حجاب عصمت، وقار اور پہچان کا مینار

 

تحریر: سید آصف امام کاکوی

دنیا میں تہذیبوں کا سفر جتنا قدیم ہے، عورت کی عصمت، اس کی عزت اور اس کی حرمت کا تصور اس سے بھی کہیں زیادہ قدیم ہے۔ ہر قوم، ہر مذہب اور ہر معاشرے نے کسی نہ کسی صورت میں عورت کو عزت کا پیکر مانا ہے۔ مگر اسلام نے جس عظمت کے ساتھ عورت کے مقام کو بلند کیا، اس کی مثال انسانی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ اسلام نے عورت کو صرف ایک فردِ خانہ یا مظلوم طبقہ نہیں مانا، بلکہ اسے وقار، اختیار، عصمت اور احترام کا محور بنایا۔ اس نے عورت کو عزت بھی دی، تقدس بھی دیا، اور ایک مکمل تحفظ بھی عطا کیا۔ اسلام نے جہاں عورت کو وراثت کا حق دیا، تعلیم کا حق دیا، زندگی کے ہر میدان میں آگے بڑھنے کی اجازت دی، وہیں اسے ایک ایسی زرّہ، ایک ایسی ڈھال بھی دی جسے دنیا حجاب کے نام سے جانتی ہے۔ حجاب صرف ایک کپڑا نہیں، بلکہ ایمان کا ہالہ حجاب محض چادر یا دوپٹہ نہیں۔ یہ صرف سر ڈھکنے کا نام نہیں۔ یہ صرف ظاہری لباس کا عنوان نہیں۔حجاب وقار کا تاج ہے عصمت کی حفاظت ہے کردار کی گہرائی ہے نگاہ کی حیا ہے روح کی طہارت ہے یہ عورت کو چھپاتا نہیں، اسے نمایاں کرتا ہے۔ یہ عورت کو محدود نہیں کرتا، بلکہ اسے محفوظ کرتا ہے۔یہ عورت کو پیچھے نہیں دھکیلتا، بلکہ اسے بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔ دنیا کی دھوپ سے بچنے کو چھت چاہیے، سمندر کی تلاطم خیزی سے بچنے کو کشتی چاہیے، اور فتنوں بھرے معاشرے سے بچنے کو حجاب کی خوشبو بھری چادر چاہیے۔ ہر سال 1 فروری کو دنیا بھر کی مسلمان عورتیں ورلڈ حجاب ڈے مناتی ہیں۔ یہ دن ایک جملہ نہیں، ایک تحریک ہے۔ یہ احتجاج نہیں، بلکہ پہچان ہے۔ یہ خوف کی علامت نہیں، بلکہ آزادی کی دلیل ہے۔.یہ دن کیوں منایا جاتا ہے؟.عالمی یومِ حجاب کی بنیاد ناظمہ خان نے 2013 میں رکھی۔ ناظمہ خان، جو بنگلہ دیش سے نیویارک گئیں، انہیں حجاب پہننے کی وجہ سے طنز، نفرت، نفسیاتی خوف اور تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ دنیا کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ حجاب کوئی پابندی نہیں بلکہ عورت کی آزادی ہے۔حجاب کوئی کمزوری نہیں بلکہ عورت کی طاقت ہے۔ حجاب کوئی جبر نہیں بلکہ عورت کی خواہش اور شناخت ہے۔ اسی سوچ سے عالمی یومِ حجاب نے جنم لیا۔اسلام میں حجاب کا مقام قرآن کی روشنی میں قرآنِ پاک میں حکم ہے“اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادریں اپنے اوپر لٹکا لیا کریں۔”(سورۃ الاحزاب) یہ آیت عورت کے لیے بوجھ نہیں، بلکہ عزت کا زیور ہے۔.اللہ نے حجاب کو پابندی کے طور پر نہیں، بلکہ.پناہ تحفظ عصمت کی ڈھال پاکیزگی کا پیرہن کے طور پر عطا کیا۔ ایک عورت جب حجاب لیتی ہے، تو وہ دنیا کو اعلان کرتی ہے کہ میری شخصیت میرے چہرے میں نہیں، میرے اخلاق میں ہے۔میری قیمت میرے جسم میں نہیں، میرے کردار میں ہے۔ میری پہچان میرا حجاب ہے میرا وقار، میری شان!” حجاب اور آزادی ایک غلط فہمی کا جواب.