مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ہالوں میں بانی درسگاہ سر سید کا یوم پیدائش دانش، اخوت اور روایت کی محفلوں کے ساتھ منایا گیا
(محترمہ اسماء حسین کی جانب سے ہال کی ترقی کے لیے اور مسٹر ناصر محمد کی جانب سے غریب طالبات کے لیے ایک ایک لاکھ روپے کا عطیہ)
علیگڑھ، 25 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ہاسٹلوں اور اسکولوں میں ایک بار پھر سر سید ڈے 2025 کے موقع پر اس روایت کا اعادہ کیا گیا جو درسگاہ کے قیام سے آج تک علم، وقار اور اخلاص کا استعارہ بنی ہوئی ہے۔ پورے کیمپس میں تقریروں، مشاعروں اور خوش گپیوں کی آوازیں گونجتی رہیں، اور سرخ اینٹوں کی عمارتوں پر جگمگاتی روشنیوں نے اس فکری حرارت اور اخلاقی وقار کی جھلک پیش کی، جسے سر سید احمد خاں جدید مسلم تعلیم کی بنیاد کے طور پر دیکھتے تھے۔ علی گڑھ میں سر سید ڈے محض ایک سالانہ تقریب نہیں بلکہ علم، ادب اور محبت کے اُن اقدار کی تجدید ہے جو مکالمے، برادری اور اجتماعی یاد کے ذریعے منائی جاتی ہے۔
ہر ہال اور اسکول میں ممتاز مہمانانِ گرامی نے شرکت کی اور طلبہ و طالبات کو قیادت، سماجی ترقی اور قومی تعمیر پر فکر انگیز خیالات سے روشناس کرایا۔ بیگم عزیز النسا ہال میں پرو وائس چانسلر پروفیسر ایم محسن خاں نے کہا کہ سر سید کی تعلیمی تحریک کا مقصد صرف علم دینا نہیں بلکہ اخلاقی تربیت اور شہری ذمہ داری کا شعور بیدار کرنا بھی تھا۔ انہوں نے طلبہ سے کہا کہ وہ تعلیم اور ہمدردی کے ذریعے اصلاح کے سفیر بنیں۔
احمدی اسکول فار دی وژوئلی چیلنجڈ میں مہمانِ خصوصی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج آگرہ محترمہ آصفہ رانا نے شمولیتی تعلیم کی قوتِ تبدیلی پر روشنی ڈالی۔ علامہ اقبال بورڈنگ ہاؤس میں مسٹر سنجے کمار ساگر، ایڈیشنل ایس پی (نارکوٹکس)، لکھنؤ نے نوجوانوں کو اخلاقی قدروں کے تحفظ کی ذمہ داری یاد دلائی۔ عبداللہ ہال میں سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز نے سر سید کی خواتین کی تعلیم و ترقی کے لیے جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جبکہ بیگم سلطان جہاں ہال میں ڈاکٹر فائزہ عباسی نے خود انحصاری اور قومی تعمیر کے لیے ہنر پر مبنی تعلیم کو کلیدی قرار دیا۔ بی بی فاطمہ ہال میں آئی اے ایس افسر مسٹر پریم پرکاش مینا نے جدت اور اخلاقی قیادت کے امتزاج پر زور دیا۔
آئی جی ہال میں سابق پرنسپل ویمنس کالج پروفیسرآمنہ کشور نے خواتین قیادت کی تاریخ پر روشنی ڈالی، جبکہ ایس این ہال میں ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر ڈاکٹر انیس انصاری مہمانِ خصوصی اور ان کی اہلیہ معروف فیشن ڈیزائنر محترمہ اسماء حسین مہمانِ اعزازی تھیں۔ محترمہ اسماء حسین نے ہال کی ترقی کے لیے ایک لاکھ روپے کا عطیہ دیا، جبکہ مسٹر ناصر محمد، جوائنٹ سکریٹری (اتراکھنڈ)، نے غریب طالبات کے لیے ایک لاکھ روپے کا عطیہ پیش کیا۔ یہ قدم سر سید کی سماجی خدمت اور تعلیمی ہمدردی کے پیغام کی عملی تعبیر تھا۔
