۸ فروری کو پٹنہ میں علم حدیث میں علماء بہار کی خدمات پر سیمینار

 

پٹنہ(پریس ریلیز)آل انڈیا ملی کونسل بہار اور ابو الکلام ریسرچ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام پٹنہ کے اردو اکیڈمی میں 8 فروری 2026 بروز اتوار علم حدیث میں علماء بہار کی خدمات پر ایک روزہ سیمینار منعقد ہو رہا ہے ۔ ملی کونسل بہار کے جنرل سکریٹری مولانا مفتی محمد نافع عارفی صاحب نے میڈیا کو بتایا کہ سیمینار کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں ، صوبے اور بیرو ن صوبے سے اہل قلم اپنے قیمتی مقالات پیش فرمائیں گے، بیشتر مقالات موصول ہو چکے ہیں ، امید ہے کہ سابقہ سیمیناروں کی طرح یہ سیمینار بھی کامیاب اور دور رس نتائج کا حامل ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ ملی کونسل بہار اور ابو الکلام ریسرچ فاؤنڈیشن اس سے پہلے بھی سیرت نبوی اور تفسیر قرآن کے موضوع پر کامیاب سیمینار کا انعقاد کر چکا ہے ۔

 

انہوں نے سیمینار کے موضوع کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں علمِ حدیث کی تاریخ نہایت قدیم، تابناک اور علمی روایات سے بھرپور ہے۔ برصغیر میں اسلامی علوم کے فروغ کے ساتھ ہی بہار علمِ حدیث کا ایک مضبوط مرکز بن کر ابھرا۔ شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری ؒ کے پرد ادا شیخ محمد تاج فقیہ بن ابو بکربن ابو محمد 575 ھجری کے قریب بہار کے خطہ منیر میں تشریف لائے اور یہاں اشاعت اسلام کے ساتھ ساتھ علوم اسلامیہ ؛ قرآن ، حدیث ، فقہ اسلامی کی ترویج و اشاعت کا کام شروع کیا۔آپ کے بعد آپ کے خانوادے کے بزرگوں خاص کر شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری اور ان کی اولاد و اخلاف نے اس روایت کو برقرار رکھا۔ہندوستان میں اسلامی سلطنت کے قیام کے بعد دیگر اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ علم حدیث کی تدریس و اشاعت کا عروج ہوا، خصوصاً سلطنتِ مغلیہ اور اس کے بعد کے ادوار میں یہاں حدیث کی تدریس، روایت اور اشاعت کو غیر معمولی فروغ ملا۔ خانقاہوں اور مدارسِ دینیہ نے حدیثِ نبوی ﷺ کی حفاظت اور صیانت میں اہم کردار ادا کیا۔ علماء کرام نے تصنیف و تالیف کے ذریعے اسے وسعت دی، اردو فارسی اور عربی میں حدیث کی شروحات اور تحقیقی کام سامنے آئے، جنہوں نے نہ صرف بہار بلکہ پورے برصغیر میں علمِ حدیث کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ یوں بہار کی سرزمین ہمیشہ سے حدیثِ رسول ﷺ کی خدمت، اس کی تدریس اور اس کے علمی تحفظ کا ایک روشن مرکز رہی ہے۔ میاں نذیر حسین دہلوی، مولانا شمس الحق عظیم آبادی، علامہ ظہیر الحسن شوق نیموی، عبد العزیز رحیم آبادی، ابراہیم آروی، فضل اللہ مونگیری جیلانی، ظفیر الدین بہاری جیسے بلند پایہ محدثین کی خدمات آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں اور ان کی تصنیفات کا علم حدیث کی ترویج و اشاعت میں نمایاں کردار رہا ہے۔برصغیرمیں علم حدیث کے مرجع حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے شاگردوں میں بھی بہار کے محدثین بھی شامل رہے ، جنہوں نے تدریس حدیث میں طرز ولی اللہی کی روایت کو عام کرنے میں موثر کردا ر ادا کیا ہے ۔

 

بہار کے علماءِ حدیث میں بے شمار ایسے جلیل القدر نام ہیں جن پر اب تک وہ توجہ نہیں دی جا سکی جس کے وہ حقیقی طور پر مستحق ہیں، حالانکہ ان کی علمی خدمات، تدریسی کارنامے اور تصنیفی نقوش نہایت عظیم اور دیرپا ہیں۔ ان حضرات نے خاموشی کے ساتھ علمِ حدیث کی صیانت، حفاظت اور اشاعت کا فريضہ انجام دیا، مگر تاریخ کے اوراق میں ان کا تذکرہ محدود ہو کر رہ گیا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ان گم نام مگر عظیم کارناموں کے حامل علماء کو منظرِ عام پر لایا جائے، ان کی خدمات کا علمی و تحقیقی جائزہ لیا جائے اور نئی نسل کو یہ بتایا جائے کہ بہار کی سرزمین نے علمِ حدیث کے فروغ میں کس قدر قیمتی سرمایہ امت کو عطا کیا ہے۔

 

