انگریزی نشاۃِ ثانیہ کے ادب پر اسلامی فلسفہ و سائنس (ابن سینا و ابن رشد) کے فکری نقوش

 

تجزیہ: حسن مدنی ندوی

ریسرچ اسکالر

 

"علم ایک بہتا دریا ہے جو کسی ایک خطہ یا قوم کی جاگیر نہیں۔ یہ ایک ایسی امانتِ مشترک (Shared Heritage) ہے جو نسل در نسل، تہذیب در تہذیب منتقل ہوتی رہتی ہے۔ ہر آنے والی تہذیب، گزشتہ تہذیب کے علمی سرمائے پر اپنی عمارت کھڑی کرتی ہے۔ مغربی دنیا کی فکری تاریخ کا ایک اہم ترین باب، جسے "نشاۃِ ثانیہ” (Renaissance) کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، اس دعوے کی سب سے بڑی دلیل ہے، تاہم، "نشاۃِ ثانیہ” کی یہ اصطلاح خود ایک تاریخی مغالطے کی بنیاد رکھتی ہے۔ اس کا لغوی معنی "دوبارہ جنم” (Rebirth) ہے، جو اس تصور کو تقویت دیتا ہے کہ یورپ ایک طویل موت کے بعد اچانک قدیم یونان و روم کی گود میں دوبارہ پیدا ہوا۔ یہ بیانیہ، جو خاص طور پر 19ویں صدی کے مؤرخین جیسے جیکب برکھارٹ (Jacob Burckhardt) نے اپنی تصنیف "اطالیہ میں نشاۃِ ثانیہ کی تہذیب” میں مقبول بنایا، جان بوجھ کر اس درمیانی، فیصلہ کن اور زرخیز "پل” (The Bridge) کو نظرانداز کرتا ہے جس کے بغیر یہ فکری احیاء ہرگز ممکن نہ تھا۔

​یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انگریزی نشاۃِ ثانیہ (English Renaissance)، جو اطالوی نشاۃِ ثانیہ سے تقریباً ایک صدی بعد اپنے عروج پر پہنچی، محض فنِ مصوری یا سنگ تراشی کا احیاء نہ تھی۔ یہ بنیادی طور پر "لفظ” اور "فکر” کا انقلاب تھا۔ یہ الزبتھن (Elizabethan) اور جیکوبین (Jacobean) عہد تھا، جہاں شیکسپیئر کا ڈرامہ، مارلو کی المیہ نگاری، اور بیکن کا فلسفہ، انسانی شعور کی نئی تعریفیں مرتب کر رہے تھے۔ اس ادبی اور فکری دھماکے کو ایک نئے "علمی ایندھن” کی ضرورت تھی—ایک ایسا فلسفہ جو انسان کی انفرادی حیثیت (Individualism)، اس کے جذبات کی پیچیدگی (Emotional Complexity) اور کائنات میں اس کے مقام (Cosmic Place) کو نئی جہت دے سکے۔

​سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چودھویں اور پندرہویں صدی کا انگلستان یہ فکری مواد کہاں سے حاصل کرتا؟ یورپ کی اپنی فکری روایت، جو اس وقت "اسکولاسٹک ازم” (Scholasticism) کی پیچیدہ، خشک اور بانجھ بحثوں میں قید تھی، یہ نیا انسان تخلیق کرنے سے قاصر تھی۔ اسکولاسٹک فلاسفہ ارسطو کو تو جانتے تھے، لیکن یہ وہ ارسطو تھا جو چرچ کے عقائد کی تائید کے لیے مسخ ہو چکا تھا، اور اس کی منطق کا استعمال محض الٰہیاتی موشگافیوں تک محدود تھا۔ انہیں ایک ایسی فکر کی ضرورت تھی جو ارسطو کو اس کی اصل عقلی اور سائنسی شکل میں پیش کرے، اور اس کے ساتھ ساتھ، طب، نفسیات اور مابعدالطبیعات کے وہ جدید نظریات بھی لائے جو قدیم یونان میں یا تو موجود نہ تھے یا فراموش کیے جا چکے تھے۔

