حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی بامعنی تصنیف احادیث رسول ﷺ عصر حاضر کے پس منظر میں
(جلد اول جلد دوم)
سہیل انجم
حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سنجیدہ شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ایک متبحر عالم دین اور فقیہ ہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر اور اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے جنرل سکریٹری ہیں۔ وہ ایک معروف تعلیمی ادارے ”المعہد العالی اسلامی حیدرآباد“ کے موسس ہیں۔ انھوں نے غالباًسنہ 2000 میں اسے قائم کیا تھا۔ انھیں تمام مکاتب فکر میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان سے میرا پہلا تعارف سنہ 2006 میں اس وقت ہوا تھا جب نئی دہلی میں سعودی سفارت خانہ نے پچاس شخصیات پر مشتمل ایک وفد کو فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے بھیجا تھا۔ ضیوف خادم حرمین کے اس وفد میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سمیت متعدد نامی گرامی شخصیات شامل تھیں۔ مجھ جیسا جاہل بھی اس کا حصہ تھا۔ لیکن اس کے بعد کوئی خاص سلسلہ ملاقات قائم نہیں رہا۔ البتہ اگر کہیں کسی مجلس میں آمنا سامنا ہو جاتا یا مجھے ان کی خدمت میں حاضری کا شرف ملتا تو وہ انتہائی محبت کے ساتھ پیش آتے۔ ایسی محبت کہ جس میں خرد نوازی کا جذبہ بھی شامل رہتا۔ البتہ ادھر ایک عرصے کے دوران بارہا ان سے ملنے کے مواقع ملے۔ جب وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر نہیں تھے اس وقت بھی اور جب وہ صدر ہو گئے ا س وقت بھی، ملی مسائل اور بالخصوص مسلمانوں کے مسائل پر میں وائس آف امریکہ اردو کے نمائندے کی حیثیت سے ان کے انٹرویوز کرتا رہا یا ان کا بیان لیتا رہا۔ ایسا بہت کم ہوا کہ جب میں نے فون کیا ہو اور انھوں نے فون اٹینڈ نہ کیا ہو یا انھوں نے مجھے مایوس کیا ہو۔ البتہ جب وہ میٹنگ میں ہوتے تو یا تو فون نہیں اٹھاتے یا بعد میں کال بیک کرتے۔ ہمارے ہم وطن اور ندوة العلما لکھنو میں استاد حدیث و فقہ اور اسلامک فقہ انڈیا کے سکریٹری برائے علمی امور مولانا عتیق احمد بستوی کے ساتھ بھی بعض اوقات ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ہے۔
ہم نے ایک ملاقات میں حضرت مولانا کو اپنی ایک کتاب پیش کی تھی۔ یہ ان کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ انھوں نے نہ صرف اسے پڑھا بلکہ فون کرکے اس کتاب کی ستائش بھی کی۔ ادھر جو سلسلہ ملاقات میں اضافہ ہوا اور ان سے گفتگو کے کچھ مواقع ملے تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ انھیں مجھ سے یا تو کچھ انسیت ہو گئی ہے یا پھر میرے کچھ ناقص کاموں کو انھوں نے پسند کیا ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ انھوں نے دو سمیناروں میں مجھے مقالہ لکھنے کا حکم دیا۔ فقہ اکیڈمی کے زیر اہتمام قاضی مجاہد الاسلام قاسمی علیہ رحمہ پر جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منعقد ہونے والے دو روزہ سمینار کے دوران انھوں نے میرے ساتھ جو محبت آمیز سلوک کیا میرے نزدیک اس کی بڑی قدر و منزلت ہے۔ انھوں نے اپنی محبت کا ثبوت اس شکل میں بھی دیا کہ حال ہی میں دو ضخیم جلدوں میں شائع ہونے والی اپنی انتہائی مفید و کارآمد کتاب ”احادیث رسول ﷺ عصر حاضر کے پس منظر میں“ کا ایک ایک نسخہ عنایت کیا۔ حالانکہ انھوں نے اس پر اظہار خیال کا حکم نہیں دیا تھا لیکن کتاب کے جستہ جستہ مطالعے کی روشنی میں مجھے یہ احساس ہوا کہ خواہ چند جملوں ہی میں سہی اس پر اظہار خیال کرنا چاہیے۔ یہاں میں یہ بھی عرض کر دینا چاہتا ہوں کہ میرے اور ان کے درمیان پیغام رسانی کا فریضہ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے انتہائی اہم ذمہ دار مفتی امتیاز احمد قاسمی انجام دیتے ہیں۔