اسی جذبے کے ساتھ دیگر ہالوں میں بھی تقریبات ہوئیں۔ آفتاب ہال میں وزارتِ تعلیم کے جوائنٹ سکریٹری مسٹر سید اکرام رضوی نے این ای پی 2020 سے علی گڑھ کی فکری ہم آہنگی پر بات کی؛ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر ہال میں راجیو گاندھی نیشنل یونیورسٹی، پٹیالہ کے وائس چانسلر پروفیسر جے ایس سنگھ نے جمہوریت اور مساوات کے استحکام میں اعلیٰ تعلیم کے کردار پر اظہارِ خیال کیا؛ ہادی حسن ہال میں سٹی مجسٹریٹ ڈاکٹر اتل گپتا نے قومی تعمیر کی اخلاقی بنیادوں کو اجاگر کیا؛ جبکہ ایم ایم ہال میں جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر پروفیسر محمد افشار عالم نے ایمان اور عقل کے امتزاج کو علیگڑھ کا امتیاز قرار دیا۔
محمد حبیب ہال میں ہماچل پردیش یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر مہاویر سنگھ نے کہا کہ علم و تحقیق کو سماجی ذمہ داری سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ این آر ایس سی ہال میں ڈاکٹر ماجد احمد طالقوتی (ڈائریکٹر، مولچند کینسر انسٹی ٹیوٹ) نے سائنسی تحقیق کو انسانیت کی خدمت سے جوڑا۔ آر ایم ہال میں سی آئی ایس ایف کمانڈنٹ مسٹر اشتیاق عالم نے پالیسی سازی میں اخلاقی اصولوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی؛ سر شاہ سلیمان ہال میں حاجی محمد ظہیر (الدعا فوڈ) نے روایتی علم اور جدید تحقیق کے امتزاج پر زور دیا؛ سر ضیاء الدین ہال میں آئی پی ایس افسر مسٹر نیرج کمار جادون نے دیانت کو قومی وقار کا زینہ قرار دیا؛ ایس ایس ہال (شمالی) میں وزارتِ ٹیلی کام کے ڈائریکٹر (ویجیلنس) مسٹر فرقان اختر نے ڈیجیٹل گورننس میں اخلاقی اقدار پر گفتگو کی؛ ایس ایس ہال (جنوبی) میں نظام ہفتم، حیدرآباد کے پوتے نواب میر نجف علی خاں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ اپنی جڑوں سے جڑے رہیں؛ اور ندیم ترین ہال میں پروفیسر رضااللہ خاں نے طلبہ کو تحقیق میں بہترین کارکردگی کے ذریعے اس وراثت کو آگے بڑھانے کی تلقین کی۔
وی ایم ہال میں حج کمیٹی آف انڈیا کے سی ای او، مسٹر شانوا س (آئی اے ایس) نے ایمان، تعلیم اور عوامی خدمت کے باہمی رشتے پر پراثر خطاب کے ساتھ تقریبات کا اختتام کیا۔
کیمپس کا جشن علیگڑھ کی زندہ روایت کا حسین منظر پیش کر رہا تھا۔ لڑکے دیدہ زیب شیروانیوں میں، لڑکیاں روایتی لباس میں، اور روشنیوں میں نہاتی عمارتیں ایک شاندار منظر تخلیق کر رہی تھیں۔ راستوں پر جگمگاتی فئری لائٹس، صحنوں میں جلتے دیے، اور اجتماعی عشائیہ کی خوشبو فضا میں سر سید کے پیغامِ مساوات، اخوت اور شکر گزاری کی یاد تازہ کر رہی تھی۔
تقریبات کے دوران لینڈ اینڈ گارڈن ڈیپارٹمنٹ، الیکٹریسٹی ڈیپارٹمنٹ اور بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کی بہترین کارکردگی نے کیمپس کی خوبصورتی میں اضافہ کیا۔ خوشنما باغات، روشن راستے اور صاف ستھری عمارتیں ان کی خاموش خدمت کا مظہر تھیں۔