بہت لوگ کہتے ہیں کہ حجاب عورت کو روک دیتا ہے، اسے قید کر دیتا ہے، اسے سماج کے پیچھے دھکیل دیتا ہے۔.یہ سوچ غلط ہے، اور صدیوں کی لاعلمی کا نتیجہ ہے۔.حجاب لینے والی عورت ڈاکٹر بھی بنتی ہے انجینئر بھی بنتی ہے.سیاست دان بھی بنتی ہے پائلٹ بھی بنتی ہے سائنس دان بھی بنتی ہے.پروفیسر بھی بنتی ہے.سماجی کارکن بھی بنتی ہے دنیا کی لاکھوں کامیاب مسلم خواتین حجاب میں رہ کر بلندیاں چھو رہی ہیں کیونکہ حجاب روک نہیں، طاقت دیتا ہے۔ حجاب چھپا نہیں، نکھارتا ہے۔.حجاب بوجھ نہیں، برکت ہے۔.میری بہنو، حجاب اللہ کا ایک محبوب تحفہ ہے.میری پیاری بہنو!.اللہ نے دنیا کی ہر نعمت عطا کی، مگر جو عظمت اُس نے حجاب کی صورت میں دی ہے، وہ کسی اور لباس میں نہیں۔ حجاب روح کی تازگی ہے. دل کی روشنی ہے حیا کی خوشبو ہے ایمان کی حفاظت ہے شیطانی نگاہوں سے ڈھال ہے.اللہ نے عورت کو پھول بنایا ہے، اور پھول ہمیشہ ڈالی میں، حفاظت میں اور پردے میں خوبصورت لگتا ہے۔حجاب سے نہ تمہاری چمک کم ہوتی ہے نہ تمہاری صلاحیت چھپتی ہے نہ تمہارا مستقبل رک جاتا ہے بلکہ یقین جانو حجاب تمہاری شخصیت میں نور بھرتا ہے تمہارے وجود میں تقدس بھرتا ہے اور تمہیں وہ وقار دیتا ہے جو دنیا کا کوئی زیور نہیں دے سکتا حجاب کردار کی خاموش عبادت حجاب صرف عورت کا لباس نہیں، بلکہ اس کا کردار ہے۔ یہ ہر لمحہ بتاتا ہے کہ.یہ عورت اللہ کی بندی ہے یہ عورت پاکیزگی کی علامت ہے.یہ عورت ایقان کی روشنی ہے یہ عورت دنیا کی نگاہوں کے لیے نہیں، اللہ کے لیے جیتی ہے یہ دنیا اسے دیکھے یا نہ دیکھے،.لیکن اس کا رب اس کے ایک ایک عمل کو دیکھتا ہے۔.حجاب کی دشمنی اصل میں حیا کی دشمنی ہے.آج کچھ لوگ حجاب کا مذاق اڑاتےہیں۔.کچھ اسے دقیانوسی کہتے ہیں۔ کچھ اسے جبر کہتے ہیں۔ کچھ اسے قدامت پسندی کہتے ہیں۔ انہیں حقیقت میں حجاب سے نہیں.حیا سے خوف ہے۔ انہیں پاکیزگی کی روشنی پسند نہیں، انہیں عورت کا باوقار ہونا پسند نہیں، انہیں یہ بات پسند نہیں کہ عورت اپنے اوپر کنٹرول رکھے۔ لیکن یاد رکھو.یہ راستہ مشکل ضرور ہے، مگر اللہ کا راستہ ہے۔ حجاب اسلام کی بیٹی کا تاج حجاب مسلمان عورت کا تاج ہے۔ اس کی شان ہے۔.اس کی شہزادی ہونے کی دلیل ہے۔.عورت جب حجاب لیتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے ایمان چادر اوڑھ کر چل رہا ہے.جیسے حیا قدموں میں مہک رہی ہے.جیسے نور اس کے وجود سے پھوٹ رہا ہے.جیسے آسمانی فرشتے اس کی حفاظت کر رہے ہوں یہی وجہ ہے کہ حجاب اسلام کی بیٹی کا سب سے حسین زیور ہے۔ میری بہنو! حجاب کو فخر کے ساتھ اپناؤ تم جب حجاب لیتی ہو تو تم صرف اپنے سر کو نہیں، اپنے ایمان، اپنی عصمت، اپنے حلم، اپنی نزاکت اور اپنی پاکیزگی کو بھی محفوظ کرتی ہو۔.دنیا کچھ بھی کہے، لوگ کچھ بھی سوچیں، زمانہ کچھ بھی بولے تم اپنے حجاب پر قائم رہو۔ تمہارا حجاب تمہاری پہچان ہے۔ یہ کوئی پابندی نہیں، بلکہ اللہ کی طرف سے عطا ہونے والا سب سے حسین تحفہ ہے۔ حجاب میری پہچان ہے، میرا احترام ہے، میری شان ہے۔ حجاب اسلام کی بیٹی کی حفاظت ہے، اس کی عظمت ہے، اس کا وقار ہے۔”

Comments are closed.