مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
اے ایم یو کے شعبہ فارماکولوجی نے نوجوانوں کو تمباکو مصنوعات سے دور رکھنے کے لئے بیداری پروگرام منعقد کیا
علی گڑھ، 27 اکتوبر: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ فارماکولوجی نے وزارتِ تعلیم اور وزارت صحت و کنبہ بہبود، حکومتِ ہند کے اشتراک سے ٹوبیکو فری یوتھ مہم اور وِکست بھارت 2047وژن کے تحت ایک خصوصی بیداری پروگرام منعقد کیا، جس کا مقصد نوجوانوں کو تمباکو کے مضر اثرات سے آگاہ کرنا اور صحت سے متعلق شعور کو فروغ دینا ہے۔
شعبہ فارماکولوجی کے ریزیڈنٹ ڈاکٹر ناچیکیت برہمَنکر نے ’تمباکو کی فارمالوجیکل خصوصیات‘ پر ایک پرزنٹیشن دیا، جس میں انہوں نے تمباکو کی لت کے فارماکولوجیکل پہلوؤں اور تمباکو مصنوعات کے استعمال کی روک تھام کے سلسلہ میں جاری قومی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ نکوٹین اور تمباکو میں موجود دیگر کیمیائی اجزاء جسم پر پیچیدہ نیورو کیمیکل نظام کے ذریعے اثر انداز ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں انحصار اور نشہ کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔
شعبہ فارماکولوجی کے چیئرمین پروفیسر سید ضیاء الرحمٰن نے کہا کہ شعبہ فارماکولوجی قومی صحت عامہ کے اہداف کے مطابق باقاعدگی سے تعلیمی سرگرمیوں کا اہتمام کرتا ہے، تاکہ نوجوانوں میں صحت کے حوالے سے ذمہ دارانہ رویے کو فروغ دیا جا سکے۔ پروگرام میں اساتذہ، غیر تدریسی عملے کے اراکین اور ریزیڈنٹس نے شرکت کی۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
علی گڑھ سوسائٹی آف ہسٹری اینڈ آرکیالوجی کی جانب سے سر سید کی معنویت پر سمپوزیم کا انعقاد
علی گڑھ، 27 اکتوبر:، علی گڑھ سوسائٹی آف ہسٹری اینڈ آرکیالوجی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے زیر اہتمام آرٹس فیکلٹی لاؤنج میں ممتاز مؤرخ پروفیسر عرفان حبیب کی صدارت میں ”سر سید احمد خاں کی ہمہ گیر معنویت“ کے موضوع پر ایک سمپوزیم منعقد کیا گیا۔
گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے پروفیسر سید علی ندیم رضاوی نے قرونِ وسطیٰ کے آثارِ قدیمہ کے میدان میں سر سید کی خدمات کا ایک جائزہ پیش کیا، جو مادی شواہد کو متنی تجزیے کے ساتھ جوڑنے کا ایک سائنسی مطالعہ ہے۔ انہوں نے سر سید کے اس مقالے کا حوالہ دیا جس میں عمارتوں کی تاریخ کے تعین میں اینٹوں کے سائز کے کردار پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ اسے انھوں نے ایک سائنسی طریقہ کار بتایا۔ انہوں نے آثارالصنادید کو ایک بنیادی اور پیش رو تصنیف قرار دیا اور جدید دور کی اُن کوششوں پر تنقید کی جو اس کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
پروفیسر شافع قدوائی، ڈائرکٹر، سرسید اکیڈمی نے سائنسی علوم کی اشاعت اور جدید تعلیم کے فروغ میں سرسید کی کاوشوں پر روشنی ڈالی۔
پروفیسر عاصم صدیقی نے سر سید کی خدمات کو لسانی ماہر اور متون کے جدید مدیر کے طور پر اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سر سید کے علمی رویے کے یہ پہلو آج کی نسلوں کے لیے قیمتی سبق رکھتے ہیں کیوں کہ وہ اپنے مخالفین سے مخاصمت کے بجائے دلیل و استدلال کے ذریعے مکالمہ کرنے پر یقین رکھتے تھے۔
