داستانِ گریزِیارانہ: پردے میں رہنے دو، پردہ نہ اٹھاؤ…
بقلم: ڈاکٹر محمّدعظیم الدین (اکولہ،مہارشٹر)
———————————
پردہ…! یہ وہ ایجاد ہے جس نے انسان کو تہذیب دی، اور حکمرانوں کو موقع پرستی۔ بعض پردے ایسے ہوتے ہیں جنہیں ہٹا دیا جائے تو چہرہ نظر نہیں آتا مگر نیت عیاں ہو جاتی ہے۔اور سیاست کا پردہ تو خیر ویسے بھی دنیا کی سب سے مہنگی چادر ہے، جو کبھی عزت ڈھانپنے اور کبھی بے بسی چھپانے میں استعمال ہوتی ہے۔ہمارے بچپن میں ایک جادوگر آیا کرتا تھا جو کبوتر کو رومال اور رومال کو چھڑی بناتا تھا۔ کمال اُس کے ہاتھ کی صفائی میں نہیں، اُس کی آنکھوں کی گستاخی میں تھا کہ وہ ہمیں یقین دلا دیتا تھا کہ جو ہم دیکھ رہے ہیں، وہ ہو نہیں رہا، اور جو ہو رہا ہے، وہ ہم دیکھ نہیں پا رہے۔ سیاست، اور خصوصاً دورِ حاضر کی بین الاقوامی ڈپلومیسی ، کچھ کچھ اُسی جادوگر کا تماشا بن گئی ہے، جہاں بڑے بڑے جغادری ایک دوسرے سے یوں کتراتے پھرتے ہیں جیسے عید کے دن قرض دار قرض خواہ سے۔ اور ہم معصوم صفت عوام، ٹکٹ خریدے بغیر، پہلی صف میں بیٹھےیہ سارا کھیل دیکھ کر تالیاں بھی پیٹتے ہیں اور کبھی کبھی اپنا سر بھی۔
آج کل کچھ ایسا ہی معاملہ ہمارے وزیرِ اعظم، عالی جناب نریندر مودی، اور امریکی صدر،عالی مرتبت ڈونلڈ ٹرمپ، کے مابین درپیش ہے۔ ایک کا جلوہ ہے کہ کم ہی نہیں ہوتا، دوسرے کا پردہ ہے کہ اٹھنے کا نام نہیں لیتا۔ ورنہ ابھی کل ہی کی بات ہے جب ہیوسٹن کے میدان میں دونوں رہنما ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ایسے گھوم رہے تھے جیسے کمبھ کے میلے میں دو بچھڑے ہوئے بھائی’این آر جی اسٹیڈیم’میں اچانک ٹکرا گئے ہوں۔ وہ گرمجوشی تھی کہ خود سورج کو بھی پسینہ آجائے ۔مگر اب یوں لگتا ہے کہ اُن ہاتھوں میں رچائی گئی مہندی کا رنگ کچا تھا، جو پہلی ہی دھلائی میں اُتر گیا ہے۔ تعلقات میں اب وہ خنکی در آئی ہے جو پہلی تنخواہ ختم ہو جانے کے بعد شوہر کی جیب اور بیوی کے مزاج میں بیک وقت اترتی ہے۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ حال ہی میں آسیان ممالک کی سربراہی کانفرنس منعقد ہونے والی ہے؛ یعنی وہ باوقار اجلاس جہاں خطے کے تمام لیڈران جمع ہو کر یہ طے کرتے ہیں کہ اگلے سال کی تصویروں میں کون کس کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ اب بھارت چونکہ اس خطے کا ’وشو گرو‘ٹہرا (یہ خطاب صاحب نے خود اپنے نام کیا ہے، ہم تو فقط ناقل ہیں اور ناقل پر کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی )، لہٰذا سب کی نظریں مودی کے عظیم الشان طیارے کے رن وے پر تھیں کہ کب ‘گرو جی’ کا جہاز اترتا ہے اور کب وہ اپنے مخصوص انداز میں لال قالین پر قدم رکھ کر دنیا کو یاد دلاتے ہیں کہ ‘لو میں آ گیا….. اب سب ٹھیک ہو جائے گا’۔ مگر عین وقت پر خبر آئی کہ مودی جی جسمانی طور پر تشریف نہیں لائیں گے، البتہ ان کا ڈیجیٹل اوتار، یعنی ایک عدد ویڈیو لنک، کانفرنس میں شرکت کو یقینی بنائے گا،؛گویاشادی میں دولہا نہ آئے اور کام ویڈیو کال سے بن جائے۔ اور جو وجہ بیان کی گئی، وہ اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔ فرمایا کہ دیوالی کی تقریبات ابھی تک جاری ہیں؛ حالانکہ ہندو کیلنڈر کے مطابق تہوارکب کاگزر گیا، لیکن شاید”نان بائیو لا جیکل” لوگوں کا جشن عام انسانوں کی جنتریوں کے تابع نہیں ہوتے، ان کے لیے الگ کائناتی وقت ہوتا ہے جوممکن ہے ہماری سمجھ سے پرے ہو۔ یہ سن کر مجھے وہ لطیفہ یاد آ گیا جس میں ایک صاحب دفتر دیر سے پہنچے اور باس کے پوچھنے پر کہا، ’’بیگم سے جھگڑا ہو گیا تھا۔‘‘ باس نے کہا، ’’یہ تو روز کا معمول ہے، آج کیا خاص بات تھی؟‘‘ بولے، ’’آج فیصلہ میرے حق میں ہوا تھا، اسی خوشی میں آنکھ دیر سے کھلی۔‘‘ شاید مودی جی کی دیوالی بھی کچھ ایسی ہی طویل اور فیصلہ کن ہو ۔
جناب، اس سال تو مودی جی نے غیر حاضریوں کی ہیٹ ٹرک مکمل کر کے ایک نیا ’سفارتی گھونگھٹ‘ ایجاد کیا ہے۔ کوئی ایک آدھ بار کا قصہ ہو تو آدمی نظر انداز بھی کر دے، مگر یہاں تو غیر حاضریوں کا ایک پورا سلسلہ ہے۔ پہلے کینیڈا میں جی-سیون کی محفل سونی رہ گئی، پھر شرم الشیخ میں امن کانفرنس ان کی راہ تکتی رہی، اور اب کوالالمپور کا میلہ بھی ان کے بغیر ہی سج گیا۔ غرض یہ کہ محترم ہر بڑی محفل سے یوں غائب ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔
اندر کی خبر رکھنے والے بتاتے ہیں کہ اس پردہ نشینی کا تار سیدھا ٹرمپ صاحب کے بیانات سے جڑتا ہے۔ وہ جہاں جاتے ہیں، اپنے مخصوص کاروباری لہجے میں، جس میں ساہوکار کی چاپلوسی اور مالک کی دھونس بیک وقت موجود ہوتی ہے، فرما دیتے ہیں کہ ’’میں نے مودی کو کہہ دیا ہے، روس سے تیل بند کرو، ورنہ ٹیرف کی لسٹ تیار ہے !‘‘ یا یہ کہ ’’بھارت–پاکستان کی بھڑنت میں صلح میں نے کروائی!‘‘ یہ سن کر مودی جی کی حالت اُس دولہا کی سی ہو جاتی ہے جس کا کوئی منہ پھٹ جگری دوست عین ’قبول ہے، قبول ہے‘ کے وقت قاضی کو روک کر بلند آواز سے کہنا شروع کر دے، ’’حضور، ذرا پہلے لڑکی والوں کو ان کی پرانی محبتوں کے قصے تو سناتا چلوں!‘‘
