فخر سے کہو ہم مسلمان ہیں!

 

معصوم مرادآبادی

 

دہلی گیٹ سے لال قلعہ اور چاندنی چوک کی طرف جانے والی سڑک کا نام اگرچہ نیتا جی سبھاش مارگ کردیا گیا ہے لیکن لوگ آج بھی اسے دریا گنج ہی کے نام سے جانتے ہیں۔سنا ہے کہ ہرسال یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم جواہر لال نہرو ایک کھلی جیپ میں سوار ہوکر اسی سڑک سے گزرتے ہوئے لال قلعہ پہنچتے تھے اور راستے پر موجود لوگ ان کا استقبال کرتے تھے۔اسی دریا گنج کا چوراہا جو اپنی بھیڑ بھاڑ اور ٹریفک کی بدنظمی کے لیے بدنام ہے، پہلے دریا گنج پل کا چوراہا کہلاتا تھا کہ یہاں پیدل چلنے والوں کو ٹریفک کی بھیڑ بھاڑ سے بچانے کے لیے ایک پل بنایا گیا تھا، مگرلوگوں نے کبھی اسے منہ نہیں لگایااور آخرکارکچھ دن پہلے اسے مسمار کردیا گیا۔ اس چوراہے کے ایک جانب انصاری روڈ ہے جس کے دونوں طرف دہلی کے نامی گرامی بک سیلروں کے دفاتر ہیں۔ اس شاہراہ کا نام انصاری روڈ اس لیے رکھا گیا تھا کہ یہیں مجاہدآزادی ڈاکٹر مختار احمد انصاری کی کوٹھی واقع تھی۔ کوٹھی آج بھی ہے لیکن یہاں لگا ہوا یادگاری کتبہ غائب کردیا گیا ہے۔البتہ اس شاہراہ کے شروع میں پردہ باغ کے نام سے ایک پارک آج بھی موجود ہے جوپردہ نشین خواتین کے لیے مخصوص ہے، مگر اس پارک میں بے پردہ خواتین بھی نظر آتی ہیں۔

اس چوراہے کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ یہاں کوئی ٹریفک کے ضابطوں کی پابندی نہیں کرتا اور چاروں سمتوں پر لگی ہوئی ریڈ لائٹس خود پر شرمندہ ہوتی رہتی ہیں۔ یہاں ہمہ وقت رکشائیں، سائیکلیں، تھری وہیلر اور کاریں ایک دوسرے سے دست وگریباں نظر آتی ہیں۔ اگر غلطی سے کبھی کسی ٹریفک کانسٹبل کی ڈیوٹی اس چوراہے پر لگادی جاتی ہے تو وہ یہاں کاٹریفک کنٹرول کرنے کے مقابلے میں نوکری چھوڑنے کو ترجیح دیتاہے۔ یہاں پہنچ کر مجھے جعفر زٹلی کا یہ شعر یاد آتا ہے۔

جعفریہ کوئے جاناں میں عجب بھیڑ بھاڑ ہے

میں بھی گھسڑ پھسڑ کے گھسیڑم گھساڑ ہوں

آئیے اب ہم اپنے عنوان کی طرف واپس آتے ہیں جو ایک مخصوص پس منظر کی وجہ سے تراشا گیا ہے۔مذکورہ چوراہے سے بائیں جانب کا راستہ شاہجہانی مسجد کی طرف جاتا ہے، لیکن مسجد تک پہنچنا ہمیشہ کاردارد رہا ہے۔ حالانکہ اب یہاں وہ ابتر صورتحال نہیں ہے، جو کبھی مرغا مچھلی منڈی کی وجہ سے ہواکرتی تھی۔ اس راستے پر پہلے مچھلی والا اسپتال ہی آتا ہے جس کا نام بدل کراب کستوربا گاندھی اسپتال کردیا گیا ہے۔ یہ اسپتال خواتین کے لیے مخصوص ہے اور زچہ بچہ مرکز بھی کہلاتا ہے۔اس اسپتال کے اختتا م پر کبھی ڈی ایم ایس(دہلی ملک اسکیم)کا ایک بوتھ ہوا کرتا تھا جہاں سے ہم اپنے بچپن میں گاڑھا دودھ خریدا کرتے تھے۔ یہ دودھ شیشے کی بوتلوں میں بڑی مہارت سے پیک کیا جاتا تھا۔ بائیں جانب ایڈورڈ پارک ہے جسے اب سبھاش پارک کردیا گیا ہے۔ اس پارک کی بھی اپنی ایک کہانی ہے۔یہاں مالش کرنے والے مخصوص تیلوں کے ساتھ گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ کسی زمانے میں یہ آوارہ گردوں کی سب سے بڑی آماجگاہ ہوا کرتا تھا۔اسی پارک کے ایک حصے میں اب جامع مسجد میٹرو اسٹیشن بنادیا گیا ہے۔