​یہ وہ وسیع فکری خلا تھا جسے اسلامی فلسفہ و سائنس نے پُر کیا۔ یہ کوئی حادثاتی ترسیل نہ تھی، بلکہ ایک شعوری فکری درآمد (Intellectual Import) تھی۔ جب انگریزی مفکرین جیسے فرانسس بیکن "نئے علم” (New Learning) کی بنیاد رکھ رہے تھے، تو وہ دراصل اس علمی انقلاب کی فصل کاٹ رہے تھے جس کا بیج صدیوں پہلے بغداد، قاہرہ اور قرطبہ کی درسگاہوں میں بویا گیا تھا۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ انگریزی نشاۃِ ثانیہ کا "انسان” (The Renaissance Man) جس نفسیاتی اور عقلی گہرائی کا حامل ہے، اس کا بنیادی خاکہ (Blueprint) ابن سینا کی "کتاب الشفاء” کے "علم النفس” اور ابن رشد کی "شروحات” سے تیار ہوا تھا،

ایک عام مغالطہ، جو مغربی مؤرخین کے ہاں بکثرت پایا جاتا ہے، یہ ہے کہ نشاۃِ ثانیہ محض یونانی و رومی علوم کے "احیاء” (Rebirth) کا نام تھا۔ اس بیانیے میں صدیوں پر محیط اس دور کو، جسے وہ "قرونِ وسطیٰ کے اندھیرے” (Dark Ages) کہتے ہیں، یکسر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ "اندھیرا” یورپ کے لیے تھا، جبکہ اسی دور میں اسلامی دنیا، بغداد سے قرطبہ تک، علم و حکمت، سائنس و فلسفہ کی روشنی سے منور تھی، طلباء و فضلاء کا دور دورہ تھا، علم کلام و لسان پر بحث و مباحثے ہوتے تھے، جہاں ایک طرف قوم کے نوجوان تیغوں کے سائے میں پل پڑھ کر جوان ہورہے تھے وہیں قلم و قرطاس پر درسگاہوں میں علم کے اثاثے لکھے جارہے تھے۔

یہ تحریر اس فکری قرض (Intellectual Debt) کی وضاحت کے لیے سپردِ قلم کی جا جارہی ہے، جو انگریزی نشاۃِ ثانیہ نے اسلامی تہذیب سے حاصل کی۔ ہم بالخصوص دو مرکزی ستونوں—الشیخ الرئیس ابن سینا (Avicenna) اور قاضی ابن رشد (Averroes)—کے ان علمی و فلسفیانہ اثرات کا تجزیہ کریں گے، جنہوں نے شیکسپیئر، مارلو اور بیکن جیسے اذہان کی فکری آبیاری کی۔

علم کی شاہراہیں اور اندلس کا کردار

یورپ کی نشاۃِ ثانیہ کا بیج اس وقت پڑا جب اس نے جہالت کے حصار سے نکل کر علم کی روشنی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ روشنی براہِ راست یونان سے نہیں آئی، کیونکہ یونانی فلسفہ اپنی اصل زبان میں یورپ کے لیے مفقود ہو چکا تھا۔ یہ روشنی اسلامی مراکزِ علم سے، عربی تراجم کے ذریعے، یورپ پہنچی۔

● قرطبہ (Cordoba) اور طلیطلہ (Toledo): اندلس (مسلم اسپین) وہ پل تھا جہاں سے یہ علمی خزانہ لاطینی دنیا میں منتقل ہوا۔ جب طلیطلہ پر عیسائیوں کا دوبارہ قبضہ ہوا، تو انہوں نے وہاں قائم عظیم کتب خانوں کو جلانے کے بجائے، وہاں "مدرسۃ المترجمین” (School of Translators) قائم کیا۔ یہاں مسلم، یہودی اور عیسائی علماء نے مل کر ابن سینا کی طب، ابن رشد کی فلسفہ، الخوارزمی کی ریاضی اور الزہراوی کی جراحت کو عربی سے لاطینی میں منتقل کیا۔