مذکورہ کتاب کی پہلی جلد 626 اور دوسری 564 صفحات پر مشتمل ہے۔ گویا یہ کتاب مجموعی طور پر تقریباً 1200 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کی متعدد خوبیاں ہیں۔ یہ انتہائی سلیس اور آسان زبان میں ہے جس سے عام پڑھے لکھے لوگ بھی استفادہ کر سکیں گے۔ قارئین اس کتاب کے نام سے اس کی وجہ تصنیف کا اندازہ لگا لیں گے۔ اس کتاب میں احادیث کی آسان اور عام فہم زبان میں تشریح کی گئی ہے۔ جلد اول کے بالکل شروع ہی میں چند جملوں میں جو باتیں تحریر کی گئی ہیں وہ ایک طرح سے کتاب کا مختصر تعارف ہے:
”ایسی حدیثیں خصوصی اہمیت کے ساتھ پیش کی گئی ہیں جو عصر حاضر کے فکری و تہذیبی مسائل کو واضح کرتی ہیں اور عالمی اور ملکی سطح کی پیچیدگیوں کا حل بتاتی ہیں۔ عقیدہ و ایمان، سماجی زندگی اور مالی معاملات کے بارے میں ہدایت نبوی کی رہنمائی کرتی ہیں۔ مسلمان مردوں، عورتوں، بزرگوں، نوجوانوں، مسلم ملکوں کے رہنے والوں اور غیر مسلم اکثریت کے درمیان زندگی گزارنے والوں کے لیے راہ عمل واضح کرتی ہیں۔ مستند حدیثوں کا انتخاب معتبر کتابوں کے حوالہ سے اور معتبر ماخذ کی مدد سے مختصر تشریح (کی گئی ہے)“۔
جلد اول کی ابتدا میں حدیث نبوی کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کے بعد دین و شریعت، تعلیم اور معاشرت ابواب کے تحت احادیث یکجا کی گئی ہیں۔ اسی طرح دوسری جلد میں ماحولیات، معاملات، حقوق، عبادات، اخلاق اور جوامع الکلم (چند جامع حدیثیں) ابواب کے تحت احادیث ہیں۔ ان ابواب کے نام سے ہی کتاب کے مندرجات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ان میں کئی ایسے موضوعات ہیں جن پر عہد حاضر میں کافی گفتگو ہوتی ہے۔ جیسے کہ تعلیم و معاشرت اور ماحولیات و معاملات۔ آج کی دنیا میں ماحولیات ایک بہت بڑا مسئلہ بن کر ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ جس نے بنی نوع انسان کے وجود کے لیے بے تحاشہ خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ احادیث نبوی میں ماحولیات کے تحفظ کے لیے کس قدر قیمتی مشورے اور ہدایات ہیں ان کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ اسی طرح ”معاملات“ کا ایشو بھی آج کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ بالخصوص مسلم معاشرے میں معاملات کے تعلق سے کافی زوال آیا ہوا ہے۔ پہلے جہاں غیر مسلم اپنے تنازعات کے فیصل کے لیے ”میاں جی“ کے پاس جایا کرتے تھے وہیں آج ان ”میاں جی“ نے اپنے معاملات اتنے خراب کر لیے ہیں کہ مسلمان ہی کہنے لگے ہیں کہ ارے اس سے کوئی سودہ نہ کرنا وہ مسلمان ہے۔ آج تجارت میں مسلمان کیوں پیچھے چلے جا رہے ہیں اس کی وجہ ان کے خراب معاملات ہیں۔ لہٰذا اس کتاب میں یہ رہنمائی ملتی ہے کہ ہم اپنے معاملات کو کیسے بہتر بنا سکتے اور غیر مسلم اقوام کا کھویا ہوا اعتماد کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس کا مقدمہ عہد حاضر کی ایک بڑی علمی شخصیت حضرت مولانا سید نورالحسن راشد کاندھلوی نے تحریر فرمایا ہے۔ انھوں نے بجا طور پر لکھا ہے:
”بہت دنوں سے کسی ایسی کتاب کی ضرورت کا احساس اور اشتیاق تھا جس میں احادیث شریفہ کی روشنی میں سوالات کے جواب دینے، جدید ذہنوں اور نئے تعلیم یافتہ اصحاب و احباب کو مطمئن کرنے اور احادیث نبویہ شریفہ پر اپنے ایمان و یقین کو دوبارہ تازہ کرنے اور اس راہ پر دوبارہ مستقیم ہو جانے کی اہمیت کو اس طرح اجاگر کیا گیا ہو کہ آدمی کے دل میں اتر جائے۔ یہ تو فیق اور بہت بڑی سعادت و خدمت اللہ تعالیٰ شانہ نے حضرت مولانا مفتی خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کے حصے میں رکھی تھی۔ مولانا مفتی رحمانی صاحب کے قلم سے مسلسل ماشاءاللہ کتابیں آتی رہتی ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مولانا کے رواں قلم نے پورا کتب خانہ مرتب کر دیا ہے“۔
جبکہ مولانا رحمانی صاحب نے اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہوئے لکھا ہے:
”اس حقیر کے ذہن میں تھا کہ ایک ایسا مجموعہ مرتب ہو جو موجودہ دور میں پیدا ہونے والے ملکی اور عالمی مسائل کو حدیث کی روشنی میں سمجھاتا ہو۔ جیسے ماحولیات کا تحفظ، انسانی حقوق، اقلیتوں کے حقوق خواتین کے حقوق ، تعلیم بالخصوص جدید تعلیم اور اس کے مختلف شعبے، طریقہ تعلیم ، موجودہ دور میں پیدا ہونے والے اسلام مخالف افکار اور الحاد وغیرہ۔ زبان عام فہم ہو نیز حدیثیں معتبر مآخذ سے لی جائیں“۔
مولانا رحمانی صاحب نے کن حالات میں اور کیسے یہ کتاب تصنیف کی اس بارے میں لکھتے ہیں:
”اس کام کا زیادہ حصہ افریقہ کے ملک ملاوی میں 12 دسمبر 2023 سے دو جنوری 2024 تک گویا تیرہ چودہ دنوں کے قیام میں ہوا۔ اس میں اس حقیر نے 375 صفحات املا کرائے۔ رفقائے عزیز نے خوش خطی کے ساتھ لکھا اور جہاں میں نے ضرورت محسوس کی کتاب اور نیٹ سے مواد نکال کر دیا۔ اس طرح کام کا بڑا حصہ ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ میزبان کو اور رفقائے سفر کو بہت بہت اجر عطا فرمائے اور اس حقیر کی اس خدمت کو جو صرف در بار نبوی میں سرخروئی حاصل کرنے کی نیت سے کی گئی ہے، اپنے فضل و کرم سے قبول فرمائے۔ اس سے پہلے وقفوں کے ساتھ اچھا خاصا کام ہو چکا تھا جو تعلیم، ماحولیات، معاملات، معاشرت اور حقوق پر مشتمل تھا۔ ملاوی سے واپسی کے بعد بھی مختلف اوقات میں سفر و حضر میں املا کرانے کا موقع ملا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس حقیر نے کتاب کے بہت سے مضامین سفر میں جائے مقام پر یا ائیر پورٹ پر یا فلائٹ کے اندر بھی املا کرائے ہیں اور قدرتی طور پر اسے زمین سے فضا تک اپنے آقا کا نام لینے اور صلاة وسلام پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ اس وقت بھی جب میں یہ سطر یں لکھا رہا ہوں لکھنو سے حیدرآباد جانے والی فلائٹ میں ہوا کے دوش پر ہوں“۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ایک کثیر التصانیف مصنف ہیں۔ شرعی مسائل پر اخباروں میں ہر ہفتے ان کا کالم شائع ہوتا ہے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ وہ اتنی زیادہ مصروفیات کے باوجود کیسے اتنا وقت نکال لیتے ہیں کہ اس قسم کا علمی کر سکیں۔ مجھے اس بات پر بھی حیرت ہے کہ ان کا دل و دماغ کتنا یکسو رہتا ہے کہ ایئرپورٹ ہو یا جہاز کے اندر اور ہوا کے دوش پر وہ اپنے مضامین یا کتابیں املا کرا دیتے ہیں۔ ہم جیسے صحافی جن کا کام ہی روزانہ لکھنا پڑھنا ہے کہ یہی ہم لوگوں کا ذریعہ معاش ہے، اس قدر ذہنی یکسوئی حاصل نہیں کر پاتے کہ سفر میں بھی مضمون نویسی کر سکیں۔ ان پر یہ اللہ کا فضل و کرم ہے کہ ان کے ذہن و دماغ اس طرح یکسو رہتے ہیں کہ وہ بڑے سے بڑا علمی کام کر لیں۔ اس کتاب کا ناشر ”المعہد العالی اسلامی حیدرآباد“ ہے۔ قوی امید ہے کہ یہ کتاب مقبولیت حاصل کرے گی اور عام مسلمان اس سے خوب استفادہ کریں گے۔
Comments are closed.