میوات میں سہ روزہ تبلیغی جلسہ بحسن و خوبی اختتام کو پہنچا، مولانا محمد سعد کی رقت آمیز دعا پر جلسہ کا اختتام
جلسہ میں میوات سے لاکھوں فرزندانِ توحید نے کی شرکت،
میوات جلسہ سے راہ خدا میں نکلنے والی جماعتوں کی تعداد ٢٥٠ جبکہ افرادی تعداد ٣٠٠٠
میوات تبلیغی جلسہ میں ہندوؤں نے محبت کی چائے اور بریانی کی اسٹال لگا کر دیا ہندو مسلم خیر سگالی اور باہمی اتحاد و محبت کا پیغام: چو چرفہ ستائش،
دختران میوات نے جلسہ میں شرکت کرنے والے لاکھوں لوگوں کو چار دن چولہوں پر روٹیاں بنا کر کھلانے کا مثالی ریکارڈ درج کرایا،
موجودہ تعیش بھرے دور میں میواتی بہنوں اور بیٹیوں سے ہی ایسی امید کی جا سکتی ہے جن کے آبا اور اجداد اور بزرگوں کی تاریخ تبلیغی جماعت کی محیر العقول قربانیوں اور جدوجہد سے بھری ہوئی ہے ،
آج بھی میواتی قوم کا تبلیغ کی قربانیوں کی خاطر جذباتی لگاؤ ہے تبلیغی خدمات اور قربانیوں کے لیے قوم کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے ،
میواتیوں کے آج بھی رگ رگ میں تبلیغی جدوجہد کی قربانیوں کا خون دوڑتا ہے،
نوح میوات ( پریس ریلیز )
خطہ میوات کے حلقہ پونہانہ کے گاؤں نئی ترواڑہ میں اختتام کو پہنچا سہ روزہ تبلیغی جلسہ کے آج آخری دن مولانا محمد سعد کاندھلوی نے اختتامی خطاب فرمایا
جلسہ کے آخری روز خطہ میوات کے نصف درجن سے زائد اضلاع سے فرزندانِ توحید نے لاکھوں کی تعداد میں شرکت کی، اس موقع پر مولانا محمد سعد کاندھلوی نے اپنے کلیدی اور آخری خطاب میں راہ خدا میں نکلنے والی جماعتوں کی روانگی کے آداب و مسجد کی آبادی اور ایک مسلمان کا کردار و عمل و فکر کیسا ہو اس مناسبت سے تفصیلی خطاب کیا، علاوہ ازیں امت مسلمہ کی اخروی زندگی کی کامیابی و کامرانی کو لیکر رقت آمیز دعا کرائی، مولانا موصوف نے کہا کہ مسلمان انسانیت کی راحت رسانی و نفع رسانی کا فریضہ ادا کریں، مسلمان بخیل نہیں فیاض ہوتا ہے اور یہی فیاضی ہمارے برادرانِ وطن کے ساتھ بھی ہونی چاہئے انہوں نے کہا کہ اگر ہم برادرانِ وطن کے ساتھ بھی سخاوت برتیں تو معاشرتی تعصب و نفرت کو اس ملک سے مٹایا جا سکتا ہے،
قابل ذکر ہے کہ پنجاب میں میوات اور ہندوستان کے دیگر علاقوں اور ریاستوں کے مسلمانوں کی جانب سے حالیہ ریلف رسانی کی قابل ذکر قربانیاں پیش کی گئی ہیں، پنجاب میں سکھ برادری کے ساتھ سیلابی حالات میں کی گئی میوات کی مدد سے متاثر ہوکر آج مسجدیں حوالے کی جا رہی ہیں، ریلیف کے بعد آج پنجاب کی سر زمین میں ایمان و اسلام کا تخم بونے کے لیے زمین انتہائی نرم ہوچکی ہے، جس کی تازہ مثال امرتسر کے رمداس قصبہ اور اس کے علاوہ کئی مقامات پر اہل اسلام اور مسلمانوں کو مسجدیں حوالہ کردینا ہے،
واضح ریے کہ دوران سیلاب ریلیف رسانی سمیت مسلمانوں کا سکھ برادری اور پنجاب کے تئیں جذبہ ایثار کو دیکھتے ہوئے سکھوں نے ١٩٤٧ سے مقفل اور ویران نصف ایکڑ اراضی پر محیط مسجد کو مقامی سرپنچ شیر سنگھ اور کالیا کے اقدام پر مسلمانوں کے حوالے کر دیا،
