لال قلعہ کے قریب کار دھماکہ بے حد در د ناک اور تشویش نا کہ، ہم اس کی پرزور انداز میں مذمت کرتے ہیں :حضرت امیر شریعت
پھلواری شریف( پریس ریلیز) امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ کے امیر شریعت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی نے دہلی کے لا ل قلعہ کے قریب کار میں ہوئے بم دھماکہ کے نتیجہ میں ۱۱؍ بے قصور جانوں کے ہلاک ہونے اور ۲۵؍ پیدل چلنے والے مسافروں کے زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ دکھ کی اس گھڑی میں ہم سوگواروں کے ساتھ کھڑے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعائیں کرتے ہیں ، تاہم اس واقعہ کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ قومی راجدھانی دھلی جیسے میٹرو سیٹی میں اس طرح کے واقعات کا رونما ہونا لاء اینڈ آرڈر کی بگڑتی ہوئی ساکھ کی قلعی کھولتا ہے ،یہاں ہر طرف خفییہ ایجنسیاں چوکس رہتی ہیں قدم قدم پر جانچ ہوتے رہتے ہیں پھر بھی شرپسند اپنے ناپاک منصوبوں میں کیسے کامیاب ہو جاتے ہیں، آخر دہلی کرائم برانچ اوراسپیشل برانچ کی ٹیمیں کہاں تھیں ، انتظامیہ کو اس پہلو پر بھی غو ر کرنا چاہیے کہ آخر وہ کس طرح یہاں تک پہونچ گئے اس سلسلہ میں حکومت ،منصفانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ذریعہ اصل مجرم تک پہونچ کران پر سخت سے سخت قانونی کاروائی کرے ، ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ مولانامفتی محمد سعید الرحمن قاسمی نے اس بزدلانہ حرکت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ لال قلعہ کے قرب وجوار میں بہت سے CCTVکیمرے لگے ہوئے ہیں ان کیمروں کی مدد سے شرپسند تک پہونچنے کی کوشش کی جائے اور جو شخص بھی اس سازش میں ملوث پایاجائے اسے ضرور قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے انہوں نے یہ بھی کہا کہ جانچ میں حق وانصاف کو معیار اصول بنایا جائے تاکہ مجرم کی شناخت کر کے اسے سزا ملے اور کوئی بے قصور آدمی اس زد میں نہ آسکے، مجھے اس اندوہناک واقعہ سے دلی صدمہ پہونچا ، ہم مہلوکین کے خاندان والوں سے اظہار تعزیت کرتے ہیں اور زخمیوں کی مکمل شفایابی کی دعائیں کرتے ہیں ۔
Comments are closed.