قابض اسرائیل انسانی امداد کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پراستعمال کررہا ہے: ڈاکٹرز وِداؤٹ بارڈرز
بصیرت عالمی نیوز ڈیسک
بین الاقوامی تنظیم ’ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز‘ (Médecins Sans Frontières) کی غزہ میں نمائندہ کارولین ولمن نے کہا ہے کہ قابض اسرائیل جنگ بندی کے باوجود انسانی امداد کو فلسطینی عوام پر دباؤ ڈالنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
کارولین ولمن نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ غزہ کے لیے آنے والی امداد کو کسی بھی سیاسی شرط کے ساتھ مشروط نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ قابض اسرائیل اس وقت بھی امداد کے بہاؤ کو روکے ہوئے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فائر بندی کے نفاذ کے بعد بھی انسانی صورتحال میں کوئی قابلِ ذکر بہتری نہیں آئی۔
غزہ میں 10 اکتوبر سنہ2025ء کو جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے قابض اسرائیل نے صرف ایک ہزار ٹرکوں کو امداد لے جانے کی اجازت دی ہے، جبکہ غزہ کی آبادی کو روزانہ کم از کم 600 ٹرکوں کی ضرورت ہے تاکہ اس بڑے انسانی بحران پر قابو پایا جا سکے جو قابض اسرائیل کی دو سالہ نسل کشی کی جنگ کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔ یہ اعداد و شمار فلسطینی مرکز برائے انسانی حقوق کی رپورٹ میں جاری کیے گئے ہیں۔
کارولین ولمن نے بتایا کہ اگرچہ گذشتہ چند ہفتوں میں قابض اسرائیل کے حملوں میں کمی دیکھی گئی ہے، تاہم 19 اکتوبر کو صہیونی فوج نے ایک بڑا حملہ کیا اور اب بھی تقریباً روزانہ فائرنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ پانی اور پناہ گاہ کی شدید قلت بدستور ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ لاکھوں فلسطینی سخت سردی کے موسم سے قبل خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کی ٹیموں نے پانچ سال سے کم عمر بچوں اور حاملہ خواتین میں شدید غذائی قلت کے بڑھتے ہوئے کیسز کی نشاندہی کی ہے۔ کارولین ولمن نے خبردار کیا کہ اگرچہ خوراک کی فراہمی میں معمولی بہتری آئی ہے لیکن مجموعی صورتحال اب بھی نہایت تشویشناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ صحت کی خدمات کی فراہمی بدستور انتہائی دشوار ہے کیونکہ قابض اسرائیل نے طبی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے اور ادویات و طبی سامان کی ترسیل پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
کارولین ولمن نے مزید کہا کہ “غزہ کے لوگ دو برس سے مسلسل نسل کشی اور خوف کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ہمیں فوری طور پر امداد کی ضرورت ہے تاکہ کم از کم زندگی کے بنیادی تقاضے پورے کیے جا سکیں تاکہ لوگ خیموں میں ایک کمبل اور بستر پر سو سکیں۔ غزہ کی تعمیرِ نو میں طویل وقت لگے گا، لیکن ابھی تک ہم بنیادی انسانی معیار تک بھی نہیں پہنچ پائے”۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ اس وقت جدید تاریخ کی سب سے بڑی تعمیراتی اور انسانی تباہی کا شکار ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق قابض اسرائیل کی تباہ کن نسل کشی کی جنگ کے نتیجے میں غزہ میں 65 سے 70 ملین ٹن ملبہ اور مٹی کے ڈھیر موجود ہیں۔
قابض اسرائیل کی اس جارحانہ جنگ میں صرف چند گھروں کے ڈھانچے کسی حد تک محفوظ بچے ہیں، جبکہ ہزاروں عمارتیں شدید نقصان کا شکار ہو چکی ہیں۔ ان کی بنیادیں کمزور ہو گئی ہیں، عمارتوں میں جھکاؤ پیدا ہو گیا ہے یا چھتیں جھک کر بیٹھ گئی ہیں جس سے وہ رہائش کے قابل نہیں رہیں۔
اس کے باوجود شمالی غزہ کے شہری، جنہیں قابض اسرائیل نے گذشتہ دو برسوں میں مکمل تباہی کا نشانہ بنایا، خطرناک حالات کے باوجود اپنے برباد گھروں کو کسی حد تک مرمت کر کے دوبارہ آباد ہونے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ ان کے لیے خیمہ بستیوں اور عارضی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنا مزید اذیت ناک ہے۔
Comments are closed.