* صقلیہ (Sicily) اور پاڈووا (Padua): دوسرا بڑا مرکز سسلی اور جنوبی اٹلی تھے، جہاں اسلامی تہذیب کے گہرے نقوش تھے۔ اٹلی کی یونیورسٹیاں، بالخصوص یونیورسٹی آف پاڈووا (University of Padua)، وہ پہلا مرکز تھیں جہاں ابن سینا کی القانون اور ابن رشد کی شروحات نصاب کا لازمی حصہ بنیں۔

الشیخ الرئیس ابن سینا (Avicenna) طبیبِ اعظم اور فلسفیِ نفس

ابن سینا (وفات 1037ء) مغرب کے لیے قرونِ وسطیٰ اور نشاۃِ ثانیہ کے سب سے بڑے فکری autoridad (authority) تھے۔ ان کے اثرات دو جہتوں سے انگریزی ادب پر مرتب ہوئے:

الف: "القانون فی الطب” (The Canon of Medicine)

یہ کتاب محض طب کا انسائیکلوپیڈیا نہ تھی، بلکہ انسانی جسم اور نفس کے علم کا ایک مکمل نظام تھی۔ 12ویں صدی میں اس کا لاطینی ترجمہ ہوا اور یہ 17ویں صدی تک یورپ کی ہر میڈیکل یونیورسٹی میں بائبلِ طب کی حیثیت سے پڑھائی جاتی رہی۔

ادبی اثرات:

● نظریہ اخلاط (Humoral Theory): اگرچہ یہ نظریہ جالینوس (Galen) کا تھا، لیکن ابن سینا نے اسے جس سائنسی تفصیل اور فلسفیانہ گہرائی کے ساتھ مدون کیا، وہ نشاۃِ ثانیہ کے ادب کا مرکزی نفسیاتی ٹول بن گیا۔

● شیکسپیئر (Shakespeare) کے ڈراموں میں کرداروں کی نفسیات، ان کا غصہ (Choleric)، ان کی سوداویت (Melancholy)، ان کا دموی (Sanguine) یا بلغمی (Phlegmatic) مزاج، یہ سب براہِ راست ابن سینا کے القانون سے ماخوذ طبی تصورات ہیں۔ ہیملٹ (Hamlet) کا مشہور "Melancholy” (مالیخولیا) محض ایک کیفیت نہیں، بلکہ ایک طبی تشخیص ہے جسے ابن سینا نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔

● انگریزی مصنفین جب ایک "طبیب” (Physician) کا کردار تخلیق کرتے، تو ان کے ذہن میں لاشعوری طور پر ابن سینا کا دیا ہوا معیار ہوتا تھا۔

ب: "کتاب الشفاء” (The Book of Healing)

یہ ابن سینا کا عظیم فلسفیانہ کارنامہ ہے۔ اس کے حصے "علم النفس” (Psychology) اور "الٰہیات” (Metaphysics) نے مغربی فکر پر انمٹ نقوش چھوڑے:

● نظریہ نفس (Theory of the Soul): ابن سینا نے روح (النفس) کی جو درجہ بندی کی—نفسِ نباتی، حیوانی اور ناطقہ (Rational Soul)—اس نے نشاۃِ ثانیہ کے انسان دوستوں (Humanists) کو "انسان” کی تعریف متعین کرنے میں مدد دی۔

● عقلِ فعال (Active Intellect): ابن سینا کا یہ نظریہ کہ انسانی عقل، ایک آفاقی "عقلِ فعال” سے اتصال (Conjunction) حاصل کر کے ہی علمِ حقیقی تک پہنچ سکتی ہے، نشاۃِ ثانیہ کے شاعروں (جیسے جان ڈن) کے ہاں "روحانی وجدان” (Spiritual Insight) اور "علمی معراج” (Intellectual Ascent) کے استعارے کے طور پر نظر آتا ہے۔

