اسوئہ ابراہیمی سے ماخوذ سبق

 

محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔

دگھی ، گڈا (جھارکھنڈ)

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذاتِ گرامی تاریخِ انسانیت کا وہ تابندہ باب ہے جس میں توحید، اخلاص، ایثار، وفا، صبر، استقامت اور تسلیم و رضا کی تمام شانیں ایک ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہیں۔ آپ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسول، جلیل القدر نبی، عظیم پیغمبر اور خلیل اللہ ہیں۔ قرآنِ کریم نے آپ کے مقام و مرتبہ کو نہایت عظمت کے ساتھ بیان فرمایا اور آپ کو پوری انسانیت کے لیے اسوۂ حسنہ قرار دیا۔ چنانچہ ارشادِ ربانی ہے کہ: ’’تمہارے لیے ابراہیم اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ موجود ہے‘‘۔ آپ کی پوری زندگی دعوتِ حق، بت شکنی، توحید کے اعلان، ہجرت، قربانی اور اطاعتِ الٰہی سے عبارت ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام ایسے دور میں مبعوث ہوئے جب شرک، بت پرستی، نجوم پرستی اور باطل رسوم نے انسانی فکر و عقیدہ کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔ آپ نے اپنے زمانے میں تنِ تنہا توحید کا عَلَم بلند کیا اور ہر باطل قوت کے سامنے کلمۂ حق کہا۔ بادشاہِ وقت نمرود کے جبر و استبداد کے باوجود آپ نے حق گوئی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ آگ میں ڈالے گئے مگر ایمان میں لغزش نہ آئی، وطن چھوڑنا پڑا مگر رضاے الٰہی پر حرف نہ آیا، بڑھاپے میں اولاد ملی مگر حکمِ خداوندی پر اسے بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔ یہی وہ شانِ عبودیت ہے جس نے آپ کو ’’خلیل اللہ‘‘ کے بلند مرتبہ پر فائز کیا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی سراپا آزمائش تھی، لیکن ہر آزمائش میں آپ نے صبر و رضا، اطاعت و وفاداری اور تسلیم و بندگی کی ایسی مثال قائم فرمائی جو قیامت تک اہلِ ایمان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ قرآنِ مجید نے آپ کو ’’اُمّت‘‘ فرمایا، ’’قانت‘‘ فرمایا، ’’حنیف‘‘ فرمایا اور ملتِ اسلامیہ کو ’’ملتِ ابیکم ابراہیم‘‘ کے مبارک عنوان سے یاد کیا۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ دینِ اسلام کی بنیاد خالص توحید اور کامل اطاعت پر قائم ہے، جس کی عملی تصویر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مبارک حیات میں نمایاں نظر آتی ہے۔

قربانی کا عظیم شعار اور طریقہ دراصل اسی اسوۂ ابراہیمی کی یادگار ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لختِ جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قربان کرنے کا عزم کرکے یہ ثابت کردیا کہ اللہ کی محبت ہر تعلق، ہر خواہش اور ہر جذبے سے بالا تر ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی باپ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرکے اطاعت و فرماں برداری کی معراج قائم کردی۔ یوں باپ اور بیٹے کی یہ بے مثال قربانی رہتی دنیا تک ایمان، وفا اور عبودیت کا استعارہ بن گئی۔

یہ فیضان نظر تھا یا مکتب کی کرامت تھی

سکھائے کس نے اسمعیل کو آداب فرزندی

آج امتِ مسلمہ جب عیدالاضحیٰ کے مبارک ایام میں قربانی کا فریضہ ادا کرتی ہے تو دراصل وہ اسی روحِ ابراہیمی کی تجدید کرتی ہے۔ قربانی محض جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنے نفس، خواہشات، انا، محبتوں اور مفادات کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع کردینے کا درس ہے۔ اسوۂ ابراہیمی ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ بندۂ مومن کی حقیقی کامیابی اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت، توحیدِ خالص، صبرِ جمیل اور جذبۂ ایثار و قربانی میں مضمر ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظمت کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی نسل میں نبوت و رسالت کا مبارک سلسلہ جاری فرمایا۔ حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل علیہما السلام ( حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ان کے بعد صرف آخری نبی خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے)

کی نسلوں سے بے شمار انبیاء مبعوث ہوئے اور آخرکار سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، جو سلالۂ ابراہیمی کے روشن ترین چراغ اور خاتم النبیین ہیں، اسی خانوادۂ نبوت سے دنیا میں تشریف لائے۔ گویا اسوۂ ابراہیمی اپنی کامل ترین صورت میں سیرتِ مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جلوہ گر ہوا۔

