ادارہ دعوۃ السنۃ ممبئی کے زیراہتمام تاریخی کل ہندمسابقۃ القرآن الکریم بحسن وخوبی اختتام پذیر
اول ،دوم اورسوم پوزیشن لانے والے حفاظ کرام کوگراںقدرانعامات سے نوازاگیا،دینی وملی خدمات انجام دینے والے مشاہیرعلماء کی خدمت میں ایوارڈپیش کیاگیا
ممبئی(نمائندہ خصوصی)ادارہ دعوۃ السنۃ ویلفیئرٹرسٹ ممبئی مہاراشٹرکے زیراہتمام ۲۹؍واں کل ہندمسابقۃ القرآن الکریم بحسن وخوبی اختتام پذیرہوا،اس مسابقۃ القرآن میں پورے ہندوستان سے تقریبا۳۰۰سے زائدحفاظ کرام شریک ہوئے جن میں اول پوزیشن حاصل کرنے والے کو 60؍ہزارروپے ،دوم پوزیشن حاصل کرنے والے کو 40؍ہزارروپے اورسوم پوزیشن حاصل کرنے والے کو 30؍ہزارروپے نقداوردیگرگراں قدرانعامات سے نوازاگیا۔یہ مسابقۃ القرآن 11؍جنوری کوشروع ہوکر13؍جنوری کورات میں اپنے اختتام کوپہونچا،مسابقہ کی سرپرستی علامۃ العصرحضرت مولاناابوظفرحسان ندوی ازہری نے فرمائی جب کہ صدارت کافریضہ سرسیدثانی جناب ڈاکٹرسیدظہیرقاضی نے انجام دیا۔

اس موقع پرمسابقہ کے روح رواں اورادارہ دعوۃ السنۃ مہاراشٹرکے بانی وصدرمولانامحمدشاہدناصری الحنفی نے مسابقہ میں شریک تمام حفاظ کرام،اساتذہ وسرپرستوں کے ساتھ شہرکے معززعلماء کرام اوردانشوران کاپرتپاک استقبال کرتے ہوئے مسابقۃ القرآن الکریم کی تاریخ پرمختصرروشنی ڈالی،انہوں نے کہاکہ ہم نے ایک ایسے شہرمیں مسابقۃ القرآن الکریم کاآغازکیاجہاں صرف لہوولعب اورتفریحی پروگرام میں لوگ مصروف رہاکرتے تھے،اللہ کے فضل سے آج یہ مسابقۃ القرآن الکریم صرف ہندوستان ہی نہیں پوری دنیامیں اپنی افادیت کی وجہ سے الگ شناخت رکھتاہے۔آج اس مسابقۃ القرآن الکریم کو29؍سال مکمل ہوگئے،29؍سال جوقافلہ اپنی بے سروسامانی کے ساتھ سفرشروع کیاتھاآج الحمدللہ کامیابی کے ساتھ اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے۔بزرگوں اوراکابرعلماء کی دعائیں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہی ہیں اورہردورمیں ہندوستان کے اکابرعلماء نے ہمارے مسابقہ کی سرپرستی کی ہے اوراس کی کامیابیوں سے مسرورہوکرہمیں اورہماری پوری ٹیم کومبارکبادپیش کی ہے۔

اس موقع پرمسابقۃ القرآن الکریم کےمہمان خصوصی مولاناانیس الرحمن قاسمی کارگزارصدرآل انڈیاملی کونسل نے کل ہندمسابقۃ القرآن الکریم کے کامیاب اورتسلسل کے ساتھ انعقادپرمولانا محمد شاہدناصری کومبارکباد پیش کرتے ہوئے مساہمین حفاظ کرام کوبھی مبارکبادپیش کیا۔اس موقع پرمولاناقاسمی نے اسلام کے نظریہ تعلیم پرگفتگوکرتے ہوئے کہاکہ اسلام کسی بھی تعلیم کی تفریق نہیں کرتابلکہ اسلام کے نزدیک ہروہ تعلیم حاصل کرنی چاہئے جوتعلیم نافع ہو،تعلیم مشرک سے بھی حاصل کی جاسکتی ہے اوراس کی نظیراسلامی تاریخ میں موجودہے۔اسلام کانظریہ تعلیم یہ بھی ہے کہ پڑھنے والے بچوں اورجوان کی کفالت کی جائے،اوراس کی مثال انہوں نے اصحاب صفہ سے دی۔ہندوستان میں کفالت کاجورواج ہے اس کی نظیراسلامی تعلیم میں موجودہے۔اسی طرح تعلیم کے ساتھ تربیت کوبھی اسلام نے لازم اورضروری قراردیاہے ہمیں اس کاخاص خیال رکھناچاہئے۔

