اسمبلی انتخاب میں سوچ سمجھ کر اپنا نمائندہ منتخب کریں : آل انڈیا ملی کونسل

 

آل انڈیا ملی کونسل بہار کی میٹنگ میں ترقی پسند ، سیکولر مزاج اور صاف ستھری شبیہ کے امیدواروں کو منتخب کرنے پر زور

 

پھلواری شریف،25اکتوبر2025(پریس ریلیز) آل انڈیا ملی کونسل بہار کے زیر اہتمام منعقد خصوصی نشست میں اسمبلی انتخاب 2025 کے بارے میں ووٹرز سے اپیل کی گئی کہ اس اسمبلی انتخاب میں سوچ سمجھ کر اور ریاست و قوم کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھ کر ووٹ کر یں اور ایسے امید وار کو اپنا نمائندہ منتخب کریں جو صاف ستھری شبیہ کا ہو ، ایماندار ہو اور سیکولر مزاج کا ہو ۔ نفرت اور تعصب کے بغیر سب کے کام آنے والا ہو اور سب سے بڑھ کر اپنے علاقہ اور پوری ریاست کی ہمہ جہت ترقی کے بارے میں فکر مند ہو ۔ نشست میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی سر کردہ شخصیات نے شرکت کی اور اسمبلی انتخابات سے متعلق مفید تجاویز منظور کیں ۔ میٹنگ میں متفقہ طور پر یہ تجویز پاس ہوئی (1)کہ تمام ووٹرز کوووٹنگ کی اہمیت اور نمائندوں کے انتخاب کے حوالے سے آگاہ کر نے کا عمل مسلسل جاری رکھا جائے ؛تاکہ صاف ستھری شبیہ اور سیکولر مزاج اور ترقیاتی سوچ رکھنے والے نمائندہ کا انتخاب ہو جو علاقہ کی ہمہ جہت ترقی کے لیے بغیر کسی تعصب کے کام کرے، متعصب اور نفرتی سوچ رکھنے والے یا بدعنوان نمائندہ کا انتخاب نہ کیا جائے (2)آل انڈیا ملی کونسل کا مقصد ملک کی جمہوری و سیکولر اقدار کو فروغ دینا ہے اسی لیے اپنی مہم کو کسی مخصوص جماعت یا گروہ تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ جو بھی سیکولر شبیہ، ترقیاتی سوچ اور کام کرنے کا مزاج رکھنے والا امیدوار ہو خواہ کسی پارٹی سے ہو اس کو جیت دلانے کی کوشش کی جائے ۔(3)آل انڈیا ملی کونسل کی یہ نشست تما م شہریوں سے اپیل کرتی ہے کہ ووٹنگ کی اہمیت کو محسوس کریں ، یہ ان کا جمہوری حق ہے ،یہی وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعہ وہ اپنے من پسند نمائندہ کو چن کر اسمبلی میں بھیج سکتے ہیں ، اس لیے اپنے ووٹنگ کے حق کا ضرور استعمال کریں اور جس دن کے حلقہ میں ووٹنگ ہو بوتھ پر جا کر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں۔ فرقہ واریت سے دور رہیں، فرقہ وارانہ سوچ رکھنے والے امیدوار کو منتخب نہ کریں بلکہ سیکولر امیدوا ر کو ووٹ دیں۔

 

اس نشست کی صدارت فرما رہے مفکرِ ملت امیر شریعت حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب، کارگزار صدر آل انڈیا ملی کونسل نے اپنے صدارتی خطاب میں ووٹرز سے اپیل کی کہ ، ووٹ دینے میں سستی نہ کریں بلکہ کوشش کریں کہ سو فیصد پولنگ ہو۔انہوں نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں سے ملی کونسل نے پر زور مطالبہ کیا تھا کہ آبادی کے تناسب سے ٹکٹ دیا جائے، بعض سیکولر پارٹیوں نے کچھ حد تک آبادی کے تناسب سے امیدواروں کو ٹکٹ دیا، مگر دیگرسیاسی پارٹیوں نے ٹکٹ کی تقسیم میں سماجی انصاف اور مساوات کی پالیسی پر عمل نہیں کیا ۔آل انڈیا ملی کونسل بہارکے صدرحضرت مولانا ڈاکٹر محمد عالم قاسمی صاحب نے قوم و ملت میں بیداری، اتحاد اور سیاسی شعور کی ضرورت پر زور دیا ۔جناب پروفیسر سیدعلی احمد فردوسی صاحب،سرپرست آل انڈیا ملی کونسل پٹنہ نے اپنے بیان میں کہاکہ آج ہمیں بہار کی زمینی حقیقتوں پر نہایت سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔مسلمانوں کی آبادی ریاست میں 18 فیصد کے قریب ہے ، ان کے ووٹوں کا اثر ریاست کے بہت سے اسمبلی حلقوں پر پڑتا ہے ، 5-10 فیصد سے ہی ہار جیت طے ہوتی ہے ، اس لیے ووٹرز اپنی طاقت کو پہچانیں اور ایسے نمائندہ کو منتخب کریں جو ان کی آواز بن سکے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاست میں کامیابی صرف نعرے بازی یا احتجاج سے نہیں ملتی، بلکہ مضبوط تنظیم، مثبت سوچ اور اجتماعی منصوبہ بندی سے حاصل ہوتی ہے۔ ہمیں سیکولر اور انصاف پسند طبقات کے ساتھ اتحاد قائم رکھنا چاہیے تاکہ اپنی نمائندگی کو مؤثر بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہاکہ ہمیں کوشش کرنی ہوگی کہ انتخابات میں ہماری ووٹوں کی شراکت زیادہ سے زیادہ ہو۔ یاد رکھئے! ووٹ صرف ایک کاغذ نہیں، یہ ہمارے وجود کی گواہی ہے۔ اسی کے ذریعہ ہم اپنی اجتماعی طاقت کو منوا سکتے ہیں۔ جناب نجم الحسن نجمی، چیئرمین نجم فاؤنڈیشن نے کہا کہ ہمیں انتشار سے بچ کر، اتحاد و یکجہتی کے ساتھ ایسے نمائندوں کو کامیاب بنانا چاہیے، جو قوم کے درد کو سمجھیں، اس کی صحیح ترجمانی کر سکیں اور ملت کے مفادات کے تحفظ کے لیے مخلصانہ جدوجہد کریں۔ مولانا مفتی محمد نافع عارفی صاحب جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل بہار نے کہا کہ حالات کا تقاضا ہے کہ ہم متحدہ طور پر کسی ایسے نیک، دیانت دار اور مؤثر نمائندہ کے انتخاب پر متفق ہوں جو قوم و ملت کی آواز بن سکے اور ہمارے مسائل کو ایوانِ اقتدار تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔مرزا ذکی احمد بیگ نے کہا کہ ملی تنظیموں کو زمینی سطح پر عملی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ انتخابات کا مرحلہ نہایت صبر آزما ہوتا ہے؛ اس لیے صبر و ضبط کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ اس وقت سب سے اہم ذمہ داری یہ ہے کہ عوام میں ووٹ کی بیداری اور سیاسی شعور کو عام کیا جائے، تاکہ ملت اپنی قوتِ رائے دہی کا صحیح اور مؤثر استعمال کر سکے۔ اس نشست میں مولانا مفتی جمال الدین قاسمی، مولانا رضاء اللہ قاسمی، مولانا محمد عادل فریدی، مولانا فیضان احمد قاسمی وغیرہ بھی شریک رہے۔اور مفید آراء کا اظہار کیا۔

Comments are closed.