ان تقاریب کے پس پردہ کئی ہفتوں کی منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کارفرما تھی۔ جنرل سیکشن، کلچرل ایجوکیشن سنٹر، پبلک ریلیشن آفس اور سنٹرل آٹوموبائل ورکشاپ سمیت متعدد شعبوں نے انتظام، میڈیا کوآرڈی نیشن، آرٹسٹک ڈسپلے اور مہمان نوازی میں بھرپور کردار ادا کیا۔ یہ تقریب محض ایک جشن نہیں بلکہ ادارہ جاتی نظم و ضبط، اشتراک اور مثبت روایت کی عملی تصویر بن گئی۔
ٍشام ڈھلنے کے ساتھ جب کیمپس روشنیوں میں نہا گیا اور اجتماعی کھانے کی خوشبو فضا میں پھیل گئی تو سر سید کا پیغام ایک بار پھر تازہ ہو گیا — کہ تعلیم، ہمدردی اور برادری ہی ایک مہذب معاشرے کی بنیاد ہیں۔ اس طرح سر سید ڈے 2025 کی تقریبات ایک ویژنری رہنما کے احترام سے بڑھ کر اس عہد کی تجدید بن گئیں کہ علیگڑھ آج بھی علم، خدمت اور محبت کی وہ روشنی زندہ رکھے ہوئے ہے جو سر سید نے صدیوں پہلے روشن کی تھی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں ڈرون ٹیکنالوجی کی جدید ایپلی کیشنز پر تعلیمی اجلاس
علی گڑھ، 25 /اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے انٹرڈسپلنری ڈپارٹمنٹ آف ریموٹ سینسنگ اینڈ جی آئی ایس ایپلی کیشنز کے زیر اہتمام انڈین سوسائٹی آف ریموٹ سینسنگ (آئی ایس آر ایس) علی گڑھ چیپٹر کے تعاون سے ”ڈرون ٹیکنالوجی کی ابھرتی ہوئی ایپلی کیشنز اور عملی مظاہرہ“ کے عنوان سے ایک معلوماتی اجلاس منعقد کیا گیا۔
اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے شعبہ ارضیات کے پروفیسراکرم جاوید، سیکریٹری آئی ایس آر ایس علی گڑھ چیپٹر، نے موضوع کا تعارف کرایا اور شرکاء کا خیرمقدم کیا۔
کلیدی خطاب ڈاکٹر حارث حسن خاں، صدر شعبہ نے پیش کیا۔ انہوں نے بغیر پائلٹ فضائی گاڑیوں (یو اے ویز) یا ڈرونز کے جدید جیو اسپیشیل ڈیٹا کے حصول، ماحولیاتی نگرانی، درست زرعی تحقیق، آفات سے نمٹنے، شہری منصوبہ بندی اور انفراسٹرکچر کے تجزیے میں انقلاب آفریں کردار پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر خان نے بتایا کہ ڈرون ٹیکنالوجی کس طرح ہائی ریزولوشن امیجنگ، تیز میپنگ اور ریئل ٹائم تجزیات کے ذریعے زمین کے مشاہدے اور مکانی ڈیٹا کے حصول میں انقلاب پیدا کر رہی ہے۔
انہوں نے ڈرون سے متعلق قانونی پہلوؤں، آپریشنل تحفظات اور ڈرون سے حاصل شدہ ڈیٹا کے ریموٹ سینسنگ اور جی آئی ایس پلیٹ فارم سے انضمام پر بھی گفتگو کی اور طلبہ کو اس تیزی سے ترقی کرتے شعبے میں تحقیق و اختراع کے مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دی۔
ڈرون آپریشن کا براہِ راست عملی مظاہرہ بھی کیا گیا، جس میں فلائٹ پلاننگ، فضائی ڈیٹا کیپچر اور پوسٹ پراسیسنگ کے مراحل دکھائے گئے۔ طلبہ و اساتذہ نے میپنگ، خطہ زمین کی تشکیل اور سبزہ تجزیہ کے عملی استعمالات ملاحظہ کیے۔