حضرت مولانا محمد سعد کاندھلوی نے دعا سے قبل سوا دو گھنٹہ تفصیلی بیان کیا جس میں توحید نماز کی اہمیت،پڑوسی کے حقوق پر خوب زور دیا موصوف نے کہا کہ نماز روزہ عبادت کی ادائیگی ایمان کامل کی علامت نہیں ہے اصل ایمان مجاہدہ اور ہجرت سے بنتا ہے، فرمایا ایک ہے خدا کی قدرت کو پڑھنا اور دوسرا ہے خدا کی قدرت کی بڑھائی زبان سے بولنا خدا کی بڑائی کو بار بار زبان سے بولنے اور تکرار سے ہی دل پر بڑائی کا تاثر پیدا ہوتا ہے،
اس موقع پر راہ خدا میں نکلنے والی جلسہ سے جماعتوں کی تعداد 250 بتائی گی ان 250 جماعتوں کی افرادی تعداد 3000 کے قریب تھی آخر میں حضرت مولانا سعد کاندھلوی نے امن عامہ اور دنیا میں کام رہی جماعتیں اور ہونے والے تبلیغی اجتماعات کے لیے دعا کرائی
علاوہ ازیں میوات کے اس تبلیغی جلسہ میں برادران وطن کی جانب سے محبت کی چائے سمیت مختلف اسٹال لگائی گئی خصوصاً محبت کی چائے اور کشن چند پونہانہ کی مفت لذیذ بریانی کی اسٹال چرچہ کا موضوع و محور بنی رہی
برادران وطن کی ان اسٹالوں سے ہندوستان خصوصاً میواتی معاشرہ میں ہندو مسلم اتحاد و خیر سگالی کا پیغام دیا گیا، برادران وطن نے کہا کہ ان اسٹالوں کے ذریعہ میواتی بھائی چارے کے رشتے کو مضبوط کرنا ہمارا مقصد ہے ، اس موقع پر ان اسٹالز نے عوام کی توجہ اپنی جانب خوب مبذول کی جلسہ میں پہونچے لاکھوں فرزندانِ توحید سمیت ہندو زائرین نے محبت کی چائے نامی اسٹال سے لطف اندوز ہوتے ہوئے کہا کہ محبت کی چائے نے لوگوں کے دلوں میں خوب محبت پیدا کی یے مقامی ہندو مسلمانوں نے کہا کہ آج ملک کے چند سر پھرے افراد کی ذہنیت نے ملک کے نفرتی ماحول میں بھائی چارے کو مضبوط کیا ہے جو ہندوستان کی شناخت اور خوبصورتی رہی ہے،
قابل ذکر ہے کہ اس محبت کی چائے نے ہندو مسلم برادریوں کے درمیان پیار و محبت میں اضافہ کیا ہے۔ لوگوں نے محبت کے چائے کے اسٹال کی خوب تعریف کی، جسے برادران وطن نے تین دن تک جلسہ گاہ کے متصل لگایا تھا۔
یہ اسٹال بامسیف کے کارکنوں نے لگائی، جنہوں نے لوگوں کو مفت چائے پیش کرکے ہندو مسلم بھائی چارے اور محبت کا ٹھوس ہیعام دینے کی کوشش کی ۔
اس موقع پر برادران وطن سمے سنگ سلمبا، اندرجیت ڈونڈل، وجے کمار اجینہ اور راجیو ساگر نگینہ توفیق بھائی بوراکا، مولانا ہارون تاؤڑو نے اسٹال پر چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا کہ میوات کا صدیوں پرانا ہندو مسلم بھائی چارہ پورے ملک میں ایک رول ماڈل اور مثالی ہے، اور اس کو برقرار رکھنے کے لیے اس طرح کے پروگرام وقفہ وقفہ سے ہوتے رہنے چاہیے اور نفرتی ایجنڈہ پر کام کرنے والوں کو اپنے عمل سے جواب دینا بھی ضروری ہے
۔ میوات کا بھائی چارہ اٹوٹ ہے اور صدیوں سے ایک مثالی اور رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم، کچھ لوگ اس سادگی سے متعارف خطہ میوات کو بدنام کرنے اور ہندو مسلم اتحاد کو زہر آلود کرنے کی ہمیشہ ناکام کوشش کرتے رہے ہیں جو سرا سر غلط ہے۔
