ڈراپ شپنگ (drop shipping) کے کاروبار کا حکم اور اس کی متبادل شکلیں

 

سوال:

عرض یہ ہے کہ ہم اپنی ذاتی ویب سائٹ پر ڈراپ شپنگ (drop shipping) کے تحت پروڈکٹ پوسٹ کرتے ہیں۔ جب کسٹمر آرڈر کرتا ہے تو ہم ہول سیلر کو ادائیگی کرتے ہیں اور وہی ہول سیلر براہِ راست پروڈکٹ کسٹمر تک پہنچا دیتا ہے، اس دوران ہمیں نفع حاصل ہوتا ہے۔ پروڈکٹ ہمارے پاس موجود نہیں ہوتا بلکہ ہول سیلر کے پاس ہوتا ہے، اور اس سے پہلے ہی طے ہوتا ہے کہ قیمت فکس ہوگی، نفع ونقصان میں وہ شریک نہیں ہوگا، اور اگر پروڈکٹ ریٹرن آجائے تو پورا نقصان ہمارا ہوگا۔

سوال یہ ہے کہ کیا ڈراپ شپنگ اس صورت میں جائز ہے؟ اور اگر نہیں ہے تو اس کی شرعی طور پر جائز شکل کون سی ہوگی؟

*عبد المجیب خانقاہ وارڈ برہانپور ایم-پی*

 

*جواب:*

شریعتِ مطہرہ نے خرید وفروخت کے چند بنیادی اصول متعین فرمائے ہیں، جن میں سے دو اصول نہایت اہم ہیں، اور ان کا صراحت کے ساتھ احادیثِ نبویہ میں ذکر آیا ہے:

 

1- ملکیت (Ownership): یعنی کسی بھی سامان (Product) کو فروخت (Sale) کرنے کے لیے اس سامان کا مالک (Owner) ہونا ضروری ہے۔

 

2- قبضہ (Possession): یعنی ملکیت کے بعد اُس سامان پر حقیقی یا حکمی قبضہ حاصل کرنا لازم ہے، خصوصاً منقولہ اشیاء (جیسے سامان، کپڑا، الیکٹرانک چیزیں وغیرہ) میں قبضے سے پہلے فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔

 

ڈراپ شپنگ (drop shipping) میں عموماً تاجر (Seller) اس طرح فروخت کرتا ہے کہ آرڈر (Order) ملنے پر وہ پہلے اس سامان (Product) کو فروخت کر دیتا ہے، حالانکہ وہ سامان اس وقت اس کی ملکیت یا قبضہ میں نہیں ہوتا۔ بعد میں وہ کسی جگہ سے وہی سامان خرید کر، اس پر قبضہ کیے بغیر، دکاندار (Shopkeeper) یا ہول سیلر (Wholesaler) کے ذریعے براہِ راست خریدار (Purchaser) کے پتے (Address) پر بھیج دیتا ہے۔

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو سامان تمہاری ملکیت میں نہ ہو، یا ملکیت کے بعد جس پر تم نے قبضہ نہ کیا ہو، اسے فروخت کرنا جائز نہیں۔ (ابوداؤد:3505 – المعجم الأوسط للطبراني:4683-1554)

لہٰذا مذکورہ صورت میں ڈراپ شپنگ کے ذریعے کاروبار کرنا جائز نہیں ہے۔

 

البتہ درج ذیل صورتیں شرعاً درست ہوسکتی ہیں:

1- اگر کوئی شخص پہلے سامان خرید کر اپنی ملکیت اور قبضے میں لے لے، پھر اسے خریدنے والے کو فروخت کرے، تو یہ صورت جائز ہوگی۔

 

2- کمیشن ایجنٹ (Broker) کے طور پر کام کرے، یعنی خریدار کو یہ بتا دے کہ وہ سامان کا مالک نہیں ہے۔ ڈراپ شپنگ کرنے والا، سامان کے اصل مالک سے یہ طے کرے کہ: میں آپ کے پاس گاہک (Customer) لاؤں گا، وہ جتنے کی خریداری کرے گا، اس کا اتنے فیصد (Percent) میرا کمیشن (Commission) ہوگا۔

 

3- وعدۂ بیع (Promise to Sell) کی صورت اختیار کرے، یعنی خریدار کو یہ بتا دے کہ: فی الحال میرے پاس یہ سامان موجود نہیں ہے، میں کسی اور سے خرید کر آپ کو فروخت کروں گا۔ اس کے بعد ڈراپ شپنگ کرنے والا سامان کسی اور سے خرید کر خود قبضہ کرے یا اپنے وکیل (Agent) (مثلاً ڈیلیوری پرسن Delivery Person) کے ذریعے قبضہ کر لے۔ جب سامان خریدار کے پاس پہنچ جائے، تب اسے فروخت کرے۔

 

4- بیعِ وکالہ (Sale through) کی صورت اختیار کرے۔ یعنی اگر ڈراپ شپنگ کرنے والا خریدار کو یہ نہیں بتانا چاہتا کہ سامان اس کی ملکیت میں نہیں ہے، تو وہ اصل مالک کے ساتھ معاہدہ (Agreement) کر لے، مثلاً: میں آپ کا سامان فروخت کروں گا، اس پر وکیل بالبیع اپنا نفع (Profit) فیصد یا متعین رقم دونوں میں سے کسی ایک شکل میں طے کرسکتا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

*محمد اظہر متقی قاسمی*

برہانپور ایم-پی انڈیا

29/ربیع الثانی 1447

22/اکتوبر 2025

Comments are closed.