یہ ماجرا دیکھ کر ہمیں اپنے گاؤں کے حکیم غفور میاں یاد آ گئے۔ مشہور تھا کہ ایک جن ان کے قبضے میں ہے، جو ان کے گھر کے کام کاج بھی کرتا ہے اور دشمنوں سے حفاظت بھی۔ ایک بار ہوا یوں کہ رات کو ان کے گھر چور گھس آئے۔ گھر والوں نے حکیم صاحب کی طرف دیکھا کہ اب جن کو بلائیں گے۔ حکیم صاحب نے بڑی متانت سے فرمایا، "حضرات، آج جمعرات ہے۔ وہ بے چارہ بزرگوں کی روحانی مجلس میں حاضری دینے گیا ہے، اسے دنیاوی جھمیلوں میں تنگ کرنا بے ادبی ہے۔” اس بات سے یہ عقدہ کھلا کہ شاید دلی کے ایوانوں میں بھی آج کل جمعرات ہی چل رہی ہے، اور ’وشو گرو‘ کا موکل بہار میں کوئی انتخابی گرہ کھولنے گیا ہوا ہے۔
مودی کی ٹرمپ سے پردہ داری کی اصل وجہ وہ خوف ہے کہ ٹرمپ صاحب، جو منہ پھٹ ہونے کو ہی اپنی سب سے بڑی خوبی سمجھتے ہیں، کہیں پوری دنیا کے سامنے ان سے پوچھ نہ لیں، ’’کیوں صاحب ،روسی تیل کا کیا ہوا ، اور آپریشن سندور کے تندور کو کس نے ٹھنڈا کیا ؟‘‘ اورپھر اس کے بعد انہیں ’ہگ ڈپلومیسی‘ کے بجائے ’شَش و پنج ڈپلومیسی‘ کا مظاہرہ کرنا پڑے۔ جب دوست ہی وکیلِ استغاثہ بن جائے، تو ملزم کا ویڈیو لنک کے پیچھے چھپنا تو بنتا ہے یوں وہ بیک وقت کانفرنس کے ’اسکرین‘ پر موجود بھی رہتے، اور ٹرمپ کے ’ریڈار‘ سے محفوظ بھی۔
ابھی یہ سب چل ہی رہا تھا کہ اچانک بھارت کی سب سے بڑی نجی تیل کمپنی، ‘ریلائنس’نے ایک بیان جاری کر دیا کہ وہ حکومتِ ہند کی ہدایات کے مطابق روس سے تیل کی درآمدات پر ’’نظرِ ثانی‘‘ کر رہی ہے۔ ویسے یہ ’نظرِ ثانی‘‘ بھی کیا خوب لفظ ہے! یہ دراصل کارپوریٹ اردو میں”یو-ٹرن” کا شریفانہ ترجمہ ہے۔ دادا مرحوم کہا کرتے تھے کہ سچ بولنے کے ہزار طریقے ہیں، اور سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ آدھا بولا جائے۔ ریلائنس نے آدھا سچ بول کر باقی آدھا عوام کے تخیل پر چھوڑ دیا ہے۔ گویا حکومت نے چپکے سے کان میں سرگوشی کی اور کمپنی نے لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کر دیا۔جب قومی مفاد اور ذاتی مفاد اتنے شیر و شکر ہو جائیں کہ ایک کی نبض دوسرے کے دل میں دھڑکتی ہو، تو حکومت کی پالیسیوں کو سانس لینے کے لیے اکثر کسی نہ کسی کارپوریٹ وینٹیلیٹر کی ضرورت پڑ ہی جاتی ہے۔ یہ بالکل اُس شوہر کی طرح ہے جو بیگم کے ڈر سے دوستوں میں کہتا پھرے، ’’آج کل میں نے خود ہی باہر کھانا پینا چھوڑ دیا ہے، صحت کا خیال جو رکھنا ہے۔‘‘
