مولانا یادِ الٰہی قاسمی کا انتقال، علمی حلقوں کی فضامغموم

دیوبند،25؍ اکتوبر(نامہ نگار)
معروف سماجی شخصیت مفتی یاد الٰہی میرٹھی کا آج صبح حرکت قلب بند ہوجانے کے سبب دیوبند میں انتقال ہوگیا،وہ تقریباً 50؍ سال کے تھے۔مولانا کے انتقال کی خبر سے دیوبند اور میرٹھ کی علمی و سماجی حلقوں میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔مرحوم کی نماز جنازہ بعد نماز ظہر احاطہ مولسری میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے پڑھائی۔بعد ازاں میت کو میرٹھ روانہ کر دیا گیا، جہاں بعد نماز عشاء ان کی تدفین عمل میں آئی۔ مرحوم مفتی یاد الٰہی میرٹھی قاسمی نے سن 1999ء میں دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کی تھی۔ وہ مولانا عاشق الہیٰ میرٹھی کے پوتے تھے اور میرٹھ میں بھائی جی والی مسجد متصل گھنٹہ گھر میںخطیب بھی تھے۔ مولانا مفتی یاد الہٰی سماجی اور سیاسی میدان میں بھی سرگرم رہے۔ اتراکھنڈ میں سابق وزیر اعلی این ڈی تیواری کے دورِ حکومت میں انہوں نے سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا۔ مرحوم کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا اور وہ اپنی خوش اخلاقی، نرم مزاجی اور دلچسپ گفتگو کے باعث ہر دل عزیز تھے۔ مفتی یاد الہی میرٹھی نہایت خوش الحان حافظِ قرآن تھے۔ تقریباً پینتیس سال سے وہ باقاعدگی نماز تراویح میں قرآن کریم سنا رہے تھے۔ پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ بھائی اور بہنیں ہیں۔ ان کے انتقال پرمفتی سید عفان منصور پوری، مولانا مودود مدنی، مولانا مسعود مدنی، سید آصف حسین، مولانا فرید مظاہری، حافظ صالح احقر، سابق ایم پی حاجی فضل الرحمن، سابق رکن اسمبلی معاویہ علی، وارڈ ممبر سید حارث، مولانا جرار قاسمی، مولانا طارق قاسمی، مفتی بلال قاسمی، عامر عثمانی، سعود عثمانی، اطہر عثمانی سمیت سرکردہ شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔

Comments are closed.