بہار الیکشن: وعدوں اور ذات پات کی سیاست کی نئی بساط

 

محمد رفیع ساگر

 

بہار کی سیاست ایک بار پھر جوش و خروش کے ساتھ آخری ایام میں داخل ہو چکی ہے۔ ریاست کی کل 243 اسمبلی نشستوں پر اس بار 2 مرحلوں میں ووٹنگ ہونے جا رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں 6 نومبر کو 121 سیٹوں پر اور دوسرے مرحلے میں 11 نومبر کو 122 سیٹوں پر ووٹنگ ہوگی جب کہ ووٹ شماری 14 نومبر کو ہوگی۔ ریاست کے تقریباً 7 کروڑ 43 لاکھ ووٹرس اپنے حق رائے کا استعمال کرکے نمائندے منتخب کرنے جا رہے ہیں۔

 

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس بار 14 لاکھ نوجوان ووٹر پہلی مرتبہ اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں گے۔

یہ انتخاب نہ صرف اعداد و شمار کے لحاظ سے اہم ہے بلکہ بہار کی سیاسی سمت کا تعین کرنے والا بھی مانا جا رہا ہے ۔

اس بار انتخابی میدان میں امیدواروں کی ریکارڈ تعداد ہے۔ پہلے مرحلے میں 1314 اور دوسرے مرحلے میں 1302 امیدوار میدان میں ہیں۔ یوں مجموعی طور پر 2616 امیدوار عوام کے درمیان اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ مقابلہ نہ صرف سخت بلکہ بے حد دلچسپ بھی ہے کیونکہ بیشتر نشستوں پر سہ رخی یا چہار رخی جدوجہد دیکھی جا رہی ہے۔

 

اقتدار کے دو بڑے اتحاد این ڈی اے اور مہاگٹھ بندھن آمنے سامنے ہیں۔ این ڈی اے میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور جنتا دل (یو) نے نشستوں کی تقسیم اس انداز میں کی ہے کہ بی جے پی 101 اور جے ڈی یو 101 سیٹوں پر میدان میں ہے۔ دوسری جانب آر جے ڈی کی قیادت میں مہاگٹھ بندھن نے آر جے ڈی کو 143، کانگریس، وی آئی پی اور بائیں بازو کی جماعتوں کو بقیہ نشستیں دی ہیں۔ لیکن ٹکٹ تقسیم کے دوران دونوں محاذوں کے اندر شدید ناراضگی دیکھنے کو ملی۔ کئی پرانے اور بااثر مقامی لیڈروں کو ٹکٹ نہ ملنے سے پارٹیوں میں بغاوت کی فضا ہے۔ متعدد حلقوں میں باغی امیدوار اپنی ہی پارٹی کے نامزد امیدواروں کے خلاف انتخابی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

 

یہ انتخاب بظاہر وعدوں، منشور اور ترقی کے نعروں پر ہو رہا ہے لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ ذات پات کی سیاست اب بھی فیصلہ کن عنصر بنی ہوئی ہے۔ بہار میں ذات اور برادری کا اثر گہرا ہے لیکن اس بار نوجوان طبقہ روزگار، تعلیم، صحت اور مہنگائی جیسے عملی مسائل پر زیادہ بات کر رہا ہے۔ بیروزگاری میں اضافہ، سرکاری بھرتیوں میں سستی اور کسانوں کی معاشی مشکلات نے ووٹروں کو سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ذات پات اب بھی اثر رکھتی ہے مگر ووٹر اب صرف شناخت پر نہیں بلکہ کارکردگی پر بھی نظر رکھ رہے ہیں۔

 

انتخابی مہم میں زبان کا تلخ ہونا بھی ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ مختلف جماعتوں کے رہنماؤں کے سخت اور بعض اوقات غیر شائستہ بیانات نے سیاسی ماحول کو گرم کر دیا ہے۔ ریلیوں میں نعرے بازی اور ایک دوسرے پر ذاتی حملوں نے عوامی بحث کو گندہ کر دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات ووٹروں کو متاثر کرنے کے بجائے مایوسی اور نفرت کو بڑھا رہے ہیں۔

 

بہار کے کئی اضلاع میں پارٹیوں نے مقامی و زمینی لیڈروں کو نظر انداز کر کے باہر سے امیدوار اتارے ہیں جس سے کارکنان اور ووٹر ناراض ہیں۔ دربھنگہ، سیتامڑھی، گیا اور بھاگلپور جیسے اضلاع میں مقامی سطح پر اختلافات کھلے عام دکھائی دے رہے ہیں۔ اس ناراضگی کا اثر ووٹ کے نتائج پر پڑ سکتا ہے۔ اندرونی سازشوں اور تنظیمی کمزوریوں نے کئی پارٹیوں کو غیر متوازن بنا دیا ہے۔

 

اس بار کے انتخابات میں ذات پات کے ساتھ ساتھ اقتصادی ایشوز، نوجوانوں کے مسائل، مہنگائی، کسانوں کی حالت اور تعلیم کا فقدان بھی ووٹر کے فیصلے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ بی جے پی ترقی اور استحکام کے نعرے کے ساتھ میدان میں ہے جب کہ آر جے ڈی اور اس کے اتحادی روزگار، انصاف اور سماجی مساوات کے ایشوز کو اجاگر کر رہے ہیں۔

 

ریاست کے ووٹر اب پہلے سے زیادہ باشعور ہیں۔ وہ نعروں کے بجائے نیت، کردار اور کارکردگی دیکھنا چاہتے ہیں۔ وعدوں پر اعتبار کم اور عمل کی طلب زیادہ ہے۔ اگر کسی جماعت نے عوام کو حقیقی تبدیلی اور روزگار کا راستہ دکھایا تو وہ بازی مار سکتی ہے ورنہ ذات پات اور اندرونی سیاست ایک بار پھر نتائج پر غالب آ جائے گی۔

Comments are closed.