آج کے پُرفتن دور میں جہاں مادیت، خود غرضی اور دینی کمزوری عام ہوتی جارہی ہے، اسوۂ ابراہیمی ہمیں اخلاص، وفاداری، استقامت اور قربانی کا وہ عظیم سبق دیتا ہے جس سے ایمان تازہ ہوتا اور زندگی سنورتی ہے۔ اگر مسلمان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سیرت و کردار کو اپنا شعار بنالیں تو ان کے اندر دین کی محبت، اطاعتِ الٰہی کا جذبہ اور باطل کے مقابلے میں استقامت کی نئی روح پیدا ہوسکتی ہے۔ یہی اسوۂ ابراہیمی کا حقیقی پیغام اور قربانی کی اصل روح ہے۔

مولانا عبد الرب مدنی حفظہ اللہ و رعاہ نے ،،حیات ابراہیمی کا سبق،، کے عنوان سے قرآنی آیات کی روشنی میں بڑی قیمتی اور چشم کشا باتیں لکھی ہیں ، جن سے حیات ابراہیمی کے سنہرے اور تابناک گوشے کھلتے ہیں اور جو ہمیں مہمیز لگاتے ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیں ۔

"ابراہیم علیہ السلام ایک جلیل القدر نبی ہونے کے ساتھ ایک امت تھے، امام تھے، اللہ کے مطیع و فرمانبردار بندے تھے، شرک سے مکمل بیزار تھے، مشرکین میں سے نہ تھے، اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے، صراطِ مستقیم پر قائم تھے، دنیا میں عزت ملی اور آخرت میں بھی بلند مقام والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا . إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ شَاكِرًا لِأَنْعُمِهِ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ وَآتَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ۔

بے شک ابراہیم ایک پوری امت تھے، اللہ کے فرمانبردار، یکسو، اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔ اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے، اللہ نے انہیں منتخب کرلیا اور سیدھے راستے کی ہدایت دی۔ اور ہم نے انہیں دنیا میں بھلائی عطا کی، اور آخرت میں بھی وہ صالحین میں سے ہوں گے۔

حیاتِ ابراہیمی پوری امتِ مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ فریضۂ حج ہو یا قربانی، خانۂ کعبہ ہو یا توحید کی دعوت، ہر جگہ ہمیں ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کے نقوش نظر آتے ہیں۔ امتِ محمدیہ کا ابراہیم علیہ السلام سے بڑا گہرا رشتہ ہے۔ قرآن کریم نے اس امت کو ملتِ ابراہیم کی پیروی کا حکم دیا اور فرمایا: مِلّة ابيكم اِبراهيم هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ اسی اللہ نے تمہارا نام پہلے بھی مسلمان رکھا تھا۔اسی طرح خانۂ کعبہ کی تعمیر بھی ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھوں ہوئی۔ جب بیت اللہ کے نشانات مٹ چکے تھے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ تعمیرِ کعبہ کا حکم دیا اور فرمایا:

وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَنْ لَا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ.

اور جب ہم نے ابراہیم کے لیے بیت اللہ کی جگہ مقرر کردی کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں، قیام کرنے والوں، رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھنا۔”

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بیت اللہ کی بنیاد توحید پر رکھی گئی۔ اسی لیے ابراہیم علیہ السلام پوری زندگی شرک کے خلاف اور خالص توحید کی دعوت دیتے رہے۔

اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو مختلف آزمائشوں میں ڈالا۔ کبھی وطن چھوڑنے کا حکم ملا، کبھی آگ میں ڈالے گئے، کبھی بیوی اور بچے کو سنسان وادی میں چھوڑنے کا حکم ملا، اور کبھی اپنے بیٹے کو قربان کرنے کا حکم دیا۔ مگر ہر آزمائش میں انہوں نے کامل اطاعت اور مکمل فرمانبرداری کا مظاہرہ کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں.

وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ۖ قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي ۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِين

اور جب ابراہیم کو ان کے رب نے چند باتوں کے ذریعے آزمایا تو انہوں نے ان سب کو پورا کر دکھایا، اللہ نے فرمایا: میں تمہیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔ ابراہیم نے عرض کیا: اور میری اولاد میں سے بھی؟ اللہ نے فرمایا: میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا۔

ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی عظیم اسباق سے بھری ہوئی ہے۔

(1) غیر معمولی جذبۂ اطاعت۔

ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کا سب سے بڑا سبق اللہ کی کامل اطاعت ہے۔ جو حکم ملا فوراً مان لیا۔ نہ تاویل کی، نہ خواہشات کو ترجیح دی، نہ نفس کی پیروی کی۔ آگ میں ڈالے گئے تو صبر کیا، وطن چھوڑنے کا حکم ملا تو ہجرت کی، بیوی اور بچے کو وادیِ غیر ذی زرع میں چھوڑنے کا حکم ملا تو رک گئے، اور بیٹے کی قربانی کا حکم ملا تو فوراً تیار ہوگئے۔ اسی کامل اطاعت کی وجہ سے انہیں “خلیل اللہ” کا مقام ملا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَمَنْ يَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ

اور ابراہیم کے طریقے سے وہی منہ موڑتا ہے جو اپنے آپ کو بے وقوف بنائے۔ آج ہمیں بھی یہ سبق ملتا ہے کہ ہماری خواہشات، مزاج، رجحانات اور دنیاوی مفادات اللہ کی اطاعت میں رکاوٹ نہ بنیں۔

(2) اولاد کی دینی تربیت اور فکر۔

ابراہیم علیہ السلام صرف اپنی اصلاح پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی اولاد کی فکر بھی کرتے تھے۔ جس راستے پر خود چلے اسی راستے کی وصیت اپنی نسل کو بھی کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ.