پروفیسر فرحت حسن نے ”جدیدیت“ اور”جدید تعلیم“ جیسی اصطلاحات کو سمجھنے اور اس کا باریکی سے تجزیہ کرنے کا مشورہ دیاتا کہ اس سے جو مراد ہے وہ نظروں کے سامنے رہے اور اس بات پر غور ہو کہ سر سید ان تصورات سے جو سمجھتے تھے کیا اسے مغرب زدگی سے مختلف سمجھا جائے۔
اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر عرفان حبیب نے سمپوزیم کے مباحث کی تلخیص پیش کی اور حاضرین کو یاد دلایا کہ علی گڑھ برادری سر سید احمد خاں کی مرہونِ منت ہے۔ انہوں نے کہا:ہم جو کچھ ہیں، سر سید کی کوششوں کی بدولت ہیں، چاہے ہمیں یہ پسند ہو یا نہیں۔پروفیسر حبیب نے مزید کہا کہ اگر کہیں سرسید کے بعض نظریات یا اقدامات سے اختلاف بھی ہو، تاہم ان کے عہد کی مجبوریوں اور چیلنجوں کو سمجھنا ضروری ہے۔
سمپوزیم میں شعبہ تاریخ و شعبہ انگریزی کے اساتذہ اور دیگر افراد نے شرکت کی۔ فیکلٹی آف سوشل سائنسزکے ڈین پروفیسر ستھیسن پورے پروگرام کے دوران موجود رہے۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں طلبہ اور اسکالرز نے شرکت کی۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے طلبہ کے لئے ایک روزہ جاب فیئر9نومبر کو منعقد ہوگا، رجسٹریشن کی آخری تاریخ 5 نومبر
علی گڑھ، 27 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے ٹریننگ و پلیسمنٹ آفس (جنرل) کے زیر اہتمام ”ایلیویٹ“ کے عنوان سے ون ویو انفوٹیک کے تعاون سے 9 نومبر 2025 کو ایک روزہ جاب فیئر منعقد کیا جائے گا۔
جاب فیئر کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر مزمل مشتاق اور ڈاکٹر سہیلہ پروین کے مطابق، اس میں مختلف شعبوں جیسے بینکنگ، تعلیم، ایکسپورٹ سمیت دیگر میدانوں میں سرگرم مختلف ملٹی نیشنل کمپنیوں کی شرکت متوقع ہے۔
اس سال کا جاب فیئر مکمل طور پر مقامی اداروں کے لیے وقف ہے، جس کا مقصد اے ایم یو کے طلبہ اور حالیہ فارغ التحصیل طلبہ کو علی گڑھ شہر میں ہی روزگار اور انٹرن شپ کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ یہ طلبہ کے لئے فل ٹائم، پارٹ ٹائم اور انٹرن شپ کے مواقع کی تلاش کے لیے ایک عمدہ پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔
ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ آفیسر (جنرل) مسٹر سعد حمید نے کہا کہ یہ جاب فیئر یونیورسٹی کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت وہ مقامی روزگار کو فروغ دینے اور نوجوانوں کو مقامی صنعتوں سے براہِ راست جوڑ کر بااختیار بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
رجسٹریشن کی آخری تاریخ 5 نومبر 2025 مقرر کی گئی ہے۔ خواہشمند امیدوار ویب لنک https://t.ly/8nYSA کے ذریعہ اپنا رجسٹریشن کر اسکتے ہیں۔ رجسٹریشن فارم ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ آفس (جنرل) کے انسٹاگرام، فیس بک پیج اور اے ایم یو کی ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہیں۔ امیدوار ذاتی طور پر بھی دفتر میں آ کر رجسٹریشن کر اسکتے ہیں۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
اجمل خاں طبیہ کالج کے شعبہ نسواں و قبالت نے پستان کینسر آگہی واک کا اہتمام کیا
علی گڑھ، 27 اکتوبر: اجمل خاں طبیہ کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ نسواں و قبالت نے شعبہ سوشل ورک کے تعاون سے بریسٹ کینسر آگہی ماہ کے موقع پر پستان کینسر کے سلسلہ میں ایک بیداری واک کا اہتمام کیا۔ یہ بیداری سرگرمی ہر سال اکتوبر میں دنیا بھر میں منعقد کی جاتی ہے۔