قاضی ابن رشد (Averroes) شارحِ اعظم اور عقلیت کا چیلنج

اگر ابن سینا نے نشاۃِ ثانیہ کو سائنسی بنیاد فراہم کی، تو ابن رشد (وفات 1198ء) نے اسے وہ فکری تلاطم بخشا جس کے بغیر یہ فکری انقلاب ممکن نہ تھا۔ ابن رشد کا بنیادی کارنامہ ارسطو (Aristotle) کی گمشدہ تصانیف کو عربی شروحات (Commentaries) کے ذریعے زندہ کرنا تھا۔ مغرب میں انہیں محض "ابن رشد” نہیں، بلکہ "الشارح” (The Commentator) کہا جاتا تھا، اور ارسطو کو "فلسفی”۔

الف: "رشدیت” (Averroism) کا فتنہ

ابن رشد نے فلسفہ اور مذہب کے تعلق پر جو بحث کی، وہ مغربی دنیا میں "رشدیت” کہلائی۔ اس کا مرکزی نکتہ "دوہری سچائی کا نظریہ” (Doctrine of Double Truth) تھا۔

● نظریے کی وضاحت: ابن رشد کا موقف تھا کہ ایک سچائی فلسفیانہ (عقلی) ہے اور ایک سچائی مذہبی (وحیانی) ہے۔ یہ دونوں سچائیاں بیک وقت موجود ہو سکتی ہیں، چاہے وہ بظاہر متصادم ہی کیوں نہ ہوں۔

● چرچ کا ردِ عمل: یہ نظریہ یورپ کے کلیسائی نظام (Church Hegemony) کے لیے سب سے بڑا خطرہ تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ عقل، وحی کی پابندی کے بغیر، آزادانہ طور پر سچائی تک پہنچ سکتی ہے۔ پوپ نے رشدیت کو "کفر” (Heresy) قرار دیا اور اس کے پیروکاروں پر شدید پابندیاں عائد کیں۔

ب: رشدیت کے ادبی اثرات

یہی فکری کشمکش—عقل بمقابلہ ایمان، انفرادی شعور بمقابلہ الٰہی حکم—انگریزی نشاۃِ ثانیہ کے ادب کا مرکزی المیہ (Central Tragedy) بن گئی۔

● کرسٹوفر مارلو (Christopher Marlowe) کا ڈاکٹر فاسٹس (Doctor Faustus):

● ڈاکٹر فاسٹس کا کردار رشدیت کا مکمل ادبی مظہر ہے۔ وہ ایک ایسا عالم ہے جو الٰہیات (Theology) کو مسترد کرتا ہے اور علم (Knowledge/Reason) کی خاطر اپنی روح شیطان کے ہاتھ بیچ دیتا ہے۔

● جب فاسٹس کہتا ہے: "Sweet Analytics, ‘tis thou hast ravish’d me!” (اے شیریں منطق! تو نے ہی مجھے مسحور کیا ہے!)، تو وہ دراصل ابن رشد کی اس "عقل” کو پکار رہا ہے جسے چرچ نے ممنوع قرار دیا تھا۔

● فاسٹس کا المیہ یہ ہے کہ وہ ابن رشد کی "عقل” کو تو لیتا ہے، لیکن ابن سینا کی "روحانیت” کو چھوڑ دیتا ہے، جس کا نتیجہ ابدی ہلاکت ہے۔

● ولیم شیکسپیئر (William Shakespeare):

● شیکسپیئر کے المیے (Tragedies) اسی فکری بحران کی عکاسی کرتے ہیں۔ ہیملٹ کا مشہور سوال "To be, or not to be” (ہونا یا نہ ہونا/ وجود و عدم) محض ایک جذباتی ابال نہیں، بلکہ یہ ابن سینا اور ابن رشد کی مابعدالطبیعاتی بحثوں (جوہر اور عرض، وجود اور ماہیت) کا عکس ہے جو پاڈووا جیسی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جا رہی تھیں۔