اور ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اسی دین کی وصیت کی اور یعقوب نے بھی کہ اے میرے بیٹو! اللہ نے تمہارے لیے یہ دین پسند فرمایا ہے، لہٰذا تم اسلام ہی کی حالت میں مرنا

اسی طرح فرمایا: وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ.

اور ابراہیم نے اس توحید کی بات کو اپنی نسل میں باقی رہنے والا کلمہ بنا دیا تاکہ لوگ رجوع کریں۔

یہی وجہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اپنی اولاد کے عقیدہ، اخلاق، استقامت اور توحید کے بارے میں ہمیشہ فکر مند رہے۔

(3) توحید سے محبت اور شرک سے نفرت۔

ابراہیم علیہ السلام پوری زندگی توحید کے داعی رہے۔ انہوں نے بتوں کو توڑا، قوم کے شرک کی مخالفت کی، اور خالص اللہ کی عبادت کی دعوت دی۔ خانۂ کعبہ کی تعمیر بھی توحید کی بنیاد پر کی گئی۔

ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مسلمان کو ہر قسم کے شرک، بدعات اور خرافات سے دور رہنا چاہیے اور خالص توحید پر قائم رہنا چاہیے۔

(4) انسانیت کے لیے درد اور خیر خواہی۔

ابراہیم علیہ السلام کے دل میں انسانیت کے لیے بے حد تڑپ تھی۔ جب قومِ لوط پر عذاب کی خبر ملی تو وہ پریشان ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ الرَّوْعُ وَجَاءَتْهُ الْبُشْرَىٰ يُجَادِلُنَا فِي قَوْمِ لُوطٍ پھر جب ابراہیم کا خوف دور ہوگیا اور انہیں خوشخبری مل گئی تو وہ قومِ لوط کے بارے میں ہم سے گفتگو کرنے لگے۔ وہ چاہتے تھے کہ کسی طرح عذاب ٹل جائے۔ یہ ان کے دل کی رحمت اور انسانیت کے لیے خیر خواہی کی علامت تھی۔

(5) مہمان نوازی کا عظیم سبق

ابراہیم علیہ السلام کی زندگی سے مہمان نوازی کا عظیم درس ملتا ہے۔ جب فرشتے مہمان کی شکل میں آئے تو فوراً ان کی خدمت میں کھانا پیش کیا۔ مہمان کی عزت کرنا انبیاء کی سنت ہے۔ آج ہماری زندگیوں میں یہ سنت کمزور پڑتی جارہی ہے جبکہ اسلام مہمان کی عزت اور خدمت کا حکم دیتا ہے۔

(6) عمل کے بعد قبولیت کی دعا

ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام جب خانۂ کعبہ تعمیر کررہے تھے تو ساتھ ساتھ دعا بھی کررہے تھے:

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ

اے ہمارے رب! ہم سے یہ قبول فرما، بے شک تو خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے۔

خلیل الرحمن بیت الرحمن تعمیر کررہے ہیں، مگر پھر بھی قبولیت کی فکر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مومن عمل کے بعد غرور نہیں کرتا بلکہ ڈرتا ہے کہ کہیں عمل رد نہ ہوجائے۔ معراج کی رات نبی کریم ﷺ کی ملاقات ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی تو انہوں نے اس امت کو سلام کہا اور جنت کے بارے میں فرمایا کہ جنت کی زمین نہایت عمدہ اور ہموار ہے، اور اس کے پودے “سبحان اللہ، والحمدللہ، ولا إلہ إلا اللہ، واللہ اکبر” سے اگتے ہیں۔ یہ ابراہیم علیہ السلام کی اپنی امت سے محبت اور خیر خواہی کی علامت ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ حیاتِ ابراہیمی صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ پوری امت کے لیے مکمل نصاب ہے۔ اس میں اطاعت ہے، قربانی ہے، توحید ہے، استقامت ہے، اولاد کی تربیت ہے، انسانیت سے محبت ہے، مہمان نوازی ہے اور عمل کے بعد قبولیت کی دعا ہے۔ جو امت ابراہیم علیہ السلام کے نقشِ قدم پر چلے گی وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوگی، اور جو ان کے راستے سے ہٹے گی وہ عزت اور امامت سے محروم ہوجائے گی۔ (حافظ عبد الرب مدنی کی تحریر سے ماخوذ)

Comments are closed.