یہیں جگت سنیما بھی تھا اور اسی سنیما سے دراصل اس کیفیت کا آغاز ہوتا تھا جو گندگی اور غلاظت سے عبارت تھی۔سب سے زیادہ بدبو اس کوڑا گھر سے آتی تھی، جو مچھلی والے اسپتال کی پشت پر واقع ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب یہاں مرغ وماہی کی تھوک مارکیٹ ہوا کرتی تھی۔ حالانکہ یہاں سے گزرنا آج بھی کسی آزمائش سے کم نہیں ہے لیکن جن لوگ نے پچھلا زمانہ دیکھا ہے وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ یہ علاقہ اپنے بے مثال تعفن اور بدبوکے لیے مشہور تھا اور نازک اندام لوگوں کا یہاں سے گزر نا محال تھا۔ ناک پر رومال رکھنے کے باوجود مشام جاں ’معطر‘ہوجایا کرتے تھے۔ بہت سے لوگ تو اس گزرگاہ کی وجہ سے اس علاقے میں قدم رکھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ مگر جامع مسجد کے گردوپیش کے مکین یہاں سے اکثر ناک اور آنکھ پر رومال رکھے بغیرہی گزرجاتے تھے۔گلی خانخاناں میں موجود مچھلی کی دکانوں سے اٹھنے والی بسیند اس کے ماسوا تھی۔ اسی راستے میں بائیں جانب پیپل کا ایک گھنادرخت تھا جو آج بھی جوں کا توں موجودہے۔ اس درخت کی خصوصیت ہمیشہ یہ رہی کہ اس کے نیچے ٹوٹی پھوٹی ہڈیوں کا علاج کرنے والا کوئی پہلوان ضرور بیٹھتا تھا۔ درد، چوٹ، موچ سبھی کو وہ ٹھیک کرتا تھا۔ یہ پہلوان زمانے کے اتنے نشیب وفراز کے باوجود آج بھی یہیں بیٹھتا ہے اور میڈیکل سائنس کی ہوشربا ترقی کے اس دور میں بھی لوگ اپنی ہڈیوں کا علاج اسی سے کراتے ہیں۔

اسی درخت کے نزدیک پرانا تانگہ اسٹینڈ تھا، جو اب نابود ہوچکا ہے۔یہاں بڑی تعداد میں تانگے کھڑے ہوتے تھے اور ان کے ساتھ ساتھ گھوڑے بھی۔ ان گھوڑوں کی وجہ سے گندگی اور تعفن شباب پر تھا۔ سنا ہے یہ تانگہ اسٹینڈ مغلیہ دور کی نشانی تھا جب نقل وحمل کا ذریعہ یہی تانگے ہوا کرتے تھے اور ان میں بیٹھ کر لوگ حضرت نظام الدین، مہرولی اور قرول باغ جایا کرتے تھے۔ اب یہ تانگہ اسٹینڈ یہاں نہیں ہے، البتہ پرانی دلی کے کچھ شوقینوں کے پاس اب بھی مخصوص قسم کے تانگے ہیں، جن پر بیٹھ کر وہ اسی کروفر کے ساتھ نکلتے ہیں۔تانگہ اسٹینڈ سے آگے بڑھ کر دہلی کا تاریخی اردو پارک تھا جہاں کسی زمانے میں بڑے بڑے جلسے ہوتے تھے اور آزادی کی تحریک میں اس کا اہم مقام تھا۔ مشاعرے بھی یہیں ہوتے تھے۔ سنا ہے ایک زمانے میں یہاں اردو کانفرنس بھی ہوئی تھی جس میں پورے ملک سے اردو والے شریک ہوئے تھے۔

اسی راستے پرپالتو بھیڑیں بھی ٹہلتی رہتی تھیں اور وہ بھی یہاں کی گندگی میں اضافہ کا ا یک سبب تھیں۔غرض یہ کہ یہ علاقہ جہاں اپنی تاریخ وتہذیب کے لیے مشہور تھا وہی گندگی اور تعفن کی وجہ سے پورے دہلی میں بدنام تھا۔ ان تمام گندگیوں اور غلاظتوں سے گزرکر ایک دکان پر آویزاں یہ بورڈ سب کو اپنی طرف متوجہ کرتا تھا جس پر لکھا تھا”فخر سے کہو ہم مسلمان ہیں۔“یہ دراصل زیڈاحمد ایک دام والے کی دکان تھی جسے اس ماحول میں بھی اپنے مسلمان ہونے پر فخر کا احساس ہوتاتھا، جبکہ بیشتر لوگوں کو یہاں سے گزرتے ہوئے شرمندگی محسوس ہوتی تھی۔

Comments are closed.