صدر آئی ایس آر ایس علی گڑھ چیپٹر، پروفیسر قاضی مظہر علی، نے اختتامی کلمات میں کہا کہ جیو اسپیشیل سائنسز میں ڈرونز ایک ابھرتی ہوئی اور تبدیلی لانے والی ٹیکنالوجی کے طور پر غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ انہوں نے طلبہ و محققین میں عملی طور سے سیکھنے اور ٹیکنالوجی سے آگاہی کو فروغ دینے کے لیے شعبے کی کوششوں کو سراہا۔
شکریہ کی تجویز ڈاکٹر رضوان احمد نے پیش کی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے پروفیسر نے اوسلو یونیورسٹی میں اینٹی مائیکروبیل مزاحمت پر لیکچر پیش کیا
علی گڑھ، 25 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے انٹرڈسپلنری بایو ٹیکنالوجی یونٹ کے پروفیسر اسد اللہ خاں، جو اوسلو یونیورسٹی (ناروے) کے انسٹی ٹیوٹ آف اورل بایولوجی میں وزٹنگ پروفیسر ہیں، نے وہاں ”اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس“ (AMR) کے عنوان سے لیکچر پیش کیا، جو دنیا کے سب سے سنگین صحت عامہ کے مسائل میں سے ایک ہے۔
پروفیسر خان نے محققین، معالجین اور طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت (WHO) کے ترجیحی جراثیم میں آخری دفاعی اینٹی بایوٹکس کی موجودگی سے متعلق اپنی تحقیق پیش کی۔ انہوں نے دواؤں کے خلاف مزاحمت رکھنے والے جراثیم کے بڑھتے ہوئے خطرے اور اس عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے سائنسی اشتراکِ عمل کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
اپنی ٹیم کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ فوٹوڈائنامک تھراپیز کو نینو پارٹیکلز کے ساتھ یکجا کر کے ایسے علاجی طریقے تیار کیے جا رہے ہیں جو روایتی اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت رکھنے والے انفیکشنز کے علاج میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے نئی ویکسینز اور علاجی حکمتِ عملیوں کی تیاری کی تفصیلات بھی بیان کیں جو اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس کے خلاف عالمی جدوجہد کو مضبوط بنائیں گی۔ پروفیسر خان نے اس چیلنج سے نمٹنے میں بھارت کے اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے ”ون ہیلتھ“ (One Health) فریم ورک کے تحت انسانی، حیوانی اور ماحولیاتی صحت کے باہمی ربط پر زور دیا۔
پروفیسر خان نے اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس کو ”خاموش وبا“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بڑھتے خطرے پر قابو پانے کے لیے عالمی سطح پر متحد اور اختراعی سائنسی تعاون ناگزیر ہے۔
اُن کے دورہ اوسلو کے دوران اے ایم یو اور اوسلو یونیورسٹی کے درمیان متعدی امراض اور مالیکیولر میڈیسن کے میدانوں میں مشترکہ تحقیقی تعاون کے امکانات پر بھی غوروخوض کیا گیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں ہفتہ روزہ سیرت النبیؐ پروگرام کا افتتاح
علی گڑھ، 25 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی سیرت کمیٹی کے زیر اہتمام ”ہفت روزہ سیرت النبیؐ پروگرام“ کی افتتاحی نشست کل شام یونیورسٹی کے اسٹریچی ہال میں منعقد ہوئی۔