میوات میں تمام مذاہب کے لوگ مل جل کر رہتے ہیں اور اپنی خوشیوں اور غموں میں ایک دوسرے کی پڑوس کے ناطے خوب کام آتے ہیں اور آپس میں مدد بھی کرتے آئے ہیں۔ یہ محبت نامی اسٹال کی چائے اور کشن کی بریانی کھلانے کا مقصد لوگوں کے ساتھ پیار محبت بانٹنا اور باہمی اتحاد کو مضبوط کرنے کا ایک ذریعہ ہے
سماجی و ملی رہنما مولانا محمد صابر قاسمی، الحاج ماسٹر عبدالوہاب آصف علی چندینی، حاجی عثمان بھادس سابق ایم ایل اے سعیدا نے کہا کہ اجتماع میں میواتی خواتین، بہنوں اور بیٹیوں نے چار دن سے جو روٹیاں پکا کر گھر اور جلسہ جلسہ میں بھیج کر کھلائی اور سہ روزہ جلسہ کو کامیاب کرانے میں مدد کی گئی، واقعی قابل تعریف اور قابل ذکر عمل ہے
دختران میوات نے اس سہ روزہ جلسہ کو مثالی جلسہ بنایا ہے جس طرح سے چار دن دختران میوات نے اپنے ہاتھوں سے چولہے پر روٹیاں بنائی، اس تعیش کے دور میں یہ مثالیں نایاب نہ صحیح کمیاب ضرور ہیں ایسی مشقت بھری قربانی کی مثالیں میواتی خواتین، بہنوں اور بیٹیوں سے ہی امید کی جا سکتی ہیں، جن کے آباؤ و اجداد کے رگ و ریشے میں تبلیغ کی قربانیوں کا خون دوڑتا ہے
۔واضح ریے کہ اس بار جلسہ میں حلقہ پونہانہ کے گاؤوں کے گھروں میں چولہوں سے روٹیاں بنا کر جلسہ میں شرکت کرنے والے لاکھوں فرزندانِ توحید کو کھلائی گئی تھی، اس جلسہ کا امتیاز یہ رہا کہ صبح شام کا کھانا اور ناشتہ الگ الگ گاؤوں کے ذمہ تھا جس کو بحسن و خوبی نبھایا گیا، جبکہ میوات کے تمام ١٨ حلقوں کے ذمہ ہر جلسہ کا خرچ و اخراجات ہوتا رہا ہے ،
، وہیں پونہانہ قصبہ کے لالہ ترلوک چند گرگ اور ان کے بیٹے سنجے گرگ، بام سیف نیشنل سوشل آرگنائزیشن کے محبت کی چائے اسٹال عوام اور خواص میں خاصی بحث اور توجہ کا مرکز رہی ۔ ہندو مسلم بھائی چارے کی مثال بننے والے اس تبلیغی جلسہ نے اپنے آپ میں ایک بڑا پیغام دیا ہے جس کی ملک بھر میں ستائش ہو رہی ہے۔ اس موقع پر مولانا محمد صابر قاسمی میواتی نے کہا کہ مذہب اسلام آپس میں دشمنی رکھنے کا درس نہیں دیتا۔ ہم سب کو ایک دوسرے کے مذاہب کا احترام کرنا چاہیے۔ یہی اسلام کی روح اور پیغام ہے، جلسہ میں شرکت کر واپس ہو ریے لوگوں نے بتایا کہ جلسہ ایسے مقام پر اچانک دس دن پہلے رکھا گیا جہاں کی آمد رفت کے راستے بہت تنگ اور مشکلات سے بھرے تھے لوگ جلسہ میں گاڑیوں کو چھوڑ کر پانچ کلومیٹر گھر پہونچے جبکہ بڑی گاڑیاں شام کو مغرب کے قریب جلسہ گاہ سے چل پائی جبکہ جلسہ کا اختتام ١٠ بجے صبح کو ہوگیا تھا
دعا کے دن واپس لوٹنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگیا، لوگ صبح دس بجے سے لیکر مغرب کی شام تک جلسہ گاہ سے نکلنے کی پوری زحمت کا سامنا کرتے ریے ہزاروں ایکڑ بوئی ہوئی فصلوں سے لوگ چاروں طرف پیدل چلتے ریے وہیں اب عوام میں اس بات کا ذکر سامنے آ رہا ہے کہ، اب میوات کا جلسہ صرف اور صرف ایک جگہ ہو، جس سے ہر آنے والے لوگوں کو کسی بھی طور پر دشواریوں کا سامنا نہ کرنا پڑے،اس کے لیے بہتر لوکیشن فیروزپورجھرکہ کی اس سال ہوئے جلسہ کی جلسہ گاہ ہے،
Comments are closed.