● ہیملٹ کا کردار ایک ایسا شہزادہ ہے جو "عقل” کی بنیاد پر بدلہ لینا چاہتا ہے لیکن "ایمان” اور اخلاقیات کے سوالوں میں الجھا ہوا ہے۔ وہ نشاۃِ ثانیہ کا وہ انسان ہے جو پرانی مذہبی اقدار اور نئی عقلی دریافتوں کے درمیان معلق ہے۔

فرانسس بیکن اور سائنسی منہج

اگرچہ فرانسس بیکن (Francis Bacon) کو مغربی "تجرباتی طریقہ کار” (Empirical Method) کا بانی کہا جاتا ہے، لیکن یہ دعویٰ بھی تاریخی اعتبار سے مکمل درست نہیں۔ بیکن نے جس استقرائی منطق (Inductive Logic) کی بنیاد رکھی، اس کی جڑیں اسلامی سائنسی روایت میں پیوست ہیں۔

● ابن سینا نے اپنی کتاب "الشفاء” کے منطق والے حصے میں ارسطوئی قیاس (Deduction) کے ساتھ ساتھ استقراء (Induction) کو بھی علم کے حصول کا ذریعہ قرار دیا۔

● اسی طرح ابن الہیثم (Alhazen) جیسے سائنسدانوں نے بصریات (Optics) میں جس تجرباتی طریقہ کار کو اپنایا تھا، وہ بیکن سے صدیوں پہلے علم کی بنیاد بن چکا تھا۔

● بیکن کا کام، جو انگریزی نشاہ ثانیہ کے اختتام پر سامنے آیا، دراصل صدیوں پر محیط اس اسلامی سائنسی منہج کا تسلسل تھا، جسے ابن رشد اور ابن سینا کے فلسفے نے یورپ میں متعارف کرایا تھا۔

علمی امانت اور فکری تسلسل

پس، اس تمام علمی و تاریخی تجزیے کا حاصل یہ ہے کہ فکرِ انسانی ایک ناقابلِ تقسیم وحدت ہے۔ علم نہ مشرقی ہوتا ہے نہ مغربی؛ یہ ایک آفاقی امانت ہے جو ایک تہذیب سے دوسری تہذیب تک، ایک عہد سے دوسرے عہد تک سفر کرتی ہے۔ وہ فکری قندیلیں جو کبھی مشرق کے علمی مراکز، قرطبہ و بغداد کے دارالحکمت میں روشن ہوئیں، اُنہی کی روشنی سے مغرب کے اُن ایوان ہائے ادب و فلسفہ نے اکتسابِ نور کیا، جنہیں آج فکری عروج کا استعارہ سمجھا جاتا ہے۔

​یہ محض علمی اشیاء کا تبادلہ نہ تھا، بلکہ یہ روحِ علم (Spirit of Knowledge) کی منتقلی تھی۔ وہ عقلی منہاج (Rational Methodology) جس نے مغرب کو منطقی استدلال کا سلیقہ سکھایا، اور وہ طبی بصیرت (Medical Insight) جس نے انسانی جسم کے اسرار کھولے، یہ دونوں اُسی علمی روایت کے دو بازو تھے جو اسلامی تہذیب میں پروان چڑھی۔ جب اس علمی میراث نے سمندر پار کیے، تو اس نے مغربی تخلیقی ذہن کو وہ گہرائی اور وہ پیچیدگی عطا کی جس کے بغیر اُس ادب کا وجود ممکن نہ تھا جس کا ہم نے جائزہ لیا۔