اس سارے کھیل میں سب سے زیادہ قابلِ رحم حالت اُن ترجمانوں کی ہے جنہیں اس خاموشی کو ’ماسٹر اسٹروک‘اور پردہ نشینی کو ’گہری کوٹ نیتی‘ ثابت کرنا پڑرہاہے۔ وہ ٹی وی پر بیٹھ کر یوں دلائل دیتے ہیں جیسے کوئی بقراط اپنی ہی لکھی ہوئی کتاب کا مطلب سمجھانے کی کوشش کر رہا ہو۔ وہ مالک کی پر اسرار ’خاموشی‘ کو ایسے بیچتے ہیں جیسے کوئی کاریگر بغیر انجن کی گاڑی کی تعریف میں اس کے رنگ اور سیٹ کوروں کے قصیدے پڑھ رہا ہو۔ اُن کے مطابق، "وزیرِ اعظم بولتے نہیں، اُن کی خاموشی بولتی ہے۔” بات تو سچ ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ اُن کی خاموشی آج کل جو زبان بول رہی ہے، اس کا ترجمہ صرف ٹرمپ کو ہی کیوں سمجھ آ رہا ہے؟۔ یہ بالکل اُس دکاندار کی طرح ہیں جو گاہک کو بتائے، "سیٹھ جی آج دکان پر نہیں ہیں، مگر اُن کی غیر موجودگی ہی اُن کی سب سے بڑی گارنٹی ہے۔”
ایک وقت تھا کہ ہمارے رہنماقول کے سچے اور عمل کے پکے ہوا کرتے تھے،؛ان کی سادگی اور سجاوٹ سب حقیقی ہوا کرتی تھی۔ اب تو عالم یہ ہے کہ رہنما کم اور اداکار زیادہ ہیں، جو روز ایک نیا مکھوٹا اوڑھ کر سیاست کے اسٹیج پر جلوہ گر ہوتے ہیں۔ یہ ’وشو گرو‘ کا امیج بھی اسی قسم کا ایک شاہانہ مکھوٹا ہے، جو بڑی محنت سے تراشا گیاہے۔اور مودی کا ڈربھی یہی ہے کہ ٹرمپ صاحب، جو اس ڈرامے میں ایک ایسے بے تکلف مہمان کا رول ادا کر رہے ہیں جنہیں اسکرپٹ سے کوئی لینا دینا نہیں، کہیں اسٹیج پر چڑھ کر سب کے سامنے یہ مکھوٹا نہ نوچ لیں۔ کیونکہ ٹرمپ کی دوستی کسی سنجیدہ فلم کے اس واہیات ’آئٹم سانگ‘ کی طرح ہے، جو آتا تو تین منٹ کے لیے ہے، مگر پوری کہانی کا ستیاناس کر کے چلا جاتا ہے۔
الغرض، آج کل دلی کے سیاسی ایوانوں میں بحث تو چھڑی ہے کہ یہ جو اچانک حجاب آ گیا ہے، یہ بزدلی کا غماز ہے یا حکمتِ عملی کا اعجاز؟ مگر ہم جیسے کم فہموں کو تو اس میں سیدھی سادی منطقِ فرار ہی نظر آتی ہے۔ یہ تو سیدھا سیدھا جنگل کے اُس شیر کا قصہ ہے جو کچھار سے تو پوری شان سے شکار پر نکلے، مگر راستے میں شہد کی مکھیوں کا چھتہ دیکھ کر چپکے سے پگڈنڈی بدل لے اور دل ہی دل میں یہ تمنا بھی کرے کہ کاش، کسی نے دیکھا نہ ہو۔
مگر تاریخ کی آنکھ سے کچھ نہیں چھپتا۔ وہ جب اس پگڈنڈی بدلنے کا ماجرا لکھے گی تو یہ نہیں کہے گی کہ شیر نے حکمت سے کام لیا، بلکہ یہی لکھے گی کہ ایک’وشو گرو‘تھا جو پوری دنیا کو اپنی رعایا بنانے نکلا تھا، مگر ایک پرانے دوست کی زبان درازی کے ڈر سے اپنے ہی جنگل میں روپوش ہو گیا۔ اس ساری بھاگ دوڑ کا فلسفہ، اس نام نہاد ’کوٹ نیتی‘ کا عطر، بس ایک مصرعے میں سمٹ آتا ہے کہ :
"پردے میں رہنے دو، پردہ نہ اٹھاؤ۔”
Comments are closed.