یونیورسٹی میں ڈَک پوائنٹ سے شروع ہو کر بابِ سید پر یہ واک ختم ہوا جس کا مقصد پستان کے کینسر کی روک تھام، ابتدائی تشخیص کی اہمیت اجاگر کرنا اور مریضوں اور صحت یاب خواتین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا تھا۔
بابِ سید پر منعقدہ اختتامی تقریب میں شعبہ نسواں و قبالت کی سربراہ پروفیسر صبوحی مصطفیٰ نے پستان کے کینسر سے متعلق بیداری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تشخیص اور دیکھ بھال اس مرض سے بچاؤ کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیداری اور تعلیم اس بیماری کے پھیلاؤ کو کم کرنے اور صحت کے نتائج کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
کوآرڈینیٹر ڈاکٹر فہمیدہ زینت نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں لوگوں کو بروقت طبی مشورہ لینے کے لیے بااختیار بناتی ہیں اور بریسٹ ہیلتھ سے وابستہ شرم اور بدنامی کے خیال کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
پروگرام کے ایک حصے کے طور پر ڈاکٹر طوبیٰ رازی کی قیادت میں پی جی کے طلبہ نے ایک ڈراما پیش کیا، جس میں ڈاکٹر ابیحہ احمد خان اور ڈاکٹر فہمیدہ زینت نے بھی حصہ لیا۔ اس ڈرامے میں ڈاکٹروں سے رجوع کرنے، درست تشخیص کے طریقوں اور طبی رہنمائی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر پروفیسر ایس آمنہ ناز بھی موجود تھیں۔
سوشل ورک شعبہ کے اساتذہ ڈاکٹر محمد طاہر، ڈاکٹر شائنا، ڈاکٹر سمیرہ، ڈاکٹر محمد عارف خان اور ڈاکٹر محمد عذیر نے مہم کو کامیاب بنانے میں تعاون کیا۔ ڈاکٹر طاہر نے اس بات پر زور دیا کہ کمیونٹی کی شمولیت صحت بیداری مہمات کے لئے بہت اہم ہے۔
اختتامی کلمات میں دفتر رابطہ عامہ کی ممبر انچارج پروفیسر وبھا شرما نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں صحت عامہ اور سماجی ذمہ داری کے تسلسل کے سلسلہ میں اے ایم یو کے عزم کی عکاس ہیں۔ اس میں جدید طب اور یونانی طب دونوں کی نمائندگی ایک فالِ نیک ہے اور سماج کے لئے مفید ہے۔
ڈاکٹر بلال تفسیر اور پراکٹوریل ٹیم کے ارکان نے پروگرام کو مربوط کرنے میں تعاون کیا۔ اجمل خاں طبیہ کالج کے پرنسپل پروفیسر بی ڈی خان اور ڈاکٹر فائزہ عباسی، پروگرام ڈائریکٹر یو جی سی،ایم ایم ٹی ٹی سی نے بھی بیداری مہم میں شرکت کی۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے سابق طالب علم ڈاکٹر ولی الرحمٰن، راشٹریہ وگیان یووا – شانتی سروپ بھٹناگر ایوارڈ کے لئے منتخب
علی گڑھ، 27 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ ارضیات کے سابق طالب علم ڈاکٹر ولی الرحمٰن کو حکومت ہند کی جانب سے ”راشٹریہ وگیان یووا – شانتی سروپ بھٹناگر ایوارڈ2025“ کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر ولی الرحمٰن اس وقت نیشنل سینٹر فار انٹارکٹک اینڈ اوشین ریسرچ، وزارتِ ارضیاتی علوم، حکومتِ ہند، واسکو ڈی گاما (گوا) میں سائنٹسٹ-ای کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہیں آئسوٹوپ جیو کیمسٹری اور انٹارکٹک آب و ہوا کی تحقیق کے میدان میں نمایاں کارناموں پر یہ اعزاز دیا جا رہا ہے۔ وہ ایک ممتاز ارضیاتی سائنس داں ہیں جن کی تحقیق مختلف موضوعات پر محیط ہے، جن میں انٹارکٹک آب و ہوا کی تغیر پذیری، پالیو اوشیانوگرافی، اور ہمالیائی علاقوں کے کٹاؤ اور تحلیل کے عمل شامل ہیں۔غیر روایتی آئسوٹوپ پیمائش کی ترقی میں ان کی تحقیقی خدمات نے عالمی آب و ہوا اور سمندری نظام کی بہتر تفہیم میں مدد کی ہے۔