اسی احساسِ ذمہ داری کے تحت ابو الکلام ریسرچ فاؤنڈیشن اور آل انڈیا ملی کونسل بہار کے اشتراک سے 8 فروری 2026 کو اردو اکیڈمی، پٹنہ میں’’علمِ حدیث میں علماءِ بہار کی خدمات‘‘ کے عنوان سے ایک قومی سیمینار کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

 

’’علمِ حدیث میں علماءِ بہار کی خدمات‘‘ کے مرکزی عنوان کے تحت تینتالیس ذیلی عنوانات کا انتخاب کیا گیا ہے اور صوبہ وبیرون صوبہ کے نامور مصنفین ، مقالہ نگاران ، علماء و دانشوران اور اساتذہ حدیث کو ان موضوعات پر مقالہ لکھنے کی دعوت دی گئی ہے ، جن میں سے بیشتر کے مقالات موصول ہو چکے ہیں ۔ خاص خاص عناوین میں حضرت مخدوم شرف الدین احمد یحیٰ منیری اور علم حدیث، فن حدیث میں علماء اہل حدیث کی خدمات، صحاح ستہ کی اردو ، عربی و فارسی شروحات اور علماء بہار کی خدمات، علماء بہار کے ذریعہ کیے گئے صحاح ستہ کے اردو تراجم،احادیث رسول عصر حاضر کے پس منظر میں ؛ ایک مطالعہ، حدیث ، اصول حدیث اور سماء رجال میں اہل بہار کی خدمات، علم حدیث کو عوام و خواص تک پہونچانے کے لیے رائج طریقوں کا جائزہ، مولانا ابراہیم آروی کی خدمت حدیث، علامہ عثمانی غنی کی علم حدیث میں خدمات، علامہ قادر بخش اور خدمت حدیث، علم حدیث میں بہار کے مصنفین کی تصنیفات، علامہ شوق نیموی اور فن حدیث میں ان کی خدمات، ملک کے ممتاز جامعات میں بہاری محدثین کی خدمات، مولانا فضل اللہ مونگیری کی فضل اللہ الصمد فی شرح الادب المفرد، علامہ ظفیر الدین بہاری اور ان کی صحیح البہاری، علماء صادق پور اور خدمت حدیث، مولانا شمس الحق عظیم آبادی اور ان کی فن حدیث میں تالیفات، علامہ محمد محسن ترہتی اور خدمت حدیث، مولانا مناظر احسن گیلانی اور علم حدیث، مطبع خلیلی آرہ کی کتب حدیث کی اشاعت میں خدمات، علامہ عبد العزیز محدث رحیم آبادی اور علم حدیث میں ان کی خدمات ، امیر شریعت مولانا سید منت اللہ رحمانی اور خدمت حدیث خانقاہ مجیبیہ اور خدمت حدیث، بہاری مصنفین کی اصول حدیث میں کتابیں ؛ تعارف و تجزیہ،بہار میں حدیث کی شروحات، ڈاکٹر لقمان سلفی اور علم حدیث، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور علم حدیث، مولانا قاسم مظفر پوری اور علم حدیث، مولانا یحیٰ ندوی اور علم حدیث،بہار میں تدریس حدیث کے مرکزی ادارے، علم حدیث پر نئے تحقیقی کام کی ضرورت ، مفتی غلام مرتضیٰ رضوی اور خدمت حدیث، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے بہار کے محدثین تلامذہ، بہار کے دینی مدارس میں خدمت حدیث کا جائزہ جیسے عناوین شامل ہیں ۔

 

سیمینار کی صدارت ملک کے ممتاز عالم دین ، فقیہ ، کثیر التصانیف ، فتاویٰ علماء ہند کے مرتب آل انڈیا ملی کونسل کے کارگزار صدر حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب فرمائیں گے ۔

 

یہ سیمینار نہ صرف ایک علمی اجتماع ہوگا بلکہ تاریخ کے بکھرے ہوئے اوراق کو یکجا کرنے، نظر انداز کی گئی علمی خدمات کو اجاگر کرنے اور بہار کی حدیثی روایت کو ایک مضبوط علمی حوالہ بنانے کی ایک سنجیدہ کوشش بھی ہوگا۔ امید ہے کہ یہ سیمینار علمِ حدیث کے فروغ، تحقیقی ذوق کی بیداری اور علماءِ بہار کے علمی مقام کے اعتراف میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔

 

جنرل سکریٹری موصوف نے خاص طور سے پٹنہ اور اس کے مضافات کے معزز علماءِ کرام، اساتذۂ مدارس اور محبانِ علم و تحقیق، نیز عمومی طور پر صوبۂ بہار کے تمام علماء، اساتذۂ مدارس اور طلبۂ کرام سے پُرخلوص اپیل کی ہے کہ وہ اس اہم اور تاریخی قومی سیمینار میں بھرپور شرکت فرما کر اسے کامیاب بنائیں۔ آپ کی شرکت نہ صرف علماءِ بہار کی علمی خدمات کے اعتراف اور ان کے کارناموں کو منظرِ عام پر لانے میں معاون ہوگی بلکہ علمِ حدیث کے فروغ، تحقیقی ذوق کی بیداری اور نئی نسل کو اپنی علمی وراثت سے جوڑنے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی بنے گی۔

Comments are closed.