اسلام کی بنیاد دوچیزوں پر قائم ہے،عقیدہ توحید،اور نبوت ورسالت:مولاناخالدسیف اللہ رحمانی

 

رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار کے زیر اہتمام جامعہ اشرفیہ ریاض العلوم محمدنگرپورنیہ میں تحفظ ختم نبوت وردفتنہ شکیلیت کانفرنس کا انعقاد،بڑی تعدادمیں علماء ،ائمہ،اور دانشوران کی شرکت

(پریس ریلیز)

ملک کی معروف شخصیت،فقیہ العصر حضرت مولاناخالدسیف اللہ صاحب رحمانی صدر آل آنڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی صدارت میں آج کل ہند رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند کی شاخ رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہارکے اہتمام اور جامعہ اشرفیہ ریاض العلوم محمدنگر چونا پور روڈ کے انتظام میں،مسجد عثمان غنی جامعہ اشرفیہ ریاض العلوم(پورنیہ) میں ایک اہم اجلاس بعنوان تحفظ ختم نبوت ورد فتنہ شکیلیت انعقاد عمل میں آیا،جمعیۃ علماء بہارکے صدرمحترم جناب مفتی جاویداقبال صاحب قاسمی نے اجلا س کی سرپرستی فرمائی،بڑی تعدادمیں شہرپورنیہ اور قرب وجوار کے علماء ، ائمہ،دانشوران شریک ہوئے،قاری ارباز صاحب استاذ جامعہ اشرفیہ ریاض العلوم کی تلاوت سے اجلا س کا آغاز ہوا،جامعہ ہذا کے طالب علم نے نعت نبی ﷺ پیش کیا،جناب مفتی تنظیم مظاہری ناظم جامعہ اشرفیہ ریاض العلوم نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے اجلاس کے اغراض و مقاصد کی طرف رہنمائی فرمائی،اجلاس کی سرپرستی فرمارہے جناب مفتی جاویداقبال صاحب قاسمی صدر جمعیۃ علماء بہارنے اہم خطاب کرتے ہوئے کہا:ایمان کی حفاظت ہر حالت میں ضروری ہے،اجلا س کی قیادت کررہے جناب مفتی خالدانور پورنوی ، المظاہری ، جنرل سکریٹری رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہارواستاذ جامعہ مدنیہ سبل پور،پٹنہ نے تعارفی خطاب میں کہا:فتنہ شکیلیت اس وقت کا سب سے بڑا دجالی فتنہ ہے،انہوں نے رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہارکی جانب سے چلائی جارہی تحریک تحفظ ختم نبوت ورد فتنہ شکیلیت اور اس کی سرگرمیوں سے واقف کرایا،تحفظ ختم نبوت کے لئے فقیہ العصر جناب مولاناخالدسیف اللہ صاحب رحمانی کی خدمات کو بھی بہت ہی خوبصورت اندازمیں انہوں نے بیان کیا،انہوں نے کہا:فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللّٰہ رحمانی صاحب تحفظ ختم نبوت کے میدان میں اہم خدمات انجام دے رہے ہیں،آپ کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کی باضابطہ منظور شدہ صوبائی شاخ ریاستی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ تلنگانہ وآندھراپردیش کے بانی ارکان میں سے ہیں، اوراس وقت صوبائی مجلس کے جنرل سیکرٹری ہیں،آپ کی روشن خدمات کی وجہ سے مجلس تحفظ ختم نبوت تلنگانہ وآندھراپردیش کو پورے ملک میں ایک مثالی مجلس ہونے کا شرف و اعزاز حاصل ہے، حضرت مولاناخالدسیف اللہ صاحب رحمانی نے قادیانیت کے رد میں مختلف رسائل لکھے، ایک رسالہ آپ نے "قادیانیت اسلام کے خلاف بغاوت” کے نام سے لکھا ،اس اہم اور مختصر رسالہ کے جواب میں قادیانیوں کی طرف سے "احمدیت ہی حقیقی اسلام” کے نام سے رسالہ لکھا گیا تھا، آپ نے پوری درد مندی اور دل سوزی کے ساتھ دین حق کی طرف قادیانیوں کی واپسی کے لیے ایک اور رسالہ لکھا، اس کا نام "کلمہ خیر خواہی قادیانی حضرات کی خدمت میں” ۔ انہوں نے کہا آج سے۱۸ سال پہلے روزنامہ منصف حیدرآباد کے مذہبی ایڈیشن مینارہ نور میں مولاناخالدسیف اللہ رحمانی صاحب نے فتنہ شکیلیت کے رد میں ایک مضمون لکھاتھا، "ایک نئے دین الہی کا فتنہ”۔مفتی خالدانورپورنوی المظاہری نے اپنے جاری خطاب میں کہا:اس وقت سیمانچل کے مختلف مقامات میں شکیلیوں نے اپنے پنجے گاڑدئیے ہیں،اس لئے آج کے اس پروگرام کی ضرورت پیش آئی ۔ صدر اجلاس جناب حضرت مولاناخالدسیف اللہ صاحب رحمانی نے بہت پرسوز،اور اہم صدارتی خطاب فرمایا: انہوں نے کہا:اسلام کی بنیاد دوچیزوں پر ہے،ایک عقیدہ توحید،اور دوسرے نبوت ورسالت۔یعنی اللہ ایک ہیں،اس کاکوئی شریک نہیں ہے،اس پر ایمان لاناضروری ہے،آج مسلمانوں کو شرک کے دلدل میں دھکیلنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے،اسی طرح نبی کریم ﷺ کی نبوت ورسالت پر ایمان لانا،اور اس بات کو مانناکہ آپ ﷺ آخری رسول ہیں،اس پر یقین کرنااورایمان لاناضروری ہے، انہوں نے کہا:نبی کریم ﷺ سے پہلے بہت سے انبیاء کرام آئے،لیکن کوئی تو وجہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کے بارے جتنی تفصیلات احادیث رسول ﷺ میں ہیں،کسی اور کے بارے میں نہیں ہے،انہوں نے کہا:پورے ملک میں سب سے زیادہ پڑھنے والے طلبہ سیمانچل کےہیں،اس کے باوجود اگر اس علاقہ میں شکیلی جیسے گمراہ لوگ گھس آئے ہیں تو شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے، انہوں نے بڑی تعدا دمیں موجود علماء،ائمہ ،اساتذہ مدارس سے گذارش کی کہ مہینہ میں ایک جمعہ ضرور عقائد پر بیان کیجئے،تاکہ لوگوں کو معلوم ہو۔اس موقع سے رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ بہار اور جامعہ مدنیہ سبل پور پٹنہ کی جانب سےفتنہ شکیلیت کے خلاف ایک اہم فتویٰ بھی شائع کراکرائمہ حضرات کو دیاگیاتاکہ مسجدوں میں اس کو آویزاں  کیاجاسکے، اس اجلاس میں خاص طورسے قاضی شہر پورنیہ حضرت مولانا قاضی ارشد صاحب قاسمی، مولانا ارشد کبیرخاقان مظاہری نائب مہتمم مدرسہ نورالمعارف دیاگنج ارریہ،مفتی خالد ندیم صاحب امام و خطیب سجادیہ مسجد لائن بازار پورنیہ، مفتی شاہ نور صاحب امام و خطیب عائشہ مسجد نوری نگر، مولانا وحیدالزماں صاحب امام وخطیب جامع مسجد مرکز پورنیہ، مولانا،ڈاکٹر شمیم ندوی صاحب، مولانا تنویر صاحب، مولانا منظور نعمانی صاحب مہتمم دارالعلوم پورنیہ ، مولانا کفیل الدین صاحب مدرسہ دارالعلوم خلفائے راشدین، مولانا مفتی حسنین صاحب صاحب مدرسہ خلفائے راشدین پورنیہ ،جناب مولانا وسیم ندوی صاحب ، مولانا عیسی صاحب چھوٹی مسجد سپاہی ٹولہ پورنیہ، مولانا تنویر صاحب چکلہ ،حافظ شمیم صاحب سرجاپور، قاری احسان صاحب چیلہنی،ابن الحسن صاحب انجمن خزانچی مسجد پورنیہ،مولانامجاہدالاسلام رحمانی گلاب باغ،مفتی اطہرحبیب القاسمی ،ان کے علاوہ بڑی تعداد میں علماء ائمہ حفاظ و دانشورانِ قوم و ملت موجود تھے،جامعہ اشرفیہ ریاض العلوم کے صدر محترم حاجی محمدولی صاحب، سکریٹری جناب محمدشاہدعالم صاحب،جناب محمدعرفان عالم ،محمدمقیم صاحب،محمدمعین صاحب،محمدشمس الحق ،محمدشببیر،جامعہ ہذاکے اساتذہ میں جناب مفتی تنظیم مظاہری،مولاناجہانگیرعالم صاحب،قاری ارباز صاحب،قاری امتیاز صاحب نے اجلاس کو کامیاب بنانے میں اہم کردار پیش کیا،جناب مولاناخالدسیف اللہ رحمانی صاحب کی دعاء پر اجلاس اختتام پذیرہوا۔

Comments are closed.