ڈاکٹر ولی الرحمٰن نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے جغرافیہ میں بی ایس سی آنرز 2002 میں اور اطلاقی جغرافیہ میں ایم ایس سی 2004 میں مکمل کی، جبکہ جیوکیمسٹری میں پی ایچ ڈی فزیکل ریسرچ لیبارٹری، احمد آباد سے حاصل کی۔
انھیں متعدد ریسرچ فیلوشپ اور اعزازات سے نوازا گیا ہے جن میں الیگزینڈر فان ہمبولٹ فیلوشپ (جرمنی)، سرٹیفکیٹ آف میرٹ اِن پولر سائنس اینڈ ٹکنالوجی (2019)، وزارتِ ارضیاتی علوم کی جانب سے ینگ ریسرچر ایوارڈ (2021)، اور وزارتِ مائنزکی جانب سے نیشنل جیو سائنس ایوارڈ (2023) شامل ہیں۔
ڈاکٹر رحمٰن کے 50 سے زائد تحقیقی مقالے معروف بین الاقوامی جرائدمیں شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی تحقیقی خدمات نے انٹارکٹک اور سمندری علوم کے میدان میں ہندوستان کی بین الاقوامی ساکھ کو مستحکم کیا ہے۔
ڈاکٹر ولی الرحمٰن کی اس شاندار کامیابی پر اے ایم یو کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی اپنے ایسے سابق طلبہ پر فخر محسوس کرتی ہے جو تحقیقی میدان میں نمایاں کارکردگی کے ذریعے اپنی مادرِ علمی کا نام روشن کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ولی الرحمٰن کی یہ دستیابی اُن نوجوان طلبہ کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث ہے جو ارتھ سائنسیز میں اپنا کریئر بنانا چاہتے ہیں۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کی ڈینٹل طالبہ کاریسرچ پروجیکٹ آئی اے پی ایچ ڈی ریسرچ گرانٹ کے لیے منتخب
علی گڑھ، 27 اکتوبر: ڈاکٹر ضیاء الدین احمد ڈینٹل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ پیریوڈونشیا و کمیونٹی ڈینٹسٹری نے ایک نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، جس میں اس کے ایک انڈرگریجویٹ تحقیقی منصوبے کو انڈین ایسوسی ایشن آف پبلک ہیلتھ ڈینٹسٹری کی جانب سے آئی اے پی ایچ ڈی ریسرچ گرانٹ 2025 کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
پورے ملک سے منتخب ہونے والے نو امیدواروں میں، اے ایم یو کی یاشی گپتا بھی شامل ہیں۔ وہ ڈاکٹر ضیاء الدین احمد ڈینٹل کالج، اے ایم یو میں بی ڈی ایس، سال دوم کی طالبہ ہیں۔ انھیں انڈرگریجویٹ زمرہ میں تحقیقی گرانٹ کے لیے منظوری دی گئی۔ ان کا تحقیقی پروجیکٹ بصارت سے محروم افراد کے لیے قابلِ رسائی اورل ہیلتھ ایجوکیشن ٹولز کی تیاری سے تعلق رکھتا ہے۔
یہ تحقیق پروفیسر نیہا اگروال، چیئرپرسن، شعبہ پیریوڈونشیا و کمیونٹی ڈینٹسٹری، کی زیرِ نگرانی کی جارہی ہے جس میں ڈاکٹر سید امان علی شریک گائیڈہیں۔
پروفیسر نیہا اگروال نے کہا کہ آئی اے پی ایچ ڈی ریسرچ گرانٹس نوجوان ڈینٹل محققین کو کمیونٹی کی سطح پر منھ کی صحت کے فروغ اور شواہد پر مبنی عوامی صحت اقدامات میں بامعنی کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔
ڈاکٹر ضیاء الدین احمد ڈینٹل کالج کے پرنسپل پروفیسر آر کے تیواری نے مس یاشی گپتا اور ان کے رہنماؤں کو اس نمایاں دستیابی پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ان کی علمی وابستگی اور تحقیق نے یونیورسٹی کا نام روشن کیا ہے۔
Comments are closed.