​تاہم، اس علمی انتقال میں ایک المیہ بھی پوشیدہ ہے۔ مغربی فکر نے اکثر اس میراث کے "عقلی” پہلو کو تو کمالِ رغبت سے اپنایا، لیکن اس کے "روحانی” توازن کو نظرانداز کر دیا۔ وہ فلسفہ جو محض منطقی قیاس آرائیوں تک محدود ہو گیا، وہ روح کی تسکین کا سامان نہ کر سکا۔ انگریزی ادب کے وہ عظیم شاہکار، درحقیقت اسی "فکری کشمکش” کا آئینہ دار ہیں: اُن کے مرکزی کردار، جو علم کی لامحدود طاقت کے حصول کے لیے کوشاں ہیں مگر اپنی روحانی جڑوں سے کٹ جاتے ہیں، وہ اسی ادھورے علمی ورثے کی تمثیل ہیں۔ وہ عظمت جو اُن کرداروں کو حاصل ہوتی ہے، وہ عقلی برتری کی ہے؛ اور وہ المیہ جو اُن کا مقدر بنتا ہے، وہ روحانی تہی دامنی کا ہے۔

​آج، جب دنیا ایک بار پھر تہذیبی تقسیم اور فکری تعصبات کا شکار ہے، اس مشترکہ علمی تاریخ کو یاد رکھنا محض ایک علمی فریضہ نہیں، بلکہ ایک اخلاقی ضرورت ہے۔ علم کی دنیا میں "فضل کا اعتراف” ہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں تنگ نظری سے نکال کر اُس آفاقی سچائی تک پہنچا سکتا ہے جس کی تلاش ہر دور کے فلسفی اور ادیب کا مقصود رہی ہے۔ یہ چراغ سے چراغ جلنے کا عمل ہی تہذیب کا اصل جوہر ہے، اور اس تسلسل کو پہچاننا ہی حقیقی معنوں میں "عالم” ہونا ہے،

یہ ایک ناقابلِ تردید تاریخی حقیقت ہے کہ انگریزی نشاۃِ ثانیہ کے ادب کی فکری بنیادوں میں اسلامی علم، بالخصوص ابن سینا کی سائنس اور ابن رشد کی عقلیت، گہرائی تک سرایت کیے ہوئے ہے۔

اگر غرب متمدن ہونے کا دعوی اپنے عباقرہ کے سہارے کرے تو ان کا یہ دعوی کھوکھلا ہے اگر وہ یہ تسلیم نہ کریں کہ ان کے عباقرہ مسلم مفکرین کی دہلیز پر کھڑے ہوکر قیاس و نقاط درج کراتے تھے اور انہیں کے سہارے اپنا فکری محور قائم کرتے تھے چہ جائیکہ اس میں وہ آزادی یاں دیگر غیر متعلقہ نظریات شامل کر کے اسے اپنے حساب سے پیش کرتے تھے،

شیکسپیئر کے کرداروں کی نفسیاتی گہرائی، مارلو کے ہیروز کی فکری بغاوت، اور بیکن کا سائنسی وژن یہ سب اس فکری زمین پر کھڑے ہیں جسے صدیوں تک قرطبہ اور بغداد کے مسلم فلاسفہ اور سائنسدانوں نے سینچا تھا اور عالم اسلام علم کی اس روشنی سے بخارا سے لے کر دار بیضاء تک جگمگا رہا تھا۔

مغرب نے اس علمی امانت کو لیا، لیکن اکثر اس کی روحانی بنیادوں کو فراموش کر دیا اور طاغوت کے سایہ میں پلی بے راہ روی والی آزادی کو فروغ دیا ۔ انہوں نے ابن سینا کی طب تو لے لی، لیکن ان کی "الٰہیات” کو چھوڑ دیا۔ انہوں نے ابن رشد کی "عقل” کو اپنایا، لیکن ان کے "ایمان” کے توازن کو نظرانداز کر دیا۔

آج، جب ہم انگریزی ادب کے ان شاہکاروں کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ہم پر لازم ہے کہ ہم ان کی چمک دمک میں ان مسلم معماروں کے فکری احسان کو بھی یاد رکھیں، جن کے بغیر نشاۃِ ثانیہ کا یہ چراغ شاید کبھی روشن نہ ہو پاتا۔ علم کا سفر جاری ہے، اور اس کا اعتراف ہی علم کا حقیقی تقاضا ہے۔

Comments are closed.