اس موقع پرفاضل نوجوان معروف اسلامی اسکالراورالمعہدالعالی الاسلامی حیدرآبادکے نائب ناظم مفتی محمدعمرعابدین قاسمی مدنی نے انتہائی جذباتی اندازمیں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ قرآن کریم کی اس مجلس میں جس خوبصورتی کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کی گئی کہ اگروقت کے فرعون کوبھی اس مجلس میں بیٹھادیاجائے تواس کا دل موم ہوگا اوروہ بھی قرآن کی تاثیرسے متاثرہوئے بغیرنہیں رہ سکے گا،انہوں نے مزیدکہاکہ ہم نے یہ سمجھ لیاہے کہ قرآن صرف مولویوں کی کتاب ہے اورقرآن صرف مسجدکے محراب تک کی کتاب ہے اگریہ سمجھتے ہیں تویہ واقعی قرآن کے ساتھ شرک ہے،قرآن توپوری دنیاکے لئے ہدایت ہے۔

آل انڈیاملی کونسل بہارکے جنرل سکریٹری مفتی محمدنافع عارفی نے کہاکہ جس نے قرآن کے ساتھ اپنارشتہ مضبوط کیااللہ نے اسے باعزت بنادیااورجس نے قرآن سے اپناناطہ توڑااللہ نے اسے ذلیل وخوارکردیا۔جامع مسجدممبئی کے دارالافتاء والارشادکے صدرمفتی اورفیملی فرسٹ کے بانی ڈائریکٹرمفتی محمداشفاق قاضی نے قرآن کریم اورخیرکے کاموں میں مسابقت کی اہمیت پرروشنی ڈالتے ہوئے تمام مساہمین کومبارکبادپیش کی۔
صدارتی خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرسیدظہیرقاضی نے ادارہ دعوۃ السنہ کے زیراہتمام مسابقہ القرآن الکریم کے انعقادپرمولانا محمد شاہدناصری الحنفی کومبارکبادپیش کرتے ہوئے مسابقہ میں تعاون کرنے کوانجمن اسلام کے لئے سعادت اورفخرکی بات بتایا۔ڈاکٹرقاضی نے مزیدکہاکہ دنیاکی پہلی یونیورسٹی صفہ نبوی ہے۔
دیگرخطاب کرنے والوں میں دارالعلوم امدادیہ کے صدرمفتی وشیخ الحدیث مفتی سعیدالرحمن فاروقی،
صابوصدیق ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹرعبدالرؤف سمار،انجمن اسلام کے نائب صدرڈاکٹرمشتاق انتولےوغیرہ قابل ذکرہیں۔

اس موقع پرمسابقہ میں اول پوزیشن آسام کے ایک ننھے اورمعصوم حافظ شکیب الحسن شہاب الدین نے حاصل کی جنہیں علماء ودانشوران کے ہاتھوں 60؍ہزارروپے نقداوردیگرگراںقدرانعامات سے نوازاگیا،دوسری پوزیشن بھی آسام کے ہی ایک حافظ عبداللہ صفی الرحمن نے حاصل کی ،ان کوبھی 40؍ہزارروپے نقدکے ساتھ دیگرگراں قدرانعامات دیئے گئے۔تیسری پوزیشن مدھیہ پردیش کےحافظ محمدابوذربن مولاناشکیل ندوی نے حاصل کی ،ان کو30؍ہزارروپے نقدکے ساتھ دیگرگراں قدرانعامات سے نوازاگیا۔
واضح رہے کہ اس مسابقہ میں شریک سبھی حفاظ اوران کے استاذکوآمدورفت کے اخراجات کے ساتھ ایک ایک جوڑی کپڑا اورایک ایک بیگ دیاگیا۔مسابقہ میں حکم کے فرائض مفتی محمدمجتبیٰ قاسمی امروہہ،مفتی مختاراحمدقاسمی گیا نے انجام دیئے جب کہ ممتحن کے فرائض مفتی محمدساجدناصری مہتمم معہدالصفہ حیدرآبادنے انجام دیا۔مسابقہ کی کامیاب نظامت مولاناشمیم اخترندوی مہتمم جامعۃ الابراروسئی نے کی۔پروگرام کوکامیاب بنانے میں ادارہ دعوۃ السنہ کے اعزازی ناظم مفتی محمدناصر اوردیگراساتذہ وکارکنان پیش پیش رہے۔اس موقع پرچند علماء کی خدمت میں ان کی مثالی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ بھی پیش کیاگیاجس میں مفتی محمدعمرعابدین قاسمی مدنی ،مولانامحمدصدرعالم قاسمی،مولاناشمیم اخترندوی شامل ہیں۔
Comments are closed.