اس موقع پر مہمانِ خصوصی، رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر نے نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات کے آفاقی پیغام پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آپؐ کی رہنمائی سے ایک پسماندہ قوم ترقی و عزت کی بلندیوں پر پہنچی۔ انہوں نے طلبہ و محققین پر زور دیا کہ وہ تعلیم و تحقیق میں سیرتِ رسول ﷺ کو مشعلِ راہ بنائیں اور کہا کہ یونیورسٹی میں ”سیرت اکیڈمی“ کے قیام کے لیے وہ مکمل تعاون فراہم کریں گے۔
مہمان خطیب ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی، سکریٹری جماعتِ اسلامی ہند، نے کہا کہ سیرت کی محافل میں شرکت اللہ تعالیٰ کا بڑا انعام ہے۔ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ سے محبت ایمان کا بنیادی جز ہے، اور اے ایم یو کی سرزمین عشقِ رسولؐ کی روایت سے معمور ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرسید احمد خاں نے ولیم میور کی گستاخانہ تحریروں کا نہایت علمی اور مدلل جواب ”خطباتِ احمدیہ“ کے ذریعے دیا۔
ڈاکٹر ندوی نے سیرت ویک کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس روایت کا آغاز علامہ شبلی نعمانی نے اپنے مکان پر کیا تھا۔ بعد میں شرکاء کی تعداد بڑھنے پر یہ اجتماع سالار منزل اور پھر اسٹریچی ہال منتقل ہوا، جہاں آج تک بلاوقفہ جاری ہے۔
صدرِ اجلاس، ڈین فیکلٹی آف تھیالوجی، پروفیسر محمد حبیب اللہ قاسمی نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی یاد ایمان کی علامت اور برکت کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے اعلیٰ اخلاق، صداقت، عفو و درگزر، صبر و حلم اور شفقت کو اُجاگر کیا۔
اس سے قبل، کنوینر سیرت کمیٹی اور چیئرمین شعبہ سنّی تھیالوجی، پروفیسر محمد راشد نے خیرمقدمی کلمات پیش کیے۔ تلاوتِ کلامِ پاک قاری محمد اعظم نے کی جبکہ حمد قاری محمد اجمل نے پیش کی۔
پروگرام کی نظامت ڈاکٹر ریحان اختر نے کی اور شکریہ کی تجویز ڈاکٹر محمد عاصم خاں نے پیش کی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو اے بی کے ہائی اسکول (بوائز) میں سالانہ انٹر ہاؤس اسپورٹس ویک کا افتتاح
علی گڑھ، 25 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اے بی کے ہائی اسکول (بوائز) میں سالانہ انٹر ہاؤس اسپورٹس ویک کا آغاز جوش و خروش اور ولولے کے ساتھ ہوا۔
مہمان خصوصی، جناب نورالسلام، فائنانس آفیسر اے ایم یو، نے پرچم کشائی کر کے کھیلوں کے ہفت روزہ پروگرام کا باضابطہ افتتاح کیا۔
چاروں ہاؤسزبلو، گرین، ریڈ اور ییلوکے شاندار مارچ پاسٹ سے دن کا آغاز ہوا جس سے طلبہ کے نظم و ضبط، ہم آہنگی اور اتحاد کا مظاہرہ ہوا۔
پرنسپل ڈاکٹر ثمینہ نے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ کھیل نوجوانوں میں قیادت، تعاون اور ضبط و نظم کے اوصاف پیدا کرتے ہیں۔
مہمانانِ اعزازی ڈاکٹر نوشاد ڈبلیوانصاری (شعبہ جسمانی تعلیم) اور جناب صباح الدین (پرنسپل، سید حامد سینیئر سیکنڈری اسکول، بوائز) نے طلبہ کو حوصلہ افزا کلمات سے نوازا اور صحت مند جسم و مثبت کھیلوں کے رویے کی اہمیت پر زور دیا۔
تقریب میں کبوتر اُڑانے اور اسپورٹس ٹارچ روشن کرنے کے علامتی مظاہرے بھی کیے گئے جو امن، اتحاد اور صحت مند مسابقت کی علامت تھے۔ افتتاحی پروگرام کا اختتام رسہ کشی کے دلچسپ مقابلے سے ہوا۔
اسکول کے اسپورٹس کوآرڈی نیٹرز جناب رئیس احمد اور محترمہ ندا عثمانی نے پروگرام کو مؤثر انداز میں منظم کیا۔
نظامت محترمہ غوثیہ اقبال نے کی جبکہ شکریہ کی تجویز محترمہ فرح نجم نے پیش کی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ فلسفہ میں ”سرسید: تعلیم اور اس سے آگے“ موضوع پر لیکچرکا اہتمام
علی گڑھ، 25 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ کے ڈائیلاگ فورم کے زیر اہتمام ”سرسید: تعلیم اور اس سے آگے“ کے عنوان سے ایک لیکچر فیکلٹی آف آرٹس کے لاؤنج میں منعقد کیا گیا۔ یہ خطاب پروفیسر ایم شافع قدوائی، ڈائریکٹر سرسید اکیڈمی، اے ایم یو نے پیش کیا۔ انہوں نے سرسید احمد خاں کے عقلیت پسند نقطہ نظر اور اصلاحی وژن کی آج کے دور میں معنویت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
پروفیسر قدوائی معروف مصنف، ذو لسانی نقاد، مترجم اور ساہتیہ اکادمی ایوارڈ (2019) یافتہ ہیں، اور اپنی معروف کتاب ”سر سید احمد خاں: ریزن، نیشن اینڈ رلیجن“ (رٹلیج، 2020)کے لیے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سرسید نے حساس مذہبی و سماجی موضوعات پر جذباتی یا پرتشدد ردِعمل کے بجائے استدلال، قانونی چارہ جوئی اور علمی مکالمے کو ترجیح دی، اور اسی لیے انہوں نے ولیم میور کے اعتراضات کے جواب میں ”خطباتِ احمدیہ“ تحریر کی۔
انہوں نے کہا کہ سرسید ایمان اور عقل میں تطبیق کے قائل تھے، نہ کہ ظاہری تشریحات کے پابند۔ خواتین کی تعلیم کے حوالے سے سرسید کی تائید واضح تھی، تاہم انہوں نے اس وقت کے سماجی حالات کے پیشِ نظر مردوں کی تعلیم کو ترجیح دی۔
پروفیسر قدوائی نے طلبہ کو عقلیت پسندی، خود انحصاری، فکری دیانت اور اظہارِ رائے کی آزادی اپنانے کی تلقین کی اور کہا کہ ”جب ہم کتابیں جلاتے ہیں تو دراصل ہم انسانوں کو جلا دیتے ہیں“، یعنی علم سے بیزاری انسانیت سے بیزاری ہے۔
پروگرام کے آغاز میں شعبہ فلسفہ کے صدر ڈاکٹر عامر ریاض نے خیرمقدمی کلمات ادا کیے اور سرسید کے فلسفیانہ و اصلاحی کردار پر روشنی ڈالی۔
ڈین فیکلٹی آف آرٹس، پروفیسر ٹی۔ این۔ستیسن نے صدارتی خطاب میں سرسید کی فکری تحریک کی پائیدار اہمیت اور پروفیسر قدوائی کے تجزیے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مکالمہ، مباحثہ اور روایتی حدود سے آگے سوچنا ہی حقیقی علم کی روح ہے۔
اختتامی کلمات میں ڈاکٹر عقیل احمد نے سرسید کے سیاسی، سماجی اور فکری کارناموں کا خلاصہ پیش کیا۔
نظامت محترمہ ہبہ صدیقی نے انجام دی، جبکہ پروگرام کے کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر زید احمد صدیقی نے شکریہ کی تجویز پیش کی۔
Comments are closed.