسْتَغْفِرُ اللہ َ الَّذِیْ لَااِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ“ اس کے علاوہ استغفار کے یہ جملے بھی بڑے پیارے ہیں، ”اَسْتَغْفِرُ اللہ َ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَیْہِ“ حدیث میں سید الاستغفار کے نام سے استغفار کے لیے جملے مذکور ہیں، لیکن وہ ذرا طویل ہے، دعا کی کتابوں میں اسے دیکھا جاسکتا ہے، اللہ ہم سب کو توفیق دے۔ وماتوفیقی الا